Wednesday, 9 April 2014
امراضِ معدہ، اسباب اور علاج
امراضِ معدہ، اسباب اور علاج
انسانی جسم ایک خود کار مشین ہے، قدرت نے اس طرز پر بنایا ہے کہ ہر عضو اپنا کردار اور کام اپنی حدود میں بغیر کسی مزاحمت کے کرتا ہے۔ جب انسان اپنی غلطی، غفلت اور مسائل کی وجہ سے ان اعضأ اور جسم کی ضروریات کے مطابق ان کا خیال نہیں رکھتا تو پریشانیاں اور بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ معدہ انسانی جسم کا ایک اہم حصہ ہے۔ انسانی جسم میں توانائی، حرکت اور نشو و نما کی بنیادیں اسی میں ہوتی ہیں۔ انسان جو کچھ کھاتا ہے، اسے کھا کر چبانا، ہضم کرنا اور پھر سے جسم انسانی کا حصہ بنانا یہ سب کام معدہ اور اس کے معاون اعضا ہی کرتے ہیں۔ نشاستے، لحمیات، حیاتین اور معدنیات انسان کی خوارک کا حصہ ہیں، ان اجزأ کا ایک فیصد استعمال ہوتا ہے اور باقی ناقابلِ ہضم اجزأ معدہ جسم سے خارج کرتا ہے۔ خوراک ہضم کرنے میں لعاب کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر لعاب ٹھیک نہ ہو تو نظامِ انہضام میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
اس مضمون میں کوشش ہے کہ اسے عام فہم انداز میں پیش کروں تا کہ ہر پڑھنے والے کو فائدہ پہنچے اور اسے اپنے معدہ کی اصلاح میں مدد ملے۔ معدہ کی تکالیف میں عمومی طور پر ورمِ معدہ، نظامِ ہضم کی خرابیاں، بھوک نہ لگنا، پیٹ میں ریاح ، گیس، تبخیر، انتڑیوں کا سکڑ جانا اور السر یعنی معدہ کے زخم وغیرہ شامل ہیں۔ معدہ کا ورم جب حادّ ہو جائے تو معدہ کا داخلی حصہ اور دیواریں سرخ اور سوجی ہوئی حالت میں تبدیل ہو جاتی ہیں ، اس سے معدہ کا درد، قے، متلی، سینہ کی جلن سمیت کئی پریشان کن علامات کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ معدہ کی ان بیماریوں کی وجہ سے انسان کا پورا جسم متاثر ہوتا ہے اور مزید کئی بیماریوں کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ سر کا درد، آدھے سر کا درد، نظر کی کمزوری، جگر کا تازہ خون کی پیدائش روک دینا، ہڈیوں کا درد، گردوں میں خرابیاں، وزن میں کمی، مردوں میں احتلام و جریان، خواتین میں لیکوریا اور ماہواری کی خرابیاں، نیند میں خرابی اور ذہنی انتشا ر و تناؤ۔۔ یہ سب وہ مسائل ہیں جن کا بالواسطہ یا بلاواسطہ معدہ سے لازمی تعلق ہے۔
معدہ کی بیماریوں کے اسباب:
معدہ کی بیماریوں میں معدہ کا ورم اور السر نمایاں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ فاسٹ فوڈ، غیر مسلم ممالک میں خنزیر جیسے جانور کا حرام گوشت، زیادہ تیل اور گرم کھانا، بازاری اچاری کھانے، سگریٹ نوشی، شراب و الکوحل ، بروقت نہ کھانا، جنسی عمل میں زیادتی، سوئے تغذیہ ( غذائی کمی یا لازمی غذائی اجزاء کا جذب نہ ہونا) عفونت جراثیمی، جیسے کہ ایچ پائلوری انفکشن، آنتوں کی عفونت، نمونیا، مسمومیت غذائی، اینٹی بائیوٹک ادویات کا غلط استعمال، دافع درد انگریزی ادویات (ڈکلوفینک سوڈئیم، ڈکلوفینک پوٹاشئیم، آئیبو پروفین، انڈو میتھاسون، فینائل بیٹازون، کوٹیزون، اسپرین) اور کیمو تھراپی کے لئیے استعمال ہونے والی ادویات۔ انگریزی ڈاکٹر صاحبان دافع درد ادویات کے ساتھ احتیاطاً رینیٹیڈین، زینیٹیڈین اور اومپرازول استعمال کرواتے ہیں اس کا مقصد مریض کو ان ادویات کہ ممکنہ خطرات سے بچانا ہوتا ہے جو کہ معدہ کی تکایف کی صورت میں ہوتا ہے۔ ۔ جنسی ہارمون اور کورٹی سون کا استعمال السر پیدا کرسکتا ہے۔
شراب نوشی‘ تمباکونوشی اور تفکرات کے علاوہ صدمات بھی السر پیدا کرتے ہیں۔ جیسے کہ خطرناک نوعیت کے حادثات‘آپریشن‘ جل جانے اور دل کے دورہ کے بعد اکثر لوگوں کو السر ہوجاتا ہے۔ میں خود اس حالت میں مبتلا رہ چکا ہوں۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ صدمات چوٹ اور دہشت کے دوران جسم میں ایک ہنگامی مرکب ہسٹامین پیدا ہوتا ہے یہ وہی عنصر ہے جو جلد پر حساسیت کا باعث ہوتا ہے۔ یقین کیا جارہا ہے کہ اس کی موجودگی یا زیادتی معدہ میں السر کا باعث ہوتی ہے۔ اسی مفروضہ پر عمل کرتے ہوئے السر کی جدید دواؤں میں سے سیمیٹیڈٰن بنیادی طور پر ہسٹامین کو بیکار کرتی ہے اور یہی اس کی افادیت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ ایسی خوراک جس میں ریشہ نہ ہو۔ جیسے کہ خوب گلا ہوا گوشت۔ چھنے ہوئے سفید آٹے کی روٹی السر کی غذائی اسباب ہیں۔
اکثر اوقات السر خاندانی بیماری کے طور پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔ آپس میں خونی رشتہ رکھنے والے متعدد افراد اس میں بیک وقت مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ ان میں تکلیف وراثت میں منتقل ہوتی ہے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بودوباش کا اسلوب‘ کھانا پینا یا عادات ایک جیسی تھیں۔ اس لیے ان کو السر ہونے کے امکانات دوسروں سے زیادہ رہے50فیصدی مریضوں کو السر معدہ کے اوپر والے منہ کے قریب ہوتا ہے وہ اسباب جو معدہ میں زخم پیدا کرتے ہیں وہ بیک وقت ایک سے زیادہ السر بھی بنا سکتے ہیں لیکن 90فیصدی مریضوں میں صرف ایک ہی السر ہوتا ہے۔ جبکہ 10-15فیصدی میں ایک سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔
اس پر حکمأ اور معالجین متفق ہیں کہ السر کے متعدد اقسام جلد یا بدیر کینسر میں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے پر یہ پھٹ جاتا ہے، عموماً مریض کو اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب قے کے ساتھ خون آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے پھٹنے میں شراب نوشی، سگریٹ نوشی اور دافع درد ادویات کا اہم کردار ہوتا ہے۔
السر کی تمام پیچیدگیاں خطرناک ہوتی ہیں، ان میں سے کوئی بھی علامت یا پیچیدگی جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ السر کا مریض زندگی سے مایوس، پریشان و بے چین اور اعصابی تناؤ کا شکار رہتا ہے، میرا ذاتی تجربہ ہے کہ لمبی چوڑی تنخواہوں اور وی آئی پی کلچر میں رہنے والوں کو جب یہ بیماری لاحق ہوئی تو صحت کے ساتھ ساتھ سب کچھ برباد اور تباہ ہو گیا۔ اس مختصر مضمون میں معدہ کے امراض کے اسباب و علاج مکمل لکھنا ممکن نہیں، آگہی اور علاج میں معاونت مقصود ہے۔ جس کسی کو بھی یہ تکلیف محسوس ہو اسے چاہیئے کہ فی الفور کسی مستند طبیب سے رجوع کرے۔ آپ کے آس پاس میں بہت سارے نیم حکیم آپ کو ملیں گے، تعویذ اور دم والوں کی بھی بھرمار ہو گی مگر یاد رکھیں علاج کروانے کی ترغیب ہمیں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ نے دی ہے۔ اس علاج میں کچھ میڈیکل ٹیسٹ بھی کروانے پڑتے ہیں۔ اس لئیے کسی منجھے ہوئے حکیم یا ڈاکٹر سے مشورہ کریں، دم اور تعویذ کے چکر میں پڑ کر اپنا وقت برباد نہ کریں ۔ اولیأ کاملین کی دعا اثرات سے بھرپور ہوتی ہے اور اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔
امراض معدہ کا آسان علاج:
میری عادت ہے کہ میں انٹرنیٹ یا اخباری مضامین میں کوئی نسخہ یا علاج نہیں لکھتا کیونکہ اگر پڑھنے والے کی سمجھ میں نہ آئے تو نسخہ کی ترکیب و استعمال کے غلط ہو جانے سے زبردست نقصان کا اندیشہ موجود ہوتا ہے۔ عمومی طور پر میں میڈیا کے ذریعہ نسخہ جات کی بجائے خواراک سے علاج کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہاں کچھ علامات کے ساتھ آسان علاج پیش کرتا ہوں تاہم گذارش ہے کہ اگر کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو اس وقت تک استعمال نہ کرے جب تک مجھ سے یا کسی اچھے طبیب سے مشاورت نہ کر لیں۔
نسخہ نمبر1:
اگر سر میں درد رہتا ہے، پاخانہ وقتِ مقررہ یا معمول میں نہیں ہے، نیند کی زیادتی ہے تو کسی اچھے دواخانے کی بنی ہوئی اطریفل زمانی ناشتہ کے بعد ایک چھوٹا چمچ پانی کے ساتھ کھائیں۔ رات سونے سے قبل چار عدد انجیر نیم گرم دودھ کے ساتھ۔ صبح نہار منہ زیادہ سے زیادہ تازہ پانی پئیں۔
نسخہ نمبر 2:
اگر سر میں درد، جسم میں تھکاوٹ کمزوری، قبض اور پاخانہ درد وجلن کے ساتھ ہو یعنی بواسیر کی علامات ظاہر ہو رہی ہوں یا پاخانہ میں خون خارج ہوتا ہو تو جوارش جالینوس ایک چھوٹا چمچ رات کے کھانے کے بعد پانی کے ساتھ، جوارش کمونی ناشتہ کے بعد ایک چھوٹا چمچ پانی کے ساتھ۔ چار عدد انجیر دوپہر کے کھانے کے بعد نیم گرم دودھ کے ساتھ۔ مدت علاج دو مہینے۔
بانجھ پن کیوں ہوتا ہے؟ اسباب اورعلامات
بانجھ پن کیوں ہوتا ہے؟ اسباب اورعلامات
بانجھ پن کو ایک مصیبت خیال کرتے تھے ۔اس وقت کے مذہبی وملکی قوانین سے بانجھ عورتوں کو حقوق زوجیت سے محروم کیا جاتا تھا۔دنیا کے اکثر ممالک مثلاً مصر، ایران ،اور ہندوستان وغیرہ میں یہ مرض اب تک ویسا ہی مذموم اور منحوس خیال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ زمانہ قدیم میں اس مرض کو صرف عورتوں کا ہی مرض خیال کیا جاتا تھا لیکن بعد کی تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا کہ چالیس سے پچاس فیصد واقعات میں اس مرض کا سبب مرد ہی ہوا کرتے ہیں ۔دور جدید میں اس مرض میں جس تیزی سے اضافہ ہواہے اس نے اپنی پچھلی تمام حدیں توڑ دی ہیں زیادہ پیچھے کیوں جائیں دنیا کے سپر پاور ملک کو ہی لے لیجئے جسے خود کو بہت مہذب ہونے کا غرور ہے اور جس کی عوام کی رگ وپے میں مشینی زندگی سرایت کر گئی ہے جی ہاں ہماری مراد امریکہ سے ہے ۔امریکہ سے شائع ہونے والے میگزین”نیوزویک“نے ستمبر ۱۹۹۵ءمیں بانجھ پن پر ایک خصوصی نمبر شائع کیا تھا اور اسمیں بتایا تھا کہ امریکہ میں ۵۳ لاکھ جوڑے بانجھ ہیں ۔امریکی ماہرین بتاتے ہیں کہ بانجھ پن کی بیماری میں جو تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجوہات میں تاخیر سے شادی کرنا ،جنسی عادات میں تبدیلی(غیر فطری طریقے) وغیرہ شامل ہیں ۔بانجھ پن کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں ۔
(۱) مطلق بانجھ پن:
یہ قسم چاہے مردوں میں ہو یا عورتوں میں اس کا کوئی علاج نہیں مردوں میں اس کا سبب منی کا سرے سے پیدا ہی نہ ہونا یا پھر منی میں اسپرم کا بالکل نہ پایا جانا یا ان کی تعداد میں حد سے زیادہ کمی ہونا اس کے علاوہ بعض امراض کے سبب خصیتین کو سرجری کے ذریعے نکال دینا بھی ہے۔
(۲) نسبتی بانجھ پن:
اس قسم کا علاج ممکن ہے لیکن بعض اوقات اس کے بھی اسباب تفتیش کے ذریعے معلوم نہیں کئے جاسکتے
بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ حمل تو ٹھہر جاتا ہے لیکن پھر اسقاط ہو جاتا ہے یا پھر پہلا بچہ طبعی مدت میں طبعی طریقے پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے بعد پھر حمل نہیں ٹھہرتا اس صورت کو one child setrlityکہتے ہیں ایسی صورت میں عموما چالیس سے پچاس فیصد واقعات میں بانجھ پن کا سبب مرد ہوا کرتے ہیں اس لئے عورتوں کا Investigationکرانے سے پہلے مردوں کا مکمل investigationکرایا جانا چاہئے ۔اس قسم کی مزید تین قسمیں ہیں ۔
(۱) عضوی بانجھ پن:
عضو تناسل میں کسی قسم کا نقص بوجہ جلق(مشت زنی)یا بچپن کی شادی ہونا،یا عضو مخصوص پر چوٹ لگ جانا ،خصیوں کاکمزور ہونا یا ان میں ورم آجانا یا پانی بھر جانا ،عضو مخصوص کا بہت چھوٹا ہونا ،مرض سوزاک یا آتشک کے زخموں کی وجہ سے اسپرم کا قطعی طور پر ضائع ہوجانا وغیرہ،
(۲) علامتی بانجھ پن :
دل ودماغ معدہ جگر،پھیپھڑا ،مثانہ وغیرہ کے امراض کا اعصاب و اعضائے جماعیہ کو کمزور کر دینا ،نامردی کے علاوہ کسی مرض کا علاج کراتے ہوئے اس مرض کی ادویات اصل مرض کو تو رفع کر دیتی ہیں مگر ساتھ ہی جنسی قوت پر برا اثر چھوڑ جاتی ہیں اسی طرح کھٹی چیزوں کا کثرت سے استعمال کرنا بھی بانجھ پن کی علامت پیدا کر دیتا ہے ۔منشیات مثلاًتمباکو،کوکین،شراب، چرس وغیرہ بھی بانجھ پن پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہیں ۔قوت جماع کے حق میں دماغ کا بھی بڑا حصہ ہے دماغ ہی سے شہوانی بجلی کا تار عضو مخصوصہ کو متحرک کرتا ہے لہذا دماغی پر یشانی کمزوری بھی اکثر بانجھ پن کا سبب بن جاتے ہیں۔
(۳)اعصابی بانجھ پن :
جلق یا مشت زنی کی زیادتی سے اعصاب اس قدر کمزور ہو جاتے ہیں کہ اول تو شہوت کا خیال آنے پر عضو خاص میں کسی قسم کی حرکت نہیں ہوتی اور اگر اس میں انتشار ہو بھی جائے تو اعصاب جلد ہی تھک کر قابو اور ضبط چھوڑ دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جماع مکمل ہونے سے پہلے ہی عضو خاص نرم پڑ جاتا ہے اور انزال ہو جاتا ہے اس کے علاوہ اس قسم میں ایسے افراد کا شمار بھی ہوتا ہے جو اس وہم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ان کی جنسی قوت یا قوت باہ کم ہے مگر ان کے اسی شک یا وہم کا ان پر ایسا برا اثر ہوتا ہے کہ وہ سچ ہی کمی محسوس کرنے لگ جاتے ہیں ۔ایک صورت بانجھ پن کی یہ بھی ہوتی ہے کہ عورت زیادہ امیر گھرانہ کی یا بے حد حسین اورجسم میں مضبوط اور بہت ہی بارعب ہے تو ایسے میں مرد بوقت وظیفہ زوجیت گھبرا جاتا ہے جس سے عضو خاص میں آئی سختی بھی چلی جاتی ہے ۔اس کے متضاد عورت بدصورت ہے یا کسی وجہ سے اس سے نفرت ہوگئی ہے تو اس صورت میں دل و دماغ اس کے ساتھ جماع کرنے کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ طبیعت اور خراب ہو جاتی ہے۔بانجھ مردوں کی طرح بانجھ عورتوں کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔آیوروید شاستر میں اس کی کل اکیس قسمیں بیان کی جاتی ہیں ۔اداورتا،بندھیا،وپُلتا، واتلا ان پانچ قسموں میں بانجھ پن کا سبب بادی کا نقص ہوتا ہے ۔لوہتا ،کشرا،پر سنسنی ،دامنی، پترگھنی،پثلا،ان پانچ قسموں میں بانجھ پن کا سبب گرمی کا نقص ہوتا ہے ۔اتیا نندا،کرنیکا،اتی چرنا ،آنند چرنا میں بانجھ پن کا سبب بلغم کی زیادتی یا غلبہ ہوتا ہے ۔ مندرجہ بالا تمام قسمیں قابل علاج ہیں البتہ آخری قسم یہ لاعلاج ہے اس قسم میں شامل عورتیں اپنے شوہروں کے لئے بڑی تکلیف دہ ثابت ہوتی ہیں یہ مزاج کی انتہائی سرد ہوتی ہیں اگر انہیں خاوندکی خوشی کے لئے وظیفہءزوجیت ادا کرنا پڑے تو نہ ہی انہیں کسی قسم کا لطف آتا ہے اور نہ ہی ان کے چہرے پر کسی قسم کے جذبات ہوتے ہیں ،اسباب کے لحاظ سے عورتوں میں بانجھ پن کی دو قسمیں ہیں،
(۱) پیدائشی بانجھ پن:
پردہ ¿ بکارت (ہائمین)کا بہت سخت یا موٹا یا بالکل تنگ ہونا اس مرض کا ایک اہم سبب ہے پردہ ¿ بکارت در اصل اندام نہانی کی لعاب دار جھلی کا ایک ہلالی شکل کا باریک پردہ ہے جو اندام نہانی کے سوراخ کے نچلے حصے پر واقع ہوتا ہے اور اسے مکمل طور پر بند رکھتا ہے اس کے درمیان کئی باریک سوراخ ہوتے ہیں جن سے خون حیض جاری ہوتا ہے یہ پردہ ¿ عموماً پہلے جماع سے پھٹ جاتا ہے مگر بعض اوقات یہ نہیں بھی ہوتا اس لئے اس کو ہونا یا نہ ہونا دوشیزگی کی قطعی دلیل ہرگز نہیں ہو سکتی۔بعض اوقات اندام نہانی کی آخری حصے کی تنگی کی بھی اس مرض کا سبب ہوتی ہے یہ غشائی نالی ہوتی ہے اور بچہ کی پیدائش کے وقت یہ نالی اس قدر پھیل جاتی ہے کہ بچہ کا سراوردھڑ اس نالی سے باہر باآسانی گذر جاتا ہے ۔رحم کا پیدائشی طور پر نہ ہونا یا پھر سامنے یا پیچھے کی طرف گر جانا یا جھک جانا بھی بانجھ پن کا ایک اہم سبب ہے کیونکہ اس صورت میں اسے سرجری کے ذریعے الگ کیا جا سکتا ہے رحم میں ہی بچہ نو ماہ تک پرورش پاتا ہے رحم خالی ہونے کی صورت میں اسکی اگلی اور پچھلی دیواریں باہم ملی ہوتی ہیں ۔خصیتہ الرحم (اوو ¿ریز)کا پیدائشی طور پر نہ ہونا بھی بانجھ پن کا ایک سبب ہے کیونکہ اس کے نہ ہونے یااس کی ساخت کی خرابی کی صورت میں عورت جماع کی طرف بالکل رغبت نہیں ہوتی اور نہ ہی انزالی تسکین ہوتی ہے ۔خصیتہ الرحم میں ہی عورت کا مادہ تولید تیار ہوتا ہے پھر جب اس مادہ کے ساتھ مرد کا نطفہ قدرتی طور پر ملتا ہے اور دیگر حالات موافق ہوتے ہیں تو بچہ بننے لگتا ہے یہ مادہ فلوپئین ٹیوب کی راہ رحم کے جوف کی طرف آتا ہے اس کے علاوہ خصیتہ الرحم کا دوسرا کام عورت کے جسم میں تندرستی ،خوبصورتی اور حیض کی باقاعدگی کو قائم رکھنا ہے پہلے دونوں کام جوانی کے آغاز سے ہی شروع ہوجاتے ہیں۔رحم کے منہ کا بالکل بند ہونا یا پیدائشی طور پر اس کا نہ ہونا یا اس کے منہ پر ایسی سخت چیزوں کا پیدا ہوجانا جو ازالہ ¿ بکارت کے وقت بھی نہیں پھٹتی چنانچہ ایسی عورتوں کو حیض کے ابتداءمیں حیض کے اخراج کا راستہ نہ ہونے کی وجہ سے سخت قسم کادرد پیدا ہو جاہو جاتاہے اور عورت سخت مصیبت میں مبتلا ہو جاتی ہے نتیجہ میں بانجھ پن کی نمود ہوتی ہے ۔قاذفین(فلوپئین ٹیوب) کا نہ ہونا یا بہت زیادہ تنگ ہونا بھی اس مرض کا ایک سبب ہے در اصل یہ باریک نالیاں ہوتی ہیں جو مرد کی منی کو خصیتہ الرحم تک پہنچاتی ہے اس کی ساخت رحم کی ساخت کی مانند ہوتی ہے ۔
(۲)غیر پیدئشی بانجھ پن :
بعض عورتوں کا مزاج سرد ہوتا ہے جو کہ اس مرض کا سبب بنا کرتا ہے کیونکہ سردی (برودت) کی زیادتی سے رحم کثیف اور اس کی عرقیں تنگ ہو جاتی ہیں پھر عورت اور مرد کا نطفہ رحم میں داخل ہوتا ہے تو یہی برودت اس کے مزاج کو بگاڑ دیتی ہے ۔اسی طرح بعض عورتوں کے مزاج میں گرمی کا غلبہ ہوتا ہے یہ بھی نطفہ میں احتراقی (جلی)کیفیت پیدا کر دیتا ہے یہی حال خشک مزاج عورتوں کا ہے جس کے سبب نطفہ خشک ہو کر اس میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے ۔رحم کے اندر خراب رطوبت کا اجتماع بھی اس مرض کا ایک اہم اور وقتی سبب ہے کیونکہ یہی خراب رطوبت رحم کی رطوبات میں کھاراپن اور مزاج میں بگاڑ کا نتیجہ بنتی ہیں جسکی وجہ سے حمل نہیں ٹھہرتا۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بلغم ،سودا،صفرا اپنے اصلی مقام سے بہہ کر رحم میں آنے لگتے ہیں جس سے رحم کا مزاج تو خراب ہوتا ہی ہے منی بھی خراب ہو جاتی ہے ،موٹاپا بھی اس مرض کا ایک اہم سبب ہے کیونکہ چربی کی زیادتی رحم اور رحم کے منہ کو دبا دیتی ہے ساتھ ہی خون کی عروق مجاری پر بھی دباﺅ پڑتا ہے جس کے نتیجے میں ان کے طبعی افعال بگڑ جاتے ہیں ۔بہت زیادہ کمزوری اور لاغری بھی بانجھ پن کا سبب بن جایا کرتی ہے کیونکہ عورت کا اپنا جسم اپنی اصلاح اور جسمانی قوتوں کی بحالی کے لئے غذا میں اس قدر حصہ لے لیتا ہے کہ بچہ کی پرورش کے لئے فاضل بچتا ہی نہیں ۔بعض اوقات عمر کی زیادتی یا زیادہ عرصہ بعد مباشرت کرنے کی وجہ سے بھی یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے ۔اس مرض کا ایک اہم سبب رحم یا رحم کے منہ پر کسی مرض کا پیدا ہونا یا ان میں سخت ورم یا مسہ کی مانند زائد گوشت کا پیدا ہو جانا ہے جس کی وجہ رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے اور منی رحم تک نہیں پہنچ پاتی۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نہایت خراب ریاح اور نفخ جنین کے غلاف اور رحم کے مقام اتصال کے درمیان حائل ہو جاتی ہیں جو کہ بانجھ پن کا سبب بنتی ہیں اسی طرح حیض کے خون کا یکا یک یا کسی مرض کی وجہ سے بند ہو جانا بھی بانجھ پن کا ایک سبب ہوتا ہے ۔بعض رحمی امراض جیسے میٹرائٹس ،سروسائٹیس،رحم کا کینسر ،ناسور،رحم کا چھوٹا ہونا یا اس میں پانی کا جمع ہوجانا ،تشنج وغیرہ بھی بانجھ پن کا سبب ہیں کیونکہ حمل اس وقت تک نہیں ٹھہرپاتا جب تک رحم صحیح نہ ہو اور اس کے افعال درست نہ ہوں۔وظیفہ ¿ زوجیت کے بعد بیوی کا فورا کھڑے ہوجانا یا زور سے چھینکنا ،زور سے کودنا یا کسی سخت صدمے یا نفسیاتی تکلیف جیسے شدید رنج وغم یا خوف وہراس یا جسمانی تکالیف جیسے رحم کی قوت ماسکہ کا کمزور ہونا یا بہت زیادہ بھوک لگنا جس سے ماں کی قوت جنین اس کی حفاظت پر قادر نہ رہے یا حمل ٹھہر جانے کے بعد کثرت سے وظیفہ ¿زوجیت انجام دینا جس سے سیال منویہ کو نقصان پہنچتا ہے وغیرہ بانجھ پن کے اسباب ہیں۔اس مرض میں خصوصا اونچے طبقے کی اور نازک مزاج عورتیں زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ یہ خوف کی وجہ سے مباشرت کے دوران تعاون نہیں کرتیں اور ایک ساتھ رہنے کے باوجود بھی ان میں یہ صورت ایک لمبے عرصے تک قائم رہتی ہے ۔اس مرض کی سب سے ترقی یافتہ وجہ شادی کے فورا بعد مانع حمل کی گولیوں کا کثرت سے استعمال یا دیگر مانع حمل طریقے ہیں جن پر آج کل بڑی خوشی سے عمل کیا جاتا ہے مگر جب یہی مانع حمل طریقے اور دوائیں بے شمار نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں کو جنم دیتی ہیں تو آنکھیں کھلتی ہیں کہ یہ کیا ہوگیا ؟اس تعلق سے مغرب کے طبی اور نفسیاتی ماہرین نے بہت کچھ کہا اور لکھا ہے۔چنانچہ ڈاکٹر ارسولڑسکوارس کہتے ہیں کہ”یہ ایک ثابت شدہ حیاتیاتی قانون ہے کہ جسم کا ہر عضو اپنا خاص وظیفہ انجام دینا چاہتا ہے اور اس کا کام پورا نہ کرنا چاہتا ہے جو فطرت نے اس کے سپرد کیا ہے اگر اسے اپنا کام کرنے سے روک دیا جائے تو لازماً الجھنیں اور مشکلات پیدا ہو کر رہتی ہیں ۔عورت کے جسم کا بڑا حصہ بنایا ہی گیا ہے استقرار حمل اورتولید کے لئے اگر ایک عورت کو اپنے جسمانی اور ذہنی نظام کا یہ تقاضہ پورا کرنے سے روک دیا جائے یا وہ خود اسے روکنا چاہے تو وہ اضمحلال اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگی۔“ڈاکٹر الیکز کارل لکھتے ہیں کہ”وظائف تولیدی کی انجام دہی عورت کی تکمیل کے لئے ناگزیر ہے یہ ایک احمقانہ فعل ہے کہ عورتوں کو تولید اورزچگی سے بر گشتہ کیا جائے ۔“آج کل عورتوں کی یہ سوچ ہو چکی ہے کہ اگر وہ زیادہ بچے پیدا کرتی ہیں تو ان کی خوبصورتی اور نازوادا مدھم پڑ جائیگی انہیں قائم رکھنے کے لئے وہ شروع سے ہی مانع حمل ادویات کا استعمال کرتی ہیں اور تاحیات خوبصورتی قائم رکھنے کے چکر میں بے شمار امراض کاشکار ہو جاتی ہیں یہ امراض درج ذیل ہیں۔
(۱)انجماد خون کی خطرناک بیماریاں جیسے Thtrombosis &Embolism
(۲)رحم مادر کی جھلیوں کا ورم اور کینسر
(۳)ایسی دوائیں جگر کے بعض ٹیومرز کے پھٹنے کاسبب بنتی ہیں۔
(۴)ماہواری میں بے قاعدگی ۔(۵)پیٹ میں درد،الٹیاں،معدہ کا السرو غیرہ۔
(۶)خون کی کمی ،سردرد اور پژمردگی۔
(۷)عصبی ناہمواری،بے خوابی،پریشان خیالی اور مزاج میں چڑ چڑاپن۔
(۸)دل و دماغ کی کمزوری (۹)ہاتھ اور پاﺅں کا سن ہو جانا۔
(۱۰)کینیڈا میں کی گئی ریسرچ کے مطابق مانع حمل ادویات استعمال کرنے والی خواتین میں فالج کا تناسب ۵۷ فیصد ہے ۔
(۱۱) سب سے بڑی بیماری جس نے معاشرے کو درہم برہم کر دیا ہے محفوظ بدکاری ہے۔
علامات: حیض کا خون پتلا اور اسکی رنگت ہلکی ہوتی ہے نیز مقدار بھی کم ہوتی ہے حیض کا زمانہ دیر سے آتا ہے کمزوری زیادہ ہوتی ہے آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے سے پڑ جاتے ہیں ۔ایسی عورتیں جن کے مزاج میں گرمی ہوتی ہے ان کے پیڑو کے مقام پر بالوں کی کثرت ہوتی ہے اور حیض کے خون کی رنگت سیاہ ہوتی ہے نیز مقدار بھی کم ہوتی ہے ۔بعض عورتوں کے مزاج میں خشکی کا غلبہ ہوتا ہے ان میں اندام نہانی خشک چمڑہ کے مانند ہو جاتی ہے اسی طرح رطوبت کے غلبہ کی صورت میں رحم کے اندر سے ہمیشہ رطوبتیں بہتی رہتی ہیں پھر اس صورت میں اگر حمل ٹھہر بھی جائے تو اسقاط ہو جاتا ہے ۔موٹاپے کی صورت میں پیٹ بلند اور طبعی حالت سے برا ہوتا ہے چلنے پھرنے کے وقت سانس پھولنے لگتی ہے معمولی ریاح اور پاخانہ کے جمع ہو جانے سے پیٹ میں سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔رحم کے کسی ایک سمت میں جھکاﺅ کے نتیجے میں سخت درد ہتا ہے کیونکہ رحم کا جھکاﺅ کسی دوسرے سبب سے ہوتا ہے جس س رحم میں شدید درد ہو جاتا ہے۔
مردوں میں بانجھ پن کے اسباب: مردوں میں اسباب کے لحاظ سے اس کی دو قسمیں ہیں
(۱) پیدائشی بانجھ پن :
خصیتین کا پیدائشی طور پر نہ ہونا مردوں میں اس مرض کی ایک اہم وجہ ہے کیونکہ خصیتین ہی میں منی پیدا ہوتی ہے اور یہی خزانہ منی بھی ہے بایاؓ خصیہ کس قدر دائیں خصیہ سے بڑا ہوتا ہے اور ہر خصیہ میں مسلسل حوینات منویہ بنتے رہتے ہیں بعض اوقات ایک خصیہ یا پھر دونوں خصیے پیٹ کے اندر گردوں کے نیچے ہوتے ہیں مگر اس صورت میں بھی اولاد پیدا ہو سکتی ہے ۔خصیوں کا دوسرا اہم کام مردانہ ہارمون پیدا کرنا ہے اگر یہ ہارمون کم ہوں تو لڑکا لڑکی کی طرح زنانی شکل کا نظر آتا ہے ۔منی کی نالی (واساڈ فریشیا) کا پیدائشی طور پر نہ ہونا بھی بانجھ پن کا سبب ہے ۔یہ دو نالیاں پیچ دار راستہ طے کرنے کے بعد سیمنل ویسیکل سے مل کر اجاکیولیٹری ڈکٹ میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔
غیر پیدائشی بانجھ پن:مردوں میں اس مرض کا ایک اہم سبب منی کے مزاج کا خراب ہونا ہے جس سے اس میں تولید کی صلاحیت باقی نہیں رہتی یہ خرابی اس میں غیر معمولی گرمی ،تیزی ،ٹھنڈک،رطوبت و پتلا پن اور خشکی کی وجہ سے ہوتی ہے قضیب میں کسی قسم کی عارضی خرابی بھی اس مرض کا ایک اہم سبب ہے۔مختلف امراض جیسے آتشک سوزاک ،جوانی کے بعد ممپس میں مبتلا ہونا جس کے ساتھ خصیے بھی متورم ہو جائیں وائدر کا تعدیہ فوطوں کی چوٹ اور ٹی ۔بی بھی اس مرض کے اسباب میں سے ہیں ۔ہائیڈرو سل ،ویریکوسل،اور ذیابطیس کے مریضوں میں بھی اس مرض کی نمود ہو جاتی ہے اس کے علاوہ مباشرت کی زیادتی یا لمبے عرصے تک مباشرت سے پرہیز کرنے سے حوینات منویہ کی حرکت پر اثر پڑتا ہے جو کہ بانجھ پن کا موجب ہے ۔اس کا اہم سبب مشت زنی ہے ۔مشت زنی کی ابتدا افریقہ سے ہوئی اور اس کے بعد عرب ،مصر اور ہندوستان بلکہ دنیا ک مہذب اور غیر مہذب تمام ممالک میں یہ بدعادت کم و بیش موجود ہے اس فعل کی بدولت بہت سے خاندان تباہ ہوئے اور ہو رہے ہیں ۔اٹھتی ہوئی جوانی اپنے پورے جوش و خروش سے خون میں گردش کرتی ہے اور جنسی معلومات کی کمی اور نتائج کی ہولناکی سے نا جانکاری کی بنا پر جذبات کا یہ طوفان نوجوانوں کو ہاتھ سے مادہ خارج کرنے کی لعنت کی طرف لے جاتا ہے یہ ایسی ہی لعنت ہے کہ اگر عادت پڑ جائے تو کسی طرح نہیں چھوٹتی چونکہ ہاتھ میںایک خاص قسم کی سمیت ہوتی ہے چنانچہ اس فعل کی وجہ سے عضو خاص میں کجی پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے عورت ومرد کے بہترین تعلقات کو ایک ناگوار صدمہ پہنچتا ہے یہ ایسی ہی بری عادت ہے کہ اس کا اثر جسم کے اعضاءرئیسہ کے علاوہ ہر حصہ پر پڑتا ہے ایسے نوجوان جب ہمارے مطب میںآتے ہیں تو ان کے چہرے پر پژ مردگی کی علامت نمایاں ہوتی ہے آنکھوں میں جوش و جذبہ اور جستجو کی بجائے ویرانیت کا غلبہ ہوتا ہے رخساروں کی سرخی پر زردی کا غلبہ ہوتا ہے غرضیکہ یہ سر تا پا ندامت کا مجسمہ ہوتے ہیں۔ایسے اشخاص جو ایکس ر ے میں کھلے رہ کر کام کرتے ہیں یا کسی دوسرے طریقے سے شعاعوں سے ان کا واسطہ پڑتا ہے یا بہت زیادہ درجہ حرارت کی جگہ کام کرتے ہیں تو اس صورت میں منی بنانے والی Testicularساخت پر براہ راست اثر پڑتا ہے جو اس مرض کا سبب ہو سکتاہے اس لئے حتیٰ الامکان ریڈئشن سے بچنا چاہئے ۔دور جدید میں تکنالوجی نے انسان کی جنسی طاقت پر بہت منفی اثر ڈالا ہے چنانچہ لیپ ٹاپ،اور موبائل کے کثرت استعمال سے دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جنسی لذت کی محرومی میاں بیوی میں کئی نفسیاتی الجھنیں پیدا کردیتی ہیں۔جذباتی صدمہ ،رنج و گم و غصہ کی زیادتی ،موٹاپا ،ہر نیا ،اور پیشاب کے سوزاک کا پیدائشی طور پر عضو مخصوص کی نچلی طرف ہونا اس مرض کے اسباب میں سے ہے ۔
مردوں میں بانجھ پن کی علامت :
مردوں میں منی میں گرمی و تیزی کے نتیجے میں منی کی رنگت زرد مقدار کم اور بہت تیز بو ہوتی ہے اسی طرح اگر منی میں برودت کی زیادتی ہے تو منی پتلی اور اس کی مقدار بہت زیادہ ہوگی بدن کی رنگت سفید مائل بہ زردی ہوگی ۔
اصول علاج :
ا گر عورت یا مرد کے اعضاءتناسل میں کوئی پیدائشی نقص ہے تو اس کا علاج نہیں ہے بقیہ دوسری صورتوں میں طب یونانی میں اس کا شافی علاج موجود ہے ۔واضح رہے کہ ایسے امراض کا علاج دنوں ہفتوں میں نہیں ہوا کرتا بلکہ مرض پرانا ہونے کی صورت میں 4to 6 ماہ بھی لگ سکتے ہیں علاج کے سلسلے میںمستقل مزاجی بہت ضروری ہے غیر مستقل مزاجی سے مراد حاصل نہیں ہوتی یہ تو ملاح کا کام ہے کہ وہ کشتی کو کس راستے با حفاطت پار لگا سکتا ہے سواریوں کا کام نہیں کہ ہر موڑ پر وہ شور مچانے لگیں غرضیکہ اس مرض کا شافی علاج بڑا صبر آزما ہوتا ہے ۔ تاہم اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔
گنٹھیا جوڑوں کا درد
گنٹھیا جوڑوں کا درد
گنٹھیا جوڑوں کا درد (RHEUMATOID ARTHRITIS) ایک سوزش پیدا کرنے والی بیماری ہے جو درد‘ سوجن‘ اکڑا اور جوڑوں کی کارکردگی متاثر کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس کی کئی خاص علامات ہیں جو کہ اسے دوسری اقسام کے آرتھرائٹس (ARTHRITIS) (جوڑوں کے درد) سے ممتاز کرتی ہیں۔
مثال کے طور پر گنٹھیا ترتیب وار حملہ کرتی ہے یعنی اگر ایک گھٹنا یا ہاتھ اس سے متاثر ہوا ہے تو دوسرا گھٹنا یا ہاتھ اسی طرح متاثر ہوگا۔ یہ بیماری عام طور پر کلائی کے جوڑوں اور ہاتھ کے نزدیک انگلیوں کے جوڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ جوڑوں کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بیماری کے شکار لوگوں کو تھکن محسوس ہوتی ہے۔ کبھی کبھی بخار ہو جاتا ہے یا مجموعی طور پر صحتمند نہ ہونے کا احساس حاوی رہتا ہے۔ گنٹھیا لوگوں پر مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں میں کچھ ماہ کے اندر ایک سال میں یا دو سال تک رہ کر بغیر کسی قابل ذکر نقصان کے ختم ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگوں میں اس بیماری کی ہلکی اور کم شدید علامات ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدتر ہو جاتی ہیں اور کچھ عرصہ میں یہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتر محسوس ہونے لگتی ہیں۔ جبکہ کچھ لوگوں میں اس کی شدید ترین شکل دیکھنے میں آئی ہے جو بیشتر وقت متحرک ہوتی ہے اور زندگی میں کئی سال تک برقرار رہتی ہے اور جوڑوں کے سخت نقصان اور معذوری کا باعث بنتی ہے۔
گنٹھیا کی علامات
-1 ڈھیلے‘ گرم اور سوجے ہوئے جوڑ
-2 متاثرہ جوڑوں پر ترتیب وار اثر
-3جوڑوں کی سوزش جو اکثر متاثر کرتی ہے کلائی اور ہاتھوں کے نزدیک انگلیوں کے جوڑوں کو بشمول گردن‘ کندھوں‘ کہنیوں ‘ کولہوں‘ گھٹنوں‘ ٹخنوں اور پاؤں کو
-4تھکن‘ وقتاً فوقتاً بخار ہونا اور ہر وقت بیماری کا عام احساس
-5صبح اٹھنے کے بعد تقریباً آدھے گھنٹے تک شدید اکڑا اور درد
-6علامات کئی سال تک برقرار رہیں۔
-7لوگوں میں بیماری کے ساتھ ساتھ علامات تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
-8 اگرچہ گنٹھیا ( رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس) لوگوں کی زندگی اور کارکردگی پر بہت زیادہ اثرانداز ہو سکتی ہے۔ مگر ان کیلئے علاج کی جدید حکمت عملی جس میں درد کم کرنے والی دوائیں شامل ہوں‘ ایسی دوائیں جن سے جوڑوں کی کم ٹوٹ پھوٹ‘ ان کے آرام اور ورزش میں توازن اور مریضوں کی تربیت کے پروگرام اس بیماری سے متاثر لوگوں میں نئے سرے بہتر زندگی کا احساس پیدا کر سکتے ہیں اور وہ لوگ متحرک اور فعال زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ موجودہ سالوں میں جہاں رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس پر ریسرچ نے نیا رخ اختیار کیا ہے اس کے ساتھ ہی محققین نے اس بیماری کے علاج کے نئے اور بہتر طریقے بھی دریافت کئے ہیں۔
اس کے معاشی اور معاشرتی اثرات خواہ وہ کسی قسم کے آرتھرائٹس (ARTHRITIS) (جوڑوں کے درد) یا رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس کی وجہ سے ہوں نہ صرف افراد بلکہ قوم پر مرتب ہوتے ہیں۔
معاشی نقطہ نگاہ سے گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس ) کے علاج اور سرجری سے لاکھوں ڈالر سالانہ کا نقصان ہوتا ہے۔ روزانہ جوڑوں کا درد اس بیماری کی بڑی علامت ہے۔ اکثر لوگ اس وجہ سے ڈپریشن‘ بے چینی اور بے بسی محسوس کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی روزمرہ سرگرمیاں گنٹھیا کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں۔ خاندانی ذمہ داریوں اور خوشیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم آرتھرائٹس کے خود تنظیمی پروگرام موجود ہیں جو لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ درد پر قابو پانے اور بیماری کے دوسرے اثرات سے نبردآزما ہونے میں اور ان کی آزادانہ زندگی گزارنے میں رہنمائی کرتے ہیں۔
گنٹھیا کا درد کیسے بڑھتا اور پھیلتا ہے
جوڑ وہ مقام ہے جہاں دو ہڈیاں ملتی ہیں۔ ہڈیوں کے سروں پر کرکری ہڈی (CARTILAGE) ہوتی ہے جو دو ہڈیوں کی حرکت کو آسان بناتی ہے۔ جوڑ ایک کیپسول سے گھرا ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا اور اس کو سہارا دیتا ہے۔ جوڑ کا کیپسول ایک بافت سے جڑا ہوتا ہے جس کو سائنووئیم(SYNOVIUM) کہتے ہیں جو کہ سائنوویل رطوبت (CYNOVIAL FLUID) پیدا کرتی ہے۔
سائنوویل مائع (SYNOVIAL FLUID )
یہ ایک شفاف مادہ ہوتا ہے جو (CARTILAGE) (کرکری ہڈی)‘ ہڈیوں اور جوائنٹ کیپسول کو تر کرتا ہے اور طاقت دیتا ہے۔
دوسری بہت سی رہمیٹیک (RHEUMATIC) بیماریوں کی طرح گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس) بھی ایسی بیماری ہے جس میں انسان مدافعتی نظام اس کے خلاف کام کرنے لگتا ہے۔ عام طور پر ایک آدمی کا مدافعتی نظام جو اس کے جسم کو بیماریوں کے خلاف تحفظ دیتا ہے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کے جوڑوں کے ٹشوز پر حملہ کر دیتا ہے۔ سفید خلیے جو مدافعتی نظام جو اس کے جسم کو بیماریوں کے خلاف تحفظ دیتا ہے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کے جوڑوں کے ٹشوز پر حملہ کر دیتا ہے۔ سفید خلیے جو مدافعتی نظام کے کارکن ہیں۔ سائنوویئم کی طرف سفر شروع کر دیتے ہیں اور سوزش کا باعث بنتے ہیں۔ جس کی وجہ سے گرمی‘ سوجن‘ سرخی اور درد ہوتا ہے جو رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس کی روایتی علامات ہیں۔ سوزش کے عمل کے دوران سائنوویئم (SYNOVIUM) گاڑھا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے جوڑ سوج جاتے ہیں اور چھونے سے اکڑا کا احساس ہوتا ہے۔
جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے سائنوویم (SYNOVIUM) پھیلتا جاتا ہے اور کرکری ہڈی(CARTILAGE) کے ساتھ جوڑ کی ہڈی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ارد گرد کے پٹھے اور عضلات کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس ) ہڈیوں کیلئے بہت نقصان کاباعث ہوتا ہے یہاں تک کہ ہڈیوں میں کھوکھلا پن آسٹیوپروسیس(OSTEOPOROSIS) پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
جوں جوں گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس) بڑھتا ہے۔ سوزش زدہ سائنوویم (SYNOVIUM) پھیلتا جاتا ہے اور (CARTILAGE)کرکری وہڈی اور جوڑ کو تباہ کر دیتا ہے۔ ارد گرد کے پٹھے اور عضلات جو جوڑ کو سہارا دیتے اور قائم رکھتے ہیں کمزور ہو جاتے ہیں اور عام طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ اس کے نتیجے میں شدید درد ہوتا ہے اور جوڑ متاثر ہوتے ہیں۔
محققین (RESEARCHERS) اس بات پر متفق ہیں کہ گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )سے متاثر شخص کی صحت پہلے یا دوسرے سال ہی متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس کی بروقت تشخیص اور علاج کی اشد ضرورت ہے۔
اس بیماری سے متاثر کچھ لوگوں میں جوڑوں کی خرابی کے علاوہ دوسری علامات بھی پائی جاتی ہیں۔ بہت سے گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )کے مریض خون کی کمی کا شکار ہوتے ہیں یا ان میں خون کے سرخ خلیے بننے کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ گردن کے درد منہ اور آنکھوں کی خشکی سے متاثر ہوتے ہیں۔ بہت کم لوگوں میں خون کی نالیوں‘ پھیپھڑوں کی بیرونی جھلی اور دل کی بیرونی جھلی کی سوزش ہوتی ہے۔
جوڑوں کا درد ہر نسل اور جنس کے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ بیماری درمیانی عمر کے لوگوں سے شروع ہوتی ہے لیکن بڑی عمر کے متاثرین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں میں بھی بڑھ سکتی ہے۔ دوسری اقسام کے آرتھرائٹس کی طرح رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس بھی مردوں کی نسبت عورتوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔ متاثرہ خواتین کی تعداد متاثر مردوں سے دو یا تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔
سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق 2.1 ملین لوگ یا امریکہ میں بالغوں کی آبادی کا 0.5 سے 1 فیصد تک گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )سے متاثر ہے۔ سائنسدان اب تک صحیح طور پر یہ نہیں جان سکے کہ انسان کا مدافعتی نظام اس کے خلاف کام کرنا کیوں شروع کر دیتا ہے۔ لیکن پچھلے چند سالوں کی تحقیق کے بعد یہ چند عوامل منظر عام پر آئے ہیں۔
جینیاتی (وراثتی) عوامل
سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کچھ جینز مدافعتی نظام میں گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )کے رحجان کو بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں اور مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
کچھ متاثرین میں یہ خاص جینز موجود نہیں ہوتے اور کچھ لوگوں میں ان کے جینز کی موجودگی بھی بیماری کو نہیں بڑھاتی۔ کچھ متنازعہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کی جینیاتی ساخت اس کا باعث ہے کہ آیا اس کے اندر یہ بیماری نشوونما پاتی ہے یا نہیں۔ لیکن اس کی صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے۔ تاہم اس میں ایک سے زیادہ جینز ملوث ہو سکتے ہیں کہ کسی شخص کو یہ بیماری متاثر کرے گی یا نہیں یا اس کی شدت کتنی ہو گی۔
ماحولیاتی عوامل: سائنسدانوں کے خیال کے مطابق جینیاتی طور پر اس بیماری کے حامل لوگوں میں کچھ بیرونی عوامل اور اس کی بڑھوتری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جس میں وائرل اور بیکٹیریل انفیکشن ہو سکتے ہیں۔ مگر اب تک اصل وجہ کا پتہ نہیں چل سکا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس چھوت کی بیماری ہے اور یہ ایک شخص سے دوسرے شخص کو لگ سکتی ہے۔
دیگر عوامل بعض سائنسدانوں کے خیال میں ہارمونی نظام کی تبدیلیاں بھی اس بیماری میں کارفرما ہوتی ہیں۔ خواتین میں مردوں کی نسبت یہ بیماری جلد بڑھتی ہے۔ حمل کے دوران اور بعد یہ بیماری بڑھ بھی سکتی ہے۔ بچے کو دودھ پلانے کے عمل کے دوران بھی اس بیماری میں اضافے کا امکان ہے۔
اگرچہ تمام جوابات اب تک کسی کے علم میں نہیں مگر ایک بات یقینی ہے کہ یہ مرض بہت سے عوامل کے باہم ملاپ کا نتیجہ ہے۔ محققین ان عوامل پر تحقیق میں مصروف ہیں۔
تشخیص: گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس) کی تشخیص اور علاج کیلئے مریضوں اور معالجین کی باہمی کوشش کا بہت عمل دخل ہے۔ ایک شخص اپنے خاندانی معالج یا کسی رہیماٹالوجسٹ کے پاس جا سکتا ہے۔ وہ اپنے مرض کے بارے میں مشورہ کر سکے۔ رہیماٹولوجسٹ ایسا ڈاکٹر ہوتا ہے جو جوڑوں کے درد اور دیگر بیماریوں کا ماہر ہو جن میں ہڈیاں پٹھے اور جوڑ شامل ہیں۔
اس کے علاج میں دوسرے پیشہ ور بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ جن میں نرسیں اور فزیوتھراپسٹ آرتھوپیڈک سرجن‘ ماہر نفسیات ‘ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور سوشل ورکر شامل ہیں۔
گنٹھیا(رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )کی تشخیص ابتدائی مراحل میں کئی وجوہات کی بنا پر مشکل ہو سکتی ہے۔ سب سے پہلے اس بیماری کیلئے کوئی خاص ٹیسٹ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ مختلف لوگوں میں مرض کی مختلف علامات ہوتی ہیں اور کچھ لوگوں میں اس مرض کی شدت دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ اس مرض کی علامات بعض اوقات عام قسم کے جوڑوں کے درد اور آرتھرائٹس سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ اسلئے بعض اوقات اس کی دوسری حالتوں کو دریافت کرنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ آخرکار تمام علامات وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوتی ہیں۔ ابتدائی مراحل میں صرف چند علامات موجود ہوتی ہیں۔ نتیجہ کے طور پر ڈاکٹر مختلف طریقوں سے اس کی تشخیص کرتے ہیں۔
میڈیکل ہسٹری: یہ مریض کی زبانی ان علامات کا بیان ہوتا ہے کہ یہ مرض کب اور کیسے شروع ہوا۔ مریض اور معالج کے درمیان بہتر رابطہ اس سلسلے میں بہت اہم ہے۔
مثال کے طور پر مریض کا جوڑوں کے اکڑا‘ سوجن جوڑوں کی کارکردگی کے بارے میں بیان اور یہ سب کچھ کس طرح وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔ یہ ڈاکٹر کو مرض کے بارے میں ابتدائی اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہے اور یہ اندازہ لگانا آسان ہوتا ہے کہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ کیسے تبدیل ہوتا ہے۔
طبی معائنہ: طبی معائنہ میں ڈاکٹر جوڑوں جلد عضلات اور پٹھوں کی قوت کا اندازہ لگاتا ہے۔
لیبارٹری میں تشخیص: ایک عام امتحان رہیماٹائیڈ فیکٹر(rheumatoid factor) کیلئے ایک اینٹی باڈی کا ٹیسٹ ہوتا ہے جو گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس) کے مریض کے خون میں موجود ہوتا ہے۔ (اینٹی باڈی ایک خاص قسم کی پروٹین ہوتی ہے جس کو مدافعتی نظام پیدا کرتا ہے۔ بیرونی عوامل کے خلاف جسم میں مدافعت پیدا کرنے کیلئے) تمام گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )کے مریضوں میں رہیماٹائیڈ فیکٹر کا نتیجہ +Ve نہیں ہوتا۔ خاص طور پر بیماری کے شروع دنوں میں۔ کچھ لوگوں میں بیماری زیادہ نہ بڑھنے کی صورت میں رہیماٹائیڈ فیکٹر کا نتیجہ +Ve نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ اس بیماری میں وائٹ بلڈ کانٹ(white blood cell count)‘ انیمیا (anemia)کا ٹیسٹ اور سیڈ ریٹ (sedimentation rate (often called the sed rate))ٹیسٹ بھی کئے جاتے ہیں۔ سیڈ ریٹ ٹیسٹ جسم میں سوزش کی مقدار کا اندازہ لگانے کیلئے کیا جاتا ہے۔
ایکس ریز: جوڑوں میں ٹوٹ پھوٹ کی حالت کو دیکھنے کیلئے ایکس ریز کئے جاتے ہیں۔ بیماری کی ابتدائی حالت میں جس وقت ہڈیوں کے بھربھرا ہونے کا مشاہدہ نہ ہو ایکس رے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن بعد میں بیماری میں اضافہ اور شدت کا اندازہ لگانے کیلئے ایکس ریز استعمال کئے جاتے ہیں۔
قرآن اور صحت
قرآن اور صحت
اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی کے ہر معاملہ میں دین کامل دے کر مبعوث فرمایا ہے جیسا کہ ابوذر رضي اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول صلی اللہ علییہ وسلم نے چھوڑا تو آسمان میں اگر کوئ پرندہ بھی اپنا پر ہلاتا ہے تو اس کا بھی علم ہمیں دے کر گۓ ۔ مسند احمد ( 20399 ) دیکھیں مجمع الزوائد ( 8 / 263 ) ھیثمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں کہ اسے طبرانی نے روایت کیا اورمحمدبن عبداللہ بن یزيد المقری جو کہ ثقہ ہے کے علاوہ اس کے رجال صحیح ہيں ۔
جو اسلام اس لۓ آیا کہ لوگوں کی زندگی کی تمام حاجات وضروریات کو پورا کرے ۔
2- :
احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جو کچھ آیا ہے وہ قرآن کے بیان کی تکمیل ہے ، اورمسلمانوں کے ہاں یہی دو مصدر اساسی ہیں ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالی نے کوئ ایسی بیماری نہیں اتاری مگر اس کا علا ج اور دوائ بھی اتاری ہے ۔
ابوھریرہ رضی اللہ تعالی بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اللہ تعالی نے جو بھی بیماری اتاری ہے اس کی شفااور علاج بھی اتارا ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5678 )
3– :
سائل نے جو یہ ذکر کیاہے کہ کچھ مسلمانوں نے بہت سے علاج قرآن کریم سے ایجاد کیے ہیں ، تو اس کے متعلق ہم یہ کہیں گے کہ اس میں کچھ مبالغہ آرائ سے کام لیا گیا ہے ۔
تو قرآن کریم کوئ علم طب اور نہ ہی جغرافیا اور بیالوجی کی کتاب نہیں ہے جیسا کہ بعض مسلمان یورپیوں کے سامنے کہتے پھرتے ہیں بلکہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو کہ لوگوں کے لۓ رشد وھدایت کا منبہ ہے اوراس کا سب سے بڑا معجزہ اس کی بلاغت اور قوت معانی ہے جو کہ اس کا اصلی اعجاز ہے ، تو اللہ تعالی نے یہ کتاب اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسے دور میں نازل فرمائ جس میں فصاحت و بلاغت بہت اونچے درجے پر تھی تو اس وقت یہ کتاب انہیں عاجز کرنے کے لۓ نازل کی گئ کہ یہ کسی انسان کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے آئ ہے ۔
تو اس میں کوئ تعجب نہیں اور نہ ہی اس دین میں کوئ نئ چیز ہے ، تودیکھ لیں موسي علیہ السلام کے نشانیاں اور معجزات – لاٹھی اور ھاتھ کا چمکنا – اسی جنس میں سے تھیں جو کہ اس وقت جادو کی شکل میں پھیلا ہوا تھا ، اور اسی طرح موسی علیہ السلام کی دوسری نشانیاں – مردوں کو زند کرنا ، اور برص زدہ اور کوڑھ کے مریض کو صحیح کرنا – یہ بھی اسی جنس میں سے تھیں جس میں ان کی قوم ماہر تھی اور ان میں پھیل چکی تھی جسے طب کا نام دیا جاتا ہے ۔
تو اس لۓ ہم یہ کہیں گے کہ قرآن مجید میں جو سب سے بڑی اور عظیم چیز ہے وہ اس کی فصاحت وبلاغت ہے ، تو آج تک اس پر غور فکر اور تدبر کرنے والے والے علماء کے لۓ یہ واضح ہورہی ہے ۔
اور اس کا معنی یہ نہیں کہ اس میں فصاحت وبلاغت کے علاوہ کچھ اور نہیں بلکہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں انسانی جسم کی ترکیب اور اس کے اعضاء اور اس کے پیدائشی مراحل اور بعض طبعی مظاہر اوراس کے علاوہ اوراشیاء کا بھی ذکر فرمایا ہے ۔
اور سائل نے جو علاج کے متعلق بات کی ہے ، تو اس کے بارہ میں ہم یہ کہیں گے کہ قرآن کریم تو مومنوں کے دلوں اور بدنوں کی بیماریوں کے لۓ شفا ہی شفاہے ، اور اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ( شھد ) کا ذکر کیااور یہ بیان کیا ہے کہ یہ لوگوں کے لۓ شفا ہے ،اور اسی طرح اصل چیز صحت اور امراض سے بچاؤ کا بھی ذکر فرمایاہے ۔
تو جو اس لحاظ سے یہ کہے کہ قرآن کریم میں بہت ساری ادویات کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اس کے علاوہ اورکچھ صحیح نہیں بلکہ اس میں بعض مسلمانوں نے مبالغہ ارائ سے کام لیا ہے ، اور قرآن کریم کوئ طب کی کتاب نہيں ، اورپھر اس وقت ایسے ایسے امراض پیدا ہو چکے ہیں جو کہ پہلے موجود نہیں تھے تو ان کاعلاج امراض کے وجود سے قبل ہی کیسے آۓ گا – سائل کے قول کے اعتبارسے - ؟ ۔
4 - :
ا – قرآن کریم کے شفا ہونے پر ذیل میں چند ایک آیات پیش کی جاتی ہیں :
اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے :
{ یہ قرآن جو ہم نازل کررہے ہیں مومنوں کے لۓ سرا سر شفا اوررحمت ہے } الاسراء ( 82 ) ۔
ابن قیم رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ :
اللہ تعالی کا یہ فرمان : { یہ قرآن جو ہم نازل کررہے ہیں مومنوں کے لۓ سرا سر شفا اوررحمت ہے } اور صحیح یہ ہے کہ یہاں پر ( من ) جنس کے بیان کے لۓ ہے نہ کہ تبعیضیہ اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ :
{ اے لوگوں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصحیت اور جو کچھ سینوں میں روگ ہے اس کی شفاآئ ہے }
تو قرآن کریم تمام قلبی اور بدنی بیماریوں کا علاج اور شفاہے اور اسی دنیا وآخرت کی بھی دوا ہے ، تو ہر ایک اس شفا کا اہل بھی نہیں اور نہ ہی اسے توفیق ملتی ہے ، لیکن جب بیمار آدمی علاج کرنے میں صحیح توجہ سے اس علاج پر عمل کرے اور اسے صدق دل اور ایمان ویقین اور اسے قبول اور پختہ اعتقاد اور اس علاج کی شروط پوری کرتے ہوۓ اپنی بیماری پر رکھے تو پھر اس کے آگے بیماری کبھی ٹھر ہی نہیں سکتی ۔
پھر یہ بیماری اس کلام اللہ کے آگے کیسے ٹھر سکتی ہے جو اگر پہاڑوں تر اتارا جاتا تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتے ، یا زمین پر اتارا جاتا تو اسے وہ ٹکڑے کردیتا ، تودلوں اور بدنوں کا کوئ ایسا مرض نہیں جس کے متعلق قرآن کر یم راہنمائ نہ کرے اور اس کے سبب اور اس سے بچاؤ کا طریقہ نہ بتاۓ لیکن یہ سب اس کے لۓ ہے جسے اللہ تعالی کتاب اللہ کی سمجھ عطافرماۓ ۔زاد المعاد ( 4 / 352 )
ب : اور قرآن کریم میں روحوں اور دلوں کا علاج ہے تو جواس پر صحیح طور پر عمل کرے تو اس کے لۓ قرآن کریم امراض اور آفات سے بچاؤ اور انہیں اس کے بدن سے دوکردے گا ، تو اس لحاظ سے بہت ساری امراض کا علاج اور ان کے لۓ شفا ہے ۔
ابن قیم رحمہ اللہ تعالی بیان فرماتے ہیں کہ :
ہم نے ذاتی طور پر اور ہمارے علاوہ دوسروں نے بھی اس کا تجربہ کیا ہے کہ یہ ایسا کام کرتا ہے جو کہ ادویہ حسیہ سے نہیں ہوۓ بلکہ اطباء کے ہاں تو ادویہ حسیہ اس کے سامنے ھیچ ہیں ، اور یہ حکمت الہیہ کے قانون سے خارج نہیں بلکہ اس میں داخل ہے ، لیکن اسباب کئ ایک قسم کے ہیں تو جب دلی طور پر اللہ تعالی کے ساتھ رابطہ اور لگاؤ ہو گا جوکہ بیماری اور دوائ دونوں کا خالق اور طبیعتوں کا مدبر اور اس میں جس طرح چاہے تصرف کرنے والا ہے تواس دل کے لۓ کچھ ایسی دوائیاں اور علاج بھی ہیں جو جو اللہ تعالی سے اعراض کرنے والے کے دل سے دور ہیں ۔
یہ تو سب کے علم میں ہے کہ جب روح قوی اور طاقتور ہوتو نفس اور طبیعت بھی قوی ہو کر بیماری اور سختی کو دورکرنے میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں ، تو اس کا انکار اس شخص سے کیسے کیا جاسکتا ہے جس کی طبیعت اور نفس اللہ تعالی کی محبت وانس اور اس کے ذکر سے قوی ہو اور مکمل طور پر سارے اعضاء کو اللہ تعالی کے مطیع کیۓ رکھے اور اللہ تعالی پر توکل کرے تو اس کے لۓ یہ سب سے اعلی اور بڑی دوائ اور علاج ثابت ہوگا اور اسے وہ قوت اور طاقت پہنچے گي جو سب کی سب بیماریوں اور تکلیفوں کو ختم کرکے رکھ دے گي ، اور اس کا انکار تو صرف وہی شخص کرے گا جو کہ اجھل الناس اوراللہ تعالی سے بہت ہی زیادہ دور رہنے والا اور حقیقت انسانی سے بھی دور ہو اور اس کے ساتھ ساتھ کثیف النفس بھی ہو ۔زاد المعاد ( 4/12 )۔
ج : اور قرآن کریم میں سورۃ فاتحۃ بھی ہے جو کہ امراض کا علاج ہے ۔
ابو سعید رضي اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ سفر پر گۓ اور ایک عرب قوم کے ایک قبیلہ کے مہمان بنے تو انہوں مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا ، ( اللہ کا کرنا ایسا ہوا ) کہ قبیلہ کے سردارکو کسی چیز نے ڈس لیا تو انہوں نے ہر قسم کا علاج کردیکھا لکین کوئ فائدہ نہ ہوا ، تو کچھ لوگوں نے کہا کہ اگرتم اس قافلے والوں کے پاس جاؤ تو ہو سکتا ہے ان کےپاس کچھ ہو ، تو وہ لوگ ان کے پاس آۓ اور کہنے لگے اے قافلہ والو ہمارے سردار کو کسی چیز نے ڈس لیا ہے اور ہم ہر قسم کا علاج کرچکے ہیں لیکن اسے کوئ افاقہ نہیں ہوا تو کیا تمہارے پاس کوئ علا ج ہے ؟ تو صحابہ میں سے ایک نے کہا جی ہاں اللہ تعالی کی قسم میں دم کرتا ہوں ، لیکن ایک بات ہے اللہ تعالی کی قسم ہم نے تم سے مہمان نوازي کا تقاضا کیا تو تم نے انکار کیا تو اب میں بھی اس وقت تک دم نہیں کروں گا جب تک تم اس کا معاوضہ نہیں دیتے ، تووہ بکریوں کا ایک ریوڑ دینے پر رضامندہوگۓ ، تو وہ صحابی رضي اللہ تعالی عنہ ان کے ساتھ گۓ اور اس پر ( الحمد لله رب العالمين ) پڑھ کر دم کیا تو وہ صحیح اور ہشاش بشاش ہوگيا گویا کہ اسے کسی چیز نے جگڑ رکھا ہو وہ اب وہ اس سے آزاد ہوا ہو اور بغیرکس تکلیف کے چلنے پھرنے لگا ۔
ابوسعید رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ : انہوں نے اپنے اس وعدہ کو پورا کرتے ہوۓ بکریاں دے دیں ، صحابہ میں سے ایک نے کہا کہ اسے تقسیم کرو ، تو جس نے دم کی تھا وہ کہنے لگا یہ کام اس وقت نہ کرو جب تک کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر اس کا بتا نہ لیں اور پھر جو وہ حکم دیں اس پر عمل کریں ۔
صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ اور اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے کہ تجھے کیسے پتہ چلا کہ یہ دم ہے ؟ پھر فرمایا تم نے صحیح کام کیا ہے اسے تقسیم کرو اور اس میں اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2156 ) صحیح مسلم ( 2201 ) ۔
قلبۃ : یہ ایک بیماری یا ایسی درد ہے جس سے انسان لوٹ پوٹ ہونے لگتا ہے ۔
ابن قیم رحمہ اللہ تعالی سورۃ فاتحۃ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ :
اور جسے توفیق ملے اور اور وہ نور بصیرت کی بصارت سے اس سورۃ کو دیکھے تو اسے اس سورۃ کے رازوں اور اس میں جو اللہ تعالی کی تو حید اور اللہ تعالی کی ذات اور اسماء وصفات کی معرفت بیان کی گئ ہے وہ ملے گی اور اسی طرح شریعت اور تقدیر اور روزقیامت کا ثبوت مہیا ہوگا اور اسی طرح اسے توحید ربوبیت اور الوھیت کا بھی علم اور یہ بھی پتہ چلے گا کہ اللہ تعالی پر ہی مکمل توکل اور سب معاملات بھی اسی کے سپرد کۓ جائيں اور سب قسم کی حمدوثنا اور سارے کا سارا امرو حکم اسی کی ہے اسی کے ھاتھ میں ہر قسم کی بھلائ اور اسی کی طرف سب معاملے پلٹتے ہیں ۔
اور وہ ھدایت جس میں دارین کی سعادت پنہاں ہے وہ بھی اسی سے طلب کی جاۓ ، اور دارین میں مصلحتوں کا حصول اور فساد سے بچنے کا علم ہوگا اور مکمل اور مطلق انجام اور مکمل نعمتیں اس کے ساتھ معلق ہیں اس کی تحقیق پر موقوف ہیں ۔
بہت سی دوائیوں اور علاج اور دم سے اس نے غنی کردیا ہے ان کی ضرورت نہیں رہی ، اور اس کے ساتھ بھلائ اورخیر کے دروازے کھلتے اور شرکے دروازے بند ہوتےہیں ۔ زاد المعاد ( 4 / 347 ) ۔
د :
اور اسی طرح قرآن کریم میں حفظان صحت کے اصول بھی ذکر کۓ گۓ ہیں :
ابن قیم رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں :
طب کے تین اصول ہیں : حمیۃ یعنی بچاؤ ، حفظان صحت ، ضرر اور نقصان دہ مادہ کو باہر نکالنا ۔
اوراللہ تعالی نے ان تینوں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کے لۓ اپنی کتاب میں تین جگہ پر جمع کیا ہے :
اللہ تعالی نے مریض کو ضرر اور نقصان ہونے کی صورت میں پانی استعمال کرنے سے بچنے کا کہتے ہوۓ فرمایا :
{ اوراگر تم بیمار ہو یا سفرمیں ہو یا تم میں سے کوئ قضاۓ حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اورتمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو } النساء ( 43 ) اور سورۃ المائدۃ ( 6 ) ۔
تو مریض کے بچاؤ کے لۓ اسی طرح تیمم مباح قرار دیا جس طرح کہ پانی نہ ملنے والے کے لۓ مباح ہے ۔
اور حفظان صحت کے متعلق فرمایا :
{ لکین جو تم میں سے مریض ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی کو پورا کرے } البقرۃ ( 183 ) ۔
تو مسافرکی حفظان صحت کے لۓ رمضان میں روزہ نہ رکھنا مباح قرار دیا تا اس پر روزہ سفر میں مشقت نہ بن جاۓ جس کی وجہ سے سفرميں اس کی قوت اورصحت میں کمزوری واقع ہو ۔
اور محرم کے لۓ سرمنڈا کر ضرر والی چیز کو دور کرنے اور استفراغ کا حکم دیتے ہوۓ فرمایا :
{ اور تم میں سے جو بیمار ہو ، یا اس کے سر میں کوئ تکلیف ہو ( جس کی وجہ سے سر منڈا لے ) تو پر فدیہ ہے خواہ روزے رکھ لے خواہ صدقہ دے دے یا پھر قربانی کرے } البقرۃ ( 196 ) ۔
تو اللہ تعالی نے مريض اوروہ محرم جس کے سر میں کوئ تکلیف ہواسے سرمنڈا کر اس مادہ فاسدہ اورردئ قسم کے بخارات جس کی بنا پر جؤئيں پیداہوتی ہیں سے استفراغ کا حکم دیاہے ، جیسا کہ کعب بن عجرۃ رضي اللہ تعالی عنہ کےساتھ ہوا ، یا پھر اس سے کوئ اور بیماری پیدا ہوتی ہو ۔
تو طب کے یہ ہی تین اصول اور قاعدے ہیں ، تو اللہ تعالی نے ہرجنس سے اس کی صورت ذکرفرماتے ہوۓ اپنے بندوں پرجو نعمتیں کی ہیں اس پر تنبیہ فرمائ ہے اور اس سے بچاؤ اوران کی حفظان صحت اورفاسدہ مواد کے استفراغ کا کہا ہے جو کہ اس کی اپنے بندوں پر رحمت و مہربانی اور شفقت ہے اور اللہ تعالی مہربان اور رحمت کرنے والا ہے ۔ زاد المعاد ( 1/ 164 - 165 ) ۔
ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
ایک مرتبہ میں نے مصرمیں اطباء کے ایک رئیس سے گفتگو کی تووہ کہنے لگا : اللہ تعالی کی قسم اس فائد کوجاننے کے لۓ اگر میں یورپ کا سفر بھی کرتا تو وہ بھی کم تھا ، یا اس نے جس طرح کہا ۔ اغاثۃ اللہفان ( 1 / 25 ) ۔
ھـ : قرآن کریم میں شھد اور اس کے شفاہونے کا ذکر ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ ان کےپیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لۓ شفا ہے } النحل ( 69 ) ۔
ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پینے میں بھی ایسا اکمل اور کامیاب طریقہ تھا جس میں حفظان صحت کے اصول کو مد نظر رکھا گیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم شھد میں ٹھنڈا پانی ملا کر پیتے تھے ، تو اس میں جو صحت کی حفاظت ہے اسے ماہر طبیب ہی جانتے ہیں ۔
اور اسی طرح نہار منہ شھد کا استعمال بلغم کو خارج کرتا اور معدہ کے رؤں کی صفائ اور معدہ کی چپک میں زیادتی کرتا اوراس سے فضلات کو دور کرتا ، اور اس میں اعتدال پیدا کرتا اور سدوں کو کھولتا ہے ۔
اور اسی طرح مثانہ اور گردوں میں بھی یہی عمل دھراتا ہے ، اور معدہ میں داخل ہونے والی جتنی بھی میٹھی اشیاء ہیں ان میں سب سے زیادہ نفع مند شھد ہی ہے ۔
اور صفراوی طبیعت کے مالک کو بخار کی حالت میں نقصان دے سکتا ہے بخاراور صفراء کی حدت میں اضافہ کرتا اور ہو سکتا ہے اسے ھیجان انگیز بنا دے ، تو ایسی طبیعت کے مالک افراد کے لۓ اس وقت فا ئدہ مند ہو گا جب شھد میں سرکہ ملا لیا جاۓ تو ان کے لۓ بہت ہی زیادہ نفع مند ثابت ہوگا ،اور چینی وغیرہ کے شربت پینے سے شھد پینا بہت زیادہ مفید ہوگا اور خاص کر ان لوگوں کے لۓ جوکہ اس قسم شربت پینے کے عادی نہ ہوں ، اورنہ ہی ان کی طبیعت ان سے مانوس ہو تو اگر وہ یہ مشروبات پی بھی لیں تو انہیں شھد کے شربت کی طرح تھوڑا سا بھی فائد نہیں ہوگا جس طرح کہ شھد سے ہوتاہے ،اور اس میں اصل چیز عادت ہے جو کہ اصول کو بناتی اور گراتی ہے ۔
اور شھد میں جب دو صفتیں جمع ہوجائيں یعنی شھد کی مٹھاس اور بارد پن تو بدن کے لۓ اس سے زیادہ بہتر اور مفید کوئ چیز نہیں اور اس سے بڑھ کر کوئ اور صحت کا محافظ نہیں ہے ، اور روح ، قوی اور دل اس کو بہت پسند کرتا اور جب پھر اس میں یہ دو خصلتیں ہوں تو پھر غذائيت سے بھر پوراور اسے اعضاء تک بہت احسن طریقے سے پہنچاتاہے ۔ زادالمعاد ( 4 / 224- 225 )
ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
اور شھد میں بہت عظیم فائدے ہیں :
انتڑیوں اور رگوں وغیرہ کی صفائ کرتا ہے ، کھانے اور لیپ کرنے سے رطوبات کی تحلیل ہوتی ہے ، بوڑھوں اور بلغم والوں اورجن کا مزاج ٹھنڈااور تر ہوان کے لۓ نافع ہے ، یہ طبیعت کے لۓ ملین اور عضلات کو طاقت بخشتا ہے ، اورناپسندیدہ ادویات کی کراہت کو ختم کرتا ، سینے اور جگر کی صفائ کرتا ہے ، مدربول اوربلغمی کھانسی کے لۓ مفید ہے ۔
اور جب شھد عرق گلاب میں گرم کرکے پیا جاۓ تو افیون پینے اور جانوروں کی چیڑ پھاڑ سے نفع دیتا ہے ، اور اگر پانی میں شھد ملا کر پیا جاۓ تو باؤلے کتے کے کاٹے ہوۓ کو اورہلاک کردینے والی جڑی بوٹی کے کھاۓ ہوۓ کو فائدہ دیتا ہے ۔
اور اگر شھد میں تازہ گوشت ڈال دیا جاۓ تو وہ تین مہنے تک تازہ رہتا ہے ، اور اسی طرح اگر اس میں کھیرے اور ککڑی ، کدو اور بینگن اور سبزی وغیرہ ڈال دیا جاۓ تو اس کو چھ ماہ تک تازہ رکھتا ہے ، اور اسی طرح میت کے بدن کی بھی حفاظت کرتااور اسے حافظ اور امین کا نام دیا جاتا ہے ۔
اوراگر شھد کو جؤوں والے بدن اور بالوں پر ملا جاۓ تو انہیں مارڈالتا اوران کے انڈوں کا خاتمہ کردیتا ہے اور بالوں کو لمبا اور نرم اور حسین بناتا ہے ، اور اگر اسے آنکھوں میں ڈالا جاۓ تو بینائ کو صاف کرتا ہے ، اور اگر دانتوں پر ملا جاۓ تو انہیں صفید اور صاف کرتا اور دانتوں اور مسوڑھوں کی حفاظت کرتا ہے ، اور رگوں کا منہ کھولتا اورمدر حیض ہے ۔
اس کا نہار منہ چاٹنا بلغم کو خارج کرتا اور معدہ کے رؤں کی صفائ اور اس سے فضلات کو دور کرتا ، اور اس میں اعتدال پیدا کرتا اور سدوں کو کھولتا ہے ،اور اسی طرح مثانہ اور گردوں میں بھی یہی عمل دھراتا جگراور تلی کے سدوں کو ہر میٹھی اشیاء سے کم نقصان دہ ہے ۔
اور یہ شھد ان سب کچھ کے ساتھ ساتھ خراب ہونے سے مامون اور قلیل الضرر ہے ، صفراوی طبیعت کے لوگوں کے لۓ بخار کی حالت میں ان کے لۓ نقصان دہ ہے لیکن یہ نقصان اسے سرکہ میں ملا کر استعمال کیا جاۓ تو دور ہو جاتا ہے ، تو اس طرح اس حالت میں بھی بہت ہی مفید ہوگا ۔
تو یہ شھد غذا کےساتھ غذا اور دواؤں کے ساتھ ایک دوائ اور شربت میں سے ایک شربت اور مٹھائ میں ایک مٹھائ اور طلاء میں سے ایک طلاء کی حیثیت رکھتااور مفرحا ت کے ساتھ ایک مفرح ہے ، تو اس معنی میں کوئ اور چیز ایسی نہیں جو کہ ہمارے لۓ اس سے افضل پیدا کی گئ ہو اور نہ ہی اس کی مثل اور نہ ہی اس قریب کی ۔
قدماء تو اس پر ہی بھروسہ کرتے تھے بلکہ قدماء کی کتب میں تو چینی اور شوگر کا نام تک نہیں ملتا اور نہ ہی اسےوہ جانتے تھے کیونکہ یہ تو ابھی ایک نئ ایجاد ہے ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پانی کےساتھ نہار منہ استعمال کیا کرتے تھے ، جس میں ایک ایسا راز اور سر ہے جو کہ ایک ذہین و فطین ہی سمجھ سکتا ہے ۔ زاد المعاد ( 4 / 33-34 )
’’سرد مشروبات‘‘ یا زہر؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں۔
’’سرد مشروبات‘‘ یا زہر؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں۔
Sting کے استعمال سے آپ کے گردے فیل ہو سکتے ہیں۔
احسن اسکول سے تھکا ہارا گھر پہنچا تو فریج کھول کر سرد مشروب کی دو بوتلیں چڑھا گیا۔ امی کہتی رہ گئیں کہ پانی سے پیاس بجھائو، مگر آج کی نئی نسل مغربی پروپیگنڈے کا شکار ہوکر خوشنما بوتلوں میں بند زہریلے پانی کو اپنی پیاس کا مداوا سمجھتی ہے۔ جی ہاں، دعوتوں اور تقریبات میں عام استعمال ہونے والے ٹھنڈے مشروبات دراصل فرحت بخش ذائقے کے بھیس میں زہر ہیں۔ بوتل میں اگر اکھڑا ہوا دانت یا ناخن ڈال دیا جائے تو وہ دو دن میں گل جائے گا۔ جبکہ یہی دانت، ہڈیاں اور ناخن انسان کے مرنے کے بعد بھی ہزار سال تک محفوظ حالت میں مل سکتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ صحت کے لیے حددرجہ خطرناک ہونے کے باوجود بچے دیوانہ وار اِن مشروبات کا مطالبہ کرتے ہیں؟
ایک وجہ کمپنیوں کی طرف سے وہ انتہائی سحرانگیز اور گمراہ کن تشہیر ہے جس میں معصوم بچے اور نوجوان مشہور کھلاڑیوں، فلمی ستاروں اور من پسند ہیروئنوں کو دلکش انداز میں یہ مشروبات پیتے دیکھ کر ان کے انداز میں ان کی نقالی کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ چکاچوند ناپختہ ذہنوں کو مرعوب کرکے انہیں ان مشروبات کا عادی بنا ڈالتی ہے۔ دوسری وجہ ان کا ذائقہ ہے جسے انسانی صحت کے لیے خطرناک چیزوں سے تخلیق کیا جاتا ہے۔
انہیں بنانے والے اداروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنا آدھا منافع اس بات پر خرچ کرتے ہیں کہ عوام کوئی مشروب مانگنے کے بجائے بوتل کا مخصوص نام لے کر مشروب طلب کریں۔ ظاہر ہے اس زبردست اشتہار بازی کا خرچ استعمال کرنے والے ہی کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔
یہ مشروب ہیں کیا؟
یہ مشروب جن چیزوں کا مرکب ہیں آپ انہیں باریک انگریزی میں ڈھکن کے اندر ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ یہ کیمیائی مادے درج ذیل ہیں:
کاربن ڈائی آکسائیڈ
ہمارا جسم اس نیم زہریلی گیس کو جو خون کے فضلے کے مانند ہے، سانس کے ذریعے پھیپھڑوں سے باہر نکالتا ہے، لیکن مشروبات کی تیاری کے دوران پانی میں یہ گیس خاص طور پر جذب کی جاتی ہے تاکہ پانی میں بلبلے جنم لیں۔ اسے ہم منہ کے ذریعے اپنے معدے میں اتار دیتے ہیں۔ اس گیس کو پانی میں گزارنے کے عمل سے کاربنی تیزاب بنتا ہے، اسی لیے ان مشروبات کی تیزابیت کا درجہ 4ء 3 ہوتا ہے، یعنی انسانی جسم کی تیزابیت سے تین یا چار درجے تیز! اس درجے کی تیزابیت ہڈیوں اور دانتوں کو گھول کر رکھ دیتی ہے۔ انسانی ہڈیاں تیس سال کی عمر کے بعد بننا بند ہوجاتی ہیں، یعنی انسانی ڈھانچہ زوال پذیر ہونے لگتا ہے، لہٰذا اس عمر میں یہ مشروبات حد درجہ خطرناک ہوتے ہیں۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے مشروب سرد ہوجاتا ہے اور پینے پر فرحت بخش لگتا ہے، مگر اسی خاصیت کی بنا پر ہمارے جسمانی نظام اور معدے پر دوچند بوجھ بڑھتا ہے، ایک تیزابیت کی وجہ سے، اور دوسرا مشروب کے درجہ حرارت کی وجہ سے جو عموماً صفر ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، جبکہ انسانی جسم کا عام درجہ حرارت 37ڈگری سینٹی گریڈ ہے، اس فرق کو مٹانے کے لیے معدے کو فاضل کام کرنا پڑتا ہے۔کھانے کے دوران ان مشروبات کے استعمال سے ہاضمے کے مددگار کیمیائی خامرے (Digestive Enzymes) ختم ہوکر معدے پر کام کا مزید بوجھ ڈال دیتے ہیں کیونکہ اسے خامروں کا کام بھی کرنا پڑتا ہے۔ یوں معدہ جلد جواب دے جاتا ہے اور کھانا ہضم ہونے میں دقت ہوتی ہے۔ معدے کی خرابی سے اس میں گیسیں اور دیگر زہریلے مادے بنتے ہیں جو انتڑیوں میں جذب ہوکر جسم کو وقت سے پہلے بوڑھا کردیتے ہیں۔
فاسفوری تیزاب (Phosphoric Acid)
یہ تیزابی مادہ لوہے اور اسٹیل کو زنگ سے محفوظ رکھتا ہے اور ہمارے جسم کی ہڈیوں اور دانتوں سے زائد کیلشیم خارج کرتا ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے ہڈیوں کی شکست و ریخت ہونے لگتی ہے اور ہڈیوں کا درد، کمر کا درد اور بعض اوقات معمولی چوٹ سے ہڈیوں کا ٹوٹ جانا جیسی خطرناک علامات جنم لیتی ہیں۔ اس کے باوجود سرد مشروبات کی تیاری میں یہ خاص طور پر استعمال ہوتا ہے۔
جوہرقہوہ (Caffiene)
یہ ہمارے اعصابی نظام کو تحریک دینے والی نشہ آور دوا ہے جس کے استعمال سے آدمی وقتی طور پر بیدار، تازہ دم اور خوشی محسوس کرتا ہے مگر پانچ چھ گھنٹے بعد اس کا اثر ختم ہونے پر وہ کمزوری، سستی، اضمحلال اور بوریت کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کا زیادہ استعمال زہر جیسا اثر رکھتا ہے مگر یہ کولا مشروب کا اہم جزو ہے۔کیفین کے زیادہ استعمال سے ہیجان، بے چینی، رعشہ اور دل کی تیز دھڑکن جنم لیتی ہے۔ ساتھ ساتھ دل کی چال کی یکسانیت (Rhythm) میں تبدیلی آسکتی ہے۔ سر درد عام ہوتا ہے۔ عام بوتل میںکیفین کی مقدار پینتیس سے پچاس ملی گرام، جبکہ ڈیڑھ لیٹر کی بوتل میں دو سو ملی گرام تک ہوتی ہے۔
سوڈا بنزول (Sodium Benzoate)
یہ ایک کیمیائی مادہ ہے جو گاڑیوں میں پانی کو جمنے سے بچانے کے لیے ڈالا جاتا ہے۔ یہ سنکھیا سے ملتا جلتا آہستہ آہستہ عمل کرنے والا زہر ہے جو کولا مشروب کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر ایک گھنٹے میں چار لیٹر کولا مشروب پی لیا جائے تو موت واقع ہوسکتی ہے، جبکہ دو ڈھائی لیٹر پینے سے بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے۔
رنگدار مادے (Food colours)
تیار شدہ غذا میں ذائقے پیدا کرنے کے لیے رنگ دار مادے استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں سرخ امارنتھ (Amaranth) اورگندمی بورڈیکس(Bordeaux) مشروبات کا حصہ ہیں جو تحقیق کے مطابق سرطان کا باعث بنتے اور انسانی صحت کے لیے مضر اثرات رکھتے ہیں۔
مشروبات کے عمومی نقصانات
(1ذہنی صحت پر منفی اثرات، بے چینی، ہیجان۔ اڑیل پن پیدا کرکے بچے کو ضدی بنا ڈالتے ہیں۔ ان میں ماں باپ کو تنگ کرنا اور آپس میں مارکٹائی کا رجحان زیادہ ہوجاتا ہے اور ذہانت میں کمی آتی ہے۔
(2مشروبات میں شکر بہت ہوتی ہے لہٰذا بچوں کی جسمانی صحت پر منفی اثرات یہ پڑتے ہیں کہ بچہ بظاہر موٹا نظر آتا ہے لیکن اندرونی طور پرکمزور اور سُست پڑجاتا ہے۔ کئی بچوں میں بھوک مرجاتی ہے جس سے پیلی رنگت والا لاغر بچہ جنم لیتا ہے جس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور چہرے پر مُردنی چھائی ہوتی ہے۔
(3جوہرِ قہوہ کی وجہ سے ان مشروبات کا کثرت سے استعمال جگر کے امراض کا باعث بنتا ہے۔
(4طویل عرصے تک استعمال سے معدے کی جھلی کو نقصان پہنچتا ہے اور بلند فشارِ خون اور ذیابیطس لاحق ہوتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ہر قسم کا مشروب بہت مضر اثرات رکھتا ہے۔
(5مشروبات کے زیادہ استعمال سے ذہنی دبائو، سردرد، خصوصاً درد شقیقہ پیدا ہوتا ہے۔ معقول رویّے میں تبدیلی آتی اور ذہنی صلاحیت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
(6لمبے عرصے تک استعمال معدے اور مثانے کے سرطان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
(7حاملہ عورت اگر یہ مشروبات استعمال کرے تو بچے کی جسمانی بناوٹ میں خرابی کے علاوہ معذور بچوں کی پیدائش کا خدشہ بھی ہوتا ہے جس کی شرح ہمارے معاشرے میں بڑھ رہی ہے۔
(8امریکی اور یورپی ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ جن ممالک میں سرد مشروبات کا استعمال عام ہے وہاں مندرجہ بالا امراض عام ہیں۔
(9اب وہ بھی اپنے عوام پر زور دے رہے ہیں کہ سرد مشروبات کم سے کم استعمال کریں کیونکہ اگر ان کا چلن یہی رہا تو بیس سال بعد لاکھوں لوگ متفرق امراض کا شکار ہوکر اذیت ناک زندگی بسر کررہے ہوں گے۔
متبادل صحت افزا مشروبات
(1دودھ کے سادہ یا ذائقے دار مشروب:الائچی اور بادام پستے کی کترن کے ساتھ، ادرک اورشہد کے ساتھ، کھجور کے مرکب کے ساتھ، پھل اور دودھ کا مرکب (ملک شیک)، آم، کیلے یا سیب کا، لسی سادہ یا ذائقہ دار مثلاً خشخاش یا بادام کے ساتھ دودھ پینا نہایت مفید ہے۔
(2سرد پانی کے مشروب:سکنجبین، گڑ یا لیموں اور نمک کے ساتھ، آلو بخارے اور املی کے شربت، تخم بالنگو اور گوند کتیرا۔ جڑی بوٹیوں کے مشروب مثلاً شربت الائچی، شربت بزوری وغیرہ۔
(3تازہ جوس:مثلا گاجر کا جوس، سیب اور گاجر کا جوس، انار، آم کا جوس، مالٹے کا جوس وغیرہ۔
(4سبز قہوہ:اسے الائچی، ادرک، لیموں اور سونف کے ساتھ خصوصاً سردیوں میں مزاج کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کالی چائے کی نسبت یہ ہاضمے اور صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔
آخری بات:اگر آپ کے بیت الخلاء کا نکاس (Drain) بند ہوجائے تو رات کو کسی بھی کولا مشروب کی لیٹر یا ڈیڑھ لیٹر والی بوتل اس میں ڈال دیں۔ صبح پانی بہائیے تو نکاس بڑی آسانی سے کھل جائے گا۔ آپ خود سوچیے کہ ایسی زہریلی تفریح سے آپ کو درحقیقت کتنا شدید نقصان پہنچتا ہے؟ خدارا وقتی تسکین کے لیے اپنے آپ کو وقت سے پہلے قبر میں نہ اتارئیے۔
ہمیں چاہیے کہ ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے بھرپور جدوجہد کریں۔ اب آپ کا فرض ہے کہ سرد مشروبات کی اصل حقیقت سے دوسرے لوگوں کو بھی آگاہ کریں تاکہ وہ عالمِ بے خبری سے نکل کر حواس میں آئیں اور غیر فطری عادات چھوڑ کر فطرت کی آغوش میں تندرستی کی زندگی گزاریں۔
پھل اور سبزیوں سے علاج (انگور) کے فوائد
پھل اور سبزیوں سے علاج (انگور) کے فوائد
اللہ تعالی نے جہاں انسان کیلئے مختلف اقسام کے اجناس، سبزیاں، ترکاریاں اور دیگر مختلف النوع خوردنی نعمتیں پیدا کی ہیں وہاں مختلف قسم کے موسمی پھل بھی پیدا فرمائے ہیں جو نہ صرف ذائقہ و لذت کے اعتبار سے بہترین کیفیات و تاثرات سے بھرے ہوئے ہیں بلکہ قدرت نے ان پھلوں میں حیاتیاتی جو ہر اورامراض سے شفابخشی کے کمالات بھی سمودئیے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ طبی نقطہ نظر سے اکثر و بیشتر پھلوں میں تقویت
بدن کے ایسے ایسے حیران کن جو ہر پوشیدہ ہیں کہ ان کے سامنے بیشتر دوائیں بھی محض رسمی اور عمومی ہو کر رہ جاتی ہیں ایسی ہی نعمتوں میں ایک نعمت انگور ہے جو انتہائی لذیذ اور بے مثال قوت بخش پھل ہے اسے صحت و توانائی فراہم کرنے کے لحاظ سے ایک اچھوتا اور پر کشش پھل تصور کیا جاتا ہے قدرت کے اس کیپسول میں تین بنیادی خصوصیات ایسی ہیں کہ سوائے انار کے دوسرے پھلوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
*۔۔۔ انگورکثیر الغذا ہے۔
غذائیت اور توانائی کے خزانوں سے بھر پور یہ ایک کثیر الغذا پھل ہے ۔ انگور کے پختہ پھل کا استعمال اچھے سے اچھے گوشت و اعلیٰ ترین پروٹینز اور وٹامنز والی غذاؤں سے بھی بہتر ثابت ہوتا ہے خوش قسمتی سے پاکستان میں کوئٹہ سمیت دیگر پہاڑی علاقوں میں یہ کثرت سے پایا جاتا ہے اور بطور غذا مستعمل ہے۔
*۔۔۔ انگورزودہضم ہے۔
انگور کی دوسری بڑی خوبی اس کا زو دہضم اور لطیف ہوناہے اس کے استعمال سے نہ توطبیعت بوجھل ہوتی ہے اور نہ ہی معدے میں کسی قسم کی گرانی پیدا ہوتی ہے بلکہ دوسری کھائی ہوئی غذا کو بھی ہضم کرنے کا باعث بنتا ہے۔
*۔۔۔ انگور خون صالح پیداکرتا ہے۔
انگورجسم میں تازہ اور مصفی خون پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے تمام معالجین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ انسان کی تندرستی کا دارو مدار خون صالح کی پیداوار سے ہے اگر جگر خون پیدا کرنا بند کر دے تو انسانی صحت جواب دے جاتی ہے جسم کمزور ہو جاتا ہے رنگ پیلا پڑ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جن افراد میں خون کی کمی ہوتی ہے وہ اکثر لاغر اور کمزور ہوتے ہیں نئے خون کی پیداوار کے بغیر جسم سوکھنا شروع ہو جاتا ہے قدرت نے انگور کو یہ خوبی بخشی ہے کہ اس کے استعمال سے صاف خون پیدا ہوتا ہے۔
انگور کی کئی اقسام ہیں جو رنگ اور حجم کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔رنگت کے اعتبار سے سفید‘ سرخ اور سیاہ انگور کی تین اقسام پائی جاتی ہیں ان اقسام میں سفید قسم سب سے زیادہ مقبول ہے اور فائدہ مند ہے ۔جبکہ حجم کے اعتبار سے بھی بڑا انگور‘گول جسے بادانہ یا گولا انگور بھی کہا جاتا ہے ‘لمبوترا یا بیضوی جسے سندرخانی انگور بھی کہتے ہیں‘تین اقسام ہیں۔کچاانگور استعمال نہیں کرناچاہئے کیونکہ خام اور کچے انگور میں وہ غذائیت شیرینی اور قوت نہیں ہوتی جو پکے ہوئے انگور میں ہوتی ہے پکا ہوا شیریں انگور قبض کشا ہوتا ہے زیادہ کھانے سے اسہال لاتا ہے اس کے خشک پھل کو کشمش کہتے ہیں مویز منقی بھی ایک قسم کا خشک انگور ہے کم و بیش جو خواص تازہ انگور میں پائے جاتے ہیں وہی کشمش اور مویز منقی میں پائے جاتے ہیں اگر تازہ دستیاب نہ ہوں تو کشمش استعمال کی جا سکتی ہے جو بہت حد تک انگور کا نعم البدل ہے۔
انگور میں کاربوہائیڈریٹس‘کیلشیم ‘فاسفورس‘فولاد‘وٹامن اے‘بی اور سی پایا جاتا ہے انگور میں سیلولوز شکر اور کچھ تیزاب والے مرکبات ہوتے ہیں جو اس کو قبض کشا بناتے ہیں اس لیے یہ قبض کے مرض میں بہت مفید ہے۔ یہ معدے اور آنتوں کو طاقت بھی دیتا ہے۔معدے کی رطوبت کو مزید ہاضم اور مصفی بنانا ہے بلکہ عمل انہضام کے بعد خون میں شامل ہو کر خون کو صحت مند بناتا ہے۔ بدن کوپرکشش اور فربہی دینے میں بھی دوا کا کام کرتا ہے۔ بچوں کے دانت نکلنے کے دوران اسہال‘ قبض یا تشنجی دورے پڑتے ہیں ان عوارضات کیلئے انگورکا رس بہت ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔ جن بچوں کے منہ اور حلق میں چھوٹے چھوٹے چھالے پڑ جاتے ہیں ان کے لیے بھی انگور کا رس نہایت فائدہ مند ہے۔ بچوں کے لیے اس کی مقدار خوراک ایک چائے کے چمچے سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ کمزور اور سوکھے کے مرض کا شکار چھوٹے بچوں کو انگورکا رس روزانہ پلانا چاہئے۔بلغمی امراض میں اعتدال کے ساتھ شیریں انگور کا استعمال مفید ہے۔ انگور کا معتدل استعمال جسم میں فاسد مادوں کے اخراج میں بھی مفید ہے۔ کھانسی زکام وغیرہ کیلئے بھی مفید ہے۔ انگور کا رس درد شقیقہ ‘جسم کی کمزوری‘خون کی کمی اور دیگر امراض کیلئے بہت مفید ہے۔قطرہ قطرہ پیشاب آنے کی صورت میں ایک پاؤ انگور روزانہ کھانامفید ہے‘ ضعف گردہ میں انگور کااستعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔
گردے ومثانے کی پتھری اور جگر و گردے کے دوسرے عوارضات کیلئے انگور کی بیل کے پتوں کا جوشاندہ بہت مفید ہے جس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ دس گرام انگور کی بیل کے پتوں کو 150ملی لیٹریا ایک کپ پانی میں ڈال کر اتنا جوش دیں کہ وہ تیسرا حصہ یعنی پچاس ملی لیٹر رہ جائے پھر اس کو چھان کر اور بقدر ضرورت میٹھا ملاکر یا بغیر میٹھا کئے پی لیا جائے۔
اطبائے قدیم انگور کو قلب سمیت دیگر کئی امراض اور جسمانی صحت کے لیے مفید قرار دیتے چلے آئے ہیں جس کی تصدیق اب جدید تحقیقات نے بھی کر دی ہے۔انگور کھانے سے خون پتلا رہتاہے۔خاص طورپر سیاہ یا سرخ انگوروں کا ایک گلاس رس پینے سے خون میں تھکے بننے کا خطرہ ساٹھ فیصد کم ہوجاتاہے جبکہ ایسپرین کھانے سے یہ خطرہ صرف پچاس فیصد کم ہوتاہے۔امریکہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ انگوروں کا استعمال دل کے امراض سے محفوظ رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انگوروں میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈینٹس نہ صرف حرکتِ قلب کو ہموار رکھتے ہیں بلکہ بلڈ پریشر کا توازن بھی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جدیدطبی تحقیقات کے مطابق انگور میں ریزرویراٹول (Reserveratol)نامی ایک اہم جزو شامل ہے جو ہمارے جسم میں تین اہم کام سرانجام دیتاہے۔
*۔۔۔خلیے میں ’’ڈی این اے‘‘کو تباہی سے بچاتاہے۔
*۔۔۔عام خلیہ اس سے سرطانی خلیہ میں تبدیل نہیں ہوتا۔
*۔۔۔رسولی بنانے والے خلیوں کو پیدا ہونے اور بڑھنے سے روکتاہے۔انگورسرطان کے تحفظ میں موثر ہے کیونکہ اس میں ’’کیٹے چنز‘‘Catechinsمانع تکسیدوافر ہوتے ہیں۔ جوانسانوں میں چھاتی'غذودمثانہ(پروسٹیٹ)اور دیگر کئی قسم کے سرطانوں میں فائدہ مند ہیں جبکہ جانوروں کے بھی کئی قسم کے گومڑوں اور رسولیو ں میں مفید ثابت ہوئے ہیں۔
سبزیوں اور پھلوں کی کینسر کے خلاف مزاحمت کے حوالے سے مسلسل تحقیق جاری ہے اور آئے روز اس حوالے سے تحقیقاتی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں ابھی حال ہی میں امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ سرطان کے خاتمے کیلئے انگوروں کے بیجوں کا گودا نہایت کارآمد ثابت ہوا ہے۔
طبی ماہرین نے لیبارٹری میں تجربات کرتے ہوئے خون کے سرطان پر انگوروں کے بیجوں کے گودے کو آزمایا اور صرف24گھنٹوں میں سرطان کے خلیوں کی 76فیصد تعداد کو کم ہوتے دیکھا جبکہ خون کے اندر صحت مند خلیے اس سے محفوظ رہے۔طبی ماہرین نے ان تجربات کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ عالمی سطح پر اب خون کے سرطان کے علاج کی نئی دوا تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل لیو کیمیا کے مریضوں کو کثرت سے انگور کھانے کی سفارش کی جاتی تھی جس کو بنیاد بناکر نئی تحقیق شروع کی گئی تھی۔ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ انگوروں کے بیجوں میں جسم سے فاسد مادے خارج کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے اور دل کو مضبوط بنانے کیلئے یہ ایک بہترین ٹانک ثابت ہوتے ہیں۔ماہرین نے مزید کہا ہے کہ ان بیجوں میں جلد‘چھاتی‘ مثانہ‘پھیپھڑوں اور معدے کے سرطان کے خلاف بھی قوت دیکھی گئی ہے۔ چوہوں میں چھاتی اور جلد کے کینسر ٹیومر کا سائز ان بیجوں کے استعمال سے کم ہوگیا تھا۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف کینٹیکی کے پروفیسر زینگ لینگ شائی نے مکمل کی ہے۔
فرانسیسی ریسرچرز کے مطابق انگور خاص طور پر بینگنی رنگ کے انگور کے جوس میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدارکافی زیادہ ہو تی ہے جو دل کی تنگ یا بند شریانوں کی بیماریAtherosclerosisسے ہمیں محفوظ رکھ سکتی ہے ۔ انگور کے جوس اور خود انگور کا تجربہ جن جانوروں پر کیا گیا ان کے جسم میں کو لیسٹرول کی سطح کم ہو گئی تھی ‘جسمانی دباؤبھی کم تھا اور جسم کی اہم ترین شریان آورطہ کے گرد چربی کم مقدار میں دیکھی گئی سبز انگور کے مقابلے میں بینگنی رنگ کے انگور میں یہ حفاظتی صلاحیت زیادہ نوٹ کی گئی ۔ اینٹی آکسیڈنٹس کے فوائد تازہ انگور کے علاوہ انگور کے جوس سے بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔ Molecular Nutrition & food Researchمیں شائع ہو نے والی رپورٹ میں اس بات کی سفارش کی گئی ہے کہ جولو گ دل کی بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں انہیں تازہ انگور اور اس کا جوس زیادہ استعما ل کر نا چاہئے۔
انگور اور اس کے پتوں کے شربت زمانہ قدیم سے طب اسلامی میں مستعمل ہیں ۔
افادہ عام کیلئے ان کے نسخہ جات نذر قارئین ہیں۔
مقوی و مفرح قلب شربت انگور
ہوالشافی:میٹھے انگور آدھ کلو‘پانی آدھ کلو‘چینی سات سو پچاس گرام۔
ترکیب:انگور کا رس نکال لیں ۔ ایک دیگچی میں پانی اور چینی ڈال کر چولہے پر رکھ دیں اور پکنے دیں۔ ایک دو جوش آجائیں تو انگور کا رس اس میں ڈال دیں اور پکنے دیں چاشنی جب ایک تار ہو جائے تو اتار لیں اور ٹھنڈا ہو نے پر صاف اور خشک بوتل میں بھر لیا جائے۔ یہ شربت گرمی کے موسم میں بہت لذیذ ثابت ہوتا ہے۔ اس کے استعمال سے دل کو سکون اور دماغ کو فرحت حاصل ہوتی ہے۔مقوی بدن ہے۔
انگور کے پتوں کا شر بت
ہوالشافی :انگور کے پتے 120گرام‘کلتھی ‘گوکھر و‘سونف ‘خر بوزہ کے بیج ہر ایک چالیس گرام‘ پانی تین کلو گرام‘چینی دو کلو گرام۔
ترکیب:کلتھی ‘گوکھر و‘سونف ‘خر بوزہ کے بیج اور انگور کے پتوں کو پانی میں ڈال کر بھگو دیا جائے ۔ بارہ گھنٹے گزرنے کے بعد آگ پر رکھ کر جوش دیں‘جب پانی آدھا رہ جائے تواتارلیں اورچھان کراس میں دو کلو گرام چینی شامل کرکے دوبارہ آگ پر چڑھائیں ہلکا جوش آنے پر قوام تیار ہوجائے تو اتارلیں‘شر بت تیار ہے۔ یہ شربت گردے اور مثانے کی پتھری نکالنے میں انتہائی موثر ہے۔علاوہ ازیں پیشاب کی جلن اور سوزش میں بھی مفید ہے۔
ﻭﺿﻮ ﺳﮯ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ
ﻭﺿﻮ ﺳﮯ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ
مسح دماغی امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻭﺿﻮ ﮐﺮﺭﮬﺎ
ﺗﮭﺎﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ
ﻧﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﺗﻮ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﺿﻮ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮬﺎﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﻭﺿﻮ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ
ﭘﻮ ﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮﻥ ﮬﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ
ﮬﻮﮞ ﮐﮩﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁٰ ﺋﮯ ﮬﻮ ۔۔۔ ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﭘﺎ ﮐﺴﺘﺎﻥ
ﺳﮯ۔۔۔۔۔۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﺧﺎﻧﮯ
ﮬﯿﮟ۔۔۔۔۔ﺑﮍﺍ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﺗﮭﺎ ۔۔۔۔ ﺩﻭﯾﺎ ﭼﺎﺭ،۔۔۔۔
ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐہا
ﮐﮧ ﻭﺿﻮ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ۔۔۔۔۔ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯﮬﻮ۔۔۔۔ﺍﺱ
ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺑﻠﮑﮧ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻭﮦ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮬﻮﺍ
ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯﻟﮕﺎ
ﯾﮩﺎﮞ ﻣﯿﻨﭩﻞ،ﺩﻣﺎﻏﯽ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮬﺴﭙﺘﺎﻝ ﮬﮯ ﻣﯿﮟ
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺟﻦ ﮬﻮﮞ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﻮ ﺍﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﭘﺎﮔﻞ
ﮐﯿﻮﻥ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ
ﭘﮭﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﮯ ﺳﮕﻨﻞ ﭘﻮﺭﮮ
ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ
ﺍﻋﻀﺎﺀ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔۔۔۔ﺍﻭﺭ ﮬﻤﺎﺭﺍ ﺩﻣﺎﻍ ﮬﺮ ﻭﻗﺖ
fluid ﮐﮯﺍﻧﺪﺭ float ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮬﻢ ﺑﮭﮕﺘﮯ
ﮬﯿﮟ ﮐﻮﺩ ﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺩﻭﮌﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭﺩﻣﺎ ﻍ
ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ
rigied
ﭼﯿﺰ ﮬﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﭨﻮٹ ﭼﮑﯽ ﮬﻮﺗﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ
fluid ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺭﮐﮭﺎ ﮬﮯ۔۔۔ﺍﺱ ﺩﻣﻎ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﺑﺎﺭﯾﮏ
ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺭﮔﯿﮟ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﯽ
ﭘﺸﺖ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ۔۔۔۔۔
ﺳﺮﺟﻦ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺭﯾﺴﺮﭺ ﮐﯽ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﯽ ﭘﺸﺖ ﮐﻮ
ﺧﺸﮏ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯﺗﻮ ﺍﻥ ﺭﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺌﯽ ﺩﻓﻌﮧ
ﺧﺸﮑﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺍﺱ
ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ۔۔۔۔۔۔
ﮐﺊ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﯽ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻣﺎ ﻍ ﮐﺎﻡ
ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎﮐﮧ ﺍﺱ
ﺟﮕﮧ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﻮﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺗﺮ ﺭﮐﮭﺎﺟﺎﺋﮯ ﮐﮩﻨﮯ
ﻟﮕﺎﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮬﺎﺗﮫ ﻣﻨﮧ ﺗﻮ
ﺩﮬﻮﻧﯽ ﮬﯽ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮭﺎﮞ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﯽ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﻃﺮﻑ
ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯﻭﮦ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ
ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﯿﻦ ﻣﺰﯾﺪ ﯾﮧ ﮐﮧ
ﻣﺴﺢ ﺳﮯ ﻟﻮ ﻟﮕﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﻥ ﺗﻮﮌ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﺎ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﮬﻮﺗﺎ
ﮬﮯ ۔۔۔۔۔۔۔۔)
ﺳﻨﺖ ﻧﺒﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ
Subscribe to:
Posts (Atom)


+%DA%A9%DB%92+%D9%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%D8%AF.jpg)
