Wednesday, 9 April 2014

باجرہ، چنا، مکئی اور جو


باجرہ، چنا، مکئی اور جو

قدرت نے ان سب میں جسمانی قوت کا بیش بہا خزانہ چھپا کر ہمیں بخشا ہے

اللہ تعالیٰ کی بے پناہ نعمتوں میں سے اناج ایک بہت اہم نعمت ہے۔ مختلف اناج ہماری روزمرہ غذا کا ایک اہم حصہ ہیں۔ خدا نے اناج میں ایسی قوت اور صحت بخش اجزاءشامل کئے ہیں کہ انسان کوعام اور سستی غذائوں میں طاقت کا خزانہ مل جاتا ہے۔ یہاں ہم چند طاقتور غذائوں کا ذکر کررہے ہیں جو بظاہر معمولی نوعیت کی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انتہائی طاقتور غذائیں ہیں۔

باجرہ -:باجرہ ایک ایسا اناج ہے جو بدن کو بھرپور غذائیت دینے کے ساتھ ساتھ نزلہ زکام بھی دور کردیتا ہے۔ اطباءکی تحقیق کے مطابق اس میں جسم کی چربی کم کرنے اور اعصاب کو طاقت پہنچانے کی خصوصیت موجود ہے۔ عام طور پر اسے غریبوں کا اناج کہا جاتا ہے۔ راجستھان اور خشک علاقوں کا مزدور طبقہ باجرے کی روٹی کھا کر 15سے 16 گھنٹے تک محنت کرتا ہے اور تھکن محسوس نہیں کرتا۔ عام طور پر لوگ بھوک کی کمی‘ گیس‘ ضعفِ معدہ جیسے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ کم لیسدار اجزاءوالے اس موٹے اناج کو استعمال کریں تو بدہضمی اور گیس جیسے امراض سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔

باجرے کو مستقل استعمال میں رکھنے سے بدن ہلکا پھلکا رہتا ہے۔ برس ہا برس سے حکیم صاحبان یہ مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ باجرہ کو گڑ‘ شکر‘ گھی یا دیگر کھانے کے تیلوں میں ملا کر کھانے سے کمر مضبوط‘ خون عمدہ‘ ہاضمہ درست رہتا ہے اور پیٹ کی چربی میں کمی کے ساتھ گیس بھی نہیں بنتی۔

چنا -: اس مشہور غلے میں جسمانی نشوونما کے لیے درکار تمام اجزاءپائے جاتے ہیں۔ اس کا مزاج گرم اور خشک تر ہے۔ چنے کے چھلکوں میں پیشاب لانے کی قدرتی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ بھنے ہوئے چنوں کو چھلکوں سمیت کھانا نزلہ‘ زکام کے مستقل مریضوں کے لیے بہترین ٹانک ہے۔ گرم خشک تاثیر کی وجہ سے بلغم اور سینے و معدہ کی فاضل رطوبت کو خشک کرتا ہے۔ اسی لیے حکیم بقراط نے چنے کو پھیپھڑوں کے لیے نہایت مفید قرار دیا ہے۔ چنے کو 24گھنٹے بھگونے کے بعد نہار منہ اس کا پانی نتھار کر پی لیا جائے تو یہ جلدی امراض کے لیے مفید ہے۔

خارش اور جلد کی رطوبت کی بیماریوں میں یہ نہایت فائدہ مند ہے۔ بھیگے ہوئے چنے خوب اچھی طرح چبا کر استعمال کرنے سے وزن بڑھتا ہے‘یہ خون کو صاف کرتا اور سدھوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ جن جانوروں کی غذا میں چنا شامل ہوتا ہے وہ اچھا دودھ اور بہتر گوشت فراہم کرتے ہیں۔ اس میں موجود نائٹروجن اور ہائیڈروجن کاربن کی خفیف مقدار جانوروں میں چربی پیدا کرکے جسم کی قوت اور حرارت کو مجتمع رکھتی ہے۔

یورپ اور دیگر مغربی و ایشیائی ممالک میں اسے گوشت کا بہترین نعم البدل سمجھا جاتا ہے۔ کچا چنا ”اولہ“ جسے بچے بڑے سبھی شوق سے کھاتے ہیں‘ وٹامن ”ای“ کی فراہمی اعضائے رئیسہ کی پروداخت اور نسل انسانی کی زرخیزی و توانائی میں معاون ہے۔ یہ وٹامن تازہ دانہ دار گندم‘ بادام‘ پستہ‘ چنے‘ مٹر اور دیگر پھلوں کے سبز چھلکوں میں پایا جاتا ہے۔

چنے میں موجود وٹامن ”بی“ دل کی کارکردگی بڑھاتا ہے۔ دماغ‘ جگر‘ دانتوں اور ہڈیوں کے لیے مفیدہے اور اعصاب گردہ و ہاضمہ کے عمل میں مددگار ہے۔ وٹامن ”بی“ تمام تازہ اناجوں کے چھلکوں اور بیجوں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ چنے کو چھلکوں سمیت استعمال کرنے سے امراض گردہ اور پتھری بننے کے عمل سے نجات مل سکتی ہے۔

مکئی -: مکئی مکو‘ مکا ایک ہی غذائی جنس کے مختلف نام ہیں جو پاکستان میں سردیوں کے موسم میں عام طور پر پیدا ہوتی ہے۔ نیم پختہ بھٹہ کوئلوں پر بھون کر کھایا جاتا ہے جو نہایت لذیذ اور بھوک کو تسکین دیتا ہے لیکن یہ سیاہ مرچ‘ نمک‘ لیموں کے بغیر کھانے سے ذرا دیر میں ہضم ہوتا ہے اور معدہ میں فاسد مادے پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

پختہ دانہ کی روٹی مہین اور مقوی دماغ ہے۔ اس کی روٹی اس قدر مصفی خون ہے کہ اگر چھ ماہ مسلسل کھائی جائے تو پرانے جذام کا مریض تندرست ہوجاتا ہے۔ اس کا آٹا پانی میں گھول کر رخساروں پر ملنے سے کیل‘ مہاسے دور ہوجاتے ہیں۔ ہاتھوں میں لگانے سے ہاتھوں کی خشکی اور ہر قسم کی بدبو زائل ہوجاتی ہے لیکن عام طور پر اس کا آٹا انسانی جسم کے تمام اعضاءکے لیے مفید نہیں ہے۔ یہ معدہ میں دیر تک رہتا ہے‘ جس کی وجہ سے تبخیر کا باعث بنتا ہے۔ اس کی روٹی دودھ‘ گھی‘ شکر اور گندم کے آٹے کو ملا کر پکائی جائے تو انسانی جسم کو بہت فائدہ دیتی ہے۔

مکئی کے دانوں کو گھی یا تیل میں بھون کر پاپ کارن کی شکل میں بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ سردیوں میںمکئی کے دانوں یا بھٹے کا استعمال خوب مزہ دیتا ہے۔

جو -: قدیم زمانے سے جو کا استعمال بطور علاج اور قوت بخش غذا میں ہوتا چلا آرہا ہے۔ زمانہ قدیم کے یونانی کھیلوں اور زور آوری کے مقابلوں کی تیاری کے سلسلے میں کھلاڑیوں اور پہلوانوں کو زور آور اور قوی تر بنانے کے لیے ان کی خوراک میں جو کو ایک ضروری جز کے طور پر شامل کیا جاتا تھا۔ جو میں جسم کو توانائی بخشنے والے اجزاءکی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔ اس میں 80فیصد نشاستہ‘ لحمیات اور فاسفورس کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ مغربی ممالک کے اکثر گھرانوں میں بچوں کو دودھ کے ساتھ جو ملا کر دیا جاتا ہے اس طرح بچوں کو اضافی غذائیت کے ساتھ ساتھ توانائی بھی ملتی ہے اور وہ پیٹ کے درد سے محفوظ رہتے ہیں۔ دودھ کو آسانی سے ہضم بھی کرلیتے ہیں۔

جو کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ایک سو بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ خون کے جوش کو کم کرتا ہے۔ بلڈ پریشر کو فائدہ پہنچاتا ہے حدت کوکم کرتا ہے‘ پیاس بجھاتا ہے‘ جوڑوں کے درد کو فائدہ پہنچاتا ہے چونکہ زہریلے مادوں کو اخراج کرتا ہے اس لیے مہاسے‘ چہرے کے دانوں اور اس سلسلے میں دوسری جلدی بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ جو گرمی سے نجات دلاتا ہے جسم میں زہریلے مادوں کو خارج کرکے جلد کو نکھارتا ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کو گرمیوں میں کھانے سے قبل یا کھانے کے بعد جو کا ایک گلاس پینے سے بہت حد تک چہرے کے دانوں اور داغوں سے نجات ملنا ممکن ہوسکتی ہے۔

احادیث نبوی سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم کی مرغوب غذائوں میں جو بھی شامل ہے۔ آپ نہ صرف جو کو روٹی‘ دلیے اور ستو کے طور پر استعمال فرماتے تھے بلکہ بطور علاج بھی جو کے استعمال کا مشورہ دیا کرتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق اہل خانہ میں سے جب کوئی بیمار پڑتا تھا۔ آپ اس کو جو کا دلیہ کھلانے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ ”جو کا استعمال غم اور کمزوری کو اس طرح نکال پھینکتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر میل کچیل صاف کردیتا ہے۔“ جدید تجربات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بیماروں کے لیے سرکار دوعالم کا تجویز کردہ جو کا دلیہ‘ ستو یا روٹی وغیرہ معدہ‘آنتوں اور السر کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔

یہ تھا چند اناج کا ذکر جو اپنے اندر قوت کے خزانے سمیٹے ہوئے ہیں اور جنہیں ہم معمولی اور سستے جان کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ حالانکہ یہ ہماری جسمانی صحت کے لیے ٹانک کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہیں اپنی روزمرہ کی غذا میں شامل رکھیں اور صحت مند رہیں۔


Tuesday, 8 April 2014

امراض قلب اور طب نبوی کے کمالات


امراض قلب اور طب نبوی کے کمالات 

چھاتی میں محسوس ہونے والا یہ جان لیوا درد عام طور پر ناگہانی طور پر شروع ہوتا ہے اور پھر بڑھتا جاتا ہے‘ بنیادی طور پر یہ دل کو خون مہیا کرنے والی شریانوں کی بندش ہے کبھی تو یہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہے ا ور کبھی فوراً ہی محسوس ہونے لگتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حیوانی ذرائع سے حاصل ہونے والی چکنائیاں دل کی نالیوں کو بند کردیتی ہیں۔ سگریٹ پینے والوں کو دل کے دورہ کا اندیشہ دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے‘ آرام طلبی‘ تفکرات اور بسیار خوری کو دل کی بیماریوں کا باعث قرار دیا جاتا ہے۔

دل کے دورے کی سب سے بڑی علامت درد ہے یہ درد کبھی اتنا شدید ہوتا ہے کہ مریض تڑپنے لگتا ہے ایک امریکن اخبار نویس نے اپنی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے بتایا’’ایسا معلوم ہوتا تھا کہ چھاتی کے اندر لوہے کا جلتا ہوا کوئلہ رکھ دیا گیا ہے‘‘ درد کا آغاز عام طور پر چھاتی کے وسط میں سامنے کی طرف سے ہوتا ہے پھر یہ دائیں اور بائیں بازو میں بھی محسوس ہونے لگتا ہے ایسا لگتا ہے کہ ہاتھ بھاری ہوگئے ہیں اور انگلیوں میں سوئیوں کی چبھن محسوس ہوتی ہے یہاں سے درد گردن کے پیچھے کندھوں کے درمیان بھی چلا جاتا ہے‘ چلنے پھرنے سے درد میں اضافہ ہوتا ہے۔

مریض کو ٹھیک سے سانس نہیں آتا‘ سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے کبھی کبھی اصل تکلیف صرف سانس میں تنگی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

اکثر مریضوں کو شدید متلی ہوتی ہے کئی مریضوں میں صرف یہی علامت ظاہر ہوتی ہے۔ دل کو خون کی بہرسانی کی بندش صدمہ کی شدید کیفیت پیدا کردیتی ہے‘ ٹھنڈے پسینے آنے لگتے‘ بے قراری‘ گھبراہٹ‘ کمزوری‘ پریشانی اپنی انتہا تک چلے جاتے ہیں‘ بلڈپریشر میں دورہ کے دوران اضافہ ہوسکتا ہے لیکن عام طور پر بعد میں کم ہوجاتا ہے۔

دل کے دورے کو نبی اکرم ﷺ نے بڑی اہمیت عطا فرمائی ہے فرمایا: ’’تمہارے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب وہ تندرست ہو تو سارا جسم تندرست رہتا ہے اور جب وہ بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم بیمار ہوجاتا ہے اور یہ لوتھڑا دل ہے۔ ‘‘(مسلم‘ بخاری)

آپ ﷺ نے دل کی بیماریوں سے بچنے اور ان کے علاج کے متعدد اسلوب عطا فرمائیں ہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے دل کی بیماریوں کے علاج اور بچاؤ کیلئے غذا میں ایسے عناصر کی نشاندہی فرمائی ہے جن کو کھانے سے دل کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور اگر وہ بیمار ہوں تو تندرستی حاصل ہوتی ہے ان غذاؤں میں سب سے اہم جو کا دلیہ ہے۔

جو کا دلیہ: نبی اکرم ﷺ نے جو کے فوائد میں دو اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ٭ مریض کے دل سے بوجھ کو اتار دیتا ہے۔ ٭ غم اور فکر سے نجات دیتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’دل کے مریض کیلئے تلبینہ تمام مسائل کا حل ہے یہ دل سے غم کو اتار دیتا ہے۔ (بخاری‘ مسلم)

جو کا دلیہ پہلے پانی میں پکا لیا جائے پھر ضرورت اور ذائقہ کے مطابق دودھ اور شہد شامل کیا جائے اسے تلبینہ کہتے ہیں۔

آپ کی گرامی رائے میں بیمار کیلئے دلیہ سے زیادہ کوئی مفید اور قوت بخش غذا نہ تھی وہ اسے دن میں کئی بار گرم گرم کھلاتے تھے۔ جو کا دلیہ بیمار کی کمزوری اور اس کے جسم کی قوت مدافعت کو بڑھانے کیلئے تجویز فرمایاگیا لیکن اس کی اصل اہمیت دل کی بیماریوں کو دور کرنے کیلئے قرار پائی ‘ وہ دل کے جملہ عوارض میں جو کے دلیہ کے بہت قائل تھے۔ وہ مریض کو جو کے دلیہ میں شہد ڈال کر کھلانا پسند فرماتے تھے۔ جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خون سے کولیسٹرول کو نکالنے کی سب سے اہم اور مجرب دوا جو کا دلیہ ہے۔ اس میں مفید عناصر کی ایک معقول مقدار پائی جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ چکی کا بنا ہوا جو کا دلیہ استعمال کیا جائے۔ جو کا دلیہ ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہے۔ جو بطور روٹی‘ دلیہ‘ ستو اور اس کا پانی بنا کر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
شہد: کمزوری دور کرنے کیلئے شہد قدرت کا انمول تحفہ ہے‘ خون کی نالیوں کو کھولتا ہے‘ اعصاب کو طاقت دیتا اور دل کے عضلات پر سے بیماری کے اثرات کو اتارتا ہے‘ دل کی بیماریوں کے علاج کیلئے 4-6 بڑے چمچ ایسے وقت میں لینے مفید ہوں گے جب پیٹ خالی ہو۔ بند نالیوں کو کھولنے کیلئے نبی اکرم ﷺ نے شہد کو ابلے پانی میں دینا پسند فرمایا ہے۔

بہی: نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک میں ایک روز بہی کا پھل تھا اس واقعہ کو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ یوں بیان فرماتے ہیں: ’’انہوں نے پھل مجھے دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ دل کی تکلیف (دورہ) کو دور کردیتا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ) دل کے دورہ اور اس کی گھٹن کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے کئی مرتبہ خوشخبری سنائی ’’سفرجل (بہی) کھاؤ کہ یہ دل کی تکلیف کو دور کرتا ہے اور سینہ کی گھٹن کو دور کرتا ہے۔ (ابونعیم‘ ابن النسی)
ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے بہی کی بہترین قسم اس کا مربہ قرار دیا ہے بہی کو نہار منہ کھانا چاہیے شہد کے شربت کے ساتھ ایک سے دو قاشیں ناشتے سے پہلے کھالی جائیں۔

کھجور:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہٗ ایک روز بیمار ہوگئے وہ اپنی روئیداد یوں سناتے ہیں۔ ’’میں بیمار ہوا میری عیادت کو رسول پاک ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان رکھا تو اس ہاتھ کی ٹھنڈک میری پوری چھاتی میں پھیل گئی‘ پھر فرمایا کہ اسے دل کا دورہ پڑا ہے‘ اسے حارث بن کلدہ کے پاس لے جاؤ جوثقیف میں مطب کرتا ہے حکیم کو چاہیے کہ وہ مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں گٹھلیوں سمیت کوٹ کر اسے کھلائے۔‘‘ (داؤد‘ احمد‘ نعیم)
دل کے دورہ میں کھجور کو گٹھلی سمیت کوٹ کر دینا جان بچانے کا باعث ہوتا ہے۔ احادیث میں اس غرض کیلئے عجوہ کھجوریں تجویز کی گئیں ہیں تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ اس غرض کیلئے دوسری کھجوریں بھی استعمال کی جاسکتی ہیں مگر ان کا عرصہ استعمال طویل ہونا چاہیے۔زیتون کا تیل: ’’زیتون کا تیل کھاؤ اور لگاؤ کیونکہ اس میں ستر بیماریوں سے شفاء ہے جن میں سے ایک جذام بھی ہے۔‘‘ (ابونعیم)

قلب کی حفاظت کیلئے وٹامن ای کا استعمال ضروری ہے‘ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق زیتون کے تیل کو اس اعتبار سے سورج مکھی‘ مکئی اور نہ جمنے والے تیلوں پر فوقیت حاصل ہے وٹامن ای چربی میں شامل ہوکر مغز قلب کولیسٹرول ایل ڈی ایل کو بے اثر کردیتا ہے۔ جو خوراک قلب دوست روغن زیتون سے بھرپور ہوتی ہے وہ خون میں زیادہ کثافت والی روغنیات ایل‘ ڈی‘ ایل کو بڑھانے میں بہت مفید ہیں جوکہ خون کی نالیوں میں روغن کو منجمد کرنے اور دل کی شریانوں کی بیماری میں حفاظتی عنصر ہے۔ اس کا استعمال بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھتا ہے‘ قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے‘ زیتون کا تیل ایک ایسی چکنائی ہے جو دوسری چکنائیوں کو بھی ہضم کرتی ہے۔

ہائی بلڈ پریشر سے کیسے بچاجائے


ہائی بلڈ پریشر سے کیسے بچاجائے

چالیس سالہ یاسر کئی ماہ سے سر درد محسوس کر رہا تھا۔ کبھی کبھی بے وجہ اس پر سُستی بھی چھا جاتی۔ وہ کسی ڈاکٹر کے پاس جانا چاہتا تھا مگر مصروفیت اور سستی کی وجہ سے نہ جاسکا۔
ایک دن سر کے پچھلے حصے میں اتنا شدید درد ہوا کہ اُسے دن میں تارے نظر آگئے۔ اگلے دن تکلیف کم ہوئی، تو وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ معالج تجر بہ کار تھا۔ اس نے یاسر سے علاماتِ مرض سنیں، تو اُسے شک ہوا کہ وہ ’’ہائپر ٹینشن‘‘ میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بیماری عرف عام میں ’’ہائی بلڈ پریشر‘‘ یا ’’بلند فشار خون‘‘ کہلاتی ہے۔ جب یاسر کے خون کا دبائو چیک ہوا، تو ڈاکٹر کا شک یقین میں بدل گیا۔ جب یاسر کو علم ہوا کہ وہ ہائی بلڈ پریشر کا مریض بن چکا، تو اُسے بڑی حیرانی ہوئی۔ کیونکہ اس بیماری نے چپکے چپکے اُسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
یاسر کو معلوم نہ تھا، ہائی بلڈ پریشر کا شمار ان گنی چنی بیماریوں میں ہوتا ہے جو خاموشی سے انسان کو اپنی گرفت میں لیتی ہیں۔ یہ ایک خطرناک مرض ہے کہ انسان کو بہت سی بیماریوں مثلاً امراض قلب، امراض گردہ، فالج وغیرہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود ہائی بلڈ پریشر کے شکار ’’50فیصد‘‘ مریض اپنے مرض سے بر وقت واقف نہیں ہوپاتے۔ جب ان کا کسی وجہ سے طبی معاینہ ہو تبھی بلڈ پریشر چیک کرنے پر اس موذی مرض کا پتا چلتا ہے۔
خون کا دبائو کیا ہے؟
ہمارا دل دھڑکنے کے عمل کی مدد سے خون پورے جسم میں پھینکتا ہے۔ خون میں موجود غذائیات اور آکسیجن کے ذریعے ہی ہم توانائی پاتے اور روز مرہ کام انجام دیتے ہیں۔ دورانِ حرکت یہ خون شریانوں کی دیواروں سے ٹکراتا ہے۔ اس ٹکرانے کی شدت ہی ’’خون کا دبائو‘‘ یا ’’بلڈ پریشر‘‘ کہلاتی ہے۔
ٹکرائو کی شدت اگر بڑھ جائے، تو یہی حالت ہائی بلڈ پریشر کہلاتی اور مضرِ صحت ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اوّل پورے بدن میں خون پہنچانے کے لیے دل کو زیادہ سرگرمی سے کام کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے شریانوں پر غیر ضروری دبائو پڑ جاتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کی علامات
روز مرہ زندگی میں مگن انسان کو پتا نہیں چلتا کہ وہ ہائپرٹینشن کا شکار ہوچکا ہے۔ یہ حقیقت صرف بلڈ پریشر چیک کرنے سے عیاں ہوتی ہے۔
بلڈ پریشر ’’ملی میٹرز آف مرکری‘‘ (MMHG) کے ذریعے ناپا اور دو عدد میں لکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کا فشار خون 120/80ایم ایم ایچ جی ہے، تو اس کے معنی ہوئے، آپ کے خون کا دبائو 120پہ 80ہے۔
عدد سے کیا ظاہر ہے؟
بلڈپریشر بتانے والا پہلا عدد انقباضی (Systolic)کہلاتاہے۔ جب دل دھڑکے، تو یہ وہ سب سے بلند عد دہے جس پہ ہمارا بلڈ پریشر پہنچتا ہے۔ دوسرا عدد انبساطی (Diastolic)کہلاتا ہے۔ دو دھڑکنوں کے درمیان ہمارا دل آرام کرے، تو وہ سب سے نچلی سطح ہے جس پہ ہمارا فشار خون پہنچ سکتا ہے۔
خون کا دبائو کم رکھیے
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اچھی صحت کے لیے ضروری ہے، آپ کے خون کا دبائو 120/80سے نیچے رہے۔ گویا یہ نارمل بلڈ پریشر ہے۔ لیکن اس عدد سے بلڈ پریشر جتنا بلند ہوگا، امراض چمٹنے کا خطرہ اتنا ہی بڑھے گا۔
ڈاکٹر مزید کہتے ہیں کہ اپنا بلڈ پریشر کم سے کم رکھیے۔ وجہ یہی ہے کہ بلند فشار خون انسان کو متفرق بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر جس انسان کا بلڈ پریشر 135/85ہو، اُسے یہ خطرہ درپیش رہتا ہے کہ وہ 115/75والے کی نسبت زیادہ آسانی سے امراض قلب و فالج کا نشانہ بن جائے گا۔
عام طور پر جس انسان کا انقباضی عدد 140یا اس سے بلند اور انبساطی فشار خون 90یا زیادہ ہو، ڈاکٹر اُسے ادویہ دینے لگتے ہیں تاکہ وہ اپنے ہائی بلڈ پریشر کو قابو کر سکے۔
تاہم ہائپر ٹینشن کی اکثر ادویہ کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ خاصے ضمنی اثرات رکھتی ہیں۔ مثلاً انھیں کھانے سے انسان ٹانگوں کی اکڑن، بے خوابی اور سُستی کا شکار بن جاتا ہے۔
خوش قسمتی سے ادویہ کے بغیر بھی ہائی بلڈ پریشر پر قابو پاناممکن ہے۔ اُس ضمن میں طرز زندگی (Lifestyle) کا کردار بہت اہم ہے۔ اگر انسان طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں لے آئے، تو نہ صرف ادویہ کی ضرورت سے بے نیاز ہوسکتا ہے بلکہ صحت بھی پا لیتا ہے۔ ذیل میں ایسی تبدیلیوں کا ذکر پیش ہے جو ہائپرٹینشن سے بچنے کی خاطر عمل میں لانی چاہئیں۔
(1) وزن کم کیجیے
جوں جوں انسان کا وزن بڑھے، ہائی بلڈ پریشر بھی بڑھتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے، انسان اگر چار پانچ کلو بھی اپنا وزن کم کرلے، تو اس کا بلڈ پریشر گر جاتا ہے۔ طبی اصول یہ ہے کہ جتنا وزن کم ہوگا، بلڈ پریشر بھی اتنا ہی گھٹ جائے گا۔ مزید برآں وزن کم ہونے سے ادویہ کا مؤثر پن بھی بڑھ جاتا ہے۔ تاہم اپنا وزن قد کے حساب سے رکھیے۔ کیونکہ حد سے زیادہ وزن گرنا صحت کے لیے مفید نہیں۔
مزید برآں اپنی کمر کو بھی فربہ نہ ہونے دیجیے۔ کمر کے گرد چربی چڑھنے سے بلڈ پریشر میں اضافے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سو مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنی کمر 40 اِنچ(102سینٹی میٹر)سے نہ بڑھنے دیں۔جبکہ خواتین کی کمر 32اِنچ (81سینٹی میٹر) سے نہیں بڑھنی چاہیے۔
(2)ورزش باقاعدگی سے کیجیے
انسان اگر باقاعدگی سے ہفتے میں چار پانچ دن 30تا 60منٹ ورزش کرے، تو اس کا بلڈ پریشر 4تا 9 ایم ایم ایچ جی کم ہوسکتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نتیجہ برآمد ہونے میں دیر نہیں لگاتا۔ صرف چند ہفتوں کی ورزش بلڈ پریشر گھٹا ڈالتی ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ سخت ورزش کریں، تیز چلنا بھی اس ضمن میں مفید سرگرمی ہے۔
تاہم ہفتے کے دو تین دن سخت ورزش نہ کیجیے۔ بعض لوگ ہفتہ اتوار کو سخت ورزش کرکے سمجھتے ہیں کہ مطلوبہ سرگرمی کا حق ادا ہوگیا۔ مگر اچانک سخت ورزش کرنا اُلٹا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
(3)صحت مند غذا کھائیے
اپنی غذا میں سالم اناج، پھل، سبزیاں اور کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات شامل رکھیے۔ چکنائی کی نقصان دہ قسم (سیچوریٹیڈ) اور کولیسٹرول سے پرہیز کیجیے۔ صحت مند غذا کھانے سے انسان اپنا بلڈ پریشر 14ایم ایم ایچ جی تک گھٹا سکتا ہے۔
غذا میں آلو، ساگ اور کیلا شامل رکھیے۔ ان میں پوٹاشیم موجود ہوتا ہے۔ یہ معدن نمک کے مضر اثرات دور کرتا اور خون کی بند نالیاں کشادہ کرتا ہے۔ کوشش کیجیے کہ روزانہ کم از کم 1000ملی گرام پوٹاشیم لیجیے۔
دہی کھائیے۔ ایک حالیہ تحقیق سے اِنکشاف ہوا کہ جو مرد و زن روزانہ باقاعدگی سے دہی کھائیں، ان کا بلڈ پریشر نہ کھانے والوں کی نسبت معمول پر رہتا ہے۔ اس ضمن میں ڈیری کی دیگر غذائیں بھی مفید ہیں۔
(4)نمک کم استعمال کیجیے
وہ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ غذا میں معمولی نمک کم کرنے سے بھی بلڈ پریشر 2تا 8ایم ایم ایچ جی گھٹ جاتا ہے۔ سو روزانہ زیادہ سے زیادہ 2300ملی گرام نمک استعمال کیجیے۔ جبکہ 51سال سے زیادہ عمر کے لوگ یہ حد 1500ملی گرام تک پہنچا دیں۔ یاد رہے، ایک چھوٹا چمچ نمک2300ملی گرام نمک رکھتا ہے۔
(5)تمباکو سے پرہیز کیجیے
سگریٹ نوشی کے نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اُسے پینے کے ایک گھنٹے بعد تک انسان کا بلڈ پریشر 10ایم ایم ایچ جی تک بڑھا رہتا ہے۔ گویا جو شخص مسلسل سگریٹ نوش کرے، وہ مسلسل ہائپرٹینشن کا شکار رہتا ہے۔ سو اس مرض میں مبتلا حتی الامکان سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں۔
(6)کیفین کا استعمال گھٹائیے
بلڈپریشر بڑھانے میں کیفین کے کردار پر تحقیق جاری ہے۔ دراصل کیفین کے حامل مشروبات پینے سے دفعتہً ہمارا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، لیکن یہ اثر بعض مرد و زن میں عارضی رہتا ہے۔ جن لوگوں میں کیفین والا مشروب پینے سے بلڈ پریشرمسلسل بڑھا رہے، تو وہ اس سے پرہیز کریں۔
(7)ذہنی و جسمانی دبائو(Stress)سے بچییے
آج کی تیز رفتار اور تھکا دینے والی زندگی میں انسان ذہنی و جسمانی دبائو سے بچ نہیں پاتا۔ مسائل اور پریشانیاں اُسے گھیرے رہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ دبائو بلڈ پریشر بڑھا کر انسان کو بیمار کر سکتا ہے۔ اس لیے سعی کیجیے کہ ذہنی و جسمانی دبائو کم سے کم آپ کو متاثر کرے۔
دبائو کم کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ مثلاً کوئی مزاحیہ ڈراما یا فلم دیکھیے، پُرخلوص دوست سے باتیں کیجیے۔ صبح کھلی فضا میں گہرے سانس لیجیے۔ اہل خانہ سے خوش گپیاں کیجیے۔
نماز پڑھنا بھی دبائو کم کرنے کا سہل طریقہ ہے۔ دورانِ نماز خدا کو یاد کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔ پھر قیام، رکوع اور سُجُودسے ورزش ہوتی اور خون کی روانی تیز ہوجاتی ہے۔ سو بصورت نماز رب کریم کی عنایت سے بھرپور فائدہ اُٹھائیے۔
(8)کام کو سر پر سوار نہ کیجیے
بعض لوگ روزانہ 15تا 18گھنٹے کام کرتے ہیں۔ یہ جسم پر حد سے زیادہ بار ڈالنے والی بات ہے۔ اس کثرتِ کار کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ بلڈ پریشر بڑھا دیتا ہے۔ سو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 48گھنٹے ہی کام کیجیے۔ :


کیا آپ کی نظر کمزور ہورہی ہے?


کیا آپ کی نظر کمزور ہورہی ہے?

امریکن آپٹو میٹرک ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا کے تقریباً اڑھائی کروڑ افراد بڑھتی عمر اور سفید موتیے وغیرہ جیسے امراض کی وجہ سے اندھے پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ فوٹو : فائل

مشاہدے اور تجربے کے بعد یہ حقیقت واضح ہوئی ہے کہ عام طور پر ایک تندرست انسان کی نظر 40 سال کی عمر کے بعد کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کے بعد چشمے یا لینز کی ضرورت پڑتی ہے۔ بعض افراد کی دور اور بعض کی نزدیک کی نظر میں کمی بیشی ہوتی ہے۔

تمام لوگوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ساری زندگی نظر درست اور 6×6 ہی رہے مگر ایسا ممکن نہیں ہے۔ ہاں ایسا ممکن ہے کہ خوراک اور مناسب احتیاط کے ذریعے نظر کی کمزوری کے اسباب کو مزید پیچھے دھکیل دیا جائے۔

امریکن آپٹو میٹرک ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا کے تقریباً اڑھائی کروڑ افراد بڑھتی عمر اور سفید موتیے وغیرہ جیسے امراض کی وجہ سے اندھے پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر افراد کی عمر 55 برس سے زائد ہے۔ یہ اندھا پن یا انتہائی کمزور بصارت آکسیڈیشن اور Inflamation جیسے عوامل کی وجہ سے ہوتی ہے۔

ریسرچ نے یہ ثابت کیا ہے کہ وٹامن سی، وٹامن ای، زنک، اومیگا تھری، فیٹی ایسڈز، لیوٹن اور زیاکسنتھن اجزاء کی حامل سبزیاں اور پھل عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آنکھوں اور بصارت کو لاحق ہونے والے امراض سے محفوظ رکھتے ہیں۔ آج ہم آپ کو کچھ ایسی سبزیوں اور پھلوں سے متعارف کرواتے ہیں کہ جن کے خوراک کے ساتھ باقاعدہ استعمال سے نہ صرف آپ کی بصارت تادیر درست رہے گی بلکہ آپ کی آنکھیں مختلف امراض چشم سے بھی محفوظ رہیںگی۔

-1 بند گوبھی (Kale):
بند گوبھی ایک انتہائی مفید سبزی ہے جس میں کینسر کے خلاف مدافعت کرنے والے وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ اس کو بطور سلاد، پھلوں کے ساتھ اور چپس وغیرہ کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک تو کینسر کے خلاف انتہائی کارآمد ہے جبکہ آنکھوں کے امراض اور بصارت کی کمزوری کو بھی رفع کرتی ہے۔

-2 مکئی (Corn):

یہ ایک ایسی نعمت خداوندی ہے کہ جس کو کئی طریقے سے کھایا جاسکتا ہے۔ مثلاً ابال کر، آگ پر بھون کر، ہنڈیا میں پکا کر وغیرہ وغیرہ۔ اس میں موجود لیوٹین اور زیاکسنتھن بصارت اور امراض چشم کے خلاف مؤثر ہتھیار ہیں۔ اس کو یخنی اور سوپ وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

-3 پالک (Spinach):

پالک ایک صحت بخش اور ذائقہ دار سبزی ہے۔ اس کو علیحدہ یا گوشت میں ملاکر پکایا جاتا ہے۔ اس میں بھی لیوٹن اور زیا کسنتھن کی قابل ذکر مقدار موجود ہوتی۔ اس کو بطور سلاد اور سینڈوچ کے ساتھ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر اسے پکا کر کھایا جائے تو اس میں موجود صحت بخش اجزاء زیادہ زود ہضم ہوجاتے ہیں۔

-4 گوبھی (Broccoli):

گوبھی یا شاخ دار گوبھی وٹامن سی سے بھر پور ہوتی ہے جبکہ بصارت کو جلا بخشنے والے اور آنکھوں کے امراض سے محفوظ رکھنے والے اجزاء لیوٹن اور زیاکسنتھن بھی اس میں قابل ذکر حد تک موجود ہوتے ہیں۔اس کو آپ بطور سبزی پکا بھی سکتے ہیں، اسے طعام کے ساتھ بطور سلاد بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ ابال کریا فرائی کرکے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

-5 انڈے (Eggs) :

صحت کیلئے انڈے کی اہمیت سے کس کو انکار ہے۔ دنیا کے زیادہ تر انسان ناشتے میں انڈا ضرور استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ توانائی سے بھر پور ہوتا ہے۔ انڈے میں لیوٹن، وٹامن ای اور اومیگا3- جیسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو بالعموم صحت بخش اور بالخصوص آنکھوں کی صحت کیلئے بنیادی کردار کے حامل ہیں۔ فارمی انڈوں کی نسبت دیسی انڈوں میں مندرجہ بالا غذائی اجزاء زیادہ نسبت میں پائے جاتے ہیں۔ روزانہ ایک انڈے کا استعمال آپ کے جسم کو توانائی اور بیماریوں کے خلاف مدافعت فراہم کرتا ہے۔

-6 سنگترہ (Orange):

سنگترہ، مالٹا، کینو، مسمی وغیرہ ایک ہی خاندان کے پھل ہیں۔ ان میں وٹامن سی بکثرت پایا جاتا ہے جو آنکھوں کے ٹشوز کی نشوونما اور صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بصارت کی کمزوری دور کرنے کیلئے یہ ایک تریاق کی سی حیثیت رکھتا ہے۔

گردوں کا کام افعال اور احتیاط


گردوں کا کام افعال اور احتیاط
خالق کائنات نے انسان کودوگردوں سے نوازاہے جو نصف دائرے کی شکل کے دو عضو جودراصل غدود ہیں‘11ویں پسلی کے نیچے پیٹ کی طرف کمرمیں دائیں اور بائیں جانب واقع ہیں۔جوانی اور تندرستی کی حالت میں گردہ تقریباً11سم لمبا‘ 5سے 7سم چوڑا اور2.5سم موٹاہوتاہے۔ ہرگردے میں 10لاکھ سے زیادہ نالی دار غدودیا نیفران Nephranیافلٹرہوتے ہیںجومسلسل پیشاب تیارکر کے ان سے لگی نالیوںUretersکے ذریعے قطرہ قطرہ مثانے میں بھیجتے رہتے ہیں‘جہاں یہ جمع ہوتارہتاہے اورجسے حضرت انسان وقفوں سے ارادی طورپرخارج کرتے رہتے ہیں۔
انسانی جسم میں گردوں کے افعال کیاہیں؟
گردے انسانی جسم کیلئے وہی کام کرتے ہیں جو ایک ماہرحساب دان ایک کمپنی کیلئے کرتاہے۔ 24گھنٹوں کے دوران گردوں میں سے 1500لیٹرخون گزرتاہے جس میں سے تقریباً180لیٹرپیشاب کشید(فلٹر)ہوتاہے۔گردے اس میں سے دولیٹرپیشاب خارج کرتے ہیں جوکہ فاسد مادوں اور غیرضروری اشیاپرمشتمل ہوتاہے۔ گردوںکی دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے ۔گردے کی بیماری روزمرہ زندگی کی رفتارکی جان نکال لگا سکتی ہے ، لیکن کھانے پینے کی عادتیں بدل کر مشکلات پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے ۔ گردے کی بیماری میں اگر پروٹین ، سوڈیم ، پوٹاشیم ، کیلشیم ، فاسفورس اور مائع چیزوں کا صحیح مقدار میں استعمال کیا جائے تو گردے کے خراب ہونے کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے ۔ماہرین کے بقول اسٹیج 1 سے لے کر 3 تک کے مریض کس طرح اپنے کیٹرنگ کو کنٹرول کر گردے کے نقصان کو کم کر سکتے ہیں:
گردے کی بیماری اس معنی میں خاص ہے کہ اس کے لاحق ہونے کے بعد جسم کو غذائیت بہم پہنچانے والے مادے نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں ۔ ایسی صورت میں مریضوں کیلئے مشکل پیش آتی ہے کہ کیا کھائیں کیا نہ کھائیں ۔
پروٹین:
کیوںہے ضروری : پروٹین کی خوراک کو سمجھنے کیلئے ٹیسٹ سے اپنے GRF کا پتہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے ۔ GRF یعنی گلومیرولرفلٹریشن ریٹ جسے گردے کی فلٹر کرنے کی صلاحیت بھی کہا جاسکتا ۔
GRF 90 یا 90 سے زیادہ ملی / منٹ : 0.7-0.8 گرام پروٹین / کلو وزن کے حساب سے لیا جا سکتا ہے ۔
GRF 60-89 ملی / منٹ : 0.3-0.6 گرام / کلو وزن کے حساب سے لیا جا سکتا ہے ۔
GRF 30-59 ملی / منٹ : 0.55-0.6 گرام / کلو وزن کے حساب سے لیا جا سکتا ہے ۔
GRF 25 ملی / منٹ سے بھی کم : 0.3-0.4 گرام / کلو وزن کے حساب سے لیا جا سکتا ہے ۔
ویسے ، مریضوں کو کیٹو ایسڈ بھی دیئے جاتے ہیں ، جس میں نائٹروجن نہیں ہوتا ۔ یہ جسم میں جا کر پروٹین کی کمی تو دور کرتے ہیں لیکن نائٹروجن ویسٹ نہیں بناتے ۔ اس کی وجہ سے گردے پر زیادہ کام کرنے کا دباؤ نہیں پڑتا۔ اس کے ساتھ ہی کیٹو ایسڈ میں کیلشیم سلٹ بھی ہوتا ہے ، جو جسم کو کیلشیم دیتا ہے ۔ یہ کیلشیم فاسفیٹ کے ساتھ مل کر ایک کمپلیکس تیار کرتا ہے ، جسے فضلہ کے ساتھ جسم باہر نکال دیتا ہے ۔ اس سے جسم میں فاسفیٹ کی مقدار بھی قابو میں رہتی ہے اگر کوئی مریض ڈائلسس پر ہے ، تو اس سے زیادہ پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے ، کیونکہ ڈائلسس سے جسم کے پروٹین کا نقصان بھی ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں 1.2-1.4 گرام پروٹین / کلو وزن کے حساب سے پورے دن میں لیں ۔
کاربوہائیڈریٹس
کیوں ضروری : کسی مریض کو کتنی کیلریز لینی ہیں ، یہ اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ اس کی عمر کیا ہے اور وہ دن میں کتنا کام کرتا ہے ۔
60 سال سے کم عمر کے ہیں تو ایک دن میں 35 کلو کیلریز / کلو وزن کے حساب سے خوراک لیں ۔
60 سال سے زیادہ عمر کے ہیں تو 30 کلو کیلریز / کلو وزن کے حساب سے کاربوہائیڈریٹ کی ڈاٹ لیں ۔
کسی بھی اسٹیج کے مریض کیلئے کاربوہائیڈریٹس کی 6-11 سرونگس لی جا سکتی ہیں ۔
( 1 سرونگ = 1 سلائسین روٹی، 1 روٹی ، 1 / 2 کپ چاول ، 1 / 2 کپ پاستا یا 4 بغیر نمک کے کریکرس کے ۔ )
فاسفیٹ:
کیوںہے ضروری : جب فاسفیٹ کی مقدار خون میں زیادہ ہو جاتی ہے تو جسم میں کھجلی ہوتی ہے اور ہڈیوں میں کیلشیم کا نقصان ہونے لگتا ہے ، جسے آ سٹیوپوروسس کہتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی زیادہ فاسفیٹ دل کی آرٹریز پر برا اثر ڈالتا ہے ۔ جسم میں فاسفیٹ کی مقدار کو قابو میں رکھنے کیلئے فاسفیٹ باڈر بہت مدد کرتے ہیں ۔ وہ جسم میں ہی فاسفیٹ کو باندھ کر فضلہ کے ساتھ جسم سے باہر نکال دیتے ہیں ۔
اسٹیج 1 سے اسٹیج 3 تک کے ڈائلسس نہ لینے والے مریض 600 1000- ملی گرام / دن فاسفیٹ لے سکتے ہیں ۔
جو مریض ڈائلسس پر ہوتے ہیں انہیں 800-1000 ملی گرام/ دن فاسفیٹ دیا جا سکتا ہے ۔ جن کھانے کی چیزوں میں فاسفیٹ زیادہ ہوتا ہے ، وہ ہیں : دودھ ، دہی ، چیز ، گوشت ، مچھلی ،تمام اناج ، مٹر ، پھلیاں ، کیلا اور گری والے میوے ۔ اس لئے انہیں کم مقدار میں لیں ۔
ساتھ ہی کچھ چیزوں کوکھانے پینے سے اجتناب برتیں : براؤن بریڈ ، براؤن چاول ، شراب ، چاکلیٹ ، سویا بین ، راجما ، رنگین سوڈا
کیلشیم:
کیوںہے ضروری : ہڈیوں کو توانا رکھنے کیلئے اور اسٹیوپوروسس سے بچنے کیلئے مناسب مقدار میں کیلشیم لینا بہت ضروری ہے ، لیکن بدقسمتی کہ بات ہے کہ جن کھانے کی جن اشیا میں کیلشیم ہوتا ہے‘ ان میں پروٹین اور فاسفیٹ بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ ایسے میں کیلشیم کی مقدار کو بھی احتیاط سے لینا ضروری ہے ۔
کسی بھی حال میں 2000 ملی گرام/ دن سے زیادہ کیلشیم نہ لیں ۔
ان کھانے کی چیزوں کو بھی محدود مقدار میں ہی لیں ‘ دودھ ، دہی ، انڈے ، مچھلی ،ہرے پتوں والی سبزیاں، مٹر ، بینس ۔
سوڈیم:
کیوں ضروری : اسٹیج 1 سے اسٹیج 3 کے مریض سوڈیم کی مقدار ایک دن میں 1500-2000ملی گرام/چوتھائی چھوٹا چمچہ سے زیادہ نہ لیں ۔
جو ڈائلسس پر ہیں ، وہ 2000-2500 مگرا سوڈیم فی دن لے سکتے ہیں ، مطلب نصف چھوٹے چمچہ کے برابر ۔
کچھ باتوں کا خاص خیال رکھیں -
1 ۔ کھانے کومزیدار بنانے کی غرض سے نیبو ، روزمیری یا گل منہدی ، اجوائن ، لہسن وغیرہ کا استعمال کریں ۔
2 ۔ لیبل دیکھ کر ایسی کھانے کی چیزیں خریدیں جن میں سوڈیم کی مقدار 100 ملی گرام / سرونگ سے کم ہو ۔
3 ۔ ایسا کھانا کھائیں جس میں نیچرل سوڈیم بھی کم ہو ۔
4 ۔ جن غذاؤں کو کھانے کی فہرست سے باہر کرنا ہے ،ان میں ڈبہ بند کھانے کی چیزیں ، سویا ساس ، چپس ، نمکین ، چیز ،کیچ اپ ، آچار اور چٹنی شامل ہیں۔
پوٹاشیم:
کیوں ہے ضروری : اس کی زیادہ مقدار دل کی دھڑکنوں کو فاسد کر کے برا اثر ڈال سکتی ہے ۔
اسٹیج 1 سے اسٹیج 3 تک کے مریض 1500-2000 ملی گرام/ دن اور ڈائلسس کے مریض 2000-2500 ملی گرام/ دن پوٹاشیم لے سکتے ہیں ۔
کھانے پینے کی جو چیزیں نہیں لینی ہیں ، ان میںکیلے، سنترا ، کشمش ، کیوی ، ٹماٹر ، پپیتا ، خربوزہ ، بینس ، راجما ، گری والے میوے اور پھلوں کے رس شامل ہیں۔
سبزیوں میں بھی نیچرل کیلشیم ہوتا ہے ۔ اس سے بچنے کیلئے سبزیوںکو چھوٹے ٹکڑوںمیں کاٹ کر پانی میں 2 گھنٹے تک بھگوئیںاور پھر پانی سے دھو کر پکائیں ۔
فلوڈس:
کیوں ہے ضروری : گردے جب کام کرنا کم کر دیتے ہیںتو اس وقت پیشاب کم بنتا ہے ۔ ایسی صورت میںفلوڈس کی ضرورت اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ اس شخص کو کتنا پیشاب آ رہا ہے ۔ اگر پیشاب صحیح مقدار میں آ رہا ہے اور جسم میں سوجن نہیں ہے تو اسٹیج 1 سے لے کر اسٹیج 3 تک کی صورت میں عام طور پرفلوڈس کو کم کرنے کہ ضرورت نہیں پڑتی ۔ جو لوگ ڈائلسس پر ہوتے ہیں ، انہیںفلوڈس کی مقدار کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے ۔
ایک دن میں 4-5 کپ سے زیادہ فلوڈس نہ لیں اور ان باتوں کا دھیان رکھیں :
1 ۔ فلوڈس کی مقدار کو درست رکھنے کیلئے اپنا وزن کرواتے رہیں ۔ 2 ڈائلسس کے درمیان 1-2 کلو سے زیادہ وزن نہیں بڑھنا چاہئے ۔
2 ۔ جو کھانے کی چیزوں کمرے کے درجہ حرارت پر مائع ہوتی ہیں ، ان میں بھی فلوڈ ہے جیسے سوپ ، آئس کریم وغیرہ ۔
3 ۔ یاد رکھیں کہ پھل اور سبزیوں میں اپنا پانی بھی ہوتا ہے ۔
فلوڈ کنٹرول کرنے کی مہم میں اگر زیادہ پیاس لگے تو ان اقدامات کو آزمائیں :
1 ۔ چھوٹے چھوٹے آئس کے گولے چوسیں
2 ۔زیادہ نمکین چیزیں نہ لیں
3 ۔ بار بار پانی کے ساتھ کلی کریں
4 ۔ نیبو کینڈی یا بغیر چینی کا چیونگ گم منہ میں رکھیں
5 ۔ چھوٹے کپ یا گلاس استعمال کریں
گردے خراب ہونے کی 5 اسٹیج :
اسٹیج 1:حالت : 90 فیصد یا اس سے زیادہ کام کرنے کے قابل ۔
علامات : پیشاب میں کچھ خرابی کا علم ہوتا ہے ، لیکن کریٹنن اور جی ایف آریاگلومیرلرفلٹریشن ریٹ عام ہوتا ہے ۔ جی ایف آرسے پتہ چلتا ہے کہ گردے کتنا فلٹر کر سکتا ہے ۔
احتیاط : پریشانی کی شناخت کرکے دواؤںسے علاج کیا جا سکتا ہے ۔
اسٹیج 2:حالت : 60 سے 89 فیصد تک کام کرنے کے قابل ۔
علامات : جی ایف آر 90-60 کے درمیان میں ہوتا ہے ، لیکن کریٹنن عام ہی رہتا ہے ۔ اس اسٹیج میں بھی پیشاب کی جانچ میں پروٹین زیادہ ہونے کے اشارہ ملنے لگتے ہیں ۔ شوگر یا ہائی بی پی رہنے لگتا ہے ۔
احتیاط : کریٹنن لیول ، بلڈ پریشر اور عام صحت کی معلومات حاصل کرکے گردے پر پڑنے والے اور برے اثرات کو روکا جا سکتا ہے ۔
اسٹیج 3:حالت : 30 سے 60 فیصد تک کام کرنے کے قابل
علامات : جی ایف آر 60-30 کے درمیان میں ہونے لگتا ہے ، وہیں کریٹنن بھی بڑھنے لگتا ہے ۔ اسی اسٹیج میں گردے کی بیماری کی علامات سامنے آنے لگتے ہیں ۔ انیمیا ہو سکتا ہے ، بلڈ ٹیسٹ میں یوریا زیادہ آ سکتا ہے ۔ جسم میں کھجلی ہوتی ہے ۔ یہاں مریض کو ڈاکٹر سے مشورہ لے کر اپنے طرز زندگی کو بہتر بنانا چاہئے ۔
احتیاط : اس اسٹیج پر آنے والے مریض کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ، کیونکہ گردے کا نقصان خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہوتا ہے ۔
اسٹیج 4:حالت : گردے 15 سے 29 فیصد ہی کام کرنے کے قابل ۔
علامات : جی ایف آر 30-15 کے درمیان ہوتا ہے اور کریٹنن بھی 2-4 ملی میٹر / کے درمیان ہونے لگتا ہے ۔ اس میں مریض جلدی تھکنے لگتا ہے ۔ جسم میں سوجن آ سکتی ہے ۔ یہ وہ مرحلہ ہے ، جب مریض کوخوراک اور طرز زندگی میں زبردست بہتری لانا چاہئے ،بصورت دیگر ڈائلسس یا ٹراسپلانٹ کی اسٹیج جلدی آ سکتی ہے ۔
احتیاط : ڈائلسس ہونا شروع ہو سکتا ہے ۔ اس لئے اس کیلئے پلان کریں اور بہتر سہولت انتخاب کریں ۔
اسٹیج 5:حالت : 15 فیصد سے بھی کم کام کرنے کے قابل
علامات : جی ایف آر 15 سے کم ہو جاتا ہے اور کریٹنن 4-5 یا اس سے زیادہ ہو جاتا ہے ۔ مریض کیلئے ڈائلسس یا ٹرانسپلاٹ ضروری ہو جاتا ہے ۔
احتیاط : رینل تبدیلی تھیرپی کا آغاز ، ڈائلسس یا ٹرانسپلانٹ کا وقت
تہوار پر اداس نہ ہوں:
اگر میٹھا کھانے کیلئے دل بیچین ہو تو کم مقدار میں لے سکتے ہیں جیسے کیک ، گلاب جامن ، گاجر کا حلوہ ؛لیکن کاجو برفی ، بادام برفی ، پستہ برفی یا کوئی بھی دیگر گری والے میووں پر مشتمل مٹھائی نہ لیں ۔


بادام

بادام
قدیم مصر اور یونان میں بادام کا استعمال صرف بادشاہوں اور امرا تک محدود تھا۔ عوام کی اس تک رسائی نہ تھی کیونکہ اسے متبرک میوہ کا مقام حاصل تھا۔ یونان کے مشہور حکیم ثافرسطس کی تالیفات میں بادام کا اکثر مقامات پر ذکر ملتا ہے۔ مصری آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے وقت ماہرین کو ایسی صندوقچی ملی جس میں بادام محفوظ تھے، چنانچہ انھیں عراق کے عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھ دیا گیا۔ بادام کا تذکرہ انجیل میں بھی آیا ہے۔عباسی خلیفہ معتصم بااللہ نے سپین کے عیسائی حکمران فرڈی نینڈ کو تحفے کے طور پر بادام کی گریوں سے بنی شطرنج بھیجی تھی۔ بادام کو قدیم مسلمان مٹھائیوں اور حلوئوں کے علاوہ گوشت کی بعض اقسام میں استعمال کرتے تھے۔ برصغیر پاک وہند میںبادام کی پسندیدگی کا یہ عالم ہے کہ بادامی آنکھیں ہمارے شعرا کا محبوب و پسندیدہ موضوع ہے۔ بادام کو اردو ادب میں بطور تشبیہات استعمال کیا گیا۔ بادام صحت کے ساتھ ساتھ حسن کا بھی محافظ ہے۔ چہرے اور جلد پر اس کے تیل کی مالش سے نکھار اور چمک پیدا ہوتی ہے،اسی لییدنیا بھر کی خواتین اپنے حسن کی افزائش کے لیے روغنِ بادام کا استعمال کرتی ہیں۔ مختلف فارمولوں میں روغنِ بادام کا استعمال عام ہے۔ ذیل میں وہ طریقے درج ہیں جن کے ذریعے آپ بادام سے حسن میں اضافہ کرسکتی ہیں۔
بھورے تِل
اگر چہرے پر بھورے رنگ کے تل ہوں تو روغنِ بادام میں لیموں کا رس ملا کر چہرے پر لگائیں۔ ٹی ٹری کریم بھی لگائیے۔ اس نسخے کے لگاتار استعمال سے جِلد تلوں سے پاک ہو جائے گی۔
ٹی ٹری کریم کے لئے اس نمبر پر رابطہ کرین 03337575072
سرخی مائل بال
اگر آپ کے بال سرخی مائل ہیں تو بالوں کو چائے کے پانی سے دھوئیں اور سکھا کر روغن بادام لگائیں۔ ان کا رنگ اور زیادہ خوبصورت ہوجائے گا۔ خشک بال
خشک بالوں کے لیے روغن بادام بہترین کنڈیشنر ہے۔ شیمپو کرنے سے پہلے سرپر روغن بادام کی مالش کریں، بال مضبوط اور چمک دار ہوں گے۔
لمبے بال
اگر ہفتے میں ایک بار روغن بادام اور گری کا تیل ملا کر بالوں کی مالش کریں تو بال لمبے ہو جاتے ہیں۔ تابناک چہرہ
جو خواتین اپنے چہرے پر باقاعدگی سے روغن بادام کی مالش کرتی ہیں، ان کی جلد کبھی ماند نہیں پڑتی۔ گلابوں جیسی رنگت و شگفتگی
اگر آپ چاہتی ہیں کہ چہرہ کھلتے گلاب اور سیب جیسی سرخی لیے ہوئے ہو تو گینوزی ہربل شیمپو استعمال کیجیے جسے بنانے کا فارمولا یہ ہے
روغن بادام، روغن زیتون، شہد، گینوزی ہربل شیمپو
یہ اشیا حسب ضرورت لے کر آمیزہ بنائیے۔پھر اس کا ماسک ہفتے میں 2 بار استعمال کریں۔ بالوں میں گانٹھیں
اگر بالوں میں بہت زیادہ گانٹھیں ہوں تو بال سلجھانا بہت مشکل کام لگتا ہے۔ اس مسئلے سے نجات کے لیے روغن بادام، روغن زیتون اور روغن ارنڈی کا ہم وزن آمیزہ بنا کر استعمال کریں،یہ آزمودہ نسخہ ہے۔ بالوں کی مضبوطی
روغن بادام، دودھ اور انڈہ بالوں کی مضبوطی کے لیے بہترین غذائی اشیا ہیں۔ آپ ہفتے میں 2 مرتبہ انڈے اور دودھ سے بال دھوئیں اور روزانہ رات کو بادام روغن سر پر ملیں، اس سے بال مضبوط نیز گرنا بند ہو جائیں گے۔ نازک مقامات پر سوزش
ہیئر ریموونگ پائوڈر اور کریمیں لگانے سے جلدکے نازک مقامات پر سوزش ہو جاتی اور داغ پڑ جاتے ہیں۔ اگر کریم استعمال کرنے کے بعد جلد پر روغن بادام لگایا جائے تو اس شکایت کا ازالہ ہوجائے گا۔ شبینہ کریم
سردیوں کے خشک موسم میں اگر آپ روغن بادام اور بالائی کا آمیزہ بطور شبینہ کریم استعمال کریں تو جلد تروتازہ اور شگفتہ ہوجاتی ہے۔
ہونٹوں کی رنگت
اگر ہونٹوں کی رنگت سیاہی مائل ہو گئی ہو تو پریشان نہ ہوں۔ سوتے وقت روغن بادام میں عرق لیموں ملا کر ہونٹوں پر لگائیں۔
چہرے کی چمک
چہرے پر چمک لانے کے لیے عرق گلاب سے منہ دھوئیے۔اس کے بعد رات کو روغن بادام کی مالش کرکے سوجائیے۔ چہرے پر چھائیاں
یہ خواتین کی عام شکایت ہے۔ اگر آپ اس سے چھٹکارا چاہتی ہیں تو روغن بادام کی اکثر مالش کیا کریں۔ گھٹائوں جیسے بال
اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے بال کالی گھٹائوں جیسے شاعرانہ اور کمر تک لمبے ہو جائیں تو اس کے لیے 4 ہفتوں کا کورس نہایت توجہ سے کریں:
پہلا ہفتہ :
بالوں کو دودھ اور بیسن سے دھو اور سکھا کر روغن بادام بمعہ ٹی ٹری کریم لگائیں۔
دوسرا ہفتہ :
سر کو ریٹھے کے جھاگ سے دھوئیے اور سکھا کر روغن بادام لگائیں۔
تیسرا ہفتہ :
سر کو آملے کے پانی سے دھوئیے اور سکھا کر روغن بادام لگائیں۔
چوتھا ہفتہ :
شہد اور انڈوں کا آمیزہ خوب پھینٹیں، یہاں تک کہ صابن کی طرح جھاگ ہوجائے، اسے پھر بالوں میں لگائیں۔ اس فارمولے سے بال کالے سیاہ اور لمبے ہوجائیں گے۔
چکنے بال
انڈوں(4) کی زردی اور سفیدی خوب اچھی طرح پھینٹ لیں۔ آمیزہ بالوں میں جڑوں تک لگائیں اور پھر دھو ڈالیں۔ بال سوکھنے پر سر میں روغن بادام لگائیں۔ آپ کے بالوں میں بلا کی چمک پیدا ہوگی۔
لاجواب ابٹن
بادام کے ساتھ ساتھ اس کی کھلی بھی بڑے کام کی چیز ہے، اسے معمولی سمجھ کرمت پھینکیں۔ بادام کی کھلی پائو بھر، ہلدی ایک تولہ، مجیٹھ ایک تولہ، چھڑیلہ ایک تولہ باریک پیس کر آپس میں خوب اچھی طرح یک جان کرلیں۔ یہ جلد کے لیے نہایت عمدہ ابٹن ہے۔ اس سے جلد کا کھردرا پن، بدبو دار پسینہ، داغ دھبے، جھریاں وغیرہ دور ہو کر رنگت نکھرتی اور خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس ابٹن کو آپ خود بنا کر فروخت بھی کر سکتے ہیں۔
زبردست کنڈیشنر
ایک پیالی شہد میں ایک ہی پیالی روغن بادام ملا لیں۔ ساتھ ہی کھانے والا ایک چمچہ گلیسرین اور سرکہ ٹی ٹری کریم ملا کر اچھی طرح پھینٹ لیں۔ پھر سر میں لگا کر پندرہ بیس منٹ بعد دھو ڈالیں۔ یہ کنڈیشنر ہر قسم کے بالوں کے لیے مناسب ہے

چند سستے علاج

چند سستے علاج
1 ۔ پٹھوں کی سوزش اور جوڑ درد کیلئے ہنڈیا میں روزانہ 2 چائے کے چمچے کُتری ہوئی ادرک یا ایک چائے کا چمچہ خُشک ادرک کا سفوف ڈال کر کھانے سے 60 فیصد افاقہ ہوتا ہے۔
2 ۔ دانت میں درد سے عارضی سکون پانے کیلئے درد والے دانت پر ایک الونگ رکھ کر آہستہ آہستہ چبائیے 2 گھنٹہ تک آرام رہے گا۔
3- کان میں درد کیلئے لہسن کے تیل کے دو قطرے صبح شام 5 دن کان میں ڈالنے سے کان درد سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔
4- آنتوں کی سوزش ۔ پیٹ درد اور بل پڑتے ہوں تو کورٹی سٹیرائیڈز کی بجائے ہفتے میں ایک کیلو گرام مچھلی کھایئے ۔ افاقہ ہو گا ۔ مچھلی میں سالمن ۔ سارڈینز ۔ ٹُونا ۔ میکریل ۔ ٹراؤٹ اور ھَیرِنگ بہتر ہیں۔
5- خواتین کو قدرتی نظام کے تحت ماہانہ تکلیف سے گذرنا پڑتا ہے روزانہ 2 کپ قدرتی دہی کھانے سے ان کی تکلیف میں 48 فیصد کمی آ سکتی ہے۔
6- روزانہ پسی ہوئی ہلدی چائے کا چوتھائی چمچہ ہنڈیا میں ڈال کر پکا کھانا کھانے سے دائمی درد میں افاقہ ہو گا ۔ یہ نسخہ اسپرین ۔ بروفین یا ناپروکسن کھانے سے بہتر ہے۔
7- روزانہ ایک بھرا ہوا کپ انگور کھانے سے کمر کے درد میں افاقہ ہوتا ہے ۔
8- سُہنجنا یا مُنگا کی جڑ سے sinusitis کا علاج ہو سکتا ہے ۔ ایک چائے کا چمچہ صبح شام ایسے ہی یا گوشت پر یا سینڈ وِچ پر لگا کر جب تک آرام نہ آئے کھاتے ریئے۔
9۔ اگر ٹانگ کی رگ چڑھ جاتی ہو جسے انگریزی میں cramps کہتے ہیں جو کہ بہت تکلیف دہ ہوتی ہے تو روزانہ 250 ملی لیٹر یعنی چوتھائی لیٹر ٹماٹروں کا رَس پیجئے۔
10- آدھے سر کی درد کا علاج: وہ نسخہ یہ ہے ۔ برابر مقدار میں سفید زیرہ اور سؤنف علیحدہ علیحدہ پیس کر اچھی طرح ملا لیجئے ۔ اس کا ایک چائے کا بھرا ہوا چمچہ ہر کھانے کے بعد 6 ماہ تک کھایئے ۔