Saturday, 8 March 2014

سبزیاں اور انکے فوائد


سبزیاں اور انکے فوائد
بند گوبھی

اس سبزی کو ’کرم کلہ‘ اور ’پتاگو‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ پتوں پر مشتمل ترکاریوں میں انتہائی قیمتی اور شاندار غذائی نعمت ہے۔ اسے اس کی خوش ذائقہ لمبی دستوں کے لیے اگایا اور دنیا بھر میں کھایا جاتا ہے۔ یہ پٹھوں کی تعمیر کرتی ہے اور بدن کی صفائی کے لیے عمدہ ہے۔ بند گوبھی کی کئی اقسام ہیں۔ ان کی جسامت، شکل اور رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ پتوں کا سائز اور ساخت بھی مختلف ہوتی ہے۔ بند گوبھی انسانی تاریخ کے طلوع سے بھی پہلے کاشت ہوتی رہی ہے۔ قدیم یونانی اسے اہم سبزی قرار دیتے تھے۔ رومیوں میں بھی یہ بہت مقبول تھی۔ رومن اسے ان علاقوں میں بھی متعارف کراتے رہے جہاں وہ قبضہ کرتے۔ بند گوبھی کا اصل وطن جنوبی یورپ اور بحیرہ روم کے علاقے ہیں۔ اس کی کاشت کے بڑے بڑے علاقے شمالی ہندوستان، انڈونیشیا اور جزائر غرب الہند ہیں۔
کیمیاوی ہیئت:
بند گوبھی اعلیٰ درجے کے معدنی اجزائ، حیاتین اور کھاری نمکیات کی وجہ سے زبردست اہمیت رکھتی ہے۔ اسے کچی حالت میں بطور سلاد بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو بھاپ میں پکانے کے علاوہ ابالا اور بھونا جاتا ہے۔ اسے کچا استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اسے پکانے سے اس کی قیمتی غذائی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ کچی بند گوبھی آسانی سے ہضم ہوجاتی ہے جب کہ پکانے پر اتنی زود ہضم نہیں رہتی۔ اسے جتنا پکایا جائے، یہ اسی قدر ثقیل ہوجاتی ہے اور ہضم ہونے میں دیر لگاتی ہے۔ یہ خامی دور کرنے کے لیے بندگوبھی کو پکاتے ہوئے اس میں تھوڑی سی ہینگ ڈال لیتے ہیں۔ سبز پتوں والی بند گوبھی خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اس میں وٹامن اے کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔
طبی تاثیر و افادیت:
بند گوبھی میں جسمانی کثافت صاف کرنے اور مٹاپا دور کرنے کی بہت صلاحیت پائی جاتی ہے۔ اس کے انتہائی قیمتی اجزاء میں سلفر اور کلورین سرفہرست ہیں۔ آیوڈین بھی بڑے تناسب کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ سلفر اور کلورین کا امتزاج معدے اور آنتوں کی بافتیں صاف کرنے کا سبب بنتا ہے۔ لیکن یہ صرف اسی وقت اثرانداز ہوتا ہے جب بندگوبھی کو کچی حالت میں نمک کے بغیر کھایا جائے۔ تاہم بندگوبھی یا اس کا رس کبھی غذا کا بڑا حصہ مت بنائیں۔ اسے ہمیشہ دیگر غذائوں کے ساتھ کم مقدار میں استعمال کریں۔ اس کا اضافی استعمال تھائی رائیڈ کے مرض گلہڑ کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کی کم مقدار اور کڑوا رس ہی غذائیت بخش اور شفا بخش ہیں۔ انفیکشن، السر اور نظام ہضم کی دیگر خرابیوں کا مؤثر علاج ہیں۔
اُم الامراض قبض:
عملِ انہضام کے بعد بندگوبھی کا ایسا مواد انتڑیوں میں جاپہنچتا ہے جو جذب نہیں ہوتا۔ وہ پھر انتڑیوں کو اجابت کرنے کے لیے متحرک کردیتا ہے۔ چنانچہ کچی بند گوبھی کا استعمال قبض دور کرنے کے لیے معاون ہے۔ یہ کوئی منفی اثر پیدا کیے بغیر جلد ہی عمل درآمد کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے جب کچی گوبھی کھائیے تو تھوڑا سا نمک، کالی مرچ اور لیموں کا رس باریک کٹی ہوئی گوبھی میں شامل کرلیں۔
معدے کا السر:
چھوٹی آنت کا السر دور کرنے کے لیے بند گوبھی کا رس پیا جائے تو معجزاتی اثرات سامنے آتے ہیں۔ اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر گانٹ مسناہے کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے متعدد مریضوں کے معدے کا السر بند گوبھی کے رس سے مندمل کیا ہے۔ اس رس میں موجود انٹی السر جزو یعنی وٹامن یو (U) مذکورہ شافی عمل کا ذریعہ بنتا ہے۔ اگر بند گوبھی کو پکایا جائے تو یہ وٹامن ضائع ہوتا ہے۔ السر کے علاج کے لیے 90 سے 180 گرام بند گوبھی کا رس روزانہ تین دفعہ کھانے کے بعد پینا چاہیے۔ رس کو زیادہ خوش ذائقہ بنانے کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں اجوائن کے سبز پتوں اور شاخوں کا رس، انناس، ٹماٹر یا کسی ترش پھل کا رس شامل کرلیجیے۔ اس مشترکہ رس کو ٹھنڈا کرلیا جائے تو ذائقہ مزید بہتر ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ مشروب زیادہ مقدار میں نہ پیا جائے۔ مناسب طریقہ یہ ہے کہ وقفوں کے ساتھ اسے دن بھر پیا جائے۔ اگر آپ کے پاس جوسر یا بلینڈر نہ ہو تو کچی بند گوبھی دن میں چار مرتبہ چبا کر کھالیں۔
موٹاپا/ فربہی:
حالیہ تحقیق سے ثابت ہے کہ بند گوبھی میں ایک مادہ، ٹیرٹرانک ایسڈ پایا جاتا ہے جو شکر اور کاربوہائیڈریٹس کو چربی میں تبدیل ہونے سے روکتا ہے۔ یہ وزن گھٹانے کے لیے بھی بہت اچھی غذا ہے۔ اس کا سلاد استعمال کرنا، دبلا رہنے کے لیے آسان ٹوٹکا ہے۔ بند گوبھی کے ایک سو گرام میں صرف 27 حرارے توانائی ہوتی ہے۔ جب کہ اسی مقدار کی گندم میں 240 حرارے ہوتے ہیں۔ یوں اس میں حیاتیاتی صلاحیت تو زیادہ ہے لیکن حرارے بہت کم ملتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ معدہ بھرا ہوا ہونے کا احساس دلاتی ہے لیکن آسانی سے ہضم ہوجاتی ہے۔
جلدی امراض:
بند گوبھی کے پتّے گرم کرکے زخموں پر لگانے سے ان کا اندمال تیزی سے ہوتا ہے۔ پتوں کا یہ استعمال پیپ زدہ زخموں، آبلوں، پھٹی ہوئی جلد اور چنبل میں بھی کامیاب ثابت ہوا ہے۔ یہ جلی ہوئی جلد اور بڑے پھوڑوں میں مفید پایا گیا۔ ان مقاصد کے لیے بند گوبھی کے بیرونی گہرے سبز اور موٹے پتے زیادہ مؤثر ہیں۔ انہیں پہلے گرم پانی میں اچھی طرح دھو لیا جائے۔ پھر کسی تولیے کے ساتھ خشک کرلیں۔ اگر متاثرہ جگہ تھوڑی ہو تو پتوںکو کاٹ لیا جائے۔ پتے گرم کرکے لینن کے کپڑے پر رکھیے اور پھر اس پر نرم اونی کپڑے کا پیڈ سا بناکر رکھ دیں۔ یہ پٹی متاثرہ جلد پر کم از کم ایک دن یا دن یا رات تک رکھنا ضروری ہے۔ لیکن پتے کا رنگ تبدیل ہوجائے یا وہ مرجھا جائے تو اس کی جگہ تازہ پتا باندھ دیجیے۔ جب پتا یعنی پٹی بدلی جائے تو جلد کا متاثرہ حصہ اچھی طرح دھوکر خشک کرلینا چاہیے۔
وقت سے پہلے بڑھاپا:
بند گوبھی میں ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو انسانی بدن کو انحطاط سے بچاتے اور وقت سے پہلے بڑھاپے کی آمد روک دیتے ہیں۔ بڑی عمر والوں کے لیے یہ سبزی نہایت مفید ہے۔ اس میں پائے جانے والے طبی اجزاء خون کی نالیوں کی دیواروں پر بننے والے اجتماعات تشکیل دیتے اور تلی میں پیدا ہونے والی پتھریوں کو تحلیل کرتے ہیں۔ بند گوبھی میں پائے جانے والے وٹامن سی اور بی خون کی نالیوں کو صحت مند بناتے ہیں۔
پھول گوبھی:
یہ ایک مشہور ترکاری ہے جو سردی کے موسم میں خوب ملتی ہے۔ اس کی تین قسمیں ہیں: ایک قسم کے پتے چقندر کی طرح اور اس جیسے چوڑے اور موٹے ہوتے ہیں۔ رنگ سبز اور کچھ خاکی اور سرمئی ہوتا ہے، اس کا مزہ میٹھا اور کچھ تلخ ہوتا ہے۔ اس کے درمیان میں ایک ڈنڈی نکل کر اس پر پھول آتا ہے۔ ہمارے ہاں یہی قسم ملتی ہے۔ وہی قسم بہتر ہے جو تازہ، خوش رنگ اور نازک پھول لیے ہو۔ گوبھی کا مزاج مرکب القوی ہے۔ بعض لوگ سرد اور خشک مانتے ہیں۔
طبی تاثیر و افادیت:
حکماء و اطباء کا کہنا ہے کہ گوبھی کا پھول محلل اور مفتح ہے۔ یہ قوتِ باہ بڑھاتی اور پیٹ میں نفخ پیدا کرتی ہے۔ پھول گوبھی کے استعمال سے پیشاب زیادہ آتا ہے جب کہ یہ خراب اور سوداوی خون پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے تبخیر پیدا ہوتی ہے۔ پھول گوبھی روی الغذا ہے، اسی لیے سدے اور ریاح پیدا کرتی ہے۔ دافع منشیات ہے لہٰذا شراب کا نشہ مٹاتی ہے۔ چونکہ پھول گوبھی سوداوی امراض پیدا کرتی ہے، اس لیے خیالات میں افکار اور فساد رہتا ہے۔
ثقیل غذا ہونے کی وجہ سے قابض ہے، دست و اسہال میں فائدہ دیتی ہے، اعضا کو قوت دیتی ہے۔ صفراء اور خون کا فساد دور کرتی ہے۔ سوزاک کے بعد ہونے والے جریان میں نافع ہے۔ کھانسی اور پھوڑے پھنسی دور کرتی ہے۔ اس کے پتوں کا جوشاندہ قے میں خون آنے کو دور کرتا ہے۔
اس کے پتے پکا کر کھانے سے خونیں بواسیر کو فائدہ ہوتا ہے اور خون آنا رک جاتا ہے۔
اس کے پتے پیس کر کورے مٹی کے برتن پر ٹکیہ گرم کرکے آنکھ پر رکھنے سے آرام آتا ہے۔
اطباء کے مطابق گوبھی کی جڑ کا جوشاندہ پلانے سے عسرالبول کو نفع ہوتا ہے۔
گوبھی کے پتے کوٹ کر چاولوں کے ساتھ ابالکر چھان کر پلانے سے معدہ کا ورم اور درد زائل ہوجاتا ہے۔
اس کی جڑ کا جوشاندہ بخار میں مفید ہے۔
اس کے پتوں کو اونٹا کر ٹھنڈا کرکے مصری ملا کر پلانے سے سوزاک میں آرام ہوتا ہے۔
گوبھی کی چٹنی کھانے سے آواز کی خرابی دور ہوتی ہے۔ اس کے جوشاندے میں شہد ملا کر چاٹنے سے بھی آوازکھلتی ہے۔
اس کو گوشت اور گرم مصالحوں کے ساتھ پکا کر کھانے سے بواسیر میں فائدہ ہوتا ہے۔ اس کی جڑ گلے میں باندھنے سے بخار اتر جاتا ہے۔

’’سرد مشروبات‘‘ یا زہر؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں۔

’’سرد مشروبات‘‘ یا زہر؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں۔

Sting کے استعمال سے آپ کے گردے فیل ہو سکتے ہیں۔

احسن اسکول سے تھکا ہارا گھر پہنچا تو فریج کھول کر سرد مشروب کی دو بوتلیں چڑھا گیا۔ امی کہتی رہ گئیں کہ پانی سے پیاس بجھائو، مگر آج کی نئی نسل مغربی پروپیگنڈے کا شکار ہوکر خوشنما بوتلوں میں بند زہریلے پانی کو اپنی پیاس کا مداوا سمجھتی ہے۔ جی ہاں، دعوتوں اور تقریبات میں عام استعمال ہونے والے ٹھنڈے مشروبات دراصل فرحت بخش ذائقے کے بھیس میں زہر ہیں۔ بوتل میں اگر اکھڑا ہوا دانت یا ناخن ڈال دیا جائے تو وہ دو دن میں گل جائے گا۔ جبکہ یہی دانت، ہڈیاں اور ناخن انسان کے مرنے کے بعد بھی ہزار سال تک محفوظ حالت میں مل سکتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ صحت کے لیے حددرجہ خطرناک ہونے کے باوجود بچے دیوانہ وار اِن مشروبات کا مطالبہ کرتے ہیں؟
ایک وجہ کمپنیوں کی طرف سے وہ انتہائی سحرانگیز اور گمراہ کن تشہیر ہے جس میں معصوم بچے اور نوجوان مشہور کھلاڑیوں، فلمی ستاروں اور من پسند ہیروئنوں کو دلکش انداز میں یہ مشروبات پیتے دیکھ کر ان کے انداز میں ان کی نقالی کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ چکاچوند ناپختہ ذہنوں کو مرعوب کرکے انہیں ان مشروبات کا عادی بنا ڈالتی ہے۔ دوسری وجہ ان کا ذائقہ ہے جسے انسانی صحت کے لیے خطرناک چیزوں سے تخلیق کیا جاتا ہے۔
انہیں بنانے والے اداروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنا آدھا منافع اس بات پر خرچ کرتے ہیں کہ عوام کوئی مشروب مانگنے کے بجائے بوتل کا مخصوص نام لے کر مشروب طلب کریں۔ ظاہر ہے اس زبردست اشتہار بازی کا خرچ استعمال کرنے والے ہی کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔
یہ مشروب ہیں کیا؟
یہ مشروب جن چیزوں کا مرکب ہیں آپ انہیں باریک انگریزی میں ڈھکن کے اندر ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ یہ کیمیائی مادے درج ذیل ہیں:
کاربن ڈائی آکسائیڈ
ہمارا جسم اس نیم زہریلی گیس کو جو خون کے فضلے کے مانند ہے، سانس کے ذریعے پھیپھڑوں سے باہر نکالتا ہے، لیکن مشروبات کی تیاری کے دوران پانی میں یہ گیس خاص طور پر جذب کی جاتی ہے تاکہ پانی میں بلبلے جنم لیں۔ اسے ہم منہ کے ذریعے اپنے معدے میں اتار دیتے ہیں۔ اس گیس کو پانی میں گزارنے کے عمل سے کاربنی تیزاب بنتا ہے، اسی لیے ان مشروبات کی تیزابیت کا درجہ 4ء 3 ہوتا ہے، یعنی انسانی جسم کی تیزابیت سے تین یا چار درجے تیز! اس درجے کی تیزابیت ہڈیوں اور دانتوں کو گھول کر رکھ دیتی ہے۔ انسانی ہڈیاں تیس سال کی عمر کے بعد بننا بند ہوجاتی ہیں، یعنی انسانی ڈھانچہ زوال پذیر ہونے لگتا ہے، لہٰذا اس عمر میں یہ مشروبات حد درجہ خطرناک ہوتے ہیں۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے مشروب سرد ہوجاتا ہے اور پینے پر فرحت بخش لگتا ہے، مگر اسی خاصیت کی بنا پر ہمارے جسمانی نظام اور معدے پر دوچند بوجھ بڑھتا ہے، ایک تیزابیت کی وجہ سے، اور دوسرا مشروب کے درجہ حرارت کی وجہ سے جو عموماً صفر ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، جبکہ انسانی جسم کا عام درجہ حرارت 37ڈگری سینٹی گریڈ ہے، اس فرق کو مٹانے کے لیے معدے کو فاضل کام کرنا پڑتا ہے۔کھانے کے دوران ان مشروبات کے استعمال سے ہاضمے کے مددگار کیمیائی خامرے (Digestive Enzymes) ختم ہوکر معدے پر کام کا مزید بوجھ ڈال دیتے ہیں کیونکہ اسے خامروں کا کام بھی کرنا پڑتا ہے۔ یوں معدہ جلد جواب دے جاتا ہے اور کھانا ہضم ہونے میں دقت ہوتی ہے۔ معدے کی خرابی سے اس میں گیسیں اور دیگر زہریلے مادے بنتے ہیں جو انتڑیوں میں جذب ہوکر جسم کو وقت سے پہلے بوڑھا کردیتے ہیں۔
فاسفوری تیزاب (Phosphoric Acid)
یہ تیزابی مادہ لوہے اور اسٹیل کو زنگ سے محفوظ رکھتا ہے اور ہمارے جسم کی ہڈیوں اور دانتوں سے زائد کیلشیم خارج کرتا ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے ہڈیوں کی شکست و ریخت ہونے لگتی ہے اور ہڈیوں کا درد، کمر کا درد اور بعض اوقات معمولی چوٹ سے ہڈیوں کا ٹوٹ جانا جیسی خطرناک علامات جنم لیتی ہیں۔ اس کے باوجود سرد مشروبات کی تیاری میں یہ خاص طور پر استعمال ہوتا ہے۔
جوہرقہوہ (Caffiene)
یہ ہمارے اعصابی نظام کو تحریک دینے والی نشہ آور دوا ہے جس کے استعمال سے آدمی وقتی طور پر بیدار، تازہ دم اور خوشی محسوس کرتا ہے مگر پانچ چھ گھنٹے بعد اس کا اثر ختم ہونے پر وہ کمزوری، سستی، اضمحلال اور بوریت کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کا زیادہ استعمال زہر جیسا اثر رکھتا ہے مگر یہ کولا مشروب کا اہم جزو ہے۔کیفین کے زیادہ استعمال سے ہیجان، بے چینی، رعشہ اور دل کی تیز دھڑکن جنم لیتی ہے۔ ساتھ ساتھ دل کی چال کی یکسانیت (Rhythm) میں تبدیلی آسکتی ہے۔ سر درد عام ہوتا ہے۔ عام بوتل میںکیفین کی مقدار پینتیس سے پچاس ملی گرام، جبکہ ڈیڑھ لیٹر کی بوتل میں دو سو ملی گرام تک ہوتی ہے۔
سوڈا بنزول (Sodium Benzoate)
یہ ایک کیمیائی مادہ ہے جو گاڑیوں میں پانی کو جمنے سے بچانے کے لیے ڈالا جاتا ہے۔ یہ سنکھیا سے ملتا جلتا آہستہ آہستہ عمل کرنے والا زہر ہے جو کولا مشروب کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر ایک گھنٹے میں چار لیٹر کولا مشروب پی لیا جائے تو موت واقع ہوسکتی ہے، جبکہ دو ڈھائی لیٹر پینے سے بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے۔
رنگدار مادے (Food colours)
تیار شدہ غذا میں ذائقے پیدا کرنے کے لیے رنگ دار مادے استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں سرخ امارنتھ (Amaranth) اورگندمی بورڈیکس(Bordeaux) مشروبات کا حصہ ہیں جو تحقیق کے مطابق سرطان کا باعث بنتے اور انسانی صحت کے لیے مضر اثرات رکھتے ہیں۔
مشروبات کے عمومی نقصانات
(1ذہنی صحت پر منفی اثرات، بے چینی، ہیجان۔ اڑیل پن پیدا کرکے بچے کو ضدی بنا ڈالتے ہیں۔ ان میں ماں باپ کو تنگ کرنا اور آپس میں مارکٹائی کا رجحان زیادہ ہوجاتا ہے اور ذہانت میں کمی آتی ہے۔
(2مشروبات میں شکر بہت ہوتی ہے لہٰذا بچوں کی جسمانی صحت پر منفی اثرات یہ پڑتے ہیں کہ بچہ بظاہر موٹا نظر آتا ہے لیکن اندرونی طور پرکمزور اور سُست پڑجاتا ہے۔ کئی بچوں میں بھوک مرجاتی ہے جس سے پیلی رنگت والا لاغر بچہ جنم لیتا ہے جس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور چہرے پر مُردنی چھائی ہوتی ہے۔
(3جوہرِ قہوہ کی وجہ سے ان مشروبات کا کثرت سے استعمال جگر کے امراض کا باعث بنتا ہے۔
(4طویل عرصے تک استعمال سے معدے کی جھلی کو نقصان پہنچتا ہے اور بلند فشارِ خون اور ذیابیطس لاحق ہوتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ہر قسم کا مشروب بہت مضر اثرات رکھتا ہے۔
(5مشروبات کے زیادہ استعمال سے ذہنی دبائو، سردرد، خصوصاً درد شقیقہ پیدا ہوتا ہے۔ معقول رویّے میں تبدیلی آتی اور ذہنی صلاحیت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
(6لمبے عرصے تک استعمال معدے اور مثانے کے سرطان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
(7حاملہ عورت اگر یہ مشروبات استعمال کرے تو بچے کی جسمانی بناوٹ میں خرابی کے علاوہ معذور بچوں کی پیدائش کا خدشہ بھی ہوتا ہے جس کی شرح ہمارے معاشرے میں بڑھ رہی ہے۔
(8امریکی اور یورپی ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ جن ممالک میں سرد مشروبات کا استعمال عام ہے وہاں مندرجہ بالا امراض عام ہیں۔
(9اب وہ بھی اپنے عوام پر زور دے رہے ہیں کہ سرد مشروبات کم سے کم استعمال کریں کیونکہ اگر ان کا چلن یہی رہا تو بیس سال بعد لاکھوں لوگ متفرق امراض کا شکار ہوکر اذیت ناک زندگی بسر کررہے ہوں گے۔
متبادل صحت افزا مشروبات
(1دودھ کے سادہ یا ذائقے دار مشروب:الائچی اور بادام پستے کی کترن کے ساتھ، ادرک اورشہد کے ساتھ، کھجور کے مرکب کے ساتھ، پھل اور دودھ کا مرکب (ملک شیک)، آم، کیلے یا سیب کا، لسی سادہ یا ذائقہ دار مثلاً خشخاش یا بادام کے ساتھ دودھ پینا نہایت مفید ہے۔
(2سرد پانی کے مشروب:سکنجبین، گڑ یا لیموں اور نمک کے ساتھ، آلو بخارے اور املی کے شربت، تخم بالنگو اور گوند کتیرا۔ جڑی بوٹیوں کے مشروب مثلاً شربت الائچی، شربت بزوری وغیرہ۔
(3تازہ جوس:مثلا گاجر کا جوس، سیب اور گاجر کا جوس، انار، آم کا جوس، مالٹے کا جوس وغیرہ۔
(4سبز قہوہ:اسے الائچی، ادرک، لیموں اور سونف کے ساتھ خصوصاً سردیوں میں مزاج کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کالی چائے کی نسبت یہ ہاضمے اور صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔
آخری بات:اگر آپ کے بیت الخلاء کا نکاس (Drain) بند ہوجائے تو رات کو کسی بھی کولا مشروب کی لیٹر یا ڈیڑھ لیٹر والی بوتل اس میں ڈال دیں۔ صبح پانی بہائیے تو نکاس بڑی آسانی سے کھل جائے گا۔ آپ خود سوچیے کہ ایسی زہریلی تفریح سے آپ کو درحقیقت کتنا شدید نقصان پہنچتا ہے؟ خدارا وقتی تسکین کے لیے اپنے آپ کو وقت سے پہلے قبر میں نہ اتارئیے۔
ہمیں چاہیے کہ ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے بھرپور جدوجہد کریں۔ اب آپ کا فرض ہے کہ سرد مشروبات کی اصل حقیقت سے دوسرے لوگوں کو بھی آگاہ کریں تاکہ وہ عالمِ بے خبری سے نکل کر حواس میں آئیں اور غیر فطری عادات چھوڑ کر فطرت کی آغوش میں تندرستی کی زندگی گزاریں۔

پیاز

پیاز

پیاز دنیا کی قدیم ترین سبزیوں میں سے ہے۔ یہ دنیا کے ہر ملک میں پائی جاتی ہے۔ یہ غذا کو لذیذ بنانے اور سالن کو گاڑھا کرنے کےلئے استعمال ہوتی ہے۔ پیاز جب ہری ہوتو ہنڈیا کے علاوہ انڈے کے آملیٹ اور چائنز کھانے میں ذائقہ کو بڑھانے کےلئے مددگار ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی بھی باورچی خانہ پیاز کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ پیاز چھیلنے وقت اس کا پانی آنکھوں میں لگتا ہے اور جلن پیدا کر کے آنسو نکالتا رہتا ہے۔
ایسے میں پیاز چھیلتے یا کاٹتے وقت اگر نلکا کھول کر اس کے نیچے رکھا جائے تو کوئی نقصان نہیں پہنچ پاتا۔ زہریلے حشرات الارض کے کاٹے پر پیاز کے عرق کو لگایا جائے تو فائدہ ہوتا ہے۔ پیاز موسم گرما میں لُو سے بچنے کا نہایت اہم ذریعہ ہے۔ ایک زمانہ تھا جب مزدور یا غریب لوگ گرمی کی شدت کے دنوں میں کھیتوں پر کام کرتے ہوئے تندور کی روٹی کے ساتھ پیاز اور نمک ملا کر شوق سے کھاتے تھے۔ اس طرح وہ لُو لگنے اور ہیضہ سے محفوظ رہتے تھے اور غذائی حراروں کی پوری مقدار بھی ان لوگوں کو مہیا ہو جاتی تھی۔ تاثیر کے لحاظ سے پیاز سخت گرم ہے۔ سرکہ میں پیاز کا اچار بنا کر کھانا اکسیر ہے۔ پیاز لیموں کے عرق‘ کالی مرچ اور نمک کے ساتھ کھانا زیادہ مفید ہے۔ جلدی امراض میں اس کی مالش کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ پیاز کے عرق میں شہد ملا کر کھانے سے پرانی کھانسی دور ہو جاتی ہے۔ ریفریجریٹر میں ایک پیاز رکھ دیا جائے تو دوسرے پھلوں کی بو نہیں آتی۔ پیاز کا عرق نکال کر چہرے پر لگانے سے داغ دھبے دور ہو جاتے ہیں۔ ادھر سر کا درد ہونے پر پیاز خوب باریک پیس کر پاﺅں کے تلوﺅں پر ملیں۔ پیاز دہی کے ساتھ کھانے سے ڈائریا نہیں ہوتا۔
کانٹا چھبنے پر پیاز اور گڑ ملا کر اس جگہ پر باندھ تو کانٹا خودبخود نکل جائے گا۔ پیاز کا اچار جسم میں خون کی کمی دور کرتا ہے اور جسم کے زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے۔ سانس کے مرض میں صبح نہار منہ اس کا عرق پینے سے مرض میں افاقہ ہوتا ہے۔ وبا کے دنوں میں اگر پیاز کھانے کے ساتھ رکھی جائے تو وبا سے محفوظ رہے گا۔ پیاز نمک اور سرکہ کے ساتھ کھانے سے بھوک بڑھتی ہے۔ پیاز موسم گرما کا بہترین تحفہ ہے۔ کریلوں کے ساتھ کھانے سے ہانڈی کا ذائقہ دوبالا ہو جاتا ہے۔

Thursday, 6 March 2014

سبز چائے : بیما ریو ں سے بچائے


سبز چائے : بیما ریو ں سے بچائے

سبزچائے استعمال سے خون کی بڑھتی ہوئی شکر کم ہوتی ہے اس طرح ذیابیطس کے مریض اس سے اپنی شوگر کنٹرول میں کرسکتے ہیں کیونکہ سبز چائے چربی کو جلا کر خون میں شکرکی مقدار کو بھی کم کردیتی ہے۔تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ سبز چائے کا استعمال ہائی بلڈ پریشر سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
دنیا بھر میں چائے بنانے کے مختلف طریقے ہیں۔ انہی میں ایک سبزچائے (Green Tea )بھی ہے اگرچہ عام چائے کے فوائد و نقصانات عموماً ہمارے سامنے مختلف مضامین اور طبی مطالعات کی شکل میں آتے رہتے ہیں تاہم سبزچائے کو ہمیشہ سے ہی طبی فوائد کی حامل چائے قرار دیا جاتا ہے۔
امریکہ کے چند ڈاکٹروں نے طویل تحقیق کے بعد ایک ایسی کریم تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو کہ انسان کو جلد کے کینسر سے بچانے کے لیے نہایت مفید پائی گئی ہے۔ اگرچہ یہ کریم جدید طبی تقاضوں کے مطابق تیار کی گئی ہے لیکن حیرت اور دلچسپی کی بات، ڈاکٹرو ں کا یہ کہنا ہے کہ اس کریم کی تیاری میں استعمال کیا گیا بنیا دی مادہ سبز چائے کی پتیوں سے حاصل کیا گیا ہے۔ معالجین کا کہنا ہے کہ سبز چائے اپنے عمل تکسید کی بدولت کینسر سے بچاﺅ کی خاصیت رکھتی ہے اور اس میں شامل ایک کیمیائی مادہ جسے Polyphenols کہا جاتاہے‘ کریم میں بنیادی طور پر شامل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق Polyphenols سبز چائے میں شامل ہوتا اور اس میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ جلد کے کینسر کا سبب بننے والے خلیوں کی افزائش کا راستہ روک کر اس خطرناک مرض سے بچا جاسکتا ہے۔ کریم میں سبزچائے کے اس مادے کی خاصیت سے ہی فائدہ اٹھایا گیا ہے۔
معالجین کہتے ہیں کہ سبز چائے کے عمل تکسید کی خاصیت کے باعث اس کے پینے سے جسم کا میٹابولک سسٹم تیز ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں جگر کا نظام بہت بہتر طریقے سے اپنی کارکردگی سر انجام دینے لگتا ہے۔
موٹے لوگوں پر لی گئی ایک امریکی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ زائد وزن کے حامل وہ لوگ جنہیں کسی بھی قسم کی ورزش، ادویات اور خوراک میں کمی نے کوئی اثر نہیں کیا۔ سبزچائے کے کپ نے یہ مشکل حل کردی۔ تحقیق کے دوران صرف چند ماہ تک دن میں تین بار سبز چائے پینے سے موٹے لوگوں کے وزن میں نہ صرف کمی آئی بلکہ ان کی جسمانی چستی میں کافی حد تک اضافہ ہوا۔ تحقیق کے مطابق دن میں تین بار سبز چائے کا استعمال کرنے سے جسم میں موجود 200 اضافی کیلوریز کو جلا کر ختم کیا جاسکتا ہے۔ سبزچائے کے استعمال سے خون کی بڑھتی ہوئی شکر کم ہوتی ہے اس طرح ذیابیطس کے مریض اس سے اپنی شوگر کنٹرول میں کرسکتے ہیں کیونکہ سبز چائے چربی کو جلا کر خون میں شکرکی مقدار کو بھی کم کردیتی ہے۔ ذیل میں مختلف جسمانی امراض میں سبز چائے کی اثرانگیزی کے خواص بیان کیے جا رہے ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر
: بلڈ پریشر آج کل ایک نہایت عام اور خطرناک مرض ہے جو ذہنی دباﺅ اور تشویش حد سے بڑھ جانے کے سبب لاحق ہوتا ہے معالجین کہتے ہیں کہ ہائی بلڈپریشر ذہنی دباﺅ کی صورت میں گردے میں موجود ایک کیمیائی مادے کے ذریعے پیدا ہوتا ہے جسے (ACE ) کہا جاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کے دوران دی جانے والی ادویات ACE کا راستہ بلاک کر دیتی ہیں۔ یوں بلڈپریشر آہستہ آہستہ معمول پر آنے لگتا ہے۔ معالجین کا کہنا ہے سبزچائے میں ACE کا راستہ روکنے کا جزوقدرتی طور پر موجود ہے۔ لہٰذا تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ سبز چائے کا باقاعدہ استعمال انسان کو ہائی بلڈ پریشر سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

ذیابیطس
جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو جسم میں Amylase جو کہ دراصل ایک انزائم ہے فوراً اپنا کام شروع کردیتا ہے اور یہ خورا ک میںشامل نشاستے کو فوری طور پر شکل میں تبدیل کرنا شروع کردیتا ہے یہ شکل جسمانی توانائی میں رفتہ رفتہ تبدیل ہونا شروع ہوجا تی ہے تاہم ذیابیطس کے مریضو ںمیں یہ ان کے خون میں شامل ہونے لگتی ہے جو کہ صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ معالجین کا کہنا ہے کہ اگر سبزچائے استعمال کی جائے تو کھانے کے دوران Amylase کے عمل کو درست بنایا جاسکتا ہے جس سے خون میں شکر کی مقدار کم ہوسکتی ہے تحقیق کے مطابق روزانہ ایک کپ سبز چائے کا استعمال اس کی رفتار کو 87 فی صد کم کرسکتا ہے۔

کینسر
سبزچائے کے کیمیائی تجزیے میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اس میں شامل کیمیائی عنصر جسے EGOG بھی کہا جاتا ہے خون میں نئے ذرات پیدا کر تاہے اس وجہ سے جسم میں کینسر اور ٹیو مر پنپ نہیں سکتا۔

Wednesday, 5 March 2014

گلقند برگد


گلقند برگد :

جریان ، احتلام ، سرعت .اور رقت دور کر کے مادہ تولید کی اصلاح کرتی ہے . اور اسے قابل ے اولاد بناتی ہے . مقوی باہ ہے

گلے برگد یعنی برگد کی چھوٹی چھوٹی سرخ رنگ کی شگفتہ پتیاں لے کر دگنی کھانڈ ملا

کرگلقند تیار کریں . ٦ ماشہ ہمراہ دوددہ صبح شام دیں ، اور قدرتی امساک پیدا ہوتا دیکھیں

معجون:تقویت دماغ اور ضعفب باہ کے لیے



معجون:تقویت دماغ اور ضعفب باہ کے لیے
نسخہ الشفاء
مغز بادام شیریں،مغزکدوشیریں،مغزخیار،مغزپیٹھا،برہمی بوٹی،اسطخدوس ہر ایک50گرام
فلفل سیاہ30گرام،زعفران5گرام،عنبر5گرام،شہدخالص800گرام،ورق چاندی10گرام
تمام ادویہ کو باریک سفوف بنالیں اور شہد میں اچھی طرح ملالیں بعد میں ورق چاندی
ملائیں،معجون تیار ہے:مقدار خوراک،10گرام صبح نہار منہ دودھ کیساتھ
فوائد:تقویت دماغ اور ضعفب باہ اوراعصابی کمزوری کے لیے مکمل علاج ہے

ایک ماہ کا استعمال کافی ہے

Sunday, 2 March 2014

سردرد اور طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم


سردرد اور طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اس سلسلے میں ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جس کی صحت محلل نظر ہے۔
تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو جب کبھی درد سر ہوتا تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اپنے سر پر مہندی کا لیپ کرتے۔ مہندی کا پلاسٹر چڑھاتے اور فرماتے کہ یہ صداع کے لئے خدا کے حکم سے نافع ہے۔ (ابن ماجہ)
حضرت سلمٰی رضی اللہ تعالٰی عنہا جو تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ ہیں، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کوئی بھی درد سر کی بیماری کی شکایت کرتا، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اسے فرماتے کہ سینگی لگوالو اور پاؤں میں جو درد کی شکایت کرتا، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اسے فرماتے کہ مہندی لگالو۔ (ابو داؤد۔ مشکوٰۃ)
خیال رہے کہ سینگی یا پچھنے لگانا سر کی ان بیماریوں میں نسبتاً زیادہ فائدہ بخش ہے جو دموی (خونی) ہوں۔ خون کی کمی ہو تو سینگی یا پچھے نہ لگوائے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جو شخص چاند کی سترہ، انیس یا اکیس تاریخ کو سینگی کھچوائے، اس کے لئے ہر بیماری سے شفاء ہوتی ہے۔ (ابو داؤد شریف)
سرکاردوعالم نےنے فرمایا۔ سر میں پچھنے لگوانا سات امراض کی شفاء ہے۔
(1) جنون (2) حد (3) جذام (4) برص (5) درد داڑھ (6) طلمت چشم (7) درد سر۔
مذید فرمایا جو شخص پچھنے لگتے وقت آیت الکرسی پڑھتا ہے۔ اس کو پچھنے کا نفع پہنچتا ہے۔ پچھنے لگانے کے فوراً بعد دودھ یا دودھ کی بنی ہوئی کوئی شے مثلاً پنیر وغیرہ نہ کھائے بلکہ شیرنی اور سرکہ کھائے اور اس کے بعد عورتوں کے قریب نہ جائے۔ پچھنے لگوانے سے ایک روز پہلے عورتوں کے پاس نہ جائے۔
(نزہتہ المجالس۔ اول)
سینگی کھنچوانا یا پچھنے لگوانا بالیقین بہت فائدہ بخش چیز ہے مگر ان ایام میں کہ جن میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے ورنہ بجائے فائدہ کے نقصان کا اندیشہ ہے۔

حضرت کبثہ ابی بکرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا راوی ہیں کہ میرا باپ منگل کے دن اپنے اہل خانہ کو سینگی لگوانے سے روکتا تھا اور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان نقل کرتا تھا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ منگل کے دن خون کے جوش کا دن ہے اور اس میں ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ جس میں خون نہیں تھمتا۔ (ابو داؤد۔ مشکوٰۃ)

حضرت زہری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرسلاً مروی ہے کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، “جو شخص ہفتہ یا بدھ کے روز سینگی کچھوائے یا لیپ کرے تو اسے (العیاذ باللہ تعالٰی) کوڑھ ہو جائے تو اپنے آپ کو ملامت کرے۔ (مشکوٰۃ)