Friday, 14 November 2014
ادرک جسے عربی میں زنجبیل اور سندھی میں سونڈھ کہتے ہیں،
ادرک جسے عربی میں زنجبیل اور سندھی میں سونڈھ کہتے ہیں، ماہرین نباتات کے مطابق ایشیا کا پودا ہے جس کی جڑ یا گرہ کئی مقاصد کے لئے استعمال کی جاتی ہے ۔ سولہویں صدی میں اس کی کاشت جنوبی امریکہ میں ہونے لگی۔ اسپین کے فاتحین اسے شرق الہند سے وہاں لے گئے ۔ اب اس کی کاشت دنیا کے مختلف ملکوں میں ہو رہی ہے ۔ پیداوار اور اس کی برآمد کے معاملے میں چین اور ہندوستان سر فہرست ہیں ۔ ان کے علاوہ سری لنکا ، بنگلہ دیش، بر ما انڈونیشیا میں بھی یہ کاشت ہو تی ہے۔ تازہ جڑ ادرک کہلاتی ہے اور خشک کو سونٹھ کہتے ہیں ۔ یو رپ میں ادرک کا زیادہ تر استعمال بحری ملاح کر تے تھے اس کا مربہ سمندری سفر کے دوران ہو نے والی متلی،چکر وغیرہ کے لئے مفید سمجھاجاتا تھا۔ ادرک میں ۳۱ فیصد ہلکا زرد رنگ کا فراری تیل پایا جاتا ہے۔ ا س کے پھولوں میں بھی اس کی مخصوص خوشبو ہو تی ہے۔ تاہم جڑ ہی پھول او ر تنے سے زیادہ خوشبو اور پر تاثیر ہو تی ہے۔ یہ خوشبو اور مرچ کی طرح چرچری ہو تی ہے۔ ادرک کے کیمیائی تجزئے کے مطابق اس میں فراری تیل کے علاوہ تیز تلخ رال، گوند، ،نشاستہ ، ریشہ یا چوبی مادہ، ایسے ٹک ایسڈ، ایسی ٹیٹ آف پو ٹاش اورگندھک وغیرہ ہو تے ہیں۔ طبی اور دوائی اعتبار سے ادرک ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ یہ ہاضمے کی قوت کو تیز کر تی ہے ، ریاح خارج کر تی ہے، اسی لئے اسے اکثر امراض معدہ میں استعمال کر تے ہیں۔ یہ خاص طور پر شراب نو شی کی وجہ سے ہو نے والی ہضم کی خرابیوں کو دور کرنے میں بہت مفید ثابت ہو تی ہے۔ ادرک بلغمی مزاج والوں کے لئے بہت مفید ہو تی ہے ۔مرض سنگرہنی(Spurue) میں اسے پو رے اعتماد کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس مرض میں آنتیں بہت کمزور ہو جاتی ہیں ان کی دیواریں پتلی پڑ جاتی ہیں اور ان پر کہیں کہیں سطحی زخم بن جاتے ہیں ۔ اس مرض میں سونٹھ کو گھی میں سرخ کرکے اس کا سفوف چھاچھ کے ساتھ دن میں تین بار کھلانا مفید ہو تا ہے۔ ادرک غذا کی اصلاح کر تی ہے۔ ثقیل غذاؤں مثلاً اڑد کی دال، گوبھی کے ساتھ اسے شامل کرنے سے یہ آسانی سے ہضم ہو جاتی ہے اور ان کا بادی پن دور ہو جاتا ہے۔ ادرک کو چھیل کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے نمک چھڑک کرکھانے سے بھوک کھل کر لگتی ہے۔ پیٹ میں بھرے ریاح خارج ہو جاتے ہیں اور قبض بھی دور ہو جاتا ہے۔ اس کا تیل گٹھیا اور سردی کے دردوں کے لئے مفید ہو تا ہے۔ بلغمی امراض میں ادرک کے تازہ رس میں تھوڑا شہد ملا کر چاٹنے سے سینہ اور گلا بلغم سے صاف ہو جاتا ہے ۔ اسی مرکب کو گرم پانی میں ملا کر پینے سے بھی نزلہ ، کھانسی، گلے کی خراش اور درد کو آرام ہو جاتا ہے۔ سردی کم ہو جاتی ہے ۔ ادرک کا استعمال جسم میں حرارت پیدا کر تا ہے۔ تھوڑی سی ادرک یا سونٹھ گڑ میں ملا کر کھانے سے جسم میں حرارت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ سردیوں میں اس کی چائے میں اس کا رس شامل کر کے پینے سے خوش گوار حرارت کا احساس ہو تا ہے۔ قے اور متلی کے لئے ادرک کا تنہا یا دیگر اجزا کے ساتھ استعمال بہت مفید ہو تا ہے۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ادرک کے ٹکڑے توے پر ہلکے سینک کر اور تھوڑا نمک لگا کر چوسے جائیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کے رس میں ہم وزن پو دینے اور لیموں کا رس شہد میں ملا کر دھیمی آنچ م پر گاڑھا کر لیں اور تھوڑا تھوڑا چاٹتے رہیں۔ ہندوستانی بحری بیڑے کے افراد کو سمندر میں روگ یا بحری سفر کی وجہ سے ہو نے والی متلی ، دوران سر وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لئے (زسنم) نامی ایک چٹ پٹا مشروب استعمال کر ایا جاتا ہے جس سے وہ ان تکالیف سے جلد نجات پا جاتے ہیں ۔ زسنم‘ دراصل املی کا زلال ہو تا ہے ، جس میں تازہ ادرک کا رس، سفید زیرہ اور تھوڑا نمک شامل کر تے ہیں ۔ ادرک املی ساتھ ملکر ایک بہترین مانع بن جاتی ہے۔ ایک تجربہ کے مطابق جانوروں کو ادرک استعمال کرانے سے اس کی ایک اور اہم خصوصیت کا انکشاف بھی ہو ا ہے۔ ادرک کھانے والے جانوروں کی خون میں کولیسٹرول کی سطح گر گئی۔ اسی طرح لیبورٹری میں ہو نے والے تجربات سے ادرک کی ضد حیوی ( اینٹی بائیو ٹک) خصوصیات کا انکشاف بھی ہوا ہے ۔ بعض طبی حلقوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ ادرک میں مانع سرطان صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔ یہ بات اب تسلیم کی جارہی ہے کہ ادرک خون کے قوام کو پتلا رکھتی ہے۔ خراب رطوبتوں کو جذب کر تی ہے اور حیض کو درست رکھتی ہے ۔ یو رپ میں ادرک کی چائے کو سردی کی وجہ سے حیض کی بندش کی شکایت دور کر نے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ادرک میں لہسن کی طرح خون پتلا کر نے کی صلاحیت سے اشارہ ملتا ہے کہ کو کولیسٹرول ، خلطہ بلغم اور صفرا کے عدم توازن اور بگاڑ کی شکل ہے جو غذائی بے اعتدالیوں اور ورزش کی کمی کے نتیجے میں سخت ہوکر شریانوں میں تہ نشین ہوتی ہے ۔ اس قسم کی شفاتی صلاحیت برگ پان میں بھی پائی جاتی ہے۔ تازہ ادرک، سبز پان، آلو بخارے اور پو دینے کی جو شاندے پر ماہرین تجربات کے حوصلہ افزا اور حیرت انگیز نتائج برآمد ہو رہے ہیں ۔ یہ مرکب عضلات قلب کے ضعف، عظم قلب، جگر کی خرابی اور ورم کے لئے بہت مفید ثابت ہو رہا ہے ۔
Tuesday, 11 November 2014
جوارش جالینوس
جوارش جالینوس
یہ جوارش معدہ کی اصلاح کے لئے عجیب چیز ہے۔ اس کے خواص اور افعال بے شمار ہیں۔
1- ہاصمے کی خرابی کا زبردست علاج ہے۔
2- معدے کی خرابی کی وجہ سے ہونے والے سردرد میں بہت فائدہ دیتی ہے۔
3- خرابی معدہ کی وجہ سے منہ سے بدبو آتی ہو تو اسے استعمال کریں۔
4- پیشاب کی زیادتی جو موسم سرما اور رات کو بڑھ جاتی ہو اور مثانہ کی کمزوری کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
5- جسم میں ریاحی دردوں کا علاج ہے۔
6- بلغمی کھانسی میں اسکا استعمال بہت فائدہ مند ہے۔
7- بادی بواسیر میں اسکا استعمال بواسیر کو ختم کردیتا ہے۔
8- دردکمر کے لئے اسے کم از کم 2 ماہ استعمال کریں۔
9- گردے اور مثانے کی پتھری میں اسکا استعمال پتھری کو ختم کردیتا ہے۔
10- جنسی کمزوری کے لئے بھی اسکا استعمال کیا جاسکتاہے
مقدار خوراک: 7ماشہ سے 9 ماشہ صبح شام کھانے کے بعد عرق سونف کے ہمراہ استعمال کریں۔
1- ہاصمے کی خرابی کا زبردست علاج ہے۔
2- معدے کی خرابی کی وجہ سے ہونے والے سردرد میں بہت فائدہ دیتی ہے۔
3- خرابی معدہ کی وجہ سے منہ سے بدبو آتی ہو تو اسے استعمال کریں۔
4- پیشاب کی زیادتی جو موسم سرما اور رات کو بڑھ جاتی ہو اور مثانہ کی کمزوری کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
5- جسم میں ریاحی دردوں کا علاج ہے۔
6- بلغمی کھانسی میں اسکا استعمال بہت فائدہ مند ہے۔
7- بادی بواسیر میں اسکا استعمال بواسیر کو ختم کردیتا ہے۔
8- دردکمر کے لئے اسے کم از کم 2 ماہ استعمال کریں۔
9- گردے اور مثانے کی پتھری میں اسکا استعمال پتھری کو ختم کردیتا ہے۔
10- جنسی کمزوری کے لئے بھی اسکا استعمال کیا جاسکتاہے
مقدار خوراک: 7ماشہ سے 9 ماشہ صبح شام کھانے کے بعد عرق سونف کے ہمراہ استعمال کریں۔
Sunday, 9 November 2014
دیرینہ کھانسی: وجوہات اور بچاؤ کے آسان نسخے
دیرینہ کھانسی: وجوہات اور بچاؤ کے آسان نسخے
گلے کی خرابی، حلق کی سوزش، سانس کی نالی میں کسی قسم کے انفکشن کا جنم لینا یا پھیپھڑوں کی خرابی، کھانسی کا سبب بنتی ہے۔ کھانسی کا مؤثرعلاج نہ ہونے کی صورت میں یہ خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔
کھانسی چند روزہ ہو یا کہنہ، برونکائیٹس کی شکل اختیار کر چُکی ہو یا خُشک اور شدید ہو، اس کا تعلق نظام تنفس کی گوناگوں بیماریوں سے ہوتا ہے، ان کے طبی علاج کے ساتھ ساتھ چند سادہ اور گھریلو نسخے بھی بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔
شدید کھانسی عموماً لگ بھگ تین ہفتے رہتی ہے۔ کھانسی کی چند دیگر اقسام ٹھیک ہونے میں کبھی کبھی کافی وقت لے لیتی ہیں تاہم کھانسی کسی بھی نوعیت کی ہو اس کا تعلق نظام تنفس میں پیدا ہونے والے کسی نقص سے ضرور ہوتا ہے۔ گلے کی خرابی، حلق کی سوزش، سانس کی نالی میں کسی قسم کے انفکشن کا جنم لینا یا پھیپھڑوں کی خرابی، کھانسی کا سبب بنتی ہے۔ کھانسی کا مؤثرعلاج نہ ہونے کی صورت میں یہ خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔
پھیپھڑوں کی مخصوص نالیوں میں مسلسل نقص رہنے کی صورت میں برونکائیٹس کا عارضہ جنم لیتا ہے اور ابتدائی مرحلے میں مریض کو خشک کھانسی کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر اس مرحلے پر صحیح علاج نہ ہو سکے تو پھیپھڑوں کی نالیوں میں بلغم جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس طرح پھیپھڑے اپنا نارمل فنکشن انجام نہیں دے پاتے اور مریض کو آخر کار سانس لینے میں دشواری ہونے لگتی ہے جو خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
غیر فعال تمباکو نوشی بچوں کی صحت کغ لیے بہت نقصاندہ ثابت ہوتی ہے
غیر فعال تمباکو نوشی بچوں کی صحت کغ لیے بہت نقصاندہ ثابت ہوتی ہے
موسم اور احتیاط
سانس کی تکلیف یا دائمی کھانسی میں مبتلا مریضوں کو سردیوں اور بہار کے موسم کے آغاز سے پہلے ہی بہت محتاط ہو جانا چاہیے کیونکہ پھیپھڑوں کی نالیوں میں جمع ہونے والی بلغم نزلے زکام کے جراثیموں کی آماجگاہ بن جاتی ہے جہاں وہ تیزی سے نشو و نما پاتے ہیں۔ یہ بلغم کبھی کبھی شدید کھانسی کی صورت میں بھی باہر نہیں نکلتی، نالیوں کو جکڑے رکھتی ہے اور اکثر پھیپھڑوں کے مہلک انفکشن کا سبب بنتی ہے۔
کہنہ کھانسی کی وجوہات
کہنہ بروناکائیٹس یا پھیپھڑوں کے ورم کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہوتی ہے۔ 40 سال کی عمر سے زائد کے ہر دوسرے تمباکو نوش میں ڈاکٹر برونکائیٹس یا پھیپھڑے کے ورم کی بیماری کی تشخیص کرتے ہیں۔ جتنی زیادہ تمباکو نوشی کی جائے گی، مرض کی شدت بھی اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ برونکائیٹس کے مرض میں مبتلا 90 فیصد مریض یا تو تمباکو نوشی کی بُری عادت میں مبتلا ہوتے ہیں یا ماضی میں رہ چکے ہوتے ہیں۔
برونکائیٹس سے نجات حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنا اور طبی علاج کا سہارا لینا ناگزیر ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنے کے قریب چار ہفتوں بعد کھانسی ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ چند خاص قسم کے کام کرنے والوں میں پھپپھڑوں کی خرابی اور کھانسی زیادہ عام ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کانوں میں کام کرنے والوں میں یہ بیماری عام ہے اور اگر وقت پر اس کا مؤثر علاج نہ کیا جائے تو یہ پھیپھڑوں کے کینسر یا سرطان کا سبب بن سکتی ہے۔
جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات زیادہ موثر ہوتی ہیں
جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات زیادہ موثر ہوتی ہیں
برونکائیٹس سے بچاؤ کے طریقے
ہوا میں نمی کا مناسب تناسب سانس کی بیماریوں اور کھانسی وغیرہ سے بچنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں سونے کے کمرے میں ہوا میں نمی کا تناسب 45 سے 60 فیصد کے درمیان ہونا چاہیے۔
جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ چائے دائمی کھانسی کے علاج اور پھیپھڑوں کی نالیوں کو کھولنے کے عمل میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ اس چائے میں پودینے کے خاندان سے تعلق رکھنے والا پودا سلویا، قدیم عرب، یونان، مصر اور اٹلی میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹی زعتر، پودینہ اور پلین ٹین یا موزیہ یا کیلویہ پودے کے پتے شامل ہوتے ہیں۔
کھانسی کے خلاف دیسی نسخے
کھانسی کا زور توڑنے کے لیے حلق کو خُشکی سے بچانا نہیات ضروری ہوتا ہے، اس لیے کھانسی کی شدت سے بچنے اور گلے کی سوزش دور کرنے کے لیے جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ گولیاں چوستے رہنا چاہیے۔
سینے پر ہنس کی چربی ملنے سے کھانسی میں بہت آرام آتا ہے اور اس کی گرمی پھیپھڑوں کی نالیوں میں جمع بلغم کو صاف کرنے میں بھی بہت مدد دیتی ہے۔
لیموں کے عرق سے تولیے کو تر کر کے سینے کو لپیٹنے سے بھی کھانسی میں آرام آتا ہے۔
گرم دودھ میں شہد ملا کر پینے سے پھیپھڑوں سے بلغم صاف ہو جاتا ہے۔
نمک کے پانی سے غرارے کرنے اور نمک کے گرم پانی کا بھاپ لینے سے ناک اور گلے کی سوزش میں کمی آتی ہے اور سانس کی نالی پر حملہ کرنے والے جراثیم بھی مر جاتے ہیں۔ اس طرح کھانسی پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔
بہت شدت کی کھانسی میں سانس لینے کا عمل غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ تیز تیز سانس لینا کھانسی اور پھیپھڑے میں جمع بلغم کو صاف کرنے میں مدد نہیں دیتا۔ آہستہ آہستہ اور گہری سانس لینے سے پھیپھڑے کی بند نالیوں کو کھولنے اور خون تک آکسیجن کی مطلوبہ مقدار کی فراہمی میں مدد ملتی ہے۔
شدید کھانسی عموماً لگ بھگ تین ہفتے رہتی ہے۔ کھانسی کی چند دیگر اقسام ٹھیک ہونے میں کبھی کبھی کافی وقت لے لیتی ہیں تاہم کھانسی کسی بھی نوعیت کی ہو اس کا تعلق نظام تنفس میں پیدا ہونے والے کسی نقص سے ضرور ہوتا ہے۔ گلے کی خرابی، حلق کی سوزش، سانس کی نالی میں کسی قسم کے انفکشن کا جنم لینا یا پھیپھڑوں کی خرابی، کھانسی کا سبب بنتی ہے۔ کھانسی کا مؤثرعلاج نہ ہونے کی صورت میں یہ خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔
پھیپھڑوں کی مخصوص نالیوں میں مسلسل نقص رہنے کی صورت میں برونکائیٹس کا عارضہ جنم لیتا ہے اور ابتدائی مرحلے میں مریض کو خشک کھانسی کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر اس مرحلے پر صحیح علاج نہ ہو سکے تو پھیپھڑوں کی نالیوں میں بلغم جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس طرح پھیپھڑے اپنا نارمل فنکشن انجام نہیں دے پاتے اور مریض کو آخر کار سانس لینے میں دشواری ہونے لگتی ہے جو خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
غیر فعال تمباکو نوشی بچوں کی صحت کغ لیے بہت نقصاندہ ثابت ہوتی ہے
غیر فعال تمباکو نوشی بچوں کی صحت کغ لیے بہت نقصاندہ ثابت ہوتی ہے
موسم اور احتیاط
سانس کی تکلیف یا دائمی کھانسی میں مبتلا مریضوں کو سردیوں اور بہار کے موسم کے آغاز سے پہلے ہی بہت محتاط ہو جانا چاہیے کیونکہ پھیپھڑوں کی نالیوں میں جمع ہونے والی بلغم نزلے زکام کے جراثیموں کی آماجگاہ بن جاتی ہے جہاں وہ تیزی سے نشو و نما پاتے ہیں۔ یہ بلغم کبھی کبھی شدید کھانسی کی صورت میں بھی باہر نہیں نکلتی، نالیوں کو جکڑے رکھتی ہے اور اکثر پھیپھڑوں کے مہلک انفکشن کا سبب بنتی ہے۔
کہنہ کھانسی کی وجوہات
کہنہ بروناکائیٹس یا پھیپھڑوں کے ورم کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہوتی ہے۔ 40 سال کی عمر سے زائد کے ہر دوسرے تمباکو نوش میں ڈاکٹر برونکائیٹس یا پھیپھڑے کے ورم کی بیماری کی تشخیص کرتے ہیں۔ جتنی زیادہ تمباکو نوشی کی جائے گی، مرض کی شدت بھی اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ برونکائیٹس کے مرض میں مبتلا 90 فیصد مریض یا تو تمباکو نوشی کی بُری عادت میں مبتلا ہوتے ہیں یا ماضی میں رہ چکے ہوتے ہیں۔
برونکائیٹس سے نجات حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنا اور طبی علاج کا سہارا لینا ناگزیر ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنے کے قریب چار ہفتوں بعد کھانسی ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ چند خاص قسم کے کام کرنے والوں میں پھپپھڑوں کی خرابی اور کھانسی زیادہ عام ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کانوں میں کام کرنے والوں میں یہ بیماری عام ہے اور اگر وقت پر اس کا مؤثر علاج نہ کیا جائے تو یہ پھیپھڑوں کے کینسر یا سرطان کا سبب بن سکتی ہے۔
جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات زیادہ موثر ہوتی ہیں
جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات زیادہ موثر ہوتی ہیں
برونکائیٹس سے بچاؤ کے طریقے
ہوا میں نمی کا مناسب تناسب سانس کی بیماریوں اور کھانسی وغیرہ سے بچنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں سونے کے کمرے میں ہوا میں نمی کا تناسب 45 سے 60 فیصد کے درمیان ہونا چاہیے۔
جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ چائے دائمی کھانسی کے علاج اور پھیپھڑوں کی نالیوں کو کھولنے کے عمل میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ اس چائے میں پودینے کے خاندان سے تعلق رکھنے والا پودا سلویا، قدیم عرب، یونان، مصر اور اٹلی میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹی زعتر، پودینہ اور پلین ٹین یا موزیہ یا کیلویہ پودے کے پتے شامل ہوتے ہیں۔
کھانسی کے خلاف دیسی نسخے
کھانسی کا زور توڑنے کے لیے حلق کو خُشکی سے بچانا نہیات ضروری ہوتا ہے، اس لیے کھانسی کی شدت سے بچنے اور گلے کی سوزش دور کرنے کے لیے جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ گولیاں چوستے رہنا چاہیے۔
سینے پر ہنس کی چربی ملنے سے کھانسی میں بہت آرام آتا ہے اور اس کی گرمی پھیپھڑوں کی نالیوں میں جمع بلغم کو صاف کرنے میں بھی بہت مدد دیتی ہے۔
لیموں کے عرق سے تولیے کو تر کر کے سینے کو لپیٹنے سے بھی کھانسی میں آرام آتا ہے۔
گرم دودھ میں شہد ملا کر پینے سے پھیپھڑوں سے بلغم صاف ہو جاتا ہے۔
نمک کے پانی سے غرارے کرنے اور نمک کے گرم پانی کا بھاپ لینے سے ناک اور گلے کی سوزش میں کمی آتی ہے اور سانس کی نالی پر حملہ کرنے والے جراثیم بھی مر جاتے ہیں۔ اس طرح کھانسی پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔
بہت شدت کی کھانسی میں سانس لینے کا عمل غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ تیز تیز سانس لینا کھانسی اور پھیپھڑے میں جمع بلغم کو صاف کرنے میں مدد نہیں دیتا۔ آہستہ آہستہ اور گہری سانس لینے سے پھیپھڑے کی بند نالیوں کو کھولنے اور خون تک آکسیجن کی مطلوبہ مقدار کی فراہمی میں مدد ملتی ہے۔
زرشک
آپ نے ڈبل روٹی ، بن یا بیکری کی میٹھی چیزیں کھاتے ہوئے ایک کالے رنگ کے کشمش یا
سوگی سے کم باریک دانے دیکھے ہوں گے جو کہ عموماً ڈبل روٹی یا کیک میں ڈالے جاتے ہیں۔ کشمش نما یہ باریک دانے طب کی زبان میں زرشک کہلاتے ہیں عام طور پر پنساری کی دکان پر کوئی مہنگے نہیں عام داموں میں مل جاتے ہیں۔ ویسے بھی اگر یہ مہنگے ہوتے تو ڈبل روٹی ، بن اور کیک میں نہ ڈالے جاتے۔ آپ جانتے ہیں یہ کیا ہے؟ یہ قدرت کا ایک انوکھا راز ہے اور کیا آپ کو علم ہے یہ پیدا کہاں ہوتے ہیں؟ یہ گیارہ ہزار سے سترہ ہزار فٹ کی بلندی پر سرسبز پہاڑی علاقوں میں ایک جھاڑی نما پودہ ہوتا ہے بعض اوقات یہ بڑی جھاڑی چھوٹے درخت کے برابر ہوجاتی ہے اس پر کانٹے لگتے ہیں اور ان کانٹوں کے درمیان یہ کالے دانے لگتے ہیں۔ جسے پہاڑی لوگ چن کر بیچتے ہیں اور یوں چلتے چلاتے یہ ہماری بازاروں تک پہنچ جاتے ہیں۔
آپ نے عقابی نگاہیں محاورہ پڑھا ہوگا یعنی ایسی تیز نگاہیں جو میلوں سے باریک چیز دیکھ لیتی ہیں۔ حیران ہوں گے کہ عقاب کی خوراک یہی کالے دانے یعنی جنہیں میں کالی کشمش کہوں گا عقاب ان دانوں کو کھا کر ایسا طاقتور ہوتا ہے وہ پل بھر میں زمین پر چلنے و الے سانپ کو بھی جھپٹ لیتا ہے فاختہ اور کبوتر کو بھی اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھا عقاب زمین پر چلنے و الے چھوٹے سے چھوٹے کیڑے اپنی ان تیز نگاہوں سے دیکھ لیتا ہے اس کی وجہ کالی کشمش ہے۔ آپ پنساری سے خریدتے ہوئے کالی کشمش نہ کہیے گا اسے زرشک کہیے گا زرشک شیریں۔۔۔
نظر کی قوت
پہلا فائدہ: یہ زرشک سیاہ دماغی تقویت کیلئے نظر کی قوت کیلئے عینک کے توڑ کیلئے قدرت کا ایک انوکھا طبی راز ہے۔ ایک چمچ زرشک شیریں ایک دود ھ کے نیم گرم بڑے گلاس کے ساتھ اگر نہار منہ خوب چبا کر لے لیا جائے اور اسی طرح عصر کی نماز کے بعد تو اس کے وہ کمالات آپ پر کھلیں گے کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ میں نے ایسے ایسے لوگوں کو زرشک کا استعمال کرایا جو اپنی یادداشت کھو بیٹھے تھے دماغ کمزور ہوچکا تھا ان کی نظر پر اثر تھا ان کی سوچوں پر اثر تھا‘ ان کی نظر سوچیں اوردماغ بہت کمزور تھا۔ ان کی طبیعت میں بہت زیادہ کمزوری تھی وقت سے پہلے بڑھاپا بال سفید ہو رہے تھے‘ سردکھتا رہتا تھا‘ حتیٰ کہ دائمی سردرد کے مریض تھے۔ یا چہرے پر جھریاں بڑھتی چلی جا رہی تھیں اس کیلئے میں نے اس کو بہت مفید پایا۔
دوسرا فائدہ: ہیپاٹائٹس
دوسرا فائدہ: ہیپاٹائٹس کا پرانے سے پرانا مریض جگر کی کوئی تکلیف‘ کالا یرقان ہو یا پیلا‘ جگر سکڑ رہا ہو یا جگر کا کینسر بتایا گیا ہو‘ اس کیلئے اس سے بڑھ کر انوکھا طریاق راز اور صحت کی انوکھی خوشخبری آپ کو کہیں سے نہیں ملے گی۔
سوگی سے کم باریک دانے دیکھے ہوں گے جو کہ عموماً ڈبل روٹی یا کیک میں ڈالے جاتے ہیں۔ کشمش نما یہ باریک دانے طب کی زبان میں زرشک کہلاتے ہیں عام طور پر پنساری کی دکان پر کوئی مہنگے نہیں عام داموں میں مل جاتے ہیں۔ ویسے بھی اگر یہ مہنگے ہوتے تو ڈبل روٹی ، بن اور کیک میں نہ ڈالے جاتے۔ آپ جانتے ہیں یہ کیا ہے؟ یہ قدرت کا ایک انوکھا راز ہے اور کیا آپ کو علم ہے یہ پیدا کہاں ہوتے ہیں؟ یہ گیارہ ہزار سے سترہ ہزار فٹ کی بلندی پر سرسبز پہاڑی علاقوں میں ایک جھاڑی نما پودہ ہوتا ہے بعض اوقات یہ بڑی جھاڑی چھوٹے درخت کے برابر ہوجاتی ہے اس پر کانٹے لگتے ہیں اور ان کانٹوں کے درمیان یہ کالے دانے لگتے ہیں۔ جسے پہاڑی لوگ چن کر بیچتے ہیں اور یوں چلتے چلاتے یہ ہماری بازاروں تک پہنچ جاتے ہیں۔
آپ نے عقابی نگاہیں محاورہ پڑھا ہوگا یعنی ایسی تیز نگاہیں جو میلوں سے باریک چیز دیکھ لیتی ہیں۔ حیران ہوں گے کہ عقاب کی خوراک یہی کالے دانے یعنی جنہیں میں کالی کشمش کہوں گا عقاب ان دانوں کو کھا کر ایسا طاقتور ہوتا ہے وہ پل بھر میں زمین پر چلنے و الے سانپ کو بھی جھپٹ لیتا ہے فاختہ اور کبوتر کو بھی اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھا عقاب زمین پر چلنے و الے چھوٹے سے چھوٹے کیڑے اپنی ان تیز نگاہوں سے دیکھ لیتا ہے اس کی وجہ کالی کشمش ہے۔ آپ پنساری سے خریدتے ہوئے کالی کشمش نہ کہیے گا اسے زرشک کہیے گا زرشک شیریں۔۔۔
نظر کی قوت
پہلا فائدہ: یہ زرشک سیاہ دماغی تقویت کیلئے نظر کی قوت کیلئے عینک کے توڑ کیلئے قدرت کا ایک انوکھا طبی راز ہے۔ ایک چمچ زرشک شیریں ایک دود ھ کے نیم گرم بڑے گلاس کے ساتھ اگر نہار منہ خوب چبا کر لے لیا جائے اور اسی طرح عصر کی نماز کے بعد تو اس کے وہ کمالات آپ پر کھلیں گے کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ میں نے ایسے ایسے لوگوں کو زرشک کا استعمال کرایا جو اپنی یادداشت کھو بیٹھے تھے دماغ کمزور ہوچکا تھا ان کی نظر پر اثر تھا ان کی سوچوں پر اثر تھا‘ ان کی نظر سوچیں اوردماغ بہت کمزور تھا۔ ان کی طبیعت میں بہت زیادہ کمزوری تھی وقت سے پہلے بڑھاپا بال سفید ہو رہے تھے‘ سردکھتا رہتا تھا‘ حتیٰ کہ دائمی سردرد کے مریض تھے۔ یا چہرے پر جھریاں بڑھتی چلی جا رہی تھیں اس کیلئے میں نے اس کو بہت مفید پایا۔
دوسرا فائدہ: ہیپاٹائٹس
دوسرا فائدہ: ہیپاٹائٹس کا پرانے سے پرانا مریض جگر کی کوئی تکلیف‘ کالا یرقان ہو یا پیلا‘ جگر سکڑ رہا ہو یا جگر کا کینسر بتایا گیا ہو‘ اس کیلئے اس سے بڑھ کر انوکھا طریاق راز اور صحت کی انوکھی خوشخبری آپ کو کہیں سے نہیں ملے گی۔
Saturday, 1 November 2014
تل:
تل:
تل بھی موسمِ سرما کی خاص سوغات میں سے ایک ہے۔ جن بڑوں یا بچوں کو کثرت پیشاب کا مرض ہو اور سردیوں میں بوڑھے افراد اس کی زیادتی سے تنگ ہوں یا پھر جو بچے سوتے میں بستر گیلا کر دیتے ہوں، ان کو تل کے لڈو کھلانے چاہئیں۔ اس سے کثرتِ پیشاب کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم میں گرمی پیدا کرتے ہیں۔ جن بوڑھوں کو بہت زیادہ سردی لگتی ہو ان کے لئے تو بہت ہی مفید ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش میوہ ہے۔ اس میں معدنی نمک اور پروٹین کے علاوہ ’’لیسی تھین‘{‘{ بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ فاسفورس آمیز چکنائی دماغ اور اعصاب کے لئے بہت ہی مفید ہے۔ واضح رہے کہ لیسی تھین تل کے علاوہ انڈے کی زردی، گوشت اور ماش کی دال میں بھی پایا جاتا ہے۔ موسم سرما میں بوڑھوں اور بچوں کے مثانے کمزور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر بستر پر پیشاب کردیتے ہیں۔ اس شکایت سے نجات کیلئے تل کے لڈو بہترین غذا اور دوا ہیں۔
چلغوزہ :
چلغوزہ :
چلغوزے گردے، مثانے اور جگر کو طاقت دیتے ہیں۔ سردیوں میں اس کے کھانے سے جسم میں گرمی بھر جاتی ہے۔ چلغوزے کھانا کھانے کے بعد کھائیں۔ اگر کھانے سے پہلے انہیں کھایا جائے تو بھوک ختم ہوجاتی ہے۔چلغوزے گردہ‘مثانہ اور جگر کو طاقت دیتے ہیں اس کے کھانے سے جسم میں گرمی اور فوری توانائی محسوس ہوتی ہے۔ چلغوزہ کھانے سے ’’میموری سیلز‘{‘{ میں اضافہ یعنی یادداشت میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔اگر کوئٹہ سے قلعہ عبداللہ کے راستے ژوپ(فورٹ سنڈے من)کی طرف جائیں تو تقریباً پانچ گھنٹے کی مسافت کے بعد ژوب کا علاقہ آتا ہے۔یہ علاقہ 2500سے 3500میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37سینٹی گریڈ جب کہ سردیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 15سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ مزید بلندی پر یہ درجہ حرارت مزید کم ہو جاتا ہے،یہ ہی وہ علاقہ ہے جہاں چلغوزے کے دنیا کے سب سے بڑے باغات واقع ہیں۔ یہ باغات تقریباً 1200مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔اس علاقے میں پیدا ہونے والا چلغوزہ دنیا بھر میں نہایت معیاری اور پسند کیا جاتا ہے۔ اس کی مناسب پیکنگ وغیرہ کر کے اس کو بیرون ملک ایکسپورٹ کر دیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں پیدا ہونے والے اس چلغوزے کی زیادہ تر مارکیٹ دبئی‘انگلینڈ‘ فرانس‘مسقط اور دیگر ممالک ہیںجہاں کے خریدار اس علاقے کے پاکستانی چلغوزے کو منہ مانگی قیمت پر خریدنے کو تیار رہتے ہیں۔
کشمش:
کشمش:
کشمش دراصل خشک کئے ہوئے انگور ہوتے ہیں۔ چھوٹے انگوروں سے کشمش اور بڑے انگوروں سے منقیٰ بنتا ہے۔ کشمش اور منقیٰ قبض کا بہترین توڑ ہیں۔ یہ نزلہ کھانسی میں مفید اور توانائی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق ایک سو گرام کشمش میں پوٹاشیئم 275 ملی گرام جب کہ فولاد 1.3 ملی گرام ہوتا ہے۔کشمش دراصل خشک کیے ہوئے انگور ہیں۔ چھوٹے انگوروں کو خشک کرکے کشمش تیار کی جاتی ہے جب کہ بڑے انگوروں کو خشک کرکے منقی تیار کیا جاتا ہے۔ کشمش اور منقی قبض کا بہترین علاج ہے۔ نیزہڈیوں کے بھربھرے پن کی مرض میں مفید ہے۔ بہت قوت بخش میوہ ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)