Sunday, 2 March 2014

ناشتہ کے فوائد


ناشتہ کے فوائد

ناشتہ کسی بادشاہ کی طرح ، دوپہر کا کھانا شہزادے کی طرح اور رات کا کھانا کسی فقیر کی طرح کھائیں ۔ 

صحت مند رہنے کیلئے آپ کو اپنی غذا کا خیال رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ غذا کے ساتھ ساتھ کھانے کے اوقات کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ 
کسی دانا کا قول ہے کہ صبح کا ناشتہ کسی بادشاہ کی طرح۔ دوپہر کا کھانا شہزادے کی طرح کھائیں اور رات کا کھانا کسی فقیر کی طرح کھائیں ۔ 

اگر آپ صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو صبح کا آغاز بھر پور انداز میں کریں۔ اللہ کا شکر ادا کریں ۔ اور فجر کی نماز ضرور ادا کریں۔ اس کے بے شمار فوائد ہیں جو آپ کی ذہنی اور جسمانی صحت کیلئے بہت ضروری ہیں۔ نماز سے فارغ ہو کر اپنی توجہ نا شتے پر مرکوز کیجئے کہ آج آپ اور آپ کے گھر والے ناشتے میں کیا کھائیں گے۔ گھر کی خواتین عام طور پر پورے گھرانے کیلئے ناشتہ تیار کرتی ہیں مگر اپنے ناشتے پر خاص توجہ نہیں دیتیں یا زیادہ سے زیادہ ایک کپ چائے پی لیتی ہیں۔ یہ طریقہ کار بالکل غلط ہے کیونکہ خواتین پر پورے گھرانے کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اگر ان کی صحت ٹھیک نہیں ہوگی تو وہ کسی کا خیال بہتر طور پر نہیں رکھ پائیں گی۔ اکثر خواتین یہ کہتی دکھائی دیتی ہیں کہ صبح کے وقت کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتا ۔ یہ بات ذہن میں رکھئے کہ صرف چائے پینا کوئی ناشتہ نہیں ہے۔
آپ صبح کے وقت دودھ کے ایک گلاس میں شہد ملا کر پی سکتی ہیں۔ دودھ ایک مکمل غذا اور خواتین کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ اس میں کیلسیم اور فاسفورس ہوتا ہے جو ہڈیوں کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ اور خواتین میں بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ہڈیوں کے کمزور ہونے کے عمل کو روکتا ہے۔

دودھ کے علاوہ بھی آپ ناشتے میں بہت کچھ کھا سکتی ہیں۔ جن میں روٹی، بریڈ، سلائس سے لے کر پھل تک شامل ہیں۔ کچھ لوگ ناشتے کا خاص اہتمام کرتے ہیں ۔ وہ اپنی طرف سے بھر پور ناشتہ کرتے ہیں مگر وہ ا شیا انہیں کوئی غذائیت نہیں پہنچاتیں اس لیے ناشتے کیلئے کسی بھی چیز کا انتخا ب محض اس کے ذائقے کی بنا پر نہ کیا جائے بلکہ اس سے حاصل ہونے والی غذائیت پر نظر رکھی جائے ۔
ناشتہ کے معاملے میں بچے ماﺅں کو پریشان کرتے ہیں ۔ اس کا حل یہ ہے کہ مائیں بچوں کو ان کی پسند کی چیزیں ناشتے میں دیں۔ اگر تھوڑا دودھ پی لیں تو یہ بھی کافی ہے ۔

اس کے ساتھ مائیں ایسا کر سکتی ہیں کہ ان کے لنچ بکس میں ناشتے کیلئے کچھ غذائیت بخش اشیاء رکھ دیں جو وہ اسکول میں لنچ بریک کے دوران کھا سکتے ہیں کہ عام مشاہدہ ہے کہ بچے اسکول جاتے وقت ناشتہ کرنے سے انکار کر دیتے ہیں جبکہ اسکول میں دوسرے بچوں کے ساتھ ناشتہ کر لیتے ہیں ۔ اگر اساتذہ تھوڑی سی توجہ بچوں کے لنچ پر دیں اور انہیں تھوڑا سا سمجھا دیں کہ ناشتہ کرنا بہت ضروری ہے تو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔

ڈیمینشیا (Dementia)


ڈیمینشیا (Dementia)

یہ مرض بنیادی طور پر بوڑھے افراد کو متاثر کرتا ہے۔ ۸۰ برس سے زائد عمر کے تقریباً بیس فیصد افراد کو یادداشت کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

ان میں سب سے عام مسئلہ الزائمر کی بیماری ہے۔ یہ بیماری مختلف مسائل کا سبب بنتی ہے مثلاً خراب یادداشت، صحیح الفاظ کے چناؤ میں مشکل؛ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مشکل ہونا مثلاً کپڑے خود سے نہ تبدیل کر سکنا؛ فیصلے کی صلاحیت کا متاثر ہونا، چیزوں کا اندازہ صحیح نہ کر سکنا (اپنی والدہ کی عمر اپنے برابر بتانا)؛ شخصیت میں تبدیلی؛ چڑچڑاپن، غصہ، درشتگی، جن چیزوں میں پہلے دلچسپی تھی ان میں دلچسپی کم ہو جانا؛ شکوک و شبہات پیدا ہو جانا، گھبراہٹ، ڈپریشن؛ اور اس بات کو ماننے سے انکار کرنا کہ ان کی ذہنی صلاحیتیں پہلے جیسی نہیں ہیں چاہے باقی گھر والوں کو واضح طور پہ ایسا لگ رہا ہو ۔ حالت زیادہ خراب ہوجائے تو ڈیمینشیا کا مریض اپنے ہی گھر میں راستے بھول سکتا ہے۔ ڈیمینشیا کے مریض اپنے شوہر، بیوی یا بچوں کو بھی نہیں پہچان پاتے۔

تقریباً تمام مریضوں میں یہ بیماری آہستہ آہستہ زیادہ شدید ہوتی جاتی ہے۔ گو کہ یہ عمل تیزی سے بھی ہوسکتا ہے تاہم عام طور پر بتدریج ہوتا ہے۔ بعض دفعہ فالج کے یکے بعد دیگر ہونے والےمعمولی حملے بھی ڈیمینشیا (ملٹی انفارکٹ ڈیمینشیا) کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے ڈیمینشیا کی علامات اچانک تیزی سے اور خراب ہو جاتی ہیں۔ تاہم حملوں کے درمیان تقریباً سال بھر کا ایسا وقفہ ہوسکتا ہے جس میں کوئی خاص تبدیلی نہ ہو ۔ اس طرح کا ڈیمینشیا موروثی بھی ہو سکتا ہے۔

کچھ ایسے مریض جن کو احساس ہو جاتا ہے کہ وہ اس بیماری کا شکار ہو گئے ہیں وہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کمزوریوں، مثلاً یاد داشت کی کمزوری اور روز مرہ کے کام کرنے میں مشکل ہونا ،کو سمجھ لیتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ انھیں دوسروں پر زیادہ انحصار کرنا ہو گا اور یوں وہ اپنی دیکھ بھال میں دوسروں کی مدد کرسکتے ہیں۔ جبکہ دیگر مریض اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے، ایسے لوگوں کی مدد کرنی مشکل ہوتی ہے۔

ڈیمینشیا کیوں ہوتا ہے؟

ہمیں ڈیمینشیا کی زیادہ تر اقسام کی حقیقی وجہ وثوق سے معلوم نہیں لیکن وجوہات کے بارے میں تھوڑا بہت اندازہ ہے۔ ڈیمینشیا بعض دفعہ خاندانی بیماری ہوتی ہے جیسے کہ الزائمر کی بیماری خاندان میں ایک سے زیادہ افراد کو ہو سکتی ہے۔ ڈاؤن سنڈروم سے متاثرہ افراد میں ڈیمینشیا بہت عام ہے۔ سر پر بہت شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ذیابیطس، سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور موٹاپا بھی ڈیمینشیا کے خطرے کو بڑھاتے ہیں کیونکہ ان مسائل کی وجہ سے دماغ کو خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ ڈیمینشیا کی ایک قسم ان افراد کو ہوتی ہے جو پارکنسن نامی بیماری میں مبتلا ہوں۔ ڈیمینشیا کی ایک قسم کورساکوف سنڈروم ہے جو نوجوان افراد کو ہوسکتی ہے۔ یہ یادداشت کے اس حصے کو متاثر کرتی ہے جس کا تعلق حالیہ واقعات کو یاد رکھنے سے ہوتا ہے۔ یہ بیماری وٹامن کی کمی سے ہوتی ہے اور بہت زیادہ شراب نوشی کی وجہ سے اس کا خطرہ کافی بڑھ جاتا ہے۔ بعض انفیکشن مثلاً کروزفیلڈ جیکب ڈزیز یا ایڈز کی وجہ سے بھی ڈیمینشیا ہوسکتا ہے۔

چند طریقے جو ڈیمینشیا کے مریضوں کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں:

توجہ: حال ہی میں ملنے والے شخص کا نام دہرانا اور پیغامات کو لکھ لینا بھی یاد رکھنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔

منظم طرز زندگی: اگر آپ منظم ہیں تو امکان ہے کہ آپ اپنی رکھی ہوئی چیزیں یاد رکھ سکیں گے۔

ڈائری کا استعمال: ڈائری کا استعمال کریں تاکہ آپ یاد رکھ سکیں کہ کل یا پچھلے ہفتے کیا ہوا تھا۔

چاق و چوبند رہیں: باقاعدہ ورزش کریں، اعتدال میں رہتے ہوئے کھائیں پیئیں، سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں ۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ صحیح عینک یا آلہ سماعت استعمال کررہے ہوں۔

باقاعدہ جسمانی چیک اپ: جسمانی چیک اپ نہ صرف آ پ کو صحت مند رہنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ الزائمر کی فوری تشخیص میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کچھ ایسی ادویات موجود ہیں جو الزائمر کی بیماری کو ایک سال یا طویل عرصے کے لیے آہستہ کرسکتی ہیں۔ اگر آپ ڈپریسڈ ہیں تو آپ کا معالج یہ علاج تجویز کرسکتا ہے۔

دماغ کا زیادہ استعمال: معلومات عامہ کے مقابلے، معمے، مطالعہ، شاعری یا نثر یاد کرنا یا ایسے کھیل کھیلنا جن میں ذہن پہ زور پڑے، جیسی سرگرمیاں بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو زائل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

حقائق کی یاد دہانی کراتے رہنا: ڈیمینشیا کے مریض کے سامنے ضروری معلومات بیان کی جاتی ہیں اور ان کو یہ معلومات دہرانے کو کہا جاتا ہے۔ یہ عمل مفید ثابت ہوتا ہے۔

بیرونی مدد: دن یا تاریخ جاننے کے لیے اخبار یا کیلنڈر کی مدد لی جاسکتی ہے۔

جنکو بلوبا: یہ ایک ایسا جزو ہے جومیڈن ہیئر نامی درخت سے کشید کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانوں سے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ یادداشت کو بہتر کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ جسم میں موجود زہریلے مواد کو صاف کرکے ایسا کرتا ہو یا دماغ میں خون کے بہاؤ کی روانی کو بہتر کرتا ہو۔ اس کے ضمنی اثرات اتنے زیادہ نہیں لیکن اس کو ایسے مریضوں پر نہیں استعمال کرنا چاہیے جن کو خون بہنے کی شکایت ہو یا وہ ایسپرین یا وارفیرن جیسی ادویات استعمال کررہے ہوں۔

وٹامن ای: وٹامن ای سویا بین، سورج مکھی، بھٹے اور کپاس کے بیجوں، اناج ، مچھلی کے جگرکے تیل اور میووں میں پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ الزائمر کے علاج میں مدد کرتا ہے تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ضرورت سے زائد وٹامن ای نقصان دہ ہوتا ہے اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے روزانہ 200 سے زیادہ یونٹ استعمال نہیں کرنے چاہییں۔

مدد طلب کرنا

اگر آپ کو ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ آپ کی یادداشت خراب ہوتی جا رہی ہے تو اپنے ڈاکٹر سےمشورہ کریں۔ وہ آپ کا معائنہ یا خون کے ٹیسٹ کرکے طبی یا نفسیاتی مسئلے کی تشخیص کر سکتے ہیں۔ کوئی مسئلہ نہ ہونے کی صورت میں وہ آپ کو مطمئن کرسکتے ہیں جبکہ مسئلے کی صورت میں وہ آپ کو کسی اسپیشلسٹ مثلاً فزیشن، سائیکائٹرسٹ، نیورولوجسٹ یا سائیکولوجسٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔

رائل کالج آف سائکائٹرسٹس، یو کے

لیموں کے فوائد


لیموں کے فوائد

ہر سو گرام کے لیموںمیں مندرجہ ذیل اجزاء پائےجاتےہیں ـ

وٹامن بی (تھائمائن) اعشاریہ چار ملی گرام
وٹامن سی : پچاس ملی گرام
کیلشئم : چالیس ملی گرام
فاسفورس : بائیس ملی گرام
کاربوہائیڈریٹس : آٹھہ اعشاریہ سات ملی گرام
پروٹین : نوملی گرام
کیلوریز : بتیس
اس کے علاوہ ریبوفلاون بھی پایا جاتا ہے ـ

لیموں کے فوائد
لیموں ایک قدرتی اینٹی سیپٹک ہے ـ اس کا رس زخموں اور عفونت کی جگہوں سے تمام جراثیم کو ختم کر دیتا ہے ـ اس کے علاوہ اگر دانت کا درد ہو تو تازہ نکلا ہوا لیموں کا رس دکھتے ہوئے دانت پر لگانے سے دانت کے درد میں بھی آرام ملتا ہے ـ ۔
جلدی امراض جیسے دانے اور ایگزیمہ وغیرہ میں جلد پر یہ براہ راست لگا کر زیتون کا تیل پانی میں ملا کر اسے دھونے سے بھی فرق پڑتا ہے ـ اس کا رس بلیک ہیڈز ، دانوں اور چہرے کی جھریوں کے لئے بھی مفید ہے ـ۔
بالوں کو دھونے کے بعد اگر لیموں کا رس لگائیں اور ایک یا دو منٹ کے بعد سارے پانی سے دھو دیں تو بالوں میں چمک پیدا ہو جاتی ہے ـ
لیموں کے مستقل اور مناسب استعمال سے ذیابیطس جیسی موذی بیماری سے بھی بچا جا سکتا ہے ـ۔
لیموں کا رس شحمی مادّوں کے جم جانے کے باعث شریانوں میں پیدا ہونے والے نقص کو مزید بڑھنے سے روکنےمیں بھی بے انتہا مفید ہے ۔
لیموں کا رس جگر کے لئے ایک بہترین ٹانک ہے ـ یہ دیکھا گیا ہے کہ عموماً گنے کے رس میں لیموں نچوڑ کر استعمال کیا جاتا ہے جو کی جگر میں پیدا ہونے والی تمام بیماریوں کے لیے اکثیر ہے ـ

Osteoarthritisجوڑوں کا ایک عام مرض ہے ـ یہ عموماً چالیس سال کے بعد اور خصوصاً موٹے لوگوں کو ہوتا ہے ـ اس میں ہڈیوں کے سرے گھس کر رگڑ کھاتے ہیں ـ اس مرض کو روکنے اور اس کے علاج دونوں میں لیموں کا رس مفید ہے ـ۔

دھوپ کھائیے، جان بچائیے

دھوپ کھائیے، جان بچائیے

علم ہیئت وفلکیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ سورج کی روشنی تقریباً 93 ملین میل کا سفر طے کرتی ہوئی زمین تک پہنچتی ہے جو ہمارے لیے خوراک، ہوا اور پانی کی طرح ضروری ہے جبکہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ زمین کی فضا میں موجود اوزون کی تہہ سورج کی تابکار شعاعوں کا تقریباً 98 فیصد جذب کر لیتی ہیں جس کے بعد زمین تک سورج کی صرف 2 فیصدالٹرا بنفشی تابکار شعاعیں پہنچتی ہیں۔

طبی معالجین جلدی کینسر سے بچنے کے لیے زیادہ دیر تک دھوپ سینکنے کو مضر قرار دیتے ہیں لیکن دوسری جانب دھوپ انسانی صحت کے لیے غذا بھی ہے اور شفا بھی ہے ۔

سائنسدانوں نے پتا لگایا ہے کہ مناسب دھوپ کھانے سے نا صرف بلند فشار خون کو اعتدال پر رکھا جاسکتا ہے بلکہ دل کے دورے اور فالج کے خطرے سے بھی بچا جا سکتا ہے ۔

تپتے سورج کی دھوپ سینکنے سے فشار خون کو کیسےکںٹرول کیا جا سکتا ہے ؟

‘ساؤتھ ہمپٹن یونیورسٹی ‘ کے تحقیق کاروں نے دریافت کیا ہے کہ دھوپ کھانے سے جلد اور خون کی شریانوں میں موجود ایک خاص مرکب نائٹرک آکسائیڈ (گیس مالیکیول ) کی سطح تبدیل ہو جاتی ہے ۔

تحقیق کار ‘مارٹن فیلیش ‘ نے کہا کہ نائٹرک آکسائیڈ یا (این او) کا مرکب قدرتی طور پر ہماری جلد کے اندر وافر مقدار میں موجود ہیں جو بلڈ پریشر کو اعتدال میں رکھنے کے کام آتا ہے ۔

سائنسادانوں نے بتایا کہ دھوپ کی وجہ سے جلد سے نائٹرک آکسائیڈ کے علاوہ اس کے ٹوٹے پھوٹے سالموں کا اخراج ہوتا ہےجن کی تھوڑی مقدار خون کی گردش میں شامل ہو جاتی ہے ۔ این او مالیکیول خلیات کے درمیان پیغام رسانی کا کام انجام دیتا ہے لیکن اس کا ایک اہم کام خون کی وریدیں کھولنا بھی ہے جس سے خون کی وریدوں پر دباؤ کم ہو جاتا ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہےاور فشار خون میں کمی ہوتی ہے اور ساتھ ہی دل کے دورے اور فالج کے حملے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

امراض قلب کے حوالے سے پروفیسر فیلیش نے کہا کہ بلند فشار خون اوردل کی بیماریاں موسم اور عرض بلد کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں خاص طور پر موسم سرما میں اس مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے ایسے ممالک جو خط استوا سے دور واقع ہیں اور جہاں سورج کی بنفشی تابکاری شعاعیں کم پہنچتی ہیں وہاں موسم سرما کے دوران ایسے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے

مطالعے میں شامل 24 رضا کاروں کو 20 منٹ دورانیے کے دو مختلف تجربات سے گزارا گیا۔ پہلے سیشن میں انھیں الٹرا بنفشی تابکار شعاعوں اور ٹیننگ لیمپ کی حدت سے گزارا گیا، دوسرے تجربےمیں شرکاء کو صرف لیمپ کی گرمی سے حدت پہنچائی گئی ۔

‘جرنل انویسٹیگیشن ڈرماٹولوجی ‘ کے مطابق نتیجے سے پتا چلا کہ دھوپ کی وجہ سے خون کی وریدوں میں پھیلاؤ پیدا ہوتا ہےجس سے بلند فشار خون میں نمایاں کمی ہوتی ہے اور خون کی گردش میں این او کی سطح میں تبدیلی واقع ہوتی ہے لیکن وٹامن ڈی کی سطح میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ، جلد کی اوپری تہوں میں موجود پہلے سے ذخیرہ شدہ این او کی سطح خون کی وریدیں کھولنے میں ایک ثا لثی کا کردار ادا کرتی ہے ۔

پروفیسر فیلیش نے بتایا کہ ”کینسر کی روک تھام کے لیے سورج کی روشنی سے بچنےکے خوف میں ایک مخصوص طرز زندگی اختیار کرنا ،دل کی بیماریوں کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے جبکہ جلد میں موجود مرکب این او بہت اہم ہے جسے قلبی صحت کے حوالے سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔”

تاہم انھوں نے کہا کہ نتیجہ انسانی صحت پر سورج کی روشنی کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کے حوالے سے بہت اہم ہے اور عوامی صحت کے مفاد میں ایک تازہ جائزہ لینے کی ضرورت کا احساس پیدا کرتا ہے۔”

بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ہر سال 30 فیصد اموات بلند فشار خون اور دل کی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں صرف برطانیہ میں دل کی بیماریوں کے باعث ہر سال 88,000 اموات واقع ہو رہی ہیں ۔

اپنے بچوں کو بچائیں

اپنے بچوں کو بچائیں

ماں باپ اپنے بچوں کو اپنے بڑھاپے کا سہارا سمجھتے ہیں، جب کہ قومیں بچوں کو مستقبل کا معمار۔ لیکن، کم سنی کے دور میں، اِن بچوں کو اپنی ہی حفاظت اور بقاٴ کے لئے بڑوں کا سہارا اور تحفظ حاصل کرنا لازم ہے۔

اِس ضمن میں، بچوں کی بہتر نشو نما سے متعلق معلومات پر مبنی ایک کتاب میں والدین کی راہنمائی کی گئی ہے۔

ڈاکٹر بنجامن اسپاک کی اِس کتاب، ’ڈاکٹر اسپاکس بے بی اینڈ چائلڈ کیر‘ کے مطابق، والدین اپنے بچوں کو پیار، تربیت، تعلیم اور تفریح سب کچھ دے دیں، لیکن، اگر تحفظ نہ دے سکیں تو سب کچھ بے کار ہے۔

کتاب کے مطابق، بچوں میں نفسیاتی صحت کی ابتدا اِس احساس سے ہی ہوتی ہے کہ کوئی بڑا ہے جو اُن کا تحفظ کرے گا۔ دراصل، تحفظ ہی انسانی جبلت کا محور ہے۔ کوئی خطرہ ہو، تو بچہ روتا ہے اور بڑا اسے گود میں اٹھا لیتا ہے۔

’ڈاکٹر اسپاکس بے بی اینڈ چائلڈ کیر‘ کے مطابق، ایک سال سے بڑی عمر کے بچوں میں تمام بیماریوں کے مقابلے میں زیادہ اموات غیرارادی ضرر سے ہوتی ہیں، اور والدین کو یہ بتانے کا مقصد انھیں ڈرانا نہیں، بلکہ احتیاط پہ زور دینا ہے۔ کیونکہ، بچوں کو لاحق تمام خطرات کے باوجود، عوام میں حادثات سے بچاوٴ کے بارے میں آگہی بڑھنے سے بچوں کی حادثاتی اموات میں کمی آئی ہے۔

کتاب میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر لوگ جسے حادثہ تصور کرتے ہیں، جِن سے بچاؤ کے لئے وہ کچھ نہیں کرپاتے۔ دراصل، یہ حادثات نہیں ہوا کرتے، کیونکہ بڑے اُن کی وجوہات کا ادراک رکھتے ہیں، جب کہ ناسمجھی کی بنا پر، بچے اُن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

’ایمرجنسی میڈیسن‘ کے ماہر اور ڈاکٹروں اور عوام کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت دینے والے معالج، ڈاکٹر سید وہاج جنیدی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ پاکستان میں طبی وسائل کا ایک بڑا حصہ حادثات پہ استعمال ہو جاتا ہے۔ اور، ملک میں ابتدائی طبی امداد کے بارے میں عام لوگوں میں اور اسپتال پہنچنے سے پہلے مریض کا خیال رکھنے والے پیشہ ور لوگوں میں تربیت کی کمی ہوتی ہے۔ بات یہ ہے کہ، حادثے کے پہلے گھنٹے کے اندر اندر، زخمیوں کو مناسب طبی امداد نہ ملنے کے باعث، پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اور اموات بڑھ جاتی ہیں۔

ڈاکٹر جنیدی کا کہنا تھا کہ بچے اپنی عمر کے حساب سے مختلف حادثات کا شکار ہو سکتے ہیں، جِن میں گِرنا، جلنا، زہریلی چیز کھانا یا پی لینا، کسی چھوٹی چیز کا سانس کی نالی میں پھنس جانا یا کسی اور وجہ سے دم گھٹنا، ڈوبنا، کرنٹ لگنا؛اور اِس کے علاوہ، سڑک پہ ہونے والے حادثات شامل ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ بچوں کو گِرنے، کٹنے، کرنٹ لگنے، جلنے، ڈوبنے یا چھوٹی چیزیں منہ میں لینے جیسے خطرات سے بچانے کے لئے اپنے گھر کو بچوں کے حساب سے محفوظ بنانے، گھر کے اندر اور باہر اُن کی مناسب سرپرستی کرنے اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت لینے سے بچوں کی حادثاتی اموات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

کیا آپ کو غصہ آتا ہے؟

کیا آپ کو غصہ آتا ہے؟

کسی کو کسی بات پر غصہ آتا ہے تو کسی کو کسی اور بات پر۔ کسی کو کبھی کبھار غصہ آتا ہے تو کسی کو ہر بات پر۔ کسی کو کم تو کسی کو زیادہ اور کسی کا غصہ تھوڑی ہی دیر میں ختم ہو جاتا ہے تو کسی کو غصہ آتا ہے تو بڑھتا ہی چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ باتوں کے بعد بات لاتوں تک چلی جاتی ہے۔

’ریڈرز ڈائجسٹ‘ میں شائع ہونے والے مضمون ’وائی سو اینگری؟‘ کے مطابق، دوسرے جذبات کی طرح، انسانی تاریخ میں غصے نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا؛ کیونکہ، اگر دشمن کے سامنے طیش کا اظہار نہ کیا جاتا تو انسان بھوک سے یا لڑائی میں مارا جاتا اور زندہ نہ رہ پاتا۔

مضمون کے مطابق، لوگ ایک دوسرے کے رویوں پر غصہ کرکے یہ بتا دیتے ہیں کہ انھیں کیا نا پسند ہے، تاکہ دوسرا اپنا رویہ بدل لے۔ اور یوں، تعلقات برقرار رہتے ہیں۔ لوگ بچوں کی طرح چاہتے ہیں کہ ہر چیز ان کی مرضی کے مطابق ہو اور جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ غصے میں آجاتے ہیں۔

آج کے جدید معاشرے میں وہ خطرات تو نہیں جو ماضی میں انسان کو لاحق تھے۔ اور یوں، اپنی وہی پرانی سوچ کی وجہ سے انسان معمولی باتوں پر بھی بہت غصے میں آجاتا ہے۔

’ریڈرز ڈائجسٹ‘ کے مطابق، مدر ٹریسا کو بھی غصہ آتا تھا۔ لیکن، غربت پہ؛ گاندھی کو لوگوں کی بھوک پہ؛ مارٹن لوتھر کنگ کو سماجی نا انصافی پر؛ جبکہ بہت سے لوگوں کو معمولی باتوں پر۔ اور یوں، اگر کسی کو کسی بات پر غصہ آئے تو اسے یہ سوچنا چاہئے کہ کیا وہ مسئلہ زندگی اور موت کا ہے۔ اور اگر وہ بات اس قابل نہیں کہ اس پر غصہ کیا جائے، تو اپنے غصے کو قابو کرتے ہوئے اسے کسی جائز بات کے لئے رکھ چھوڑنا چاہئے۔

کراچی کے جناح اسپتال میں نفسیات اور اعصابیات کے شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لوگوں میں برداشت بہت کم ہوگئی ہے اور انھیں چھوٹی چھوٹی باتوں پہ غصہ آجاتا ہے۔

ُان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو زیادہ غصہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ پانی کم پیتے ہیں اور ورزش نہیں کرتے، جبکہ میڈیا میں دکھایا جانے والا تشدد بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

پروفیسر صاحب کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ انھیں تب غصہ آتا ہے جب کوئی غلط بات یا کام ہو۔ لیکن، بات تو تب ہے کہ کوئی گاڑی اونچے نیچے راستوں پر بھی اچھی چلے کیونکہ ہموار سڑک پر تو ہر گاڑی اچھی چلتی ہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ غصہ کرنا دوسرے کی غلطی کی سزا خود کو دینا ہے۔

پروفیسر آفریدی نے کہا کہ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ غصہ کرنا ٹھیک نہیں اور وہ خود کو بدلنا چاہے تو پھر اسے سمجھایا جاتا ہے کہ وہ سوچے کہ غصہ کرنے سے اسے کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان۔ اور، اس موقعے پر غصے کا نعم البدل کیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ، زیادہ پانی پینے اور باقائدہ ورزش کرنے سے بھی غصے پہ قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

صبح جلدی کیسے اٹھا جائے؟

صبح جلدی کیسے اٹھا جائے؟

ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے صبح جلدی اٹھنا ایک مشکل امر ہوتا ہے۔ الارم کی آواز تکلیف دیتی ہے۔ بہت سے لوگ الارم کی پہلی آواز پر نہیں اٹھتے بلکہ الارم بند بھی کر دیتے ہیں۔

آن لائن اخبار ’ہفنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق بہت سے لوگوں کے لیے نہ صرف صبح اٹھنا مشکل ہوتا ہے بلکہ انہیں صبح کے وقت بجنے والے الارم کو بند کرنے میں بھی دقت ہوتی ہے۔

بہت سے لوگ مختصر وقفے کے بعد الارم بجنے والے بٹن کو دباتے رہتے ہیں۔ اس بٹن کے لیے انگریزی میں ’سنوز‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ’سنوز‘ بٹن دبانے سے الارم وقفے وقفے کے بعد بجتا ہے۔

آن لائن اخبار کہتا ہے کہ سُنوز بٹن دبانے سے انسان کو فائدے کی بجائے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے؟

کیس ویسٹرن سکول آف نرسنگ میں نیند سے متعلق ماہر مائیکل ڈیکر کہتے ہیں کہ، ’صبح کے وقت جب آپ کی آنکھ کھلتی ہے اور جس وقت بہت سے لوگ عادت سے مجبور ہر کر سُنوز کا بٹن دباتے ہیں، وہ لمحات بہت اہم ہوتے ہیں اور اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ آپ کا پورا دن کیسا گزرے گا‘۔

الارم کو بار بار بند کرنے اور سُنوز کا بٹن دباتے رہنے کی عادت سے چھٹکارا پانے کے لیے ماہرین روزمرہ کی زندگی میں چند تبدیلیاں لانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

جلدی سونے کی عادت اپنائیے
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ صبح صحیح وقت پر اٹھنا چاہتے ہیں تو آپ کو جلد سونے کی عادت اپنانی چاہیئے۔ اس سے نیند کا دورانیہ درست رہتا ہے اور آپ صبح ہشاش بشاش اٹھتے ہیں۔

صبح کے وقت سست روی کا مظاہرہ کریں
ماہرین کہتے ہیں کہ صبح الارم کی پہلی آواز کے ساتھ اٹھنا اور تیزی سے تمام امور نمٹانا ممکن نہیں ہے۔ اپنے آپ کو وقت دیجیئے، آرام سے اٹھیئے اور بے شک سست روی سے اپنے کاموں کا آغاز کیجیئے۔ لیکن اس کے لیے بستر سے نکلنا شرط ہے۔

صبح کی روشنی کمرے میں آنے دیجیئے
ماہرین کہتے ہیں کہ ایک اچھی صبح کے آغاز کے لیے ضروری ہے کہ آپ صبح اٹھ کر اپنے کھڑکی کے پردے سرکائیے اور روشنی کو اندر آنے دیجیئے۔