Tuesday, 18 March 2014

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی ؟

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی ؟
— نیند نہ آنے کی شکایت کو رات میں تارے گننے سے تشبہیہ دی جاتی جو عام طور پرمحبوب کی یاد میں گننے جاتے ہے۔ لیکن طبی ماہرین رات میں تارے گننے کی سائنسی توجہیہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دور حاضر میں اس مرض کےعام ہونےکی سب سے بڑی وجہ الیکٹریکل لائٹس ( مصنوعی روشنی) خصوصاً اسکرین لائٹس کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
نیند کی دواؤں کے ایک ماہر پروفیسر ‘چارلس زیسلر’ کہتے ہیں کہ برقی بلب اور الیکٹریکل مصنوعات مثلاً ٹیلی وژن ،کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونزکی اسکرین سے خارج ہونے والی مصنوعی روشنیاں دراصل ہماری نیند کی خرابی کی ایک بڑی وجہ ہیں ۔
‘ہارورڈ میڈیکل اسکول’ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر زیسلرکا کہنا ہے کہ انسانی جسم کی قدرتی گھڑی Circadian Rhythm اسے دن کے آغاز پر جگاتی ہے اور رات کا اندھیرا پھیلنے پرنیند کی طرف راغب کرتی ہے لیکن، مصنوعی روشنیاں انسانی دماغ میں موجود اس قدرتی گھڑی کےتوازن کو بگاڑ دیتی ہیں جس سے ہمارے سونے اورجاگنےکا قدرتی عمل متاثر ہوتا ہے۔
‘جرنل نیچرل ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کا مقصد مصنوعی روشنی کے استعمال سے لوگوں کے سونے کی عادت پر پڑنے والے مضراثرات سےبچاؤ کے لیئے انسانی رویےمیں تبدیلی لانا اور تکنیکی طریقوں کی مدد سے اس کا حل تلاش کرنا تھا ۔
پروفیسر زیسلرکا کہنا ہے کہ، وہ لوگ جو ہر روز رات میں نیند پوری نہیں کرتے ہیں ،ان میں فربہ ہونا، یاسیت، اسٹروک اور دل کے امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جبکہ نیند کی کمی بچوں میں توجہ میں کمی کے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے ۔
انھوں نے بتایا کہ مصنوعی روشنیاں انسانی دماغ میں نیند کے لیے بننے والے ہارمون Melatonin)) کے اخراج میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں جو انسانی جسم کو سونے میں مدد فراہم کرتا ہے تو دوسری طرف اعصابی خلیہ Neurons)) (پیغام رسانی کا خلیہ )کو فعال بنا دیتی ہے جس سے جسم مزید چوکنا ہو جاتا ہے اور اس طرح یہ مصنوعی روشنیاں دماغ کو بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں کہ ابھی دن کا سماں ہے لہذا سونے کے عمل کو مزید ٹالا جا سکتا ہے ۔
وہ لکھتے ہیں کہ ، برقی بلب کی روشنی سے کہیں زیادہ کمپیوٹر اوراسمارٹ فونز کی ‘ایل ای ڈی ‘ لائٹس سونے کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہیں ،جو دماغ میں موجود کمیکلز پرکیفین کی طرح اثرکرتی ہیں اور رات دیرتک جاگنے پر اکساتی ہیں۔
” لوگوں کی نیند پوری نہ ہونے کے پیچھےکئی عوامل کار فرما ہیں جن میں صبح سویرے کام پر جانا، ثقیل غذائیں، مشروبات اور کیفین لینے کی عادت شامل ہے لیکن ہم اکثر جاگنےکی سب سے بڑی وجہ الیکٹریکل لائٹس کو بالکل نظر اندازکر دیتے ہیں جو جسم کی قدرتی گھڑی کو کسی دوا سے بھی زیادہ متاثر کرتی ہیں ۔”
پروفیسر زیسلر کے مطابق، 1950 سے 2000 کے عرصے میں ایک عام برطانوی باشندے کی زندگی میں مصنوعی روشنیوں کا استعمال چار گنا زیادہ بڑھ گیا ہے ،جس کےساتھ نیند نہ آنے کے مرض کی شکایت بھی عام ہوگئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ، ماڈرن دورمیں لوگوں کی مصروفیات کا سلسلہ دن کے بعد رات میں بھی جاری رہتا ہےبہت سے لوگوں کو رات میں کئی بار ای میل چیک کرنے کی عادت ہوتی ہے تو کچھ لوگ رات میں ٹی وی پروگرام دیکھنا پسند کرتے ہیں اور اس دوران انھیں آدھی رات بیت جانے کا احساس تک نہیں ہوتا ہے ۔
ایک امریکی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 30 فیصد کام کرنے والے امریکی اور 44 فیصد رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد اوسطاً 6 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں جبکہ پچاس برس قبل صرف 3 فیصد امریکیوں میں یہ شکایت پائی جاتی تھی اسی طرح دنیا بھرکے بچوں میں بھی 1 یا 2 گھنٹے نیند کم لینے کا رجحان نظر آتا ہے ۔
وہ کہتے ہیں کہ ” ٹیکنالوجی نے ہمارے دن کے 24 گھنٹوں میں سونے اور جاگنے کے معاملات کو بدل کر رکھ دیا ہے رات میں دیر سے بیڈ پر جانا اورصبح سویرے اٹھتے ہی خود کو جگائے رکھنے کے لیے چائے اور کافی پینے کی عادت سے ہماری نیند کا دورانیہ مزید سکڑتا جا رہا ہے۔”

Monday, 17 March 2014

پڑھائی میں بہترین نتائج کے لیے ورزش ضروری ہے: تحقیق


پڑھائی میں بہترین نتائج کے لیے ورزش ضروری ہے: تحقیق

— طلبہ کے لیے صرف کتابوں میں سر دینا ضروری نہیں ہے بلکہ ایک نئی تحقیق کے مطابق وہ طلبہ جو باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، پڑھائی میں اپنے دیگر ہم عصر طالبعلموں کی نسبت کلاس روم میں ذہنی طور پر زیادہ چاق و چوبند اور مستعد رہتے ہیں۔

انگلستان کی دو یونیورسٹیوں میں ہونے والی اس تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جتنی دباؤ والی ورزش کی جائیگی، اس کے نتائج اتنے ہی بہتر ثابت ہوں گے اور سخت ورزش کرنے والے طالبعلم انگریزی، ریاضی اور سائنس جیسے مضامین میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

اس تحقیق کے لیے 5,000 بچوں پر مشتمل ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ ان بچوں کی جسمانی سرگرمیوں کو مانیٹر کیا گیا اور پھر انہیں انگریزی، ریاضی اور سائنس پر مشتمل ٹیسٹ کرنے کو دئیے گئے۔

تحقیق دانوں کے مطابق ایک بچے کی تعلیمی کارکردگی میں بہت سے دیگر عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں جیسا کہ پیدائش کے وقت اس کا وزن، پیدائش کے وقت بچے کی ماں کی عمر، آیا ماں نے دوران ِ حمل سگریٹ نوشی کی یا نہیں، کیا بچہ بلوغت کو پہنچ گیا ہے، بچے کا وزن وغیرہ وغیرہ۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ 11 سال کی عمر میں طالبعلموں کی سکول میں کارکردگی کا براہ ِ راست تعلق اس جسمانی ورزش کی روٹین سے تھا۔ بطور ِ خاص جو طالبات ورزش کرتی تھیں، ان میں سائنسی مضامین میں اچھے نمبر لینے کا رجحان نوٹ کیا گیا۔

ناشتہ کریں اور دل کے دورے سے بچیں

ناشتہ کریں اور دل کے دورے سے بچیں
ہم اپنے بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ صحت مند رہنے کے لیے صبح کا ناشتہ بہت ضروری ہے۔ لیکن، نئی تحقیق میں ناشتے کی افادیت کی ایک اہم وجہ بتائی گئی ہےکہ ناشتہ ہمارے دل کی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے صبح کا ناشتہ چھوڑنے کی عادت رکھنے والے مردوں میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
‘ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ ‘ کے ماہرین کہتے ہیں کہ ‘سولہ برس’ پر مبنی ایک مطالعاتی مشاہدے کا نتیجہ بتاتا ہے کہ جن مردوں کو باقاعدگی سےصبح کا ناشتہ کرنے کی عادت نہیں تھی ان میں دل کے دورہ پڑنے کا خطرہ 27 گنا زیادہ پایا گیا نسبتا ان مردوں کے جو پابندی سے صبح کا ناشتہ کرنے کی عادت رکھتے تھے۔
ماہرین کی رائے میں صبح کا ناشتہ چھوڑنا اور رات میں دیر سے کھانا کھانا ہمارے جسم کے میٹا بولزم میں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جس سے کورونری ہارٹ کی بیماری کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
طبی رسالے’سرکولیشن’ میں شائع ہونے والی تحقیق میں 45 برس سے 82 برس کے 27 ہزار مردوں کو شامل کیا گیا اور ان کےدن بھرمیں کھانے پینے کے معمولات اور لائف اسٹائل سے متعلق معلومات کا ریکارڈ تیار کیا گیا ۔
ماہرین کے مطابق ، مشاہدے کے دوران 15,72 مردوں کو دل کا دورہ پڑا اور دل کے رکنے کے واقعات پیش آئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتہ چھوڑنے سے دل کے دورے کا خطرہ 27 گنا بڑھ جاتا ہے لیکن خطرے کی اس شرح میں لوگوں کی صحت پر اثرا نداز ہونے والے دیگر عوامل مثلا سگریٹ نوشی، ورزش اور صحت کے مسائل کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔
اسی طرح، جو لوگ رات میں دیر سے کھانا کھانے کی عادت رکھتے تھے ان میں دل کی شریانوں کی بیماری کا خطرہ 55 گنا زیادہ پایا گیا ان لوگوں کے مقابلے میں جو یہ عادت نہیں رکھتے تھے۔
تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ ناشتہ چھوڑنے سے دن میں شدید بھوک لگتی ہے اور عام طور پر ایسی حالت میں خوراک کی زیادہ مقدار کھالی جاتی ہے جس سے جسم پر اضافی دباؤ پڑتا ہے جو ہارمون کی سطح اور خون میں موجود گلوکوز کی سطح پر اثر انداز ہوتا ہے اور یہی وجہ آگے چل کردل کی رگوں کوبند کرنے کا سبب بنتی ہے۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ناشتہ چھوڑنے والے زیادہ تر افراد غیر شادی شدہ اور سگریٹ نوشی کرنے کی عادت رکھتے تھے اور ان مردوں سے نسبتا کم عمر تھے جو پابندی سے ناشتہ کرنے کی عادت رکھتے تھے۔
تحقیق کی سربراہ’ لیا کیحل ‘کا کہنا تھا کہ ،” ناشتہ چھوڑنا بلند فشار خون، ہائی کولیسٹرول ،فربہ ہونا اور ذیا بیطس جیسی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے اور یہ عوامل آگے چل کر دل کی بیماری میں مبتلا کر سکتے ہیں۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ ،تحقیق میں پابندی سےصبح کا ناشتہ کرنے والے مردوں میں دن بھر میں ایک اضافی کھانا کھانے کی عادت نظر آئی نسبتاً ان لوگوں کے جو صبح کا ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں جبکہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے وہ دن بھر کے کھانوں سے بھی ناشتے جیسی غذائیت حاصل نہیں کر پاتے ہیں۔
ہارورڈ اسکول کی پروفیسر، ایرک ریم کے مطابق، ‘مشاہدے کا نتیجہ یہ تجویز پیش کرتا ہے کہ صحت کے حوالے سے یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ کیا کھایا جائے لیکن یہ بھی بہت ضروری ہے کہ خوراک کو دن بھرکے مختلف اوقات میں تقسیم کر کے کھایا جائے۔’
‘برطانوی ہارٹ فاونڈیشن’ سے منسلک وکٹوریہ ٹیلر نے تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ،’صبح سویرے ناشتہ چھوڑنا بہت آسان ہے لیکن تحقیق کا نتیجہ ثابت کرتا ہے کہ اس عادت کا ہماری صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے، جس کے بارے میں ہمیں سوچنا چاہیے۔’
تحقیق کی سربراہ لیا کیحل کہتی ہیں کہ پیغام بہت سادہ ہے کہ،’ناشتہ نہ چھوڑا جائے کیونکہ ناشتہ کھانے سے دل کے دورے کا خطرے کم ہو جاتا ہے’۔

Sunday, 16 March 2014

دانتوں کے امراض وجوہات

دانتوں کے امراض وجوہات
دانتوں کے امراض کا سبب منہ ميں موجود ايسے بيکٹريا ہوتے ہيں جو دانتوں ميں بچ جانے والي خوراک کے ذرات سے ايسڈز (تيزاب) پيدا کرتے ہيں۔ خاص طور پر منہ ميں موجود شکر کے ذرات سے ان کي پيدائش بہت زيادہ ہوتي ہے۔ يہ ايسڈ براہِ راست دانتوں پر حملہ کرتے ہيں۔ جس سے دانتوں کي وہ مخصوص دھات جس سے دانت بنتے ہيں، کمزور پڑنے لگتي ہے۔ اس عمل کو (DEMINERALISATION) کہتے ہيں۔ اس صورتحال ميں منہ ميں موجود لعاب اور فلورائيڈ ايسڈز جو دانتوں کي حفاظت کا کام کرتے ہيں الٹے دانتوں کے دشمن بن جاتے ہيں اور يوں دانتوں کي تباہي کا آغاز ہوجاتا ہے۔
دنيا کے ماہرينِ دندان اس بات پر متفق ہيں کہ فلورائيڈ ٹوتھ پيسٹ کے استعمال سے 15 سے 30 فيصد تک دانتوں کے امراض ميں کمي آتي ہے اور بہت ممکن ہے کہ يہ تناسب اس سے بھي زيادہ ہو۔ بالغوں ميں 95 فيصد افراد ايسے ہيں جو مسوڑھوں کي خرابي کے شکار ہيں ليکن صرف 10 فيصد ايسے ہيں جنہيں سنجيدہ نوعيت کے امراض کا سامنا ہے۔ مسوڑھوں کي خرابي يا بيماري کے دوران مسوڑھے سوج جاتے ہيں اور دانتوں کو برش کرتے وقت ان سے خون آتا ہے۔ اس مرض کو طبّي زبان ميں (GAINGIVTIS) کہا جاتا ہے۔ اس بيماري کي ايڈوانس شکل يہ ہے کہ يہ دانتوں کي ہڈي ريشے اور جڑوں پر حملہ کرتي ہے۔
ماہرين کے مطابق لعاب يا تھوک منہ ميں موجود قدرتي دفاعي نظام ہے جو دانتوں کو مختلف امراض سے روکتا ہے۔ يہ دانتوں پر (PALQUE) جمنے نہيں ديتا بلکہ دانتوں کے لئے غسل کا کام ديتا ہے اور غذا کوہضم کرنے ميں بھي نہايت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اور مزيد يہ کہ منہ ميں بچ جانے والي شکر کي صفائي بھي کرتا ہے۔ پھل، سبزياں، پنير اور شکر سے پاک چيونگم کے استعمال سے لعاب کے فائدہ مند اثرات مزيد بڑھ جاتے ہيں۔
مسوڑھوں کي سوزش کيا ہے
مسوڑھوں کي خرابي يا سوزش جيسے مرض کي علامات بہت چھپي ہوئي ہوتي ہيں۔ اسي لئے اس کا اندازہ لگانا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ کيونکہ ابتدائ ميں مسوڑھوں کي ظاہري حالت ميں کوئي فرق نہيں آتا ليکن اس دوران بيکٹريا مسوڑھوں کي اندروني بافتوں يا ٹشوز کو تباہ کرنا شروع کرچکا ہوتا ہے مگر يہ نظر نہيں آتا چنانچہ کيسے اندازہ لگايا جائے کہ آپ اس کا شکار ہوچکے ہيں۔ آئيے ہم آپ کي اس ضمن ميں ممکنہ حد تک رہنمائي کرتے ہيں۔
اگر آپ کے مسوڑھے مرض ميں مبتلا ہوچکے ہيں تو برش يا فلاز (FLOSS) کرتے وقت ہوشيار رہيں۔ آپ کے مسوڑھوں کے نيچے کوئي مرض پروان چڑھ رہا ہے جو آہستہ آہستہ تمام مسوڑھوں کو اپني گرفت ميں لے سکتا ہے۔ چنانچہ اس سے پہلے کہ ايسي نوبت آئے آپ ڈاکٹر سے رجوع کريں۔
مسوڑھوں کے مرض کي دوسري قسم زيادہ نماياں ہے۔ بيکٹريا مسوڑھوں کے ريشوں کے انتہائي اندر تک چلا جاتا ہے اور جسم کے دفاعي نظام کو کمزور کر ديتا ہے۔ اس وقت تک کبھي مريض کو کوئي سخت قسم کا دردمحسوس نہيں ہوتا۔ اکثر لوگ اس صورتِ حال کا شکار ہونے کے باوجود اندازہ نہيں کر پاتے کہ ان کے مسوڑھے تباہي کي جانب گام زن ہيں۔ اس دوران دانتوں کے درميان ريشے سوجے ہوئے محسوس ہوتے ہيں اور مسوڑھوں کا نچلا حصہ ہلکا سياہ پڑ جاتا ہے اور بہت ممکن ہے کہ جب برش کيا جائے تو خون پہلے کي نسبت زيادہ آنے لگے۔ يہاں تک کہ بہتر سے بہتر دانتوں کي کريم اور پيسٹ کے استعمال سے بھي خون کي زيادتي ميں کوئي فرق نہيں آتا۔
بيماري کي تيسرے مرحلے پر مسوڑھوں کي سوجن اور ان کي سرخ رنگت زيادہ واضح ہوکر سامنے آجاتي ہے۔ ہر شخص آساني سے اندازہ لگاسکتا ہے کہ وہ مسوڑھوں کي خرابي سے دوچار ہے۔ نہ صرف وہ خود بلکہ گفتگو کے دوران متعلقہ شخص کے منہ سے ناگوار بو بھي محسوس کي جاسکتي ہے۔ اس سطح پر اگر علاج نہ کرايا جائے تو دانتوں کے مکمل ضائع ہوجانے کا احتمال بڑھ جاتا ہے کيونکہ اس دوران بيکٹريا مکمل طور پر مسوڑھوں کے اندر اور باہر پھيل چکا ہوتا ہے اور ايسے ايسڈز انتہائي تيز رفتاري سے پيدا کر رہا ہوتا ہے جو دانتوں کو مکمل طور پر تباہ کرديں۔
مناسب احتياط
يہ سچ ہے کہ اکثر بيکٹريا مسوڑھوں کے نيچے پرورش پاتے ہيں اور اکثر اوقات مہنگے سے مہنگے پيسٹ کي بھي پہنچ سے دور رہتے ہيں اور ان کي غذا کا بڑا ذريعہ دانتوں ميں پھنسي ہوئي خوراک ہوتي ہے۔
يہ بيکٹريا ايسے مادے خارج کرتے ہيں جو مسوڑھوں کے نرم ريشوں کو تباہ کر کے رکھ ديتے ہيں۔ اس کے علاوہ يہ مسوڑھوں کے اندروني ريشوں کو بھي شديد نقصان پہنچاتے ہيں۔ مسوڑھوں کے اندروني ريشے بھي بيروني ريشوں کي طرح نرم ہوتے ہيں اور بيکٹريا سے خارج ہونے والے خطرناک کيميکل سے خود کو بچانے ميں ناکام رہتے ہيں۔ بيکٹريا مسوڑھوں اور دانتوں ميں موجود درزوں کو جائے پناہ بناتے ہيں اور يہ ان کي سب سے محفوظ پناہ گاہ ہوتي ہے۔ ان ميں سے بعض بيکٹريا کي افزائش نسل اس قدر تيزي سے ہوتي ہے کہ وہ چند گھنٹوں ميں لاکھوں کي تعداد تک پہنچ جاتے ہيں۔
ہارمونل تبديل (HORMONAL CHANGE) ايسے افراد جو وبائي يا دائمي امراض کا شکار ہوں جيسے ايڈز، ذيابيطس وغيرہ ان ميں بيکٹريا کے بڑھنے کي رفتار عام لوگوں سے کہيں زيادہ ہوتي ہے جس سے ان کے مسوڑھے جلد خراب ہوجاتے ہيں۔ چند خواتين ميں حمل کے دوران يا دورانِ حيض بھي ہارمونز کي تبديلي مسوڑھوں کي سوزش اور ان کي رنگت گہري سرخ ہوجاتي ہے۔ تاہم عام طور پر اس دوران عام احتياط سے ہي مسئلہ حل ہوجاتا ہے ليکن بدستور غفلت سنگين مسائل سے دوچار کرسکتي ہے۔
دانتوں کے ماہرين کي رائے ميں اگر دانتوں پر پليک (PLAQUE) مسوڑھوں کي بيماري پيدا کرنے والے مکلس جرثومے اور (TARTAR) کيلشيم فاسفيٹ پر مبني زردي مضبوطي سے جم گئي ہو اور وہ کسي پيسٹ سے دور نہ ہوتي ہو تو ڈينٹسٹ کے پاس جانا ضروري ہوجاتا ہے۔
اگر بچہ دانت کے درد کي شکايت کرتا ہے تو اسے فوراً ماہر کے پاس لے جائيں۔ جو بچہ انگوٹھا چوستا ہو اسے اس عادت سے بہرطور نجات دلائيں۔ داتوں ميں اگر کوئي خلا پيدا ہوجائے تو کسي ماہر سے فوراً پُر کرائيں اور اسے بڑھنے نہ ديں۔
آرتھوڈونٹسٹ اور ڈينٹسٹ سے آپ کا رابطہ رہنا چاہيے۔ وقتاً فوقتاً دانتوں کا چيک اپ کراتے رہيں۔ ہميں يقين ہے کہ ہماري بتائي ہوئي تجاويز پر عمل کر کے نہ صرف آپ دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل سے ہميشہ دور رہ سکتے ہيں ان کے باعث لاحق ہونے والے ديگر امراض سے بھي محفوظ رہيں گے بلکہ زندگي ميں زيادہ اعتماد اور باوقار دکھائي ديں گے۔

Friday, 14 March 2014

خون عطیہ کرنے کے بعد جسم میں خون کی بحالی کیسے ممکن بنائیں؟


خون عطیہ کرنے کے بعد جسم میں خون کی بحالی کیسے ممکن بنائیں؟

ہر سال ہزاروں نیک دل لوگ خون کا عطیہ دے کر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ خیرات کے دیگر کاموں کے برعکس خون عطیہ کرنا ایسے ہے جیسے خود کا ایک حصہ دے کر کسی کی جان بچانا۔ بلکہ خون عطیہ کرنا ، اپنا گردہ عطیہ کرنے سے زیادہ اہم اور مشکل کام ہے۔ خون عطیہ کرنے کے بعد جسم کو خون کی مقدار بحال کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ پلازما لیول تو ۲۴ گھنٹے تک بحال ہو جاتا ہے تاہم خون کے سرخ ذرات کو بحال ہونے میں پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں، علاوہ ازیں خون میں آئرن کی مقدار بحال ہونے کے لیے آٹھ ہفتے تک لگ سکتے ہیں۔ نیچے چند اہم تجاویز دی گئیں ہیں جو خون عطیہ کرنے کےبعد جسمانی نظام کی بحالی میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔

ایک
خون عطیہ کرنے سے ایک گھنٹہ قبل ایک سے دو گلاس پانی پی لیں۔ ایسا کرنے سے عطیہ کرنے کے دوران خون کے بہاو اور دباو کو متعدل درجہ پر رکھنا ممکن ہو تا ہے۔

دو
خون عطیہ کرنے کے بعد اسی دن میں مشروبات کے استعمال میں اضافہ کر دیں۔ غیر مسلم الکوحل والے مشروبات سے پرہیز کریں۔ اس سلسلے میں پیشاب کا رنگ ایک بنیادی پیمانہ رکھا جا سکتا ہے۔ اگر اس کا رنگ گہرا ہو تو اس کا مطلب ہے جسم میں پانی کی مزید ضرورت ہے۔

تین
خون عطیہ کرنے کے چند گھنٹے بعد مکمل کھانا کھائیں۔ کھانے میں موجود صحت بخش اجزاء جسم کو پلازما مقدار بڑھانے اور خون میں آئرن کی مقدار بڑھانے میں مدد کریں گے ۔

چار
خون عطیہ کرنے کے بعدکئی ہفتوں تک آئرن سے بھرپور غذا کا استعمال کریں۔ جیسے گوشت، گہرے سبز رنگ کے پتوں والی سبزیاں اور خشک میوہ جات اور خالص گندم۔ پروٹین سے بھرپور غذا بھی جسم کی بحالی میں بہت مفید ہے۔

پانچ
خون عطیہ کرنے کے بعد دو دن تک بھاری وزن اٹھانے سے گریز کریں۔ اور ذرا سی تھکن کی صورت میں فوری آرام کریں۔ انسانی جسم زیادہ تر پیداوری کام نیند کے دوران کرتا ہے، چنانچہ نیند کے معاملے میں لاپرواہی نہ کریں۔

بیٹے کی خواہش مند خواتین

بیٹے کی خواہش مند خواتین

اگر آپ بیٹے کی پیدائش کی خواہش مند ہیں تو کیلے اور آلو کو غذا کا حصہ بنائیں اور اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے ہاں بیٹی پیدا ہو تو پھر سبزیوں کواپنی غذا کا حصہ بنائیں۔ ڈچ سائنس دانوں کی تحقیق کے مطانق سبزیاں کھانے سے بیٹی پیدا ہو تی ہے ۔عورتوں کا سبزیاں کھانا لڑکیوں کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے۔سائنس دانوں کا دعوٰی ہے کہ سبز سبزیوں میں کیلشیم اور میگنشیم کی بہت زیادہ مقدار سے لڑکی کی پیدائش کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔بیٹے کی خواہش مند خواتین کو پوٹاشیم اور سوڈیم سے بھرپور غذائیں کھانی چاہییں اور اس میں کیلا اور آلو کو غذا کا حصہ بنانا چاہیے۔غذا کا انتخاب بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے۔یہ تحقیق برطانوی جریدے ’ری پروڈکٹو بائیو میڈیسن‘ میں شائع کی گئی۔

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کیا ہیں؟


اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کیا ہیں؟
بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
یہ ادویات ڈپریشن کی علامات کودور کرتی ہیں۔یہ سب سے پہلےبیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں دریافت کی گئ تھیں اور تب سے مسلسل زیر استعمال ہیں۔آجکل تقریباً تیس کے قریب ادویات مو جود ہیں جو چار بڑی اقسام میں تقسیم کی گئ ہیں.
۱۔ ٹرائی سائکلک اینٹی ڈپریسنٹس
۲۔ مونوامیں آ کسیڈیز انہبٹرز
۳۔ سیلیکٹو سیروٹونن ری اپٹیک انہبٹرز
۴۔ سیروٹونن نارایڈرینلین ری اپٹیک انہبٹرز
یہ ادویات کس طرح کام کر تی ہیں؟
ہم یقینی طور پر تو نہیں جانتے لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ ادویات دماغ میں موجود بعض کیمیکلز کی کارکردگی کو بڑھاتی ہیں جنہیں نیورو ٹرانسمیٹرز کہتے ہیں۔ نیورو ٹرانسمیٹرز دماغ کے ایک خلیے سے دوسرے خلیے تک سگنل پہنچاتے ہیں۔ عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ دو کیمیکلز نارایڈرینلین اور سیروٹونین کا ڈپریشن سے گہرا تعلق ہے۔
اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کن بیماریوں میں استعمال کی جانی چاہیئیں؟
درمیانے درجے سے شدید درجے کا ڈپریشن
شدید گھبراہٹ اور گھبراہٹ کے دورے (اینگزائٹی اور پیَنک اٹیک)
وہم کی بیماری (آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر)
طویل عرصےرہنے والے درد
ایٹنگ ڈس آرڈرز (وہ بیماریاں جن میں مریض بہت کم یا بہت زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں)
پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر ( شدید صدمےکے بعد پیدا ہونے والی نفسیاتی بیماری)
اگر آپ کو واضح نہ ہو کہ آپ کو اینٹی ڈپریسنٹ دوا کیوں تجویز کی گئی ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کیجیے۔
یہ ادویات کس حد تک کار آمد ہیں؟
تین مہینے کے علاج کے بعد ڈپریشن کے جن مریضوں کو؛
اینٹی ڈپریسنٹ دوا دی جائے ان میں سے پچاس سے پینسٹھ فیصد تک لوگ بہت بہتر ہو جاتے ہیں
اسی رنگ کی لیکن اینٹی ڈپریسنٹ اثر نہ رکھنے والی گولی دی جائے ان میں سے پچیس سے تیس
فیصد تک لوگ بہت بہتر ہوتے ہیں
یہ حیران کن بات لگتی ہے کہ جن لوگوں کو بے اثر دوا دی جائے ان میں سے بھی کچھ لوگ بہتر ہو جاتے ہیں لیکن ایسا ان تمام ادویات کے ساتھ ہوتا ہے جو ہمارے جذبات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔درد کم کرنے والی ادویات کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔اینٹی ڈپریسنٹ ادویات فائدہ مند تو ہیں لیکن اور بہت ساری ادویات کی طرح ان سے کچھ فائدہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم ان سے فائدے کی امید رکھتے ہیں۔
کیا اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے مضر اثرات ہوتے ہیں؟
جی ہاں۔ آپ کے ڈاکٹر کو اس بارے میں آپ کو معلومات دینی چاہیئیں۔ اگر آپ کو کوئی جسمانی بیماری ہو یا ماضی میں رہی ہو تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔مختلف طرح کی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے ساتھ مختلف مضر اثرات ہوتے ہیں۔
ٹرائی سائکلکس (مثلا ایمی ٹرپٹیلین، امیپرامین، ڈوتھائیپن، کلومپرامین وغیرہ)
اس گروپ کی ادویات کےعام مضر اثرات میں گلے کی خشکی، ہاتھوں میں کپکپاہٹ، دل کی دھڑکن تیز ہو جانا، قبض، نیند آنا اور وزن کا بڑھ جانا شامل ہیں۔عمر رسیدہ لوگوں میں یہ ادویات سوچنے میں دشواری، پیشاب کرنے میں رکاوٹ، بلڈ پریشر کم ہو جانے کی وجہ سے چکر آنا اور گر جانے کا سبب بن سکتی ہیں۔اگر آپ کو دل کی بیماری ہے تو بہتر ہو گا کہ آپ اس گروپ کی اینٹی ڈپریسنٹ نہ لیں۔مردوں کو ان ادویات سے جنسی کمزوریاں ہو سکتی ہیں۔ ٹرائی سائکلک اینٹی ڈپریسنٹ ادویات زیادہ مقدار میں لے لینے کی صورت میں خطرناک ہوتی ہیں۔
اسپیسیفک سیروٹونن ری اپٹیک انہیبیٹرز (ایس ایس آر آئیز) (مثلا فلو آسٹین، پیرآکسٹینِ ، سرٹرالین، سٹالوپرام وغیرہِ)
جب آپ ان ادویات کو لینا شروع کریں تو ہو سکتا ہے کہ پہلے چند ہفتوں میں آپ کو متلی محسوس ہو اور گھبراہٹ بڑھ جائے۔ اس گروپ کی بعض ادویات سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ ان ادویات کو کھانے کے ساتھ لیں تو اس کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ یہ آپ کے جنسی عمل کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔بعض لوگوں میں یہ رپورٹ ہوا ہے کہ وہ ان ادویات کو لینے سے جھگڑے کرنے لگے لیکن ایسا شاذو نادر ہی ہوا ہے۔
سیروٹونن نار ایڈرینلین ری اپٹیک انہیبیٹرز (ایس این آر آئیز) (مثلا وینلافیکسین)
ان ادویات کے مضر اثرات بھی ایس ایس آر آئیز سے ملتے جلتے ہیں، لیکن اگر آپ کو دل کی شدید بیماری ہو تو آپ کو وینلافیکسین نہیں استعمال کرنی چاہیے۔اس سے بلڈ پریشر بھی بڑھ سکتا ہے اس لیے بلڈ پریشر کو چیک کرتے رہنے کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔
مونو امین آکسیڈیز انہیبیٹرز (ایم اے اوآ ئیز)
اس طرح کی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات آجکل بہت کم استعمال ہوتی ہیں۔ اگر ایم اے او آئیز ایک چیز ٹائرامین کے ساتھ لے لی جائیں تو بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔اگر آپ ایم اے او آئی لینا شروع کریں تو آپ کا ڈاکٹر آپ کو کھانوں کی ایک فہرست دے گا جو آپ ان ادویات کے ساتھ نہیں کھا سکتے۔
مضر اثرات کی یہ فہرست پریشان کن لگتی ہے لیکن بیشتر لوگوں کو بہت کم مضر اثرات ہوتے ہیں یا ہوتے ہی نہیں۔ عام طور سے یہ مضر اثرات ہوں بھی تو چند ہفتوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔لیکن آپ کو ان مضر اثرات کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے تا کہ اگر آپ کو یہ ہوں تو آپ ان کو پہچان سکیں اور اپنے ڈاکٹر کو ان کے بارے میں بتا سکیں۔سب سے شدید مضر اثرات مثلا پیشاب میں رکاوٹ ہونا، یاد داشت کمزور ہو جانا ، گرنا،سوچنے میں دشواری ہونا، عام طور سے صحتمند جوان لوگوں میں نہیں ہوتے۔ بہت سے لوگوں کو ڈپریشن میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے یا اپنی جان لے لینے کے خیال آتے ہیں۔ اپنے ڈاکٹر کو بتائیے، جب آپ کا ڈپریشن ٹھیک ہوگا تو یہ خیالات خود ہی ختم ہو جائیں گے۔
کیا میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے کے ساتھ گاڑی چلا سکتا ہوں یا مشینری آپریٹ کر سکتا ہوں؟
بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے سے نیند آتی ہے اور آپ کا ردَ عمل سست ہو جاتا ہے۔ پرانی ادویات سے ایسا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ایسی ہیں جن کو لینے کے ساتھ آپ گاڑی چلا سکتے ہیں۔یاد رکھیے، ڈپریشن کی بیماری سے بھی لوگوں کی توجہ متاثر ہوتی ہے اور حادثات ہونے کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے اس سلسلے میں ضرور مشورہ کریں۔
کیا انسان اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا عادی ہو جاتا ہے؟
انسان اس طرح سے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا عادی نہیں ہو سکتا جیسے کہ شراب، سکون آور ادویات یا نکوٹین کا عادی ہوجاتا ہے، مثلا یہ کہ
۔آپ کو فائدے کو برقرار رکھنے کے لیے مقدار کو بڑھاتے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی
۔ اگر آپ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کو لینا بند کر دیں تو آپ کو ان کی طلب پیدا نہیں ہو گی
لیکن جو لوگ ایس ایس آر آئیز کو لینا بند کرتے ہیں ان میں سے تقریبا ایک تہائی کو پیٹ کی خرابی، زکام کی طرح کی علامات، گھبراہٹ، چکر آنا، ۔گہرے یا ڈراؤنے خواب آنا، بدن میں بجلی کے شاک جیسی حسیات پیدا ہونا جیسی تکلیف دہ علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو ایس ایس آر آئیز بند کرنے سے بہت ہی کم تکلیف دہ علامات پیدا ہوتی ہیں، لیکن کچھ لوگوں کے لیے یہ بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔دوا بند کرنے پہ ان تکلیف دہ علامات کا سب سے زیادہ امکان پیروکسیٹین اور وینلافیکسین کے استعمال سے ہوتا ہے۔ عام طور سے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کو آہستہ آہستہ بند کرنا اچانک بند کرنے سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
ایس ایس آر آئیز، خود کشی کے خیالات اور کم عمر لو گ
اس بات پہ کچھ ریسرچ موجود ہے کہ بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے سے بچوں او ر ٹین ایج لوگوں میں خود کشی کے خیالات بڑھ جاتے ہیں(گو کہ خود کشی کے واقعات نہیں بڑھتے) اسی لیے بعض ممالک میں اٹھارہ سال سے کم عمر لوگوں کو ایس ایس آر آئیز دینے کی اجازت نہیں ہے۔ برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کلینیکل ایکسی لینس کا کہنا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لوگوں کو ایس ایس آر آئیز میں سے صرف فلو آکسٹین دی جا سکتی ہے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں ایس ایس آر آئیز لینے سے اپنے آپ کو نقسان پہنچانے کا خطرہ یا خود کشی کے خیالات بڑھتے ہیں۔
کیا حاملہ خواتین اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لے سکتی ہیں؟
بہتر ہوتا ہے کہ حمل کے زمانے میں، خصوصا پہلے تین مہینے میں کم از کم دوائیں لی جائیں۔ حال ہی میں کچھ ریسرچ آئی ہے کہ جن ماؤں نے حمل کے زمانے میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لی تھیں ان کے بچوں میں لچھ پیدائشی نقص تھے۔لیکن کچھ ماؤں کے لیے حمل کے زمانے میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینا ضروری ہوتا ہے اوریہ دیکھنا پڑتا ہے کہ دوائیں لینے میں زیادہ خطرات ہیں یا نہ لینے میں زیادہ خطرات ہیں۔ اس بات کا بھی ریسر چ سے کچھ ثبوت ملتا ہے کہ وہ نوزائدہ بچے جن کی مائیں حمل کے دوران اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کرتی رہی ہیں انھیں پیدائش پر دوا اچانک بند ہونے کے مضر اثرات ہو سکتےہیں۔ان تکلیف دہ اثرات کا امکان پارآ کسیٹین نامی دوا سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔جب تک کہ ہمیں اس بارے میں اور زیادہ پتہ چلے بہتر ہے کہ ڈاکٹر حاملہ خواتین کے ڈپریشن کے علاج کے لیے متبادل طریقہ کار پر غور کریں۔
کیا بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لے سکتی ہیں؟
بہت سی خواتین کو بچوں کی پیدائش کے بعد ڈپریشن ہوجاتا ہے جسے پوسٹ نیٹل ڈپریشن (بچے کی ولادت کے بعد ڈپریشن) کہا جاتا ہے۔ عام طور سے یہ ڈپریشن کونسلنگ اور عملی مدد سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ ڈپریشن شدید ہو جائے تو مائیں تھکی تھکی رہتی ہیں، بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ سکتی ہیں، ہو سکتا ہے کہ نوزائیدہ بچے کے ساتھ ان کا تعلق صحیح طور سے نہ جڑے اور ہو سکتا ہے کہ بچے کی نشو نما صحیح رفتار سے نہ ہو۔ایسی صورت میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
دودھ پینے والے بچے پہ اس کی ماں کے اینٹی ڈپریسنٹ دوا لینے کا کیا اثر ہو سکتا ہے؟
دودھ پینے والے بچے میں ماں کے دودھ سے اینٹی ڈپریسنٹ دوا کی بہت ہی کم مقدار منتقل ہوتی ہے۔ چند ہفتوں سے زیادہ عمر والے بچوں کے جگر اور گردے بالکل صحیح کام کرنے لگتے ہیں۔ چونکہ وہ دوا کو اپنے بدن سےخارج کرنےکے قابل ہوتے ہیں اس لیے انھیں دوا سے بہت کم خطرہ ہوتا ہے۔ بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات اس معاملے میں بعض دوسری ادویات سے زیادہ محفوظ ہیں اس لیے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کر لیں۔ ماؤں کے بچوں کو دوھ پلانے سے جتنے فائدے ہوتے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے بہتر یہی ہے کہ مائیں اینٹی ڈپریسنٹ دوا لینے کے ساتھ دودھ پلانا جاری رکھیں۔
اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ کس طرح لی جانی چاہیئیں؟
اپنے ڈاکٹر کو دکھاتے رہیں۔ٹرائی سائکلکس کو عام طور سے کم مقدار سے شروع کر کےشروع کے
چند ہفتوں میں آہستہ آہستہ بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ پہلی دفعہ کے بعد ڈاکٹر کو دوبارہ نہ دکھائیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ بہت کم دوا لے رہے ہوں۔ ایس ایس آر آئیز کو آہستہ آہستہ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ جس مقدار میں دوا شروع کرتے ہیں عام طور سے بعد میں بھی اسی مقدار کو لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوا کو بتائی گئی مقدار سے زیادہ مقدار میں لینے سے فائدہ نہیں ہوتا۔
اگر آپ کو شروع میں دوا سے کچھ تکلیف دہ اثرات ہوں تو زیادہ پریشان نہ ہوں۔
زیادہ تر تکلیف دہ اثرات چند دنوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر تکلیف دہ اثرات برداشت کے قابل ہوں تو دوا بند نہ کریں۔ لیکن اگر یہ ناقابل برداشت ہوں تو اپنے ڈاکٹر سے فورا مشورہ کریں۔اگر آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے لگے تو اپنے ڈاکٹر کو بتانا ضروری ہے تا کہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ یہ دوا آپ کے لیے مناسب ہے کہ نہیں۔اگر آپ کی بے چینی یا گھبراہٹ بڑھ رہی ہو تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔
دوا روزانہ لیں۔ اگر آپ دوا روزانہ نہیں لیں گے تو آپ کو اس کا فائدہ بھی نہیں ہو گا۔
دوا کا فائدہ شروع ہونے کا انتظار کریں۔ یہ دوائیں پہلی خوراک لیتے ہی کام شروع نہیں کر دیتیں۔زیادہ
تر لوگوں کا تجربہ یہ ہے کہ اینٹی ڈپریسنٹ کو شروع کرنے کے بعد ان کا فائدہ شروع ہونے میں ایک سے دو ہفتے لگتے ہیں اور مکمل فائدہ ہونے میں چھ ہفتے تک بھی لگ سکتے ہیں۔دوا جلدی بند کر دینا اکثر لوگوں میں اینٹی ڈپریسنٹ دوا کا فائدہ نہ ہونےیا فائدہ شروع ہونے کے بعد ڈپریشن واپس آ جانے کی سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے۔
الکحل پینے سے گریز کریں۔الکحل ڈپریشن کو اور زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ اگر آپ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات
لینے کے ساتھ الکحل پی لیں تو آپ کو سستی ہونے لگے گی اور نیند آنے لگے گی۔ اس سے گاڑی چلانے میں یا کوئی اور ایسا کام کرنے میں جس میں توجہ دینے کی ضرورت ہو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
کیا آپ کو اپنے آپ کو نقصان پہنچانے یا اپنی زندگی کو ختم کرنے کے لیے دوائیں زیادہ مقدار میں
لے لینے کے خیالات آتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اپنے ڈاکٹر کو فورا بتائیں اوراپنی دوائیں اپنے پاس رکھنے کے بجائے گھر میں کسی اور شخص کے حوالے کردیں۔
دوا کا ڈوز بدلنے کے بعد اگر آپ کو اپنے آپ کے اندر کوئی بڑی تبدیلی محسوس ہو تو اپنے ڈاکٹر کوضرور بتائیں۔
مجھے اینٹی ڈپریسنٹ دوا کتنے عرصے کے لیے لینی پڑے گی؟
اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ڈپریشن کو جڑ سے نہیں ختم کرتیں یا ڈپریشن ہونے کی وجہ کو نہیں دور کرتیں۔ اگر کوئی دوا نہ بھی دی جائے تو اکثر لوگوں میں ڈپریشن تقریبا آٹھ مہینے کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔اگر آپ دوا شروع کرنے کے بعد آٹھ نو مہینوں سے پہلے بند کردیں گے تو تو ڈپریشن کی علامات واپس آنے کا کافی زیادہ خطرہ ہوگا۔ جہاں سے آپ دوبارہ صحیح محسوس کرنا شروع کریں اس وقت سے کم از کم مزید چھ مہینوں تک دوا جاری رکھنی چاہیے۔ اگر آپ کو ڈپریشن دو یا اس سے بھی زیادہ دفعہ ہو چکا ہے تو علاج کم از کم دو سال تک جاری رہنا چاہیے۔
اس بات پر غور کریں کہ آپ کا ڈپریشن شروع ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ایسے اقدامات کر پائیں جن کی وجہ سے ڈپریشن دوبارہ ہونے کا خطرہ کم ہو جائے۔
اگر مجھے دوبارہ ڈپریشن ہو جائے تو؟
بعض لوگوں کو ڈپریشن بار بار ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بالکل ٹھیک ہونے کے بعد بھی انھیں کئی سال تک دوا لینے کی ضرورت ہو تا کہ ان کا ڈپریشن واپس نہ آ جائے۔بڑی عمر کے لوگوں میں کئی کئی بار ڈپریشن ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔بعض لوگوں کوڈپریشن کو واپس آنے سے روکنے کے لیے اور دواؤں مثلا لیتھیم کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ باتوں کے ذریعے علاج (سائیکو تھراپی) بھی اس سلسلے میں سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔
میری زندگی پہ ان دوائیوں کو لینے سے کیا اثر پڑے گا؟
ڈپریشن کی بیماری کافی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اس سے انسان کے کام کرنے کی استطاعت اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت بہت حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات آپ کو جلدی ٹھیک ہونے میں مدد دے سکتی ہیں۔تھوڑے بہت تکلیف دہ اثرات کے علاوہ ان کا زندگی پہ کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لوگ ان دواؤں کو لینے کے ساتھ ساتھ اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں، لوگوں سے ملنا جلنا بھی رکھ سکتے ہیں اور زندگی کی تمام خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
اگر میں ان دواؤں کو نہ استعمال کروں تو کیا ہوگا؟
یہ کہنا مشکل ہے۔ اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ ڈاکٹر نے آپ کے لیے اینٹی ڈپریسنٹ دوا کیوں تجویز کی ہے، آپ کا ڈپریشن کتنا شدید ہے اور کتنے عرصے سے ہے۔زیادہ تر لوگوں کا ڈپریشن اگر وہ کوئی دوا نہ بھی لیں تو تقریبا آٹھ مہینے کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کا ڈپریشن ہلکے درجے کا ہو تو ہو سکتا ہے کہ دوا کے علاوہ علاج سے ٹھیک ہو جائے۔ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
دوا کے علاوہ ڈپریشن کے اور کیا علاج موجود ہیں؟
یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ آپ کن باتوں یا چیزوں سے بہتر محسوس کرتے ہیں تا کہ آپ کو آئندہ ڈپریشن ہونے کا خطرہ کم ہو سکے۔ کسی بااعتماد شخص سے بات کرنے سے، باقاعدگی سے ورزش کرنے سے، الکحل کم پینے سے، مناسب غذا کھانے سے، اپنی مدد آپ کے اصولوں کے تحت اپنے آپ کو پرسکون کرنے کے طریقوں سے اور اپنے مسائل کو حل کرنے سے جن کی وجہ سے ڈپریشن شروع ہوا ہو، آئندہ ڈپریشن نہ ہونے میں مدد ملتی ہے۔
باتوں کے ذریعے علاج
ڈپریشن کا باتوں کےذریعے علاج کرنے کے کئی موثر طریقے موجود ہیں۔ ہلکے درجے کے ڈپریشن میں کونسلنگ کارآمد ہوتی ہے۔ اگر ڈپریشن زندگی کے مسائل کی وجہ سے شروع ہوا ہو تو مسائل کو حل کرنے کے طریقہ علاج (پرابلم سولونگ تھراپی) سے مدد ملتی ہے۔کوگنیٹو بیہیویئر تھراپی ڈپریشن کا علاج کرنے کے لیےشروع کی گئی تھی اور اس سے انسان کو اپنے بارے میں، دنیا کے بارے میں اوردوسرے لوگوں کے بارے میں اپنے خیالات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
اینٹی ڈپریسنٹ دوا زیادہ موثر ہے یا یہ دوسرے علاج؟
حالیہ ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ ایک سال کے عرصے کے اوپر باتوں کے ذریعے علاج کے کئی طریقے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات جتنے ہی موثر ہیں۔ ادویات کا فائدہ زیادہ جلدی ہوتا ہے۔ بعض ریسرچ کہتی ہے کہ بیک وقت اینٹی ڈپریسنٹ اور سائیکو تھراپی دونوں کے استعمال سےمریض کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
درج بالا تحریر ڈاکٹر سید احمر (ایم آر سی سائیک)، ڈپارٹمنٹ آف سائکائٹری، آغا خان یونیورسٹی کراچی،کے مرتب کئے گئے کتابچے سے لیا گیا ہے.