Sunday, 2 March 2014

سبز الائچی

سبز الائچی
"Elettaria cardamomum-Green cardamon-Sabz Alaichi"

سبز الائچی کا جوشاندہ بنا کر صبح شام پینے سے منہ کے بدبو ختم
ہو جاتی ہے. اس کا قہوہ پینے سے طبیعت میں فرحت اور تروتازگی پیدا ہوتی ہے. ذہنی دباؤ ، پریشانی کم ہوتی ہے. منہ کی بدبو کو دور کرنے کے لئے اسکو چبائیں.

کم سِن لڑکیوں میں بریسٹ کینسر کے بڑھتے خطرات

کم سِن لڑکیوں میں بریسٹ کینسر کے بڑھتے خطرات

تازہ ترین تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سِن بلوغت میں سیچوریٹڈ فَیٹ سے بھرپور غذا کا استعمال خواتین کے اندر آگے چل کر چھاتی کے سرطان کے خطرات میں غیر معمولی اضافہ کر دیتا ہے۔

بلوغت کو پہنچنے والی لڑکیاں چھاتی کے کینسر سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کر سکتی ہیں۔ اس بارے میں امریکا کی مشیگن یونیورسٹی کے مححقیقن نے ریسرچ کی ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ کم سنی میں روغنی غذا کے استعمال سے پرہیز کرنے والی لڑکیوں میں آگے چل کر بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان کے خطرات کافی کم ہو سکتے ہیں۔
مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے یہ تجربہ چوہوں پر کیا۔ تین ہفتے تک ان چوہوں کو ہائی فَیٹ ڈائیٹ یا چربی سے بھرپور غذا دی گئی، جس کے بعد سائنسدانوں کو پتہ چلا کہ ان چوہوں کی چھاتیوں کی ساخت میں تبدیلی رونما ہونے لگی۔ نیز ان کے امیون سیلز یا مدافعتی خلیوں کی نشو و نما میں اضافہ اور تبدیلی ظاہر ہونے لگی۔
محققین نے اندازہ لگایا کہ خلیوں کی یہ تبدیلیاں دائمی ہوتی ہیں اور یہ بظاہر بے ضرر ماہیت پر مبنی یہ تبدیلیاں کچھ عرصے بعد چھاتی کے سرطان کا موجب بن سکتی ہیں۔
جانوروں کی چربی بھی انسانی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتی ہے
جانوروں کی چربی بھی انسانی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتی ہے
بیسل ٹائپ بریسٹ کینسر
تازہ ترین تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سِن بلوغت میں سیچوریٹڈ فَیٹ سے بھرپور غذا کا استعمال خواتین کے اندر آگے چل کر چھاتی کے سرطان کے خطرات میں غیر معمولی اضافہ کر دیتا ہے۔ سیچوریٹڈ فَیٹ یا ایسی چربی یا روغن جو ٹرائی گلیسرائیڈ پر مشتمل ہو، چھاتی کے سرطان کا موجب بن سکتا ہے۔ ٹرائی گلیسرائیڈ دراصل گلیسرول اور تین تیزابی اصلیوں سے تیار شدہ چربی ہوتی ہے، جو تیل اور گھی وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔ جانوروں سے حاصل کردہ سیچوریٹیڈ فَیٹ مکھن، گھی، پنیر، چربی کے حامل گوشت، ناریل کے تیل اور روغن تاڑ میں پایا جاتا ہے۔
محققین نے ایک مزید تشویشناک انکشاف یہ کیا ہے کہ سیچوریٹیڈ فَیٹ سے بھرپور غذا سرطان زا رسولیوں یا ٹیومرز میں ایک مخصوص قسم کے جین کی موجودگی کا سبب بنتی ہے۔ یہ ٹیومرز سرطان کی مختلف اقسام پر مشتمل ایک چھوٹے اور خاص قسم کے گروپ میں شامل ہوتے ہیں، جنہیں ’بیسل ٹائپ‘ یا ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر کہا جاتا ہے۔
اس تحقیقی عمل میں شامل محققہ سوزن جی کومن کے مطابق امریکا میں چھاتی کے کینسر کی اقسام میں 15 سے 20 فیصد ’بیسل ٹائپ‘ کینسر ہے، جو زیادہ تر کم عمر خواتین میں پایا جاتا ہے۔
بروقت مرض کی تشخیص بہت سی پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہے
بروقت مرض کی تشخیص بہت سی پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہے
مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے کالج آف ہیومن میڈیسن کی فزیالوجی کی پروفیسر سنڈرا ہاسلم کہتی ہیں، "بد قسمتی سے سرطان کی یہ قسم بہت جارحیت کے ساتھ اور تیزی سے پھیلتی ہے، یہاں تک کہ مرض کے ابتدائی مرحلے ہی میں یہ چھاتی کے علاوہ جسم کے دیگر اعضاء تک پھیلنا شروع ہو جاتی ہے"۔ سنڈرا کے مطابق یہ امر تعجب کا باعث نہیں کہ سرطان کی دیگر اقسام کے مقابلے میں ’بیسل ٹائپ‘ کینسر کی شکار خواتین کے بارے میں پیشین گوئی کہیں زیادہ مایوس کُن ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "یہ نہایت اہم بات ہے کہ گرچہ کینسر کا مرض خلیوں کے جینز میں تغیرات پیدا ہونے کے بے ترتیب عمل سے جنم لیتا ہے تاہم ’بیسل ٹائپ‘ کینسر میں سیچوریٹڈ فَیٹ سے بھرپور غذا کا استعمال کافی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اُدھر اس ریسرچ کی رپورٹ کے شریک مصنف اور مائیکرو بائیالوجی کے پروفیسر رچرڈ شوارٹس نے ایک اہم نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری اس تحقیق کے دوران ہائی فَیٹ یا چربی سے بھرپور غذا کا استعمال وزن میں اضافے کا سبب بنتا دکھائی نہیں دیا، اس لیے یہ امر زیادہ تشویش کا باعث ہے کہ ’بیسل ٹائپ‘ کینسر کے خطرات محض اوور ویٹ یا زیادہ جسمانی وزن کے حامل افراد کو ہی لاحق نہیں بلکہ اس سے معاشرے کا وسیع تر حصہ متاثر ہو سکتا ہے"۔ پروفیسر شوارٹس کے بقول، ’قصور وار چربی ہے نہ کہ وزن کا بڑھنا۔‘

شہتوت کے خواص اور فوائد

شہتوت کے خواص اور فوائد


یہ ایک معروف اور عام پھل ہے۔بچے بڑے سب اسے شوق سے کھاتے ہیں۔پاک وہند میں باآسانی اور کثرت سے کاشت کیا جاتا ہے۔اسے اردو،سرائیکی ،پنجابی اور ہندی میں توت یا شہتوت کے نام سے جانا جاتا ہے۔شہتوت لال،ہرے ،سفید اور کالے رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔سیاہ رنگ کے شہتوت کی ایک قسم بے دانہ سب سے اعلیٰ تسلیم کی گئی ہے، اس کا رس ٹپکتا رہتا ہے اور یہ شیریں ہوتا ہے۔عموماً میٹھے شہتوت کھانے سے طبیعت میں سکون آتا ہے۔یہ پھل بے چینی ،گھبراہٹ،چڑچڑاپن اور غصہ دور کرتا ہے۔صا لحخون پیدا کرتا ہے۔اس کے کھانے سے جگر اور تلی کی اصلاح ہوتی ہے۔یہ ایک بین الاقوامی پھل ہے جو ہمیں مارچ کے آخر میں نظر آتا ہے۔یہ زود ہضم اور غذائیت سے مالا مال ہوتا ہے۔اس پھل میں مصفیٰ پانی،گوشت بنانے والے اجزائ، نشاستے دار شکر شامل ہیں۔ اس کے کیمیائی اجزاء میں تانبا،آئیوڈین،پوٹاشیم ،کیلشیم،فولاد،فاسفورس اور روغنیات شامل ہیں۔قدرت نے اس پھل کو وٹامن اے ، بی اور ڈی سے بھی کثیر مقدار میں نوازا ہے۔مزاج کے لحاظ سے حکماء نے اسے سرد تر قرار دیا ہے۔
یہ قبض کشا پھل ہے۔اس سے ہاضمے کو تقویت ملتی ہے۔جگر کو افادیت پہنچا کر صالح خون کو پیدا کرنے میں یہ اکسیر و مجرب ہے۔گرمی کی پیاس کی شدت اور ہیجانی کیفیت دور کرتا ہے۔اس کا شربت بخار میں فائدہ دیتا ہے اور جسم کی حرارت کو کم کرتا ہے۔اس کے استعمال سے بلغمی مادہ خارج ہوجاتا ہے۔یہ شدید کھانسی، خاص طور پر خشک کھانسی اور گلے کی دکھن میں بے حد مفید ہے۔
سر درد کے لیے
سر درد کے مریض یہ نسخہ استعمال کرکے دیکھیں:
اکیس تازہ شہتوت چینی کی پلیٹ میں لے کر رات بھر کھلے آسمان کے نیچے رکھیںاور صبح صادق اس پر روشنی پڑنے سے قبل ہی نہار منہ کھا لیں۔فرق پہلے دن سے ہی محسوس ہوگا۔
منہ کے چھالوں کے لیے
معدہ و جگر میں جب گرمی بڑھ جاتی ہے تو اس کے اثرات عموماً زبان پر چھالوں کی صورت میں پڑتے ہیں، اس کے علاوہ گلے میں درد بھی شروع ہو جاتا ہے،متاثرہ فرد کھانے سے بھی عاجز ہوجاتا ہے۔ایسے میں اگر شہتوت کے درخت سے نرم نرم کونپلیں توڑ کر اچھی طرح چبائی جائیں تو منہ کے چھالے دور ہوجاتے ہیں۔
دائمی قبض کے لیے
قبض کو اُم الامراض بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے کئی دوسری بیماریاں جنم لیتی ہیں۔اس کے لیے شہتوت آدھا پائو روزانہ کھانے سے ہفتے ڈیڑھ ہفتے میں انتڑیوں کا فعل ٹھیک ہوجاتا ہے۔اس طرح دائمی قبض سے نجات مل جاتی ہے۔شہتوت کے موسم میں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
الرجی کے لیے
کسی چیز کے اضافے یا کمی سے الرجی ہوجاتی ہے، جسے عرفِ عام میں پتی بھی کہا جاتاہے۔ جب یہ الرجی ہوتی ہے تو جسم پر سرخ رنگ کے چکتے پڑ جاتے ہیں۔ اس سے جسم پر خارش ہوتی ہے اور بہت تکلیف رہتی ہے۔ ایسے میں کچے شہتوت لیں، انہیں پیس کر جو کے سرکے میں ملائیں، اس میں تھوڑا سا عرقِ گلاب بھی شامل کرلیں۔ انہیں باہم اس قدر ملائیں کہ یک جان ہوجائیں۔ اس دوا کو متاثرہ جگہ پر لیپ کریں۔ اس کے بیس منٹ کے بعد نہا لیں۔ پتی کا خاتمہ ہوجائے گا۔
ٹانسلز کے لیے
جو لوگ شہتوت شوق سے کھاتے ہیں ان کے گلے کبھی خراب نہیں ہوتے، اور نہ انہیں ٹانسلز کی تکلیف ہوتی ہے۔ اس لیے شہتوت کے موسم میں ضرور شہتوت کھائیں۔
نزلہ و زکام کے لیے
اس موذی مرض اور دماغی تکلیف کے لیے مریض صبح سویرے شہتوت سیاہ نہار منہ کھائیں۔ اس کے بعد شام کے وقت خمیرہ گائو زبان سادہ ایک تولہ کھا لیں۔ اس کے چند دن کے استعمال سے دماغی خشکی اور نزلہ زکام سے نجات مل جائے گی۔

مصالحہ جات اور آپکی صحت

مصالحہ جات اور آپکی صحت

ماہرین غذا کا خیال ہے کہ مصالحوں سے کھانے میں صرف مزہ ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ اکثر مصالحے صحت کے لئے مفید بھی ہیں۔ معدے کی تکالیف، دانت کا درد کے علاوہ مصالحوں سے ذہن پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نیز مصالحوں والے کھانے سے دماغ ایسا کیمیائی مادہ پیدا کرتا ہے جو درد کی دوا بن جاتا ہے۔ آیئے اب کچھ ایسے مصالحوں کا جائزہ لیتے ہیں جو بعض ماہرین کے نزدیک مفید ترین ہیں۔

ہلدی
اس میں مفید جگر اجزاء ہوتے ہیں، ماہرین ہلدی کے ست کو یرقان، ورم جگر اور جگر سکڑنے کی بیماری (تصغر کبد) میں استعمال کراتے ہیں۔ یہ نظام ہضم کیلئے سکون بخش ہے اور اس کے استعمال سے پِتے سے صفرایاپت خارج ہو جاتا ہے جو چکنائی ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر دالوں اور لوبئے میں ہلدی شامل کر دی جائے تو یہ ریح اور اپھارے کو کم کرتی ہے۔ یہ بھی پتا چلا ہے کہ ہلدی کا رنگ گلٹی بننے میں مانع ہوتا ہے اور میامی یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق یہ چھاتی کے سرطان کے خلیوں کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

الائچی

ایک ماہر کا کہنا کہ الائچی ہاضمے کیلئے اکسیر ہے اور اس سے سانس کی بعض تکالیف کا بھی علاج ہوتا ہے۔ الائچی چبانے سے بعض ایسے اجزاء جسم کو ملتے ہیں جو سوء ہضم نفح اور قولنج کیلئے مفید ہیں۔

دار چینی
تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کھانوں میں دار چینی شامل کی جائے تو ای کولائی جراثیم کی روک تھام ہو سکتی ہے۔ ماہرین عقاقیر کافی عرصے سے دار چینی کے فوائد کے قائل رہے ہیں اور اسے جراثیم کش اور فطر کش مانتے ہیں دار چینی قے اور بدہضمی کا بھی علاج ہے نیز نزلہ زکام کی علامات کو بھی کم کرتی ہے۔ شہد اور لیموں کے شربت میں ذرا سی دار چینی شامل کردیں تو گلے کی خراش کو آرام آتا ہے۔

رائی
رائی اگر روغنی مچھلی یا چکنے گوشت کے ساتھ کھائی جائے تو یہ ہاضمے میں مدد دیتی ہے یہ پیشاب آور بھی ہے ایک پائنٹ پانی میں ایک اونس تازہ ٹہنیاں اور دیڑھ اونس رائی ملا کر دن میں دو تین بار دو تین بڑے چمچے کھا لئے جائیں ‌تو فاضل رطوبت خارج ہو جاتی ہے۔ اس کے جڑ کو کترنے کے بعد لگایا جائے تو انگوٹھوں اور انگلیوں کے ورم کو آرام آتا ہے۔

لونگ

سب جانتے ہیں کہ لونگ دانت کے درد کا بڑا اچھا علاج ہے۔ لونگ کا تیل لگانے یا دانت کے نیچے لونگ رکھنے سے آرام آ جاتا ہے۔ لونگ میں جراثیم کش خاصیت بھی ہوتی ہے اور لونگ کا تیل کیڑوں کو بھگاتا ہے۔

ذیابطیس اور ڈائٹ تھراپی


ذیابطیس اور ڈائٹ تھراپی

ایک صحت مند انسان کے خون میں بغیر کچھ کھائے پیئے مثلاً نہار منہ شکر (گلوکوز) کی مقدار 70-120 mg فی 100cc ہوتی ہے اور کچھ کھانے کے بعد یہ مقدار بڑھ کر 140mg- 160mg ہو جاتی ہے کھانے کے 2 گھنٹہ بعد خون میں گلوکوز کی انتہائی مقدار 180/100cc ملی گرام ہونی چاہیے۔ اس سے زیادہ گلوکوز کی مقدار ذیابطیس کو ظاہر کرتی ہے۔
جسم میں گلوکوز (شکر کے میٹابولزم) کے لیے انسولین ہارمون کی ضرورت ہوتی ہے جو لبلبہ Pancreas بنانا ہے۔ لبلبلہ انسولین نہ بنائے تو خون میں موجود شکر کا انجذاب ہو جاتا ہے اور خون میں اس کی مقدار بڑھنے لگتی ہے اور ایک خاص حد سے تجاوز کر جائے تو شکر پیشاب کے ساتھ آنے لگتی ہے۔ یہ ذیابطیس ہے۔
شدید ذیابطیس اس میں انسولین بالکل نہیں بنتی اس لیے مریض کو روزانہ انسولین دینا پڑتی ہے (یہ عموماً بچپن سے ہوتا ہے)
اس میں انسولین بنتی ہے لیکن بہت کم مقدار میں ایسے مریض کو دوائیں دے کر اور خوراک میں ردو بدل کرکے ذیابطیس کنٹرول کیا جاتا ہے۔
ہلکا ذیابطیس
ذیابطیس کے مریضوں کی تقریباً نصف تعداد Mild ذیابطیس میں مبتلا ہوتی ہے۔ ان مریضوں میں انسولین بنتی ہے مگر کاربو ہائیڈریٹس کے زیادہ استعمال کے باعث پوری نہیں پڑتی ان مریضوں کو صرف کاربو ہائیڈریٹس کم کر دیا جاتا ہے۔ بعض مریض زیادہ خوراک سے لے رہے ہوتے ہیں اور عموماً موٹے ہوتے ہیں۔ ان کو خوراک کم کردی جاتی ہے۔
معتدل ذیابطیس والے مریض
نارمل خوراک لیتے ہیں (زیادہ نہیں لیتے) لیکن انسولین کم نبتی ہے اس لیے پوری نہیں پڑتی لیٰذا انہیں میڈیسن دی جاتی ہیں جو لبلبہ کی کارکردگی بڑھاتی ہے اور لبلبہ زیادہ انسولین تیار کرنے لگتا ہے۔
انسولین شاک میں خون میں شکر/گلوکوز اچانک کم ہو جاتی ہے۔ گلوکوز کی کمی کی صورت میں دماغ اور اعصاب اپنا کام نارمل طریقے سے نہیں کرسکتے۔ بعض دفعہ باہر سے لی گئی انسولین ضرورت سے زائد ہوتی ہے یہ فالتو انسولین خون کی شکر کو جلا کر ختم کر دیتی ہے۔ اس کیفیت کو Hyplogly Camia کہتے ہیں۔
خون میں شکر کی زیادتی کو Hypergly Camia کہتے ہیں۔
Diabetic Coma شکر کی زیادتی سے ہوتا ہے جب انسولین کی غیر موجودگی کے باعث خون میں شکر کا میٹا بولزم نہیں ہو پاتا تو جسم حرارت و توانائی کے حصول کے لیے فیٹس اور پروٹین جلانا شروع کر دیتا ہے۔ فیٹس اور پروٹین کے مسلسل عمل سے خون (کھاری Alkaline ہونے کے بجائے) ترشہ صفت Acidic ہو جاتا ہے اس کیفیت کے ہوتے ہی مریض بہوش ہو جاتا ہے اسے ذیابطیس کومہ کہتے ہیں اس کا تدارک نہ کیا جائے تو کومہ کی حالت میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
انسولین شاک فوراً ہوتا ہے اور شکر ملتے ہی ختم جاتا ہے جبکہ ذیابطیس کومہ واقع ہونے میں کافی وقت لگتا ہے اور مریض نارمل بھی آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ وہ افراد جن کے لبلبلہ کچھ انسولین بنا رہے ہوتے ہیں وہ کومہ کی طرف آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں۔ انسولین شاک میں سخت بھوک لگتی ہے، پیاس نارمل، پسینہ بہت زیادہ آجاتا، سر چکرانا، اختلاج قلب کی کیفیت، ذیابطیس کومہ میں پیاس زیادہ، بھوک نارمل غنودگی کی کیفیت، چکر اور اختلاج قلب نہیں ہوتا۔
عموماً انسولین شاک ان ہی مریضوں کو ہوتا ہے جو انسولین کے انجیکشن لیتے ہیں جبکہ ذیابطیس کومہ دونوں طرح کے مریضوں کو ہو سکتا ہے۔
(1) ہمارے جسم میں Receptor Sites ہیں جہاں انسولین اور گلوکوز کا Attachment ہوتا ہے اگر ان مفامات اتصال میں کوئی خرابی ہو جائے تو گلوکوز Cells میں جذب نہیں ہوتا بلکہ خون میں ہی رہ جاتا ہے۔
موٹے افراد میں ان Site Receptors کی ناقص کارگردگی کے باعث گلوکوز کا مکمل طور پر Cells میں جذب نہیں ہو پاتا جس کی باعث لبلبہ کو انسولین زیادہ مقدار میں بنانا پڑتی ہے۔ لبلبہ پر زیادہ بوجھ پڑنے سے وہ اپنی طبعی عمر سے پہلے انسولین بنانا کم یا ختم کر دیتے ہیں اس طرح یہ مرض جڑ پکڑ لیتا ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ موٹے افراد میں ذیابطیس شروع ہونے سے پہلے ان کے خون میں انسولین کی مقدار معمول سے بڑھ جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے اور گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
(2) موٹے افراد میں ذیابطیس کی دوسری بڑی وجہ ضرورت سے زائد خوراک ہے زیادہ خوراک لینے پر اس کے میٹابولزم کے لیے لبلبہ کو زیادہ انسولین بنانا پڑتی ہے زیادہ بوجھ بڑنے پر آخر وہ انسولین بنانا کم کر دیتی ہے۔
ڈائٹ کنٹرول کرکے وزن کم کرنے سے شوگر لیول نارمل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ آغاز میں کر دیا جائے اور اس طرح Site Receptors کی کارگر دگی بھی بڑھتی ہے۔
(3) Cortisone کا زیادہ استعمال بھی اس مرض کا سبب بن سکتا ہے۔
جسم کے اندر بننے والے بعض ہامونز یا دوائوں کے ذریعے لے جانے والے بعض ہامونز بھی جسم کے اندر بنے والی انسولین کے اثر کو ذائل کر دیتے ہیں یا اس کی مقدار میں کمی کر دیتے ہیں۔ (مثلاً غصے کی حالت میں یا اسٹریس کی حالت میں بنے والے ہارمونز انسولین کو نقصان پہچاتے ہیں۔
(4) شراب کا استعمال۔ (5) آرام طلب زندگی (6) فزیکل ورک نہ کرنا (7) بے اعتدالی سے کھانا پینا ذیابطیس کی اہم وجوہات ہے۔
ذیابطیس شکری۔ میں خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے بار بار پیشاب آتا ہے شکر کے ساتھ پانی اور نمکیات بھی خارج ہوتے ہیں۔
ذیابطیس سادہ۔ میں ADH ہامون کی کمی سے بار بار پیشاب آتا ہے۔
ذیابطیس شکری کی علامات۔ شدید پیاس، بار بار اور زیادہ پیشاب آنا۔ بھوک زیادہ لگنا، معمولی کام سے تھکاوٹ، وزن میں تیزی سے کمی، قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے انفیکشن کے امکان زیادہ، جسم پر پھوڑے پھنسیاں، خون کی نالیاں سخت زخم دیر سے بھرنا، Gangrene، نظر کی کمزوری، دل کے دورہ کے امکان زیادہ نامردی عوتوں میں حیض بند ہونا، گردوں کی کارگردگی کم ہونا۔
نیفروپیتھی میں ذیابطیس کے باعث گردوں کا فعل نا کارہ ہو جاتا ہے۔ مناسب علاج نہ ہونے پر گردوں کو بلاک کرنے والی بیماری End Stage Renal Discese ہو جاتی ہے اس کنڈیشن میں مریض کو صرف Dialysis تجویز کیا جاتا ہے ESRD کے 50% سے زیادہ کیسز ذیابطیس اور 30% کیسز HBP کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
ذیابطیس کے مریضوں میں دل کے دورہ کے امکان بھی 4 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ چند Reason خون میں شکر کا زیادہ ہونا گردوں کی خرابی کے باعث پروٹین کا ضائع ہونا۔ خون کا جمنا Cloting،HBP کولیسٹرول کی ذیادتی خون کی نالیاں سخت ہونا نیفروپیتھی اور HBP ایک ساتھ ہوں تو بہت کم ادویات موثر ہوتی ہیں۔
Cells میں شکر کی مقدار کم ہو جائے تو Cells جلد تھک جاتے ہیں جس کی وجہ سے جسم میں سستی آجاتی ہے ذیابطیس ہی ایسا مرض ہے جو Cells کو مکمل طور پر نقصان پہنچاتا ہے اعصابی کمزوری ہو جاتی ہے جسے Diabetic Neurapathy کہتے ہیں۔
Diabetic Ratinopathy ہوسکتی ہے جس سے بینائی کم ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
دماغ کو نقصان Stroke ہو سکتا ہے۔
Diabetic Gangrene ذیابطیس میں خون کی نالیوں کی سختی اور وہاں خون کی کم سپلائی ہونا۔
ذیابطیس سے پہلے کی حالت یا علامتیں۔
موٹاپا، HBP، خون میں انسولین کی مقدار بڑھ جانا، یورک ایسڈ لیول بڑھ جانا، HDL کولیسٹرول کم ہو جانا، ٹرائی گلیسرائڈ بڑھ جانا۔ ان میں سے ایک یا زیادہ علامتیں ظاہر ہوں تو احتیاط کرنا چاہیے۔
انسانی جسم پایا جانے والا کولیسٹرول HDL، LDL اور ٹرائی گلیسرائڈ پر مشتمل ہوتا ہے ایک صحت مند انسان میں فاسٹنگ ٹرائی گلیسرائڈ لیولl 150 mg/d ہے۔
HDL کولیسٹرول 50mg/DL سے زیادہ ہونا چاہیے خواتین میں 40mg/DL سے زیادہ ہونا چاہیے مردوں میں۔ LDL کولیسٹرول 150mg/DL سے کم ہونا چاہیے۔ ٹڑائی گلیسرائڈ لیول نارمل 100 سے 150mg/ml ہے۔
صبح ناشتہ سے گلوکوز لیول چیک کرنا FBS۔ Fasting Blood Sugar
ناشتہ کے بعد RBS۔ Random Blood Sugar
Diabetics کی خوراک
مٹھائی، نمکو، بیکری کی اشیائ، چاکلیٹ، لسی، آئس کریم، کولڈ ڈرنک، فاسٹ فوڈز، بازار کے کھانے استعمال نہ کریں۔
انڈے کی زردی، گائے کا گوشت، گھی، گوشت کی چربی، کم استعمال کریں۔ خصوصاً وہ مریض جن کو ذیابطیس کے ساتھ HBP یا موٹاپا ہے۔
فیٹس کے لیے Vegetable Oil استعمال کریں۔
عام فرد کی نسبت ذیابطیس کے مریض کو چکنائی زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔
سلاد، ٹماٹر، پیاز، سبز پتوں والی سبزیاں، مرغی، مچھلی، انڈے کی سفیدی بغیر بالائی کا دودھ استعمال کریں۔
شہد، کھجور، انجیر، ٹماٹر، لیمو، کریلا، چنا، جامن، فالسہ، بہت مفید ہیں۔
اپنی غذا تھوڑی تھوڑی کرکے دن کے مختلف اوقات میں لیں۔ 5-6 مرتبہ۔
فزیکل ورک/ ایکسرسائز ضرور کریں اس سے شوگر جذب ہونے مین مدد ملتی ہے۔
نوٹ:۔ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے مندرجہ بالا اشیاء کے علاوہ مزید کئی اشیاء مفید ہیں۔ جو ان کے مرض کو کم کرنے یا ختم کرنے میں مدد گار ہو سکتی ہیں لیکن یہ ڈائٹ چارٹ Individual Basis پر بن سکتا ہے۔

بانجھ پن کے اسباب


بانجھ پن کے اسباب

گر کسی جوڑے میں درجِ ذیل اُمور پائے جائیں تو اِسے بانجھ پن کہا جاتا ہے۔
اگر عورت کی عمر 34 سال سے کم ہو اور یہ جوڑا کسی مانع حمل دوا یا طریقے کے بغیر جنسی ملاپ کرتا ہو اور اِس کے باوجود 12 ماہ کی مُدّت میں حمل قائم نہ ہُوا ہو۔
اگر عورت کی عمر 35 سال سے زائد ہو اور یہ جوڑا کسی مانع حمل دوا یا طریقے کے بغیر جنسی ملاپ کرتا ہو اور اِس کے باوجود 6 ماہ کی مُدّت میں حمل قائم نہ ہُوا ہو۔
اگر متعلقہ عورت میں اپنے حمل کو تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیت نہ ہو۔
عورتوں میں بارآوری کا عروج بیس سے تیس سال کی عمر کے دوران ہوتا ہے ۔اِس عمر میں اچھی جسمانی صحت رکھنے والے جوڑے جو باقاعدگی سے جنسی سرگرمی کرتے ہوں تو اُن کے لئے حمل ہونے کا اِمکان ہرماہ 25 سے 30 فیصد ہوتا ہے۔عورتوں کے لئے تیس سے چالیس سال کی عمر کے دوران ،خاص طور پر 35 سال سے زیادہ عمر کے بعد، حاملہ ہونے کا اِمکان ہر ماہ 10 فیصد سے کم ہوتا ہے ۔
بانجھ پن کا سبب کیا ہوتا ہے؟

بانجھ پن کا سبب عورت یا مَردیا دونوںکے جسمانی مسائل ہو سکتے ہیں۔بعض صورتوں میں اسباب معلوم نہیں ہوتے ۔
عورتوں کے عام عوامل/مسائل
انفکشن یا سرجری کے نتیجے میں نَلوں کو نقصان پہنچنا۔
بچّہ دانی کے اندر رسولی ہونا۔ یہ غیر عامل ٹیومرز ہوتے ہیں جو بچّہ دانی کے عضلات کی تہوں سے پیدا ہوتے ہیں ۔
Endometriosis اِس کیفیت میں بچّہ دانی کی اندرونی تہوں سے مماثلت رکھنے والے عضلات بچّہ دانی سے باہر پیدا ہوجاتے ہیں اور اِ سی وجہ سے درد پیدا ہوتا ہے ،خاص طور پر ماہواری کے دِنوں میں یا جنسی ملاپ کے دوران۔
بچّہ دانی کے مُنہ سے خارج ہونے والی خلافِ معمول رطوبت۔ اِ س کیفیت میں بچّہ دانی کے مُنہ سے خارج ہونے والی رطوبت بہت گاڑھی ہوجاتی ہے ،جس کی وجہ سے منی کے جرثومے بچّہ دانی میں داخل نہیں ہوپاتے۔
منی کے جرثوموں کے لئے اینٹی باڈیز کاپیدا ہوجانا، یعنی عورت میں اپنے ساتھی کے منی کے جرثوموں کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا ہوجاتی ہیں۔
جنسی طور پر منتقل ہونے والے امراض مثلأٔ کلیمائیڈیا ، سوزاک، وغیرہ ۔بانجھ پن کے اِن اسباب کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
اگر جنسی طور پر منتقل ہونے والے امراض کا علاج نہ کروایا جائے تو عورتوں میں 40 فیصد تک نچلے پیٹ کی سُوجن (PID) کا مرض پیدا ہو سکتا ہے،جو بانجھ پن کا سبب بنتا ہے اور نَلوں کے عضلات کی بناوٹ میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔
جنسی طور پر منتقل ہونے والے امراض مثلأٔ کلیمائیڈیا ، سوزاک، وغیرہ ۔بانجھ پن کے اِن اسباب کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
ٹی بی کی وجہ سے جسم کے مختلف نظام،بشمول عورتوں اور مَردوں کے تولیدی نظام متاثر ہوتے ہیں،اور بانجھ پن پیدا ہوتا ہے ۔
ہارمونز کا عدم توازن
۔ تھائیرائڈہارمون کی مقدار میں تبدیلی ہونا(گردن میں سامنے کی جانب واقع ایک چھوٹے غدود سے خارج ہونے والا ہارمون جو خون میں شامل ہوجاتا ہے)۔ ۔ prolactinoma نامی دِماغ کے ایک ٹیومر کی وجہ سے ،prolactin نامی ہارمون کی افزائش زیادہ ہوتی ہے۔یہ کیفیت عام طور پر galactorrhea (چھاتیوں سے دُودھ رِسنے کی کیفیت) سے منسلک ہوتی ہے ۔
اِنسولین نامی ہارمون کی افزائش زیادہ ہونا۔
ذیابیطیس mellitus اور
کلاہ گردہ کے غدود (adrenal gland) کی عدم فعّالیت (کام نہ کرنا)۔
زائدوزن یا کم وزن کی کیفیت ہونا۔
Polycystic Ovarian Syndrome (PCOS) بچّہ دانی میں متعدد گلٹیاں ہونے کی کیفیت۔ اِس کیفیت میں،انڈوں کے پختہ ہونے اور اِن کے اخراج کا عمل نہ ہونے کی وجہ سے حمل نہیں ہوپاتا ، بچّہ دانی کے اندر متعدد گلٹیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔
مُٹاپے کی وجہ سے انڈوں کے اخراج کا عمل درست طور پر نہ ہونا ، تھائیرائڈ کی عدم فعّالیت (کام نہ کرنا)، بلوغت کی عمر (13 سے 16 سال)یا ماہواری بند ہونے کی عمر (40 سے 45 سال)۔
نفسیاتی مسائل، مثلأٔ جذباتی لحاظ سے معاونت کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والی تشویش کے نتیجے میں ہارمونز کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں جن کی وجہ سے عورت کی بارآوری کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
مَردوںں کے عام عوامل/مسائل
مَردوں کے بانجھ پن کا سبب اکثر اوقات منی کے جرثوموں کی تعدا کا کم ہونا یا جسمانی نقص ہوتا ہے ۔دِیگر عوامل میں منی کے جرثوموں کی حرکت کا انداز ،یا منی کے جرثوموں کی بناوٹ میں نقص ہونا شامل ہیں۔
مَردوں کے جسمانی نقائص
Hypospadias اِس کیفیت میں پیشاب کی نالی میں پیدائشی طور پر نقص ہوتا ہے جس کی وجہ سے پیشاب کا سوراخ خلافِ معمول جگہ پربنتا ہے یعنی عضو تناسل کے نیچے کی جانب یہ سوراخ ہوتا ہے ۔
Varicocele اِس کیفیت میں خُصیوں کی تھیلی کی نَسیں پھیل جاتی ہیں جنہیں ہاتھ سے چُھو کر محسوس کیا جاسکتا ہے ،اور ایسامحسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کیڑوں سے بھری ہوئی چھوٹی تھیلی ہو۔
Peyronie’s Disease اِس مرض میں عضو تناسل کی بناوٹ میں بہت زیادہ خم ہوتا ہے اور اِس خم پر کچھ سختی سی محسوس ہوتی ہے خواہ عضو تناسل تناؤ کی حالت میں نہ ہو۔اِ س کیفیت میں جنسی ملاپ کے دوران درد ہوتا ہے اور آخر کار بانجھ پن پیدا ہوجاتا ہے۔
غیر متوقع بانجھ پن
تقریبأٔ 15فیصد صورتوں میں بانجھ پن کی تحقیق کے نتیجے میں کوئی نقائص ظاہر نہیں ہوتے۔ایسی صورتوں میں نقائص کی موجودگی کا اِمکان تو ہوتا ہے لیکن موجودہ دستیاب طریقوں سے اِن کا پتہ نہیں چلایا جاسکتا۔ممکنہ طور پر یہ مسائل ہوسکتے ہیں کہ بیضہ دانی سے،بارآوری کے لئے مناسب وقت پر انڈوں کا اخراج نہیں ہوتا ،یابیضہ نَل میں داخل نہیں ہوتا،مَرد کی منی کے جرثومے انڈے تک نہیں پہنچ پاتے ہوں، بارآوری نہ ہو سکتی ہو، بارآور ہوجانے والے انڈے کی منتقلی میں خلل واقع ہونا، یا بارآور انڈہ کسی وجہ سے بچّہ دانی کی دیوار کے ساتھ منسلک نہ ہو سکے۔انڈے کے معیار کو اب پہلے سے زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اوریہ کہ زیادہ عمر والی عورتوں کے انڈوں میں نارمل اور کامیاب بارآوری کی صلاحیت کم ہوتی ہے
چھلہ
غیر محفوظ جنسی ملاپ کے بعد غیر مطلوبہ حمل سے بچنے کے لئے، یہ گولی 72 گھنٹوں کے اندرلینے کے باوجودمتعلقہ عورتوں میں سے 1 سے 2 فیصد عورتیں حاملہ ہو جاتی ہیں۔
ایمرجنسی میں اِس آلے کو بچّہ دانی میں رکھنا نہایت مؤثر ہے۔ اگر غیر محفوظ جنسی ملاپ کے بعد 7 دِن کے اندر یہ آلہ استعمال کیا جائے تو 99.9 فیصد تک حمل روکنے میں مؤثر ہوتا ہے ۔
عورتوں کے درجِ ذیل عوامل /مسائل بانجھ پن کا سبب بن سکتے ہیں۔۔
ایک سال کے عرصے میں ، باقاعدگی سے ، کسی احتیاطی تدبیر کے بغیر جاری جنسی سرگرمیوں کے باوجود ،حمل قرار نہ پانے کویا حمل کو اس کی تکمیل تک جاری نہ رکھ سکنے کی حالت کو بانجھ پن کہتے ہیں ۔
عورتوں میں بارآوری کی بلند ترین شرح اُن کی عمر کی تیسری دہائی کے اوائل میں پائی جاتی ہے۔باقاعدگی سے جنسی سرگرمیاں کرنے والے صحت مند جوڑوں کے لئے، عمر کے اِس حِصّے میں،حاملہ ہونے /حاملہ کرنے کا ا ہر ماہ 25 سے30فیصد تک اِمکان ہوتا ہے۔ تیس سال ،خصوصأٔ پینتیس سال کے بعد عورتوں کے حاملہ ہونے کا اِمکان 10فیصدماہانہ سے کم رہ جاتا ہے۔
بانجھ پن کا سبب کیا ہے؟
بانجھ پن کا سبب عورت یا مَرد یا دونوں میں ہوسکتا ہے۔بعض صورتوں میں سبب کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔
عورتوں میں پائے جانے والے بعض اسباب ،جو بانجھ پن پیدا کرتے ہیں یا اِ س میں معاون ہوتے ہیں۔ یہ اسباب ذیل میں درج ہیں ،
* آپریشن یا انفکشن کے بعد نَلوں کا ضائع ہوجانا۔
* بچّہ دانی میں رسولیاں(یہ رسولیاں بچّہ دانی کی تہوں سے غیرحامل ٹیومر کی شکل میں پیدا ہوتی ہیں)۔
* پرولیکٹِن (Prolactin)نامی ہارمون کی زائد مقدار ہونا۔
* بیضے بننے کے عمل میں بے قاعدگیاں۔
* بچّہ دانی کے عضلات کا جسم کے کسی اور حِصّے میں بننا (Endometriosis)اور نتیجے کے طور پر درد اور بانجھ پن پیدا ہونا۔
* نِچلے پیٹ میں سُوجن کی بیماری (PID)۔
* چھاتیوں سے دُودھ کا رِسنا (Galactorrhea)۔
* ماہانہ اےّام کا نہ آنا (Amenorrhea)۔
* بچّہ دانی کے مُنہ میں ،منی کے جرثوموں کو روکنے والی رطوبت کا پیدا ہونا۔
* جنسی طور پر منتقل ہونے والے امراض مثلأٔ کلیمائیڈیا (Chlamydia)۔
* عورت کے اندر اپنے مَرد کی منی کے جرثوموں کی مخالف اینٹی باڈیز کا پیدا ہوجانا۔
حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ نفسیاتی مسائل، مثلأٔ جذباتی تعاون میں کمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تشویش سے ہارمونی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جن کے نتیجے میں عورت کی بارآوری کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
مَردانہ بانجھ پن اکثر اوقات منی کے جرثوموں کی تعدادمیںکمی ، یا جسمانی بناوٹ کی خرابی مثلأٔ منی لے جانے والی نالیوں کا غیر معمولی پھیلاؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اِس کے علاوہ دیگر اسباب میں منی کے جرثوموں کی حرکت (motility)،یا اِن جرثوموں کی بناوٹ کی خرابیاں شامل ہیں۔
بانجھ پن کو جانچنے لئے کون سے ٹیسٹ استعمال ہوتے ہیں؟
بانجھ پن کی تشخیص کے لئے جوڑوں کا معائنہ ،خصوصی طور پر ایک ساتھ ہی کیا جاتا ہے۔ڈاکٹرکی جانب سے ، جوڑے کی میڈیکل ہسٹری کو تفصیل سے نو ٹ کیا جاتا ہے اور اِس کے بعد معائنہ کیا جاتا ہے۔یہ بھی پوچھا جائے گا کہ کیا وہ طبّی نُسخے کے مطابق یا غیر قانونی ادویات،الکحل یا تمباکو وغیرہ کا ستعمال کرتے ہیں ۔نیز یہ کہ کیا خاندان میں بانجھ پن یا جینیاتی خرابیاں پائے جانے کی ہسٹری موجود ہے۔ خواتین سے اُن کی ماہواری شروع ہونے کے وقت پر عمر، اِس سلسلے میں پیش آنے والی کسی قِسم کی مشکلات اور ماہواری کی ہسٹری کے بارے میں سوالات کئے جا سکتے ہیں۔ یہ سوال بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا اُنہوں نے محسوس کیا ہے کہ اُن کی چھاتیوں سے دُودھ رِستا ہے۔
خواتین
خواتین کے جنسی اعضاء کا معائنہ کیا جائے گا،اور بچّہ دانی کے مُنہ کی رطوبتوں کا بھی معائنہ کیا جائے گا۔
پرولیکٹن (prolactin) کی سطح اور تھائیرائڈ کے عمل کو جانچنے کے لئے خون کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔اور بعض اوقات چند ہارمونز ،مثلأٔ پروجسٹرون (progesterone) اور ایسٹراڈائی اول(estradiol )وغیرہ کی سطح کو جانچنے کے لئے خون کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔
بعض صورتوں میں ،جنسی ملاپ کے بعد ایک ٹیسٹ کیا جاتا ہے جو بچّہ دانی کے مُنہ کی رطوبتوں کے ٹیسٹ کی طرح ہوتا ہے۔اِس ٹیسٹ کا مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کی کیا منی کے جرثومے ،بچّۃ دانی کے مُنہ کی رطوبتوں کے پار گزرسکتے ہیں یا نہیں۔
بعض اوقات ،بچّہ دانی کے اندر ممکنہ رسولیوں کا پتہ چلانے کے لئے ،نچلے پیٹ کا الٹراساؤنڈ کیا جاتا ہے۔
لیپارواسکوپی (laparoscopy)بھی کی جاسکتی ہے ۔ اِس طریقے میں پیٹ کے اندر ایک سوراخ کے ذریعے روشنی والا ایک کیمرہ داخل کیا جاتا ہے تاکہ نچلے پیٹ کے اعضاء کا معائنہ کیا جاسکے۔
بعض اوقات ، ہسٹیرواِسکوپی (hysteroscopy)بھی کی جاتی ہے ،اِس طریقے میں بچّہ دانی کے اندر ایک پتلی ٹیوب داخل کی جاتی ہے تا کہ اِس کا براہِ راست معائنہ کیا جاسکے۔
مَرد
مَردوں کی منی کا تجزیہ کرنا ہوگا ۔مَردوں کو جنسی ملاپ سے تین روز تک گریز کرنے کے بعد منی کا نمونہ فراہم کرنا ہوتا ہے۔
کروموسومز کی بناوٹ میں بے قاعدگی یا جینز کے نقائص کو جانچنے کے لئے خون کا جینیاتی ٹیسٹ کیا جاتا ہے،کیوں کہ یہ خرابیاں ہونے والے بچّے میں منتقل ہو سکتی ہیں۔
مَردانہ ہارمون ٹیسٹوس ٹیرون (testosterone)کی سطح کو جانچنے کے لئے بھی خون کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔
کون سے علاج دستیاب ہیں؟
بانجھ پن کے حوالے سے مختلف علاج دستیاب ہیں مثلأٔ قدرتی طریقہ یعنی جنسی ملاپ انڈے خارج ہونے دِنوں میں کیا جائے، بانجھ پن دُور کرنے کی ادویات، مَردانہ بانجھ پن کا علاج، اور تولیدی تکنیک میں معاونت مثلأٔ IVF،ICSI،GIFTوغیرہ۔ اِن طریقوں کے بارے میں آپ اپنے معالج سے تبادلہ خیال کر سکتے ہیں ۔
کیا متوازی علاج سے فائدہ ہوتا ہے؟
ایسی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں جو مَردوں اور عورتوں کے جنسی عمل کو بہتر بناسکتی ہیں۔اِن میں سے زیادہ ترجڑی بوٹیاں عام طور پر گولیوں کی شکل میں دستیاب ہوتی ہیں جو صحت بخش غذائیں فروخت کرنے والے بڑے اِسٹورز سے حاصل کی جاسکتی ہیں ،لیکن اِن کے استعمال سے پہلے جڑی بوٹیوں کے کسی مستند ماہر اور اپنے معالج سے مشورہ ضرور کر لینا چاہئے۔

تشویش بھی بانجھ پن کا سبب بن سکتی ہے ،لہٰذا اپنے روز مرّہ کے معمولات میں ذہنی دباؤ کی دیکھ بھال کے طریقے اختیار کیجئے۔
حمل سے پہلے کی احتیاط کی اہمیت
اگر آپ حاملہ ہونا چاہتی ہیں تو اِس کے لئے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے لیکن ہر صورت میں ،تمباکو نوشی اور معالج کی تجویز کردہ ادویات کے علاوہ ہر قِسم کی ادویات سے گریز کیا جائے۔صِرف ہلکی ورزش کیجئے ۔اپنی روزمَرّہ کی خوراک میں تازہ پھل اور سبزیاں کثرت سے شامل کیجئے ،کیوں کہ اِن میں فولک ایسڈ شامل ہوتا ہے جو نومولود بچّوں میں اعصابی ٹیوب کے نقائص سے بچنے میں مدد کرتا ہے۔اپنے جسم کے وزن کو مناسب حد میں قائم رکھئے، کیوں کہ زائد وزن یا کم وزن ہونے کی صورت میں بارآوری پہ متاثر ہو سکتی ہے

ہڈیوں کی کمزوری

ہڈیوں کی کمزوری

بڑی عمر کے لوگ خصوصاً خواتین کے لیے کیلشیم کا استعمال‘ ورزش اور احتیاط بہت ضروری ہے

انسان جب جوان ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ پائوں بخوبی کام کررہے ہوتے ہیں تو اسے خیال بھی نہیں آتا کہ وہ وقت بھی آئے گا جب اس کی کمر جھکنے لگے گی‘ توانائی ساتھ چھوڑ جائے گی اور ہڈیاں چٹخنے لگیں گی۔ بڑھاپے میں کمزور اور بوسیدہ ہڈیاں بھی جان کا عذاب بن جاتی ہیں‘ لیکن مختلف طریقوں سے ہم اپنی ہڈیوں کی مضبوطی کو قائم رکھ سکتے ہیں اور بوسیدہ ہڈیوں کی بیماری یعنی بوسیدگیِ استخواں (Osteoporosis) سے بچ سکتے ہیں۔ اگر جوانی ہی میں ہڈیوں کی مضبوطی کا خیال رکھا جائے اور ضروری احتیاط برتی جائے تو بڑھاپے میں اس کا پھل ملتا ہے۔

بوسیدگیِ استخواں میں ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں اور بہ آسانی ٹوٹ جاتی ہیں۔ جب اس مرض کی ابتدا ہوتی ہے تو اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی ہڈی کے ٹوٹنے پر اس بیماری کا پتا چلتا ہے۔ بوسیدہ ہڈیوں کے باعث زیادہ تر کلائی‘ کولھے اور ریڑھ کی ہڈی میں شکستگی ہوتی ہے۔ ریڑھ کے ستون میں جو معمولی شکستگی ہوتی ہے اس سے اس کی شکل بگڑنے لگتی ہیے اور کمر میں خمیدگی پیدا ہوجاتی ہے جو بوسیدگی استخواں کی نشانی ہے۔

ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ہماری ہڈیوں میں پچیس سال کی عمر تک نشوونما جاری رہتی ہے اور عمر کے تیسری دہائی کی ابتدا میں یہ ہڈیاں عمر کے دوسرے تمام ادوار کے مقابلے میں مضبوط ہوتی ہیں۔ اس وقت اگر ہڈیوں کا استحکام کو قائم رکھنے کی تدبیر کرلی جائے تو بڑی عمر میں یہ استحکام کم ہوجانے کے باوجود بوسیدگی استخواں کی نوبت نہیں آتی۔

آیئے اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ہڈیوں کو مضبوط بنانے اور بوسیدگی استخواں کا راستہ روکنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین اس سلسلے میں ہدایات دیتے ہیں:

١۔ مچھلی کھایئے اور دودھ پیجیئے۔ ان دونوں چیزوں میں کیلشیئم ہوتا ہے جو ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ چکنائی نکلا یا کم چکنائی والا دودھ استعمال کیجئے۔ اس میں چکنائی سے بچت ہے‘ لیکن کیلشیم کی مقدار اس میں اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ بالائی والے دودھ میں۔ مچھلی میں روغنی مچھلی کا انتخاب کیجئے‘ کیوں کہ اس میں پایا جانے والا کیلشیم جسم میں بہتر طرح سے جذب ہوتا ہے۔ کیلشیم کے حصول کا ایک اچھا ذریعہ ہرے پتوں والی سبزیاں بھی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ٠٢ سے ٥٤ سال کی عورتوں کو روزانہ ٠٠٨ گرام کیلشیم کھانا چاہیے۔ اس مقدار کا ایک تہائی کیلشیم ناشتے کے دلیے اور آدھی بالائی والے دودھ اور دو توس سے حاصل ہوجاتا ہے۔

٢۔ اگر غذا سے کیلشیم کی مطلوبہ مقدار حاصل نہ ہوسکے تو اسے گولیوں یا دیگر مصنوعات سے پورا کیجیے‘ لیکن یہ خیال رکھیے کہ دن بھر میں یہ مقدار دو ہزار ملی گرام سے نہ بڑھے۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ میگ نیزئیم بھی ہڈیوں کے لیے مفید بلکہ ضروری ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن ڈی اور جست بھی اہم ہے۔

٣۔ وٹامن ڈی دھوپ سے بھی حاصل ہوتی ہے۔ اسے حاصل کرنے کے دیگر ذرائع روغنی مچھلی‘ انڈا اور مارجرین ہیں۔ انہیں اپنی غذا میں مناسب طریقے سے شامل کیجیے۔

٤۔ ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے ورزش بھی اہم ہے۔ ٹینس‘ اسکواش‘ باسکٹ بال اور تیز دوڑ سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔ وزن اٹھانے سے ہڈیوں پر بوجھ پڑتا ہے جو اچھا اثر ڈالتا ہے۔ ہفتے میں تین چار بار آدھے آدھے گھنٹے ورزش کیجیے۔

٥۔ تمباکو نوشی ترک کردیجیے۔ عورتوں میں تمباکو نوشی اکثر جلد سن یاس کا باعث بن سکتی ہے جس کی وجہ سے بوسیدگیِ استخواں کا خطرہ ان کے لیے بڑھ جاتا ہے۔

٦۔ شراب نوشی سے بھی ہڈیاں کم زور ہوجاتی ہیں۔

٧۔ نمک اور کیفین کا استعمال کم کیجیے۔ ہمارا جسم کیلشیم کی جو مقدار جذب کرتا ہے یہ دونوں اشیاءاس پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔

٨۔ بہت زیادہ دبلا ہونے کی کوشش نہ کیجیے۔ سویڈن کے ایک اسپتال میں ایک تحقیقی مطالعے سے پتا چلا ہے کہ سن بلوغ کو پہنچنے کے بعد وزن کم کرنے اور دبلا ہونے کی جو کوشش کی جاتی ہے اس کا نتیجہ اکثر بوسیدگیِ استخواں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ دبلی عورتوں کے لیے کولھے کی شکستگی کا خطرہ ان عورتوں کی بہ نسبت زیادہ پایا گیا جنہوں نے اٹھارہ سال کی عمر کے بعد ڈیڑھ اسٹون یا اس سے کچھ زیادہ وزن بڑھایا تھا۔ نسبتاً دبیز جسم والی عورتوں میں ایسٹروجن ہارمون کی سطح زیادہ ہوتی ہے اور عضلات بڑے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہڈی کا ٹھوس پن ہے لہٰذا وزن کم کرنے کے چکر میں غذا کی مقدار میں غیر ضروری کمی نہیں کرنی چاہیے۔

سن یاس کے بعد بوسیدگیِ استخواں کا خطرہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ سن یاس سے قبل بیضہ دانی میں پیدا ہونے والا ایسٹروجن ہارمون ہڈیوں کی نشوونما کے لیے بہت اہم ہے۔ جب اس کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے تو اچانک ہڈیوں کی دبازت میں کمی آسکتی ہے۔ یہ امکان ان عورتوں میں بڑھ جاتا ہے جو جلد سن یاس کو پہنچ گئیں یا جنہوں نے رحم براری کرالی ہے۔ ان عورتوں کے لیے بھی بوسیدگیِ استخواں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جنہیں بے اشتہائی یا بہت ورزش کے باعث چھے ماہ یا اس سے بھی زیادہ دن تک ماہواری نہیں ہوتی۔

بوسیدگیِ استخواں میں موروثی اثرات کا بھی دخل ہوسکتا ہے۔ چنانچہ جن عورتوں کی ہڈیاں چھوٹی اور کم گنجان ہوتی ہیں یا جن کے خاندان میں یہ بیماری چلی آرہی ہو ان کے لیے اس کا خطرہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات ہڈیوں کی صحت پر کچھ دوائیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر جو لوگ دمہ‘ الرجی یا جوڑوں کی تکلیف کے لیے بہت زیادہ مقدار میں کورٹی کو سٹیرائڈز (Corticosteroids)استعمال کرتے ہیں ان کے لیے بوسیدگیِ استخواں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بوسیدگی استخواں سے محفوظ رہنے میں ہمارے طرزِ زندگی کو بھی بڑا دخل ہے۔ بہرحال زندگی میں اعتدال قائم رکھ کر ہم اس بیماری سے بچ سکتے ہیں۔

علاج: بوسیدہ ہڈیوں اور جسمانی کمزوری کے لئے عام طور پر ہم جو میڈیکیٹڈ کیلشیم استعمال کرتے ہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اس کا زیادہ تر حصہ بذریعہ پیشاب خارج ہوجاتا ہے اور اس کا بیشتر حصہ گردوں میں جاکر پتھری کا باعث بنتا ہے۔ میں ذاتی طور پر دوسری کمپنیوں سے سستے اور زیادہ مؤثر غذائی مرکب کا قائل ہوں۔ اس کا نام Spirolina ہے۔ اور اسے ایک انٹرنیشنل کمپنی نے تیار کیا ہے اس کی تیار کردہ سپائرولینا میں کیلشیم کے علاوہ بہت سے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو جسم کی بہت سی ضروریات کو پورا کردیتے ہیں۔ اللہ آپ کو شفا سے ہمکنار کرے۔