Saturday, 2 August 2014

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کیا ہیں؟


اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کیا ہیں؟

بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

یہ ادویات ڈپریشن کی علامات کودور کرتی ہیں۔یہ سب سے پہلےبیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں دریافت کی گئ تھیں اور تب سے مسلسل زیر استعمال ہیں۔آجکل تقریباً تیس کے قریب ادویات مو جود ہیں جو چار بڑی اقسام میں تقسیم کی گئ ہیں.

۱۔ ٹرائی سائکلک اینٹی ڈپریسنٹس

۲۔ مونوامیں آ کسیڈیز انہبٹرز

۳۔ سیلیکٹو سیروٹونن ری اپٹیک انہبٹرز

۴۔ سیروٹونن نارایڈرینلین ری اپٹیک انہبٹرز

یہ ادویات کس طرح کام کر تی ہیں؟

ہم یقینی طور پر تو نہیں جانتے لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ ادویات دماغ میں موجود بعض کیمیکلز کی کارکردگی کو بڑھاتی ہیں جنہیں نیورو ٹرانسمیٹرز کہتے ہیں۔ نیورو ٹرانسمیٹرز دماغ کے ایک خلیے سے دوسرے خلیے تک سگنل پہنچاتے ہیں۔ عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ دو کیمیکلز نارایڈرینلین اور سیروٹونین کا ڈپریشن سے گہرا تعلق ہے۔

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کن بیماریوں میں استعمال کی جانی چاہیئیں؟

درمیانے درجے سے شدید درجے کا ڈپریشن

شدید گھبراہٹ اور گھبراہٹ کے دورے (اینگزائٹی اور پیَنک اٹیک)

وہم کی بیماری (آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر)

طویل عرصےرہنے والے درد

ایٹنگ ڈس آرڈرز (وہ بیماریاں جن میں مریض بہت کم یا بہت زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں)

پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر ( شدید صدمےکے بعد پیدا ہونے والی نفسیاتی بیماری)

اگر آپ کو واضح نہ ہو کہ آپ کو اینٹی ڈپریسنٹ دوا کیوں تجویز کی گئی ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کیجیے۔

یہ ادویات کس حد تک کار آمد ہیں؟

تین مہینے کے علاج کے بعد ڈپریشن کے جن مریضوں کو؛

اینٹی ڈپریسنٹ دوا دی جائے ان میں سے پچاس سے پینسٹھ فیصد تک لوگ بہت بہتر ہو جاتے ہیں

اسی رنگ کی لیکن اینٹی ڈپریسنٹ اثر نہ رکھنے والی گولی دی جائے ان میں سے پچیس سے تیس

فیصد تک لوگ بہت بہتر ہوتے ہیں

یہ حیران کن بات لگتی ہے کہ جن لوگوں کو بے اثر دوا دی جائے ان میں سے بھی کچھ لوگ بہتر ہو جاتے ہیں لیکن ایسا ان تمام ادویات کے ساتھ ہوتا ہے جو ہمارے جذبات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔درد کم کرنے والی ادویات کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔اینٹی ڈپریسنٹ ادویات فائدہ مند تو ہیں لیکن اور بہت ساری ادویات کی طرح ان سے کچھ فائدہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم ان سے فائدے کی امید رکھتے ہیں۔

کیا اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے مضر اثرات ہوتے ہیں؟

جی ہاں۔ آپ کے ڈاکٹر کو اس بارے میں آپ کو معلومات دینی چاہیئیں۔ اگر آپ کو کوئی جسمانی بیماری ہو یا ماضی میں رہی ہو تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔مختلف طرح کی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے ساتھ مختلف مضر اثرات ہوتے ہیں۔

ٹرائی سائکلکس (مثلا ایمی ٹرپٹیلین، امیپرامین، ڈوتھائیپن، کلومپرامین وغیرہ)

اس گروپ کی ادویات کےعام مضر اثرات میں گلے کی خشکی، ہاتھوں میں کپکپاہٹ، دل کی دھڑکن تیز ہو جانا، قبض، نیند آنا اور وزن کا بڑھ جانا شامل ہیں۔عمر رسیدہ لوگوں میں یہ ادویات سوچنے میں دشواری، پیشاب کرنے میں رکاوٹ، بلڈ پریشر کم ہو جانے کی وجہ سے چکر آنا اور گر جانے کا سبب بن سکتی ہیں۔اگر آپ کو دل کی بیماری ہے تو بہتر ہو گا کہ آپ اس گروپ کی اینٹی ڈپریسنٹ نہ لیں۔مردوں کو ان ادویات سے جنسی کمزوریاں ہو سکتی ہیں۔ ٹرائی سائکلک اینٹی ڈپریسنٹ ادویات زیادہ مقدار میں لے لینے کی صورت میں خطرناک ہوتی ہیں۔

اسپیسیفک سیروٹونن ری اپٹیک انہیبیٹرز (ایس ایس آر آئیز) (مثلا فلو آسٹین، پیرآکسٹینِ ، سرٹرالین، سٹالوپرام وغیرہِ)

جب آپ ان ادویات کو لینا شروع کریں تو ہو سکتا ہے کہ پہلے چند ہفتوں میں آپ کو متلی محسوس ہو اور گھبراہٹ بڑھ جائے۔ اس گروپ کی بعض ادویات سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ ان ادویات کو کھانے کے ساتھ لیں تو اس کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ یہ آپ کے جنسی عمل کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔بعض لوگوں میں یہ رپورٹ ہوا ہے کہ وہ ان ادویات کو لینے سے جھگڑے کرنے لگے لیکن ایسا شاذو نادر ہی ہوا ہے۔

سیروٹونن نار ایڈرینلین ری اپٹیک انہیبیٹرز (ایس این آر آئیز) (مثلا وینلافیکسین)

ان ادویات کے مضر اثرات بھی ایس ایس آر آئیز سے ملتے جلتے ہیں، لیکن اگر آپ کو دل کی شدید بیماری ہو تو آپ کو وینلافیکسین نہیں استعمال کرنی چاہیے۔اس سے بلڈ پریشر بھی بڑھ سکتا ہے اس لیے بلڈ پریشر کو چیک کرتے رہنے کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔

مونو امین آکسیڈیز انہیبیٹرز (ایم اے اوآ ئیز)

اس طرح کی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات آجکل بہت کم استعمال ہوتی ہیں۔ اگر ایم اے او آئیز ایک چیز ٹائرامین کے ساتھ لے لی جائیں تو بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔اگر آپ ایم اے او آئی لینا شروع کریں تو آپ کا ڈاکٹر آپ کو کھانوں کی ایک فہرست دے گا جو آپ ان ادویات کے ساتھ نہیں کھا سکتے۔

مضر اثرات کی یہ فہرست پریشان کن لگتی ہے لیکن بیشتر لوگوں کو بہت کم مضر اثرات ہوتے ہیں یا ہوتے ہی نہیں۔ عام طور سے یہ مضر اثرات ہوں بھی تو چند ہفتوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔لیکن آپ کو ان مضر اثرات کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے تا کہ اگر آپ کو یہ ہوں تو آپ ان کو پہچان سکیں اور اپنے ڈاکٹر کو ان کے بارے میں بتا سکیں۔سب سے شدید مضر اثرات مثلا پیشاب میں رکاوٹ ہونا، یاد داشت کمزور ہو جانا ، گرنا،سوچنے میں دشواری ہونا، عام طور سے صحتمند جوان لوگوں میں نہیں ہوتے۔ بہت سے لوگوں کو ڈپریشن میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے یا اپنی جان لے لینے کے خیال آتے ہیں۔ اپنے ڈاکٹر کو بتائیے، جب آپ کا ڈپریشن ٹھیک ہوگا تو یہ خیالات خود ہی ختم ہو جائیں گے۔

کیا میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے کے ساتھ گاڑی چلا سکتا ہوں یا مشینری آپریٹ کر سکتا ہوں؟

بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے سے نیند آتی ہے اور آپ کا ردَ عمل سست ہو جاتا ہے۔ پرانی ادویات سے ایسا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ایسی ہیں جن کو لینے کے ساتھ آپ گاڑی چلا سکتے ہیں۔یاد رکھیے، ڈپریشن کی بیماری سے بھی لوگوں کی توجہ متاثر ہوتی ہے اور حادثات ہونے کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے اس سلسلے میں ضرور مشورہ کریں۔

کیا انسان اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا عادی ہو جاتا ہے؟

انسان اس طرح سے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا عادی نہیں ہو سکتا جیسے کہ شراب، سکون آور ادویات یا نکوٹین کا عادی ہوجاتا ہے، مثلا یہ کہ

۔آپ کو فائدے کو برقرار رکھنے کے لیے مقدار کو بڑھاتے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی

۔ اگر آپ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کو لینا بند کر دیں تو آپ کو ان کی طلب پیدا نہیں ہو گی

لیکن جو لوگ ایس ایس آر آئیز کو لینا بند کرتے ہیں ان میں سے تقریبا ایک تہائی کو پیٹ کی خرابی، زکام کی طرح کی علامات، گھبراہٹ، چکر آنا، ۔گہرے یا ڈراؤنے خواب آنا، بدن میں بجلی کے شاک جیسی حسیات پیدا ہونا جیسی تکلیف دہ علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو ایس ایس آر آئیز بند کرنے سے بہت ہی کم تکلیف دہ علامات پیدا ہوتی ہیں، لیکن کچھ لوگوں کے لیے یہ بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔دوا بند کرنے پہ ان تکلیف دہ علامات کا سب سے زیادہ امکان پیروکسیٹین اور وینلافیکسین کے استعمال سے ہوتا ہے۔ عام طور سے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کو آہستہ آہستہ بند کرنا اچانک بند کرنے سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

ایس ایس آر آئیز، خود کشی کے خیالات اور کم عمر لو گ

اس بات پہ کچھ ریسرچ موجود ہے کہ بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے سے بچوں او ر ٹین ایج لوگوں میں خود کشی کے خیالات بڑھ جاتے ہیں(گو کہ خود کشی کے واقعات نہیں بڑھتے) اسی لیے بعض ممالک میں اٹھارہ سال سے کم عمر لوگوں کو ایس ایس آر آئیز دینے کی اجازت نہیں ہے۔ برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کلینیکل ایکسی لینس کا کہنا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لوگوں کو ایس ایس آر آئیز میں سے صرف فلو آکسٹین دی جا سکتی ہے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں ایس ایس آر آئیز لینے سے اپنے آپ کو نقسان پہنچانے کا خطرہ یا خود کشی کے خیالات بڑھتے ہیں۔

کیا حاملہ خواتین اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لے سکتی ہیں؟

بہتر ہوتا ہے کہ حمل کے زمانے میں، خصوصا پہلے تین مہینے میں کم از کم دوائیں لی جائیں۔ حال ہی میں کچھ ریسرچ آئی ہے کہ جن ماؤں نے حمل کے زمانے میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لی تھیں ان کے بچوں میں لچھ پیدائشی نقص تھے۔لیکن کچھ ماؤں کے لیے حمل کے زمانے میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینا ضروری ہوتا ہے اوریہ دیکھنا پڑتا ہے کہ دوائیں لینے میں زیادہ خطرات ہیں یا نہ لینے میں زیادہ خطرات ہیں۔ اس بات کا بھی ریسر چ سے کچھ ثبوت ملتا ہے کہ وہ نوزائدہ بچے جن کی مائیں حمل کے دوران اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کرتی رہی ہیں انھیں پیدائش پر دوا اچانک بند ہونے کے مضر اثرات ہو سکتےہیں۔ان تکلیف دہ اثرات کا امکان پارآ کسیٹین نامی دوا سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔جب تک کہ ہمیں اس بارے میں اور زیادہ پتہ چلے بہتر ہے کہ ڈاکٹر حاملہ خواتین کے ڈپریشن کے علاج کے لیے متبادل طریقہ کار پر غور کریں۔

کیا بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لے سکتی ہیں؟

بہت سی خواتین کو بچوں کی پیدائش کے بعد ڈپریشن ہوجاتا ہے جسے پوسٹ نیٹل ڈپریشن (بچے کی ولادت کے بعد ڈپریشن) کہا جاتا ہے۔ عام طور سے یہ ڈپریشن کونسلنگ اور عملی مدد سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ ڈپریشن شدید ہو جائے تو مائیں تھکی تھکی رہتی ہیں، بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ سکتی ہیں، ہو سکتا ہے کہ نوزائیدہ بچے کے ساتھ ان کا تعلق صحیح طور سے نہ جڑے اور ہو سکتا ہے کہ بچے کی نشو نما صحیح رفتار سے نہ ہو۔ایسی صورت میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔

دودھ پینے والے بچے پہ اس کی ماں کے اینٹی ڈپریسنٹ دوا لینے کا کیا اثر ہو سکتا ہے؟

دودھ پینے والے بچے میں ماں کے دودھ سے اینٹی ڈپریسنٹ دوا کی بہت ہی کم مقدار منتقل ہوتی ہے۔ چند ہفتوں سے زیادہ عمر والے بچوں کے جگر اور گردے بالکل صحیح کام کرنے لگتے ہیں۔ چونکہ وہ دوا کو اپنے بدن سےخارج کرنےکے قابل ہوتے ہیں اس لیے انھیں دوا سے بہت کم خطرہ ہوتا ہے۔ بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات اس معاملے میں بعض دوسری ادویات سے زیادہ محفوظ ہیں اس لیے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کر لیں۔ ماؤں کے بچوں کو دوھ پلانے سے جتنے فائدے ہوتے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے بہتر یہی ہے کہ مائیں اینٹی ڈپریسنٹ دوا لینے کے ساتھ دودھ پلانا جاری رکھیں۔

اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ کس طرح لی جانی چاہیئیں؟

اپنے ڈاکٹر کو دکھاتے رہیں۔ٹرائی سائکلکس کو عام طور سے کم مقدار سے شروع کر کےشروع کے

چند ہفتوں میں آہستہ آہستہ بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ پہلی دفعہ کے بعد ڈاکٹر کو دوبارہ نہ دکھائیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ بہت کم دوا لے رہے ہوں۔ ایس ایس آر آئیز کو آہستہ آہستہ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ جس مقدار میں دوا شروع کرتے ہیں عام طور سے بعد میں بھی اسی مقدار کو لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوا کو بتائی گئی مقدار سے زیادہ مقدار میں لینے سے فائدہ نہیں ہوتا۔

اگر آپ کو شروع میں دوا سے کچھ تکلیف دہ اثرات ہوں تو زیادہ پریشان نہ ہوں۔

زیادہ تر تکلیف دہ اثرات چند دنوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر تکلیف دہ اثرات برداشت کے قابل ہوں تو دوا بند نہ کریں۔ لیکن اگر یہ ناقابل برداشت ہوں تو اپنے ڈاکٹر سے فورا مشورہ کریں۔اگر آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے لگے تو اپنے ڈاکٹر کو بتانا ضروری ہے تا کہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ یہ دوا آپ کے لیے مناسب ہے کہ نہیں۔اگر آپ کی بے چینی یا گھبراہٹ بڑھ رہی ہو تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔

دوا روزانہ لیں۔ اگر آپ دوا روزانہ نہیں لیں گے تو آپ کو اس کا فائدہ بھی نہیں ہو گا۔

دوا کا فائدہ شروع ہونے کا انتظار کریں۔ یہ دوائیں پہلی خوراک لیتے ہی کام شروع نہیں کر دیتیں۔زیادہ

تر لوگوں کا تجربہ یہ ہے کہ اینٹی ڈپریسنٹ کو شروع کرنے کے بعد ان کا فائدہ شروع ہونے میں ایک سے دو ہفتے لگتے ہیں اور مکمل فائدہ ہونے میں چھ ہفتے تک بھی لگ سکتے ہیں۔دوا جلدی بند کر دینا اکثر لوگوں میں اینٹی ڈپریسنٹ دوا کا فائدہ نہ ہونےیا فائدہ شروع ہونے کے بعد ڈپریشن واپس آ جانے کی سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے۔

الکحل پینے سے گریز کریں۔الکحل ڈپریشن کو اور زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ اگر آپ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات

لینے کے ساتھ الکحل پی لیں تو آپ کو سستی ہونے لگے گی اور نیند آنے لگے گی۔ اس سے گاڑی چلانے میں یا کوئی اور ایسا کام کرنے میں جس میں توجہ دینے کی ضرورت ہو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

کیا آپ کو اپنے آپ کو نقصان پہنچانے یا اپنی زندگی کو ختم کرنے کے لیے دوائیں زیادہ مقدار میں

لے لینے کے خیالات آتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اپنے ڈاکٹر کو فورا بتائیں اوراپنی دوائیں اپنے پاس رکھنے کے بجائے گھر میں کسی اور شخص کے حوالے کردیں۔

دوا کا ڈوز بدلنے کے بعد اگر آپ کو اپنے آپ کے اندر کوئی بڑی تبدیلی محسوس ہو تو اپنے ڈاکٹر کوضرور بتائیں۔

مجھے اینٹی ڈپریسنٹ دوا کتنے عرصے کے لیے لینی پڑے گی؟

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ڈپریشن کو جڑ سے نہیں ختم کرتیں یا ڈپریشن ہونے کی وجہ کو نہیں دور کرتیں۔ اگر کوئی دوا نہ بھی دی جائے تو اکثر لوگوں میں ڈپریشن تقریبا آٹھ مہینے کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔اگر آپ دوا شروع کرنے کے بعد آٹھ نو مہینوں سے پہلے بند کردیں گے تو تو ڈپریشن کی علامات واپس آنے کا کافی زیادہ خطرہ ہوگا۔ جہاں سے آپ دوبارہ صحیح محسوس کرنا شروع کریں اس وقت سے کم از کم مزید چھ مہینوں تک دوا جاری رکھنی چاہیے۔ اگر آپ کو ڈپریشن دو یا اس سے بھی زیادہ دفعہ ہو چکا ہے تو علاج کم از کم دو سال تک جاری رہنا چاہیے۔

اس بات پر غور کریں کہ آپ کا ڈپریشن شروع ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ایسے اقدامات کر پائیں جن کی وجہ سے ڈپریشن دوبارہ ہونے کا خطرہ کم ہو جائے۔

اگر مجھے دوبارہ ڈپریشن ہو جائے تو؟

بعض لوگوں کو ڈپریشن بار بار ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بالکل ٹھیک ہونے کے بعد بھی انھیں کئی سال تک دوا لینے کی ضرورت ہو تا کہ ان کا ڈپریشن واپس نہ آ جائے۔بڑی عمر کے لوگوں میں کئی کئی بار ڈپریشن ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔بعض لوگوں کوڈپریشن کو واپس آنے سے روکنے کے لیے اور دواؤں مثلا لیتھیم کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ باتوں کے ذریعے علاج (سائیکو تھراپی) بھی اس سلسلے میں سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

میری زندگی پہ ان دوائیوں کو لینے سے کیا اثر پڑے گا؟

ڈپریشن کی بیماری کافی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اس سے انسان کے کام کرنے کی استطاعت اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت بہت حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات آپ کو جلدی ٹھیک ہونے میں مدد دے سکتی ہیں۔تھوڑے بہت تکلیف دہ اثرات کے علاوہ ان کا زندگی پہ کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لوگ ان دواؤں کو لینے کے ساتھ ساتھ اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں، لوگوں سے ملنا جلنا بھی رکھ سکتے ہیں اور زندگی کی تمام خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

اگر میں ان دواؤں کو نہ استعمال کروں تو کیا ہوگا؟

یہ کہنا مشکل ہے۔ اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ ڈاکٹر نے آپ کے لیے اینٹی ڈپریسنٹ دوا کیوں تجویز کی ہے، آپ کا ڈپریشن کتنا شدید ہے اور کتنے عرصے سے ہے۔زیادہ تر لوگوں کا ڈپریشن اگر وہ کوئی دوا نہ بھی لیں تو تقریبا آٹھ مہینے کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کا ڈپریشن ہلکے درجے کا ہو تو ہو سکتا ہے کہ دوا کے علاوہ علاج سے ٹھیک ہو جائے۔ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

دوا کے علاوہ ڈپریشن کے اور کیا علاج موجود ہیں؟

یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ آپ کن باتوں یا چیزوں سے بہتر محسوس کرتے ہیں تا کہ آپ کو آئندہ ڈپریشن ہونے کا خطرہ کم ہو سکے۔ کسی بااعتماد شخص سے بات کرنے سے، باقاعدگی سے ورزش کرنے سے، الکحل کم پینے سے، مناسب غذا کھانے سے، اپنی مدد آپ کے اصولوں کے تحت اپنے آپ کو پرسکون کرنے کے طریقوں سے اور اپنے مسائل کو حل کرنے سے جن کی وجہ سے ڈپریشن شروع ہوا ہو، آئندہ ڈپریشن نہ ہونے میں مدد ملتی ہے۔

باتوں کے ذریعے علاج

ڈپریشن کا باتوں کےذریعے علاج کرنے کے کئی موثر طریقے موجود ہیں۔ ہلکے درجے کے ڈپریشن میں کونسلنگ کارآمد ہوتی ہے۔ اگر ڈپریشن زندگی کے مسائل کی وجہ سے شروع ہوا ہو تو مسائل کو حل کرنے کے طریقہ علاج (پرابلم سولونگ تھراپی) سے مدد ملتی ہے۔کوگنیٹو بیہیویئر تھراپی ڈپریشن کا علاج کرنے کے لیےشروع کی گئی تھی اور اس سے انسان کو اپنے بارے میں، دنیا کے بارے میں اوردوسرے لوگوں کے بارے میں اپنے خیالات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

اینٹی ڈپریسنٹ دوا زیادہ موثر ہے یا یہ دوسرے علاج؟

حالیہ ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ ایک سال کے عرصے کے اوپر باتوں کے ذریعے علاج کے کئی طریقے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات جتنے ہی موثر ہیں۔ ادویات کا فائدہ زیادہ جلدی ہوتا ہے۔ بعض ریسرچ کہتی ہے کہ بیک وقت اینٹی ڈپریسنٹ اور سائیکو تھراپی دونوں کے استعمال سےمریض کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

درج بالا تحریر ڈاکٹر سید احمر (ایم آر سی سائیک)، ڈپارٹمنٹ آف سائکائٹری، آغا خان یونیورسٹی کراچی،کے مرتب کئے گئے کتابچے سے لیا گیا ہے.

انگور کے چند فوائد


اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں چھ مقامات پر انگور کو ان نعمتوں میں شمار کیا ہے جو بندوں پر دنیا اور جنت دونوں جگہ میں انعام کیا ہے ۔شاید اسی لئے اس کو جنت کا پھل کہا جاتا ہے ۔رسول ﷺ سے منقول ہے کہ آپ کو انگور اور تربوز بہت مرغوب تھے ۔بر صغیر ہند و پاک میں انگور کو مغل بادشاہ لے کر آئے ۔خاندان تغلق کے مشہور فرماں روا سلطان فیزوز شاہ تغلق کے عہد میں دہلی اور دیگر مقامات پر انگور کی کامیاب کاشت کی گئی ، مگر افغانستان وغیرہ سے انگور کی در آمد بدستور جاری رہی ۔ اکثر مغل بادشاہوں کو سمر قند کے انگور بے حد پسند تھے ۔کیونکہ یہ بے حد لذیز ہوتے تھے ۔
اس وقت دنیا میں اٹلی ، فرانس ، اسپین ، امریکا ، میکسیکو چلی سب سے زیادہ انگور پیدا کرنے والے ممالک سمجھے جاتے ہیں ۔پاکستان میں انواع و اقسام کے لذیذ انگوروں کی پیداوار زیادہ تر منگورہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں ہوتی ہے ،جبکہ افغانستان سے بھی یہ درآمد کیا جاتا ہے انگور کی بہت سی اقسام ہیں ۔تاریخ میں تقریبا نوے اقسام کا ذکر ملتا ہے جن میں مٹھاس ، ذائقہ ،رنگ ، بیج اور بغیر بیج کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے ۔اس کی ایک قسم کا رنگ سیاہی مائل نیلا ہوتا ہے اور سائز بھی بڑا ہو تا ہے ہندوستان میں تین قسم کا انگور پایا جاتا ہے چھوٹا گول ہلکا زردی مائل ، لمبا ذردی مائل جس کو سندرخانی کہتے ہیں کالا انگور اس کا رنگ گلابی بھی ہوتا ہے اس میں بیج بھی ہوتا ہے سندرخانی انگور سب سے زیادہ میٹھا ہوتا ہے جبکہ باقی دونوں اقسام مٹھاس قدر کم ہوتی ہے انگور ایک قدیمی پھل ہے کہتے ہیں انگور کو بر اعظم ایشیا میں پانچ ہزار سال قبل مسیح میں کاشت کیا جاتا تھا ۔بائبل میں بھی انگور کا ذکر ملتا ہے بائبل میں انگور کو شراب کے پھل کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ انگور کی تصویر قدیم مصر کے مقبروں میں بھی پائی گئی ہیں ۔
انگور کو عربی زبان میں عنب ، بنگالی زبان میں داکھ اور گجراتی میں دہراکھ ، جبکہ انگریزی میں گریپ کہتے ہیں ۔خشک چھوٹے انگور کو کشمش (Raisins) اور بڑے انگور کو جس میں بیج ہوتے ہیں منقا کہتے ہیں ۔
مزاج:
اطباء کی رائے کے مطابق بختہ انگور کا مزاج گرم و تر ہوتا ہے اور کچا انگور ٹھنڈا اور خشک ہوتا ہے جبکہ کشمش اور منقا کو خشک و گرم قرار دیا جاتا ہے ۔

انگور کے چند فوائد :
انگور بڑا مفید اور غذائی اجزا سے بھر پور پھل ہے 50گرام انگور میں 26حرارے قوت ہوتی ہے جو حضرات طاقت کے لئے گلوکوس کا استعمال کرتے ہیں انہیں اس کے بجائے انگور کا شوق کرنا چاہئے ۔ کیونکہ اس میں گلوکوس کے علاوہ دیگر غذائی اجزا اور حیاتین بھی ہوتے ہیں ۔ اس میں لحمی مواد ، چکنائی اور نشاستے دار شکریلے اجزا چونا ،فاسفورس وغیرہ ہوتے ہیں ۔فولاد تو وافر مقدار میں پایا جاتا ہے یہ ملٹی وٹامن پھل ہے اس میں 80 فیصد پانی موجود ہوتا ہے ۔ یہ پوٹاسیم کا اچھا ذریعہ ہے انگوری شکر یا خالص گلوکوس کی وجہ سے فوری توانائی مہیا کرتا ہے ۔اس میں حیاتین ب ، ج اور د ہوتے ہیں ۔ یہ معدے کو طاقت دیتا ہے جلن کو ختم کرتا ہے ، خون کو بڑھاتا ہے اس لئے خون کی کمی کی صورت میں انگور استعمال کرنے چاہئے ۔جسمانی کمزوری و نقاہت کو دور کرتا ہے ، بدن کو موٹا کرتا ہے اکثر حضرات وہم وسوسے پریشان خیالی ، پشت ہمتی اور چڑ چڑے پن کا شکار ہوتے ہیں ان عوارض کے لئے انگور بڑا موثر ہے ۔قبض کو دور کرتا ہے ۔ جن لوگوں کو قبض کی شکایت رہتی ہے ان کو رات کو سوتے وقت 100گرام انگور استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے انگور جسم کو تندرست رکھتا ہے گردے کی بیماری میں مفید ہے اس کے استعمال سے گردوں کو طاقت ملتی ہے ، انگور پیشاب آور ہے پیشاب کے ذریعہ بدن کے فاسد مادوں کو خارج کرتا ہے ۔اس لئے گردوں کی سوزش اور گردوں کی پتھری میں بھی انگور مفید ہے ۔ اس کوچھلکو ں سمیت استعمال کرنے سے سرطان کا امکان نہیں رہتا ۔ بڑھاپے کے عمل کو کم کرتا ہے ۔انگور دل کے امراض سے بچاتا ہے دل کے درد اور بے ترتیب دھڑکنوں میں بھی انگور فائدہ دیتا ہے انگور کا جوس آدھے سر کا سرد ( شقیقہ ) کا موثر علاج ہے ۔آدھے سر کے درد میں انگور کا جوس صبح و شام استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ انگور کے پتے بھی بطور دوا استعمال کئے جاتے ہیں ۔ یہ کالی کھانسی ، استسقاء ( پیٹ میں پانی بھر جانا) اور جوڑوں کے درد میں مفید ہے ان بیماریوں میں انگور کے پتوں کا جوشاندہ صبح و شام استعمال کرنا مفید ہے ۔

نکسیر:
میٹھے انگور کا رس نکال کر اس کو نتھنوں میں ڈال کر اوپر کو سانس کے ساتھ سڑکنے سے نکسیر بند ہو جاتی ہے ۔
آنکھیں دکھنا :
کھٹے انگور کا پانی نکال کر ڈراپر وغیرہ سے دو بوند دکھتی آنکھ میں ڈالنے سے آرام آجاتا ہے ۔

کھانسی
مغز بادام 10گرام ملہٹی پسی ہوئی 10گرام منقا بیج نکال کر 10گرام سب کو پیس کر چنے کے برابر گولیاں بنا لیں اور ایک ایک گولی منھ میں رکھ کر چوسیں ۔ کھانسی انشاء اللہ دور ہو جائے گی ۔

لیکوریا
لیکوریا ، ند ہضمی و قبض اور سر درد کی شکایت رہتی ہو تو انگور کا رس ایک چمچہ (90بوند) صبح و شام استعمال کرنا مفید ہے حاملہ عورت کو اگر روزانہ صبح وشام دیا جائے تو اسے چکر آنا ، غشی ، مروڑ ، اپھارہ اور قبض وغیرہ کی شکایت نہیں ہوتی ۔

بندش حیض :
اگر ماہواری ٹھیک وقت پر نہ ہوتی ہو تو مغز بادام بغیر چھلکا اتارے 40گرام کشمش سبز 100گرام نارجیل 70گرام چھوہارے عمدہ قسم آٹھ عدد سب کو کوٹ کر محفوظ کر لیں ماہواری کے دنوں میں 50گرام روزانہ دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے حیض کھل کر جاری ہو جاتا ہے ۔

خوبصورتی میں اضافہ کے لئے :
انگور جلد کو نرمی،چمک اور غذائیت مہیا کرتا ہے۔اس کے لئے انگور اور شہد ملالیں اور 15-20منٹ کے لئے چہرے پر اس کی ہلکی مالش کریں ۔ پھر اچھی طرح دھو کر مناسب کریم لگالیں ۔یہ خشک جلد کے لئے مفید ہے ۔چکنی جلد کے لئے انگور کا جوس دس چمچہ پانی پانچ ، بادام کا روغن دش چمن اچھی طرح ملا کر فریج میں رکھ لیں اور صبح و شام روئی کی پھریری سے چہرے پر لگائیں کچھ دیر بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں ۔ انگور سے سرکہ بھی تیار کیا جاتا ہے جو تمام سرکوں میں بہتر شمار ہوتا ہے جس کے اثرات خام ، انگور کے مطابق ہوتے ہیں ۔ اس کا کھانا موسم برسات میں مفید ہوتا ہے ۔
بال گرنا :
بال جھڑنا یعنی گنج کے لئے :کشمش عمدہ ایک حصہ ایلوا آدھا حصہ لے کر کھرل میں خوب باریک پیس لیں اور پانی شامل کرکت لیپ لگائیں چند روز کے استعمال سے بال گرنا بند ہو جاتے ہیں ۔اور نہایت عمدہ بال پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں پیچش اور دست کی صورت میں انگور نہ کھائیں شوگر کے مریض اپنے معالج کے مشورے سے استعمال کریں ۔
جدید سائنس نے 100گرام انگور میں درج ذیل اجزاء بتائے ہیں :
پانی 84.6گرام
راکھ 0.2گرام
چکنائی 0.1گرام
پروٹین 0.5گرام 

پودینہ ۔ ایک معجزاتی پودا


پودینہ ۔ ایک معجزاتی پودا

کھانوں کو خوش ذائقہ اور خوشبو دار بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔پودینہ کی چائے‘ دوائی کے لحاظ سے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال بد ہضمی‘ کھانسی‘ زکام میں کیا جاتا ہے ‘ دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے‘ گیس کی شکایت ختم اور آنتوں کو صاف کرتی ہے‘ بہت لذیذ اور خوشبو دار ہوتی ہے۔
پودینہ جسے ہمارے ہاں عام طور پر کھانوں کو خوش ذائقہ اور خوشبو دار بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور پودینہ کی چٹنی کو بطور ہاضم و لذت موسم گرما میں متوسط و غریب گھرانوں میں بطور سالن استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پودینہ قدرت کی عطا کردہ بہت سی خصوصیات سے مالا مال ہے۔

افعال و خواص
اطباءنے پودینہ پر بہت تحقیقات کی ہیں اور اس کے درج ذیل غذائی و دوائی فوائد کی نشاندہی کی ہے۔ پودینہ نظام ہضم سے متعلقہ امراض میں مفید ہے۔ غذا کو ہضم کرتا ہے اور ریاح کو خارج کرتا ہے۔ بھوک لگاتا ہے۔ پیٹ پھولنا‘ درد ہونا‘ کھٹی ڈکاریں آنا‘ جی متلانا اور قے ہونا میں فائدہ مند ہے۔ پودینہ الرجی( زود حساسیت) میں بہت موثر تدبیر ہے ‘ پتی اچھلنا(چھپاکی) الرجی کی ایک قسم ہے جس میں جسم میں کسی جگہ یا کئی جگہ خارش ہوتی ہے پھر سرخ دھبے( دھپڑ) بن جاتے ہیں جو تھوڑی دیر بعد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس تکلیف میں پودینہ سبز دس پتے ایک کپ پانی میں جوش دے کر چھان کر روزانہ رات سونے سے قبل‘ بیس یوم تک استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ پودینہ خون سے فاسد مواد کو خارج کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یرقان میں بھی استعمال کرایا جاتا ہے ۔ جن لوگوں کو جی متلانے یا قے آنے کی شکایت و جگر کا فعل سست ہو اور اس سبب بھوک اچھی طرح نہ لگتی ہو ‘ رنگت زرد رہتی ہو یا ان عوامل کے سبب خون کا دباﺅ( بلند فشار خون) بڑھ جاتا ہو۔ ان کے لئے یہ جوشاندہ بہت مفید ثابت ہوا ہے۔ یہ نسخہ محترم شہید پاکستان حکیم محمد سعید کا معمول مطب بھی تھا۔

ہوالشافی
ریان (سونف) چھ گرام‘ پودینہ خشک چھ گرام‘ مویز منقی نو گرام‘ آلو بخارا خشک پانچ دانہ‘ آدھے گلاس پانی میں ڈال کر جوش دے کر چھان کر صبح نہار منہ پی لیا جائے۔ اگر موسم گرما ہو تو یہ نسخہ رات کو پانی میں بھگو دیں صبح مل چھان کر نوش جاں کریں۔ یہ عمل بیس یوم تک کافی رہے گا۔
اسہال (دست آنا) اور ہیضہ میں پودینہ کے پتوں کو نمک لگا کر کھانا یا اس کی چٹنی کا استعمال مفید ہے اور اس کا جوشاندہ بھی اچھی تدبیر ثابت ہوا ہے۔ پودینہ سبز 60 گرام یا پودینہ خشک 10 گرام‘ دارچینی 3 گرام ‘ الائچی کلاں 3 گرام ایک کپ پانی میں جوش دے کر چھان کر پی لیا جائے۔
پودینہ میں تریاقی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ خصوصاً بچھو‘ بھڑ‘ چوہے وغیرہ کے کاٹنے پر پودینہ پیس کر لیپ کیا جا سکتا ہے۔ جو خواتین ماہانہ ایام کی کمی کے عارضہ میں مبتلا ہوں وہ پودینہ کی چائے استعمال کریں۔پودینہ بلغم کو پتلا کرتا ہے اور مسکن ہے۔ پودینہ سے طب کے کئی مرکبات تیار کئے جاتے ہیں جن میں جوارش پودینہ‘ قرص پودینہ‘ جوارش انارین اور عرق پودینہ شامل ہیں۔ یہ مرکبات اور ادویہ معدہ کی خرابی کے امراض میں بہت موثر ہیں۔

پودینہ کی چائے
پودینے کی چائے دوائی کے لحاظ سے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال بد ہضمی‘ کھانسی‘ زکام میں کیا جاتا ہے۔ دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے۔ گیس کی شکایت ختم اور آنتوں کو صاف کرتی ہے۔ بہت لذیذ اور خوشبو دار ہوتی ہے۔ نظام ہضم کی اصلاح کرتی ہے۔ متلی کی صورت میں تھوڑا سا لیموں کا رس ملا لیں۔ پودینہ کی چائے سانس کی نالی کی سوجن‘ برونکائٹس ‘ درد سر اور کھانسی زکام میںمفید ہے۔ ایک کپ چائے دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے‘ آنتوں کو صاف کرتی ہے جس سے سانس میں ناگوار بو کی شکایت ختم ہو جاتی ہے۔

جی متلانا یا قے آنا
جن لوگوں کو جی متلانے یا قے آنے کی شکایت ہو جائے وہ پودینہ دس پتے اور چھوٹی الائچی دو عدد کے ساتھ پانی میں جوش دے کر چھان کر پی لیں، شکایت جاتی رہے گی(انشاءاللہ)روغنی اور دیر ہضم ثقیل اشیاءکے استعمال کے بعد ٹھنڈی بوتلوں کی جگہ پودینہ اور لیموں کی چائے مفید ہے۔

بد ہضمی
بد ہضمی‘ اپھارہ‘ ریاحوں کی صورت میں پودینہ کا رس پانی میں ملا کر پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔

پتھری گردہ و مثانہ
بتھوے کی سبزی میں پودینہ ڈال کر کھانے سے پتھری کا مرض ختم ہو جاتا ہے۔ ایسا ایک ماہ تک کریں یا فائدہ ہونے تک۔

پودینہ کا شربت
پودینہ کی بڑی گڈی دھو لیں۔ اس کے بعد ایک کپ شکر اور پانچ عدد لیموں کا رس نچوڑ لیں اور اس آمیزے کو دو گھنٹہ تک اسی طرح رکھارہنے دیں پھرجگ میں بھر لیں اور برف ڈال کر اس میں ادرک کا سرکہ20گرام اور پودینہ کی چند پتیاں ڈال کر پیس لیں یہ نہایت خوش ذائقہ شربت ہوگا جو دل و دماغ کیلئے مفید ہے۔

گیس ریاح
بو علی سینا نے پودینہ کا کھانا اور چبانا ریاح و گیس کیلئے مفید قرار دیا ہے۔

ایک حکایت
پودینہ کے متعلق درج ذیل حکایت سے اس کی تاریخی حیثیت واضح ہوتی ہے نیز یہ کہ قدیم حکماءبھی اس سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ قدیم یونانیوں کاعقیدہ تھا کہ نتھا ایک یونانی دوشیزہ کا نام تھا جس کا حسن و جمال قابل رشک تھا وہ یونانی دولت کے دیوتا (پلوٹو) کی محبوبہ تھی اور اسے پلوٹو کی اہلیہ پروسہ پائن ( ہندو عقائد کے مطابق دولت کی دیوی) نے حسد اور رشک کی بناءپر ایک نبات میں بدل دیا تھا اور اسی نبات کو لاطینی میں نتھا جبکہ اردو میں پودینہ کہتے ہیں۔ یونانی اطباءمیں سے حکیم ساﺅ فرطس نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ اہل چین و جاپان بھی دو ہزار سال سے پودینہ کے خواص سے واقف ہیں۔ ماہرین طب نے جو تحقیقات کی ہیں اس کے مطابق یہ ایک اہم نبات ہے جو دوائی کے اعتبار سے استعمال ہوتی ہے اور بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں کثیر مقدار میں غذائی استعمال ہے اور اس کا سالن و سلاد خوشبود ار اور ہاضم چٹنی کے طور پر موسم گرما کی دوپہرو ں میں عام طور پر کیا جاتا ہے۔

محافظ حسن
پودینہ حسن کا محافظ بھی ہے۔ چہرے کے داغ دھبے‘ کیل مہاسوں سے نجات کیلئے تازہ پودینہ خالص سلاد کے ساتھ پیس کر متاثرہ مقامات پر لیپ کیا جاتا ہے۔ چند دنوں میں داغ دھبے ‘ کیل مہاسے صاف ہو کر جلد کا رنگ نکھار دیتے ہیں۔

صحتمند اور طویل زندگی کیلئے 5 اہم غذائیں


صحتمند اور طویل زندگی کیلئے 5 اہم غذائیں

1۔ زیتون اور زیتون کا تیل صدیوں سے مسلمہ خصوصیات کی حامل اس غذا کے مسلسل استعمال سے ہارٹ اٹیک ، سرطان (کینسر) سمیت بڑھاپے میں پیدا ہونے والے کئی بیماریوں (مثلاً جوڑوں ، پٹھوں کا درد وغیرہ) سے بچ کر انسان اپنی زندگی طویل اور صحتمند بنا سکتا ہے۔
2۔ دہی (یوگرٹ) چند دہائی قبل روسی باشندوں کی طویل عمر کی وجوہات جاننے کی چھان بین کے دوران یہ راز کھلا کہ اسکی وجہ دہی کا کثرت سے استعمال ہے۔ دہی میں‌کیلشیم کے ساتھ ساتھ " مفید بیکٹریا" ہوتے ہیں جو معدے، آنتوں کو صحتمند اور طاقتور بنانے میں‌ مددگار بن کر انسان کی صحت کو دوام بخشتے ہیں۔
3۔ مچھلی دنیا بھر میں‌مچھلی کثرت سے استعمال کرنے والے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کی شرح بہت کم پائی جاتی ہے۔ مچھلی میں 3-اومیگا فیٹ قسم کی مخصوص چکنائی ہے جو کولیسٹرول کو کنٹرول کرکے دل کے فنکشن کو درست رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔
4۔ بادام و اخروٹ بادام و اخروٹ اپنے اندر قوت بخش وٹامنز ہونے کی وجہ سے "متوازی مقدار" میں استعمال سے انسانی صحت پر مثبت اثرات مترتب کرتے ہیں۔
5۔ دودھ دودھ انتہائی متوازن اور صحت بخش غذا ہے۔ خالص دودھ کا باقاعدہ استعمال انسانی جسم کی جملہ بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سبب بن کر صحت مند زندگی کا باعث ہوتا ہے۔

جگر اور صفرا کے امراضLiver & Biliary disease


جگر اور صفرا کے امراضLiver & Biliary disease

امراض جگر کی تقریباً چھ قسمیں ہیں. ان کے اسباب و علامات الگ الگ ہونے پر بھی علاج ایک ہے، ایک ہی مخصوص دوا اکثر ان چھ اقسام کے امراض جگر میں مفید ہوسکتی ہے۔
امراض جگر کی چھ قسمیں تفصیلاً مرض کی ابتدا سے لیکر آخر تک کی مختلف حالتوں کے نتائج کا ہی تعارف ہیں۔
١۔ فاعلی امتلاء کبدیActive congestion of liver
جگر میںتیزی سے خون کا جمع ہونا
اسباب: زیادہ کھانا، عیش و آرام والی گدے دار کرسی کا استعمال، ماڈرن بیڈ اور سوفے پر بیٹھے رہنا، گھی، چربی دار مادے زیادہ استعمال کرنا، عورتوں میں ماہواری کا بند ہونا، منشیات کا کثرت سے استعمال، کیسہ صفرا میں پتھری ہونا۔
علامات:بخار چڑھتا ہے اور جگر کے علاقے میں درد ہوتا ہے، جگر بڑھ جاتا ہے، داہنی پسلیوں کے نیچے انگلی سے دبانے پر سختی محسوس ہوتی ہے اور مریض کو درد ہوتا ہے، داہنی پسلیوں کے نیچے کا مقام بھاری محسوس ہوتاہے، ہر وقت ہلکا درد رہتا ہے، چھینکنے اور کھانسنے پر درد اور بیچینی بڑھ جاتی ہے، قوۂ ہاضمہ کے خراب ہونے کی وجہ سے کھانے کی خواہش نہیں ہوتی اور بھوک نہیں لگتی، کبھی کبھی تھوڑا کھانے پر متلی، پتلے دست اور کبھی قبض رہتا ہے، منہ کا ذائقہ کڑوا، سر میں درد اور چکر اور داہنے کندھے میں درد رہتا ہے اور دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔
٢۔ انفعالی امتلاء کبدیPassive congestion of liver
جگر میں آہستہ آہستہ خون کا جمع ہونا
اسباب: دل اور پھیپھڑوں کی خرابیوں سے یہ مرض پیدا ہوجاتا ہے. دل کی خرابی سے جگر کی سبھی خونی عروق میں مقدار سے زیادہ خون کی روانی ہوتی ہے جس سے جگر میں دھیرے دھیرے زیادہ خون اکٹھا ہوجاتا ہے۔
علامات: اکثر پتلے دست آتے ہیں، قی ہوتی ہے اور کبھی کبھی منہ سے خون آتا ہے، جگر کی سائز میں بڑھاؤ، جگر کے علاقے میں بھاری پن اور ہاتھوں پیروں میں سوجن ہوتی ہے، جگر دبانے پر درد ہونا، جلودھر اور یرقان کا پیدا ہونا بھی اس کی اہم علامات ہیں۔

٣۔ورم جگرHepatitis
اسباب: زیادہ سونا، شراب پینا،گرم مقامات میں رہنا، ثقیل غذاؤں کا استعمال، مہیج نشیلی اشیاء کا استعمال،اچانک تیز سردی لگنا، بار بار لرزہ بخار ہونا، امتلاء جگر، ناقابل ہضم غذاؤں کا استعمال اور جلدی جلدی نگلنا وغیرہ اس کے اسباب ہیں۔
علامات: سر میں بھاری پن اور درد، آنکھ پیلی ہوجانا، منہ کا کڑوا ہونا،زبان پر میل کی تہہ جم جانا، بھوک نہ لگنا، پتلے دست آنا، صفراء کی کمی سے پاخانے میں متناسب پیلاپن نہ رہنا، متلی ،ہلکا بخار، جگر کے مقام پر درد اور بھاری پن۔
٤۔جگر کا بڑھ جاناEnlargement of liver
اسباب: سرخ مرچ، دھنیا، میتھی، لونگ، زیرا، نمک اور مسالے دار غذائیں استعمال کرنا، بڑے عیش و آرام کی زندگی گزارنا، جگر کو ضرر پہنچانے والی (Hepatotoxic) ادویہ کامسلسل استعمال، شراب پینا اور صفراء پیدا کرنے والی اشیاء کے استعمال سے جگر میں پرانا ورم ہوکر جگر بڑھ جاتا ہے۔
علامات: اس مرض میں شکم کے داہنی طرف کا حصہ بھاری محسوس ہوتاہے. مریض کو پیٹھ کے بل لٹاکر ہاتھ کی انگلیوں سے داہنی طرف کی پسلیوں کے نیچے دبانے سے اور سب سے نیچے والی پسلی کے سامنے جگر کو دبانے سے اگر سختی محسوس ہو، جگر کے مقام پر درد ہو تو یہ سمجھ لیں کہ جگر بڑھ گیا ہے، جگر دو طرح سے بڑھتا ہے، جب یہ نیچے کی طرف بڑھتا ہے تو پسلی کے نیچے انگلیوں سے دبانے پرپتا لگ جاتا ہے، لیکن جب یہ اوپر کی طرف بڑھتا ہے تو داہنے کندھے کی ہڈی میں درد، کھانسی، سانس لینے میں تکلیف،بھوک مرجانا، بدہضمی، منہ کا ذائقہ کڑوا، زبان پر میل، پیٹ پھول جانا، تیر چبھنے جیسا درد ہونا، جلد اور آنکھوں کا پیلا ہوجانا وغیرہ علامات پائی جاتی ہیں۔

٥۔جگر کا تشمحCirrosis of liver
اسباب: بار بار ملیریا بخار ہوجانا، قلبی امراض، اسکارلیٹ فیور، ٹائیفائیڈ، نیومونیا، پیچش، آتشک، ٹی بی، خسرہ اور چیچک وغیرہ کا طویل مدت تک رہنا، مرچ، نمک، لونگ، گرم مسالے دار ثقیل غذاؤں کا کثرت سے استعمال، گٹھیا اور ورم مفاصل، بچوں کی سوکھنڈی اور انفکشن والے مقامات میں سکونت کرنے سے خلیات تباہ ہوکر ان کی جگہ ریشے بن جاتے ہیں۔
علامات: جگر میں کافی درد رہتا ہے، بعض اوقات جگر اور طحال بڑھ جاتے ہیں، سینے اور شکم کی سطحی وریدیں (Superficial veins) موٹی اور ابھری ہوئی ہوجاتی ہیں، صبح میں قی اور متلی ہوتی ہے، رات میں نیند نہیں آتی،ہلکا بخار، بدہضمی، پاؤں پر سوجن، پیشاب کم آنا،جلودھر، منہ سے اور پاخانے میں خون آنا، جگر کی داہنی طرف پسلیوں پر ٹٹولنے پر جگر کی سطح کھردری یا گانٹھ دار محسوس ہوتی ہے، جگر کے کنارے اور جگر کے گوشے پر گولانما محسوس ہوتا ہے، مریض کا دن بدن بہت کمزور ہوتے جانا، آنکھیں اور منہ دھنس جانا۔
جگر کا پھوڑاAbscess of liver
اسباب: جگر میں چوٹ لگنا، امیبائی پیچش (Amoebic dysentery) آنت میں ورم ہوکر پیپ پڑجانا، صفراوی نالی میں گھاؤ ہو کر پیپ پڑجانا، مقعد کا کوئی آپریشن، جگر کے کینسر، آتشک کی گمڑیاں، ٹی بی کے پھوڑے، خراب رسولیوں میں جراثیمی انفکشن ہوجانے سے جگر میں پھوڑا نکل آتا ہے۔
علامات: جگر کے اوپر کندھے تک زیادہ درد ہوتا ہے جس کو مریض برداشت نہیں کر سکتا اور وہ پیٹ کے دائیں طرف ہاتھ نہیں کرنے دیتا، جگر کا مقام متورم،داہنا حصہ بائیں حصے سے زیادہ بڑا اور بھاری محسوس ہوتا ہے، مرض کی ابتدا میں سارے جسم میں جلن اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے. اس کے بعد لرزے کے ساتھ تیزی سے بخار چڑھ جاتا ہے. بخار صبح میں کم لیکن شام کو ٤ بجے کے بعد ١٠٢ سے ١٠٣ ڈگری تک بڑھ جاتا ہے، جگر کے پھوڑے کی جگہ آگ جیسی جلن محسوس ہوتی ہے، بھوک نہ لگنا، متلی، قی، سانس تیزی سے آنا، سخت کمزوری، طبیعت اداس، اگر پھوڑا پیٹ میں پھٹ جائے تو منہ سے خون اور پیپ آنے لگتا ہے۔

جگر میں دردHepatic pain
اسباب: جگر پر چوٹ لگنے، پھوڑا ہونے، جگر کے بڑھ جانے، ورم جگر اور جگر میں کینسر ہوجانے سے درد ہوتا ہے۔
علامات: سوئی چبھنے جیسا درد، کبھی کبھی جگر کے مقام پر انگلیوں سے پسلیوں کے نیچے دبانے پر اور یوں بھی جگر میں درد ہوتا ہے، یہ درد دائیں کندھے تک پہنچ جاتا ہے، درد کے ساتھ تیز بخار اور درد کے مقام پر التہاب بھی ہوتا ہے۔

صفراوی دردBiliary colic
اسباب: کیسۂ صفرا کی پتھری، صفرہ گاڑھا ہونا، نیومونیا، خون کا زہریلا پن، ہیضہ، پرسوت بخار، پائی میا (خون میں پیپ ہونا) اور دوسرے انفکشن والے امراض، نظام ہضم کے امراض کے بعد اور چوٹ وغیرہ لگنے سے صفراوی دردپیدا ہوجاتا ہے۔

جگر کا چھوٹا ہوناAtrophy of liver
اسباب: ٹی بی کے جراثیم سے انفکشن ہوجانے پر، جگر کو غذائی مادے نہ پہنچنے، مسلسل فکر اور خوف، جگر کے بیکار ہوکر سوکھ جانے وغیرہ کے سبب جگر سکڑ کر چھوٹا ہوجاتا ہے۔
علامات: جگر چھوٹا ہوجاتا ہے، جسم میں خون کی کمی ہوجاتی ہے، چہرا مرجھایا ہوا، عمل ہضم میں خرابی، دائیں پسلیوں کے نیچے انگلیوں سے امتحان کرنے پرجگر چھوٹا محسوس ہوتاہے۔

یرقان، پیلیاJaundice
اسباب: جگر کی خرابی، صفراوی نالی میں پتھری اٹک جانا، اتنا ہی نہیںکسی مرض کی وجہ سے صفراوی نالی کا راستہ چھوٹا اور تنگ ہوجاتا ہے تو صفرا (پت) آنتوں میں نہ جاکر خون میں ہی سیدھے جانے لگتا ہے اور اس میں ملنے لگتا ہے، نتیجے میں جسم پیلا ہوجاتا ہے. ان کے علاوہ یہ مرض عام طور پرتغذیاتی غذاؤں کی کمی، ہاضمہ کی خرابی اور کثرت حیض سے بھی نقصان خون، کثرت استمناء و جماع، کثرت احتلام، طویل مدت تک جریان خون والے کسی مرض میں مبتلا رہنا،طویل مدت تک ملیریا بخار کا رہ جانا، کھلی ،صاف اور تازہ ہوا، صاف و شفاف، خالص پانی اور تاحد کفایت شمسی نور (آفتاب) کی کمی، ہوا کی آلودگی، پانی کی آلودگی، اور تاریک اور اندھیرے مکانات میںبرابر رہنے بھی یہ مرض ہوجاتا ہے۔
علامات: (١) اس بیماری میں مریض کا منہ اور آنکھیں ہلدی کے مانند پیلی ہوجاتی ہیں. عمل ہضم میں خرابی آجاتی ہے، منہ کا ذائقہ کڑوا، پیٹ پھولا ہوا، پیشاب پیلا، پاخانہ میلا، پیلا اور بدبودار ہوجاتا ہے. مریض کو ہر چیز پیلی دکھائی دیتی ہے. جلدی امراض، کھجلی، پھوڑے، پھنسیاں نکلتی ہیں، مریض کی نبض کا سست ہونا، جلد پیلی ہونا، سستی،بے خوابی، کمزوری اور خوف وغیرہ کی علامات ہوتی ہیں۔

حسن و صحت کا ضامن:زیتون کا تیل


حسن و صحت کا ضامن:زیتون کا تیل

حسن و خوبصورتی قائم رکھنے میں زیتون کے تیل کو زمانہ قدیم سے ہی بہت اہمیت حاصل ہے ۔ چہرے اور بدن پر اس کی مالش سے جسم میں توانائی و طاقت آتی ہے ۔ جلد میں چمک پیدا ہو تی ہے نکھار آتا ہے ۔ مصر کی ملکہ پطرہ کے بارے میں تاریخ یہ کہتی ہے کہ حسین و جمیل ملکہ چہرے پر زیتون کے تیل کی مالش کیا کر تی تھی ۔ دنیا کی ایک اور نامور حسین و جمیل عورت ہیلن آف ٹرائے کے بارے میں بھی یہمشہور ہے کہ وہ اپنے حسن کو دو بالا کرنے کے لئے چہرے پر زیتون کے تیل کا مساج اور جسم پر اس کی مالش کرتی تھی ۔ بہر حال اس مضمون میں ان نامور خواتین کا تذکرہ مقصود نہیں جو افزائش حسن کے لئے زیتون کا تیل استعمال کرتی تھیں ۔ بلکہ زیتون کے ان جادو اثر اثرات کا ذکر کرنا مقصود ہے جن سے انسان کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے ۔ ہم یہاں زیتون کے تیل کے قدیم و جدید فارمولے پیش کر رہے ہیں جن سے سب استفادہ کر سکتے ہیں ۔
*…….چہرے پر کیل دانے نکلے ہوں ، جلد داغ دار ہو ، جھئیاں پڑی ہوں ، جلد کھردری یا حساس ہو تو اس صورت میں کاسمیٹکس کے استعمال سے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں ۔ عام خوبصورت جلد کے لئے ان تکالیف کا ازالہ ضروری ہے اس کے علاوہ جلد کی سطح کا خیال رکھنا یا اسے بنانا سنوارنا کافی نہیں ۔ اچھی وضع کے لئے گہرائیوں تک پہنچنا بہت ضروری ہے ۔
*……..آنکھوں کے نیچے جو جھریاں ہوتی ہیں انہیں باقاعدہ زیتون کے تیل کے مساج اور موسچر ائزنگ سے کم کیا جاسکتا ہے ۔ جلد سے خارج ہونے والی چکنائی کو اگر چہرے سے صاف نہ کیا جائے تو وہ سخت ہو کر سفید دانوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔ اس سے نجات پانے کے لئے زیتون کے تیل کا فیس ماسک بہت مفید ہے ۔ چہرے کی جلد و آئینہ ہے جس میں عمر کے نشان بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں ۔ اپنے چہرے کو دھوپ سے بچائیں اور چہرے پر زیتون کے تیل کا مساج کریں ۔ عام طور پر خشک جلد کے پھٹنے سے ہونٹ کے اوپر لکیریں نمودار ہوتی ہیں اس تکلیف سے بچاؤ کے لئے ہونٹوں پر اکثر زیتون کا تیل لگایا کریں ۔
*……..چہرے پر جھائیوں کا پیدا ہونا عام شکایت ہے ۔ جھائیں جلد کی باقاعدہ دیکھ بھال ہی سے دور ہو سکتی ہیں ۔ اگر چہرے پر باقاعدگی سے زیتون کے تیل کا مساج کیا جائے تو یہ شکایت بھی دور ہو سکتی ہے ۔
*……..اگر گرمی اور خشکی کی وجہ سے چہرے کی رنگت متاثر ہوئی تو آپ اپنی جلد کی کلینزنگ اور موسچرائزنگ کا خیال رکھیں اور زیتون کے تیل کا چہرے پر مساج کریں ۔ چہرے کی رنگت نکھر آئے گی ۔
*……..ہونٹوں کی سیاہ رنگت اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس بات کی علامت ہیں کہ آپ کے جسم میں آئرن اور وٹامن بی کی کمی ہو گئی ہے ۔ غسل کرنے یا ہاتھ دھونے کے بعد زیتون کا تیل لگائیں ۔ انگلی کے ذریعے ہونٹوں پر مساج کیجئے ۔ زیتون کا تیل آنکھوں حلقوں کے گرد لگائیں ۔ انگلی کے ذریعے مساج کریں اور یہ عمل کم از کم پندرہ بیس دن جاری رکھیں آنکھوں کے حلقے دور ہو جائیں گے ۔
*……..انڈے کی سفیدی کا لیپ اصلاصاْ ماسک کہلاتا ہے یہ ماسک دس سے بیس منت لگا رہنے دیں اس کے بعد نیم گرم پانی سے دھو لیں اور پھر اس کے بعد برفیلے ٹھنڈے پانی سے چھینٹے ماریں ۔ تولئے سے چہرہ خشک کر لیں بعد میں چہرے پر ہلکا سا زیتون کے تیل کا مساج کیجئے ۔ اس عمل سے ٹیوننگ ہو جاتی ہے ۔ یہ ماسک ہفتے میں ایک بار کر لینا چاہئے
*……..چہرے کے کھلے مساموں کو تنگ کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دن میں دو مرتبہ برف اور نمک ملے پانی کو چہرے پر ملیں کچھ دیر بعد چہرے کو سادہ پانی سے دھوئیں بعد میں تولئے سے چہرے کو خش کے چہرے کو سادہ پانی سے دھوئیں بعد میں تولئے سے چہرے کو اچھی طرح خشک کریں ۔ چہرے کی جلد کو نرم کرنے کے لئے زیتون کا تیل لگائیں ۔
* ……..اگر چہرے پر دانے ہوں تو رات کو سوتے وقت زیتون کا تیل لگائیں ۔
* ……..چہرے کی چمک کے لئے عرق گلاب سے منہ دھوئیں اور رات کو سوتے وقت زیتون کے تیل کا مساج کریں ۔
*……..کچھ عورتوں کے ہونٹ لپ اسٹک لگانے کے بعد انتہائی خشک ہو جاتے ہیں اور چھلکے اترنے لگتے ہیں ۔ ایسے ہونٹوں پر لپ اسٹک لگانے سے پہلے ہلکا سا روغن زیتون لگائیں پھر لپ اسٹک لگائیں تو خشکی کا احساس نہ ہوگا ۔
*……..خواتین میک اپ کو تروتازہ رکھنے کے لئے (Fase Glamour)استعمال کرتی ہیں ۔ لیکن روغن زیتون سے بہتر کوئی قدرتی گلیمر نہیں ۔
*……..دودھ انڈا بالوں کو طاقت دینے کے لئے بہترین چیزیں ہیں ان کے ساتھ روزانہ رات کو زیتون کے تیل کی مالش بھی کر لیا کریں ۔ پھر بال نہیں گریں گے ۔
www.radionicspakistan.blogspot.com
*……..چہرے کی رنگت نکھارنے کے لئے کسی بلیچنگ کریم کے ساتھ روغن زیتون استعمال کریں اس کے علاوہ ایک فارمولا یہ ہے کہ ایک دن شہد میں لیموں کا رس نچوڑ کر ہرے پر مساج کریں اور دوسرے دن زیتون کے تیل کا مساج کریں ۔ یہ عمل ایک ماہ تک کریں ۔ سانولی رنگت مین صباحت پیدا ہوگی ۔
*……..کئی خواتین کے چہرے پر روئیں ہوتے ہیں جن سے چہرہ زنانہ کے بجائے مردانہ دکھائی دیتا ہے ۔ چہرے کے روئیں کے لئے ویکس اور روغن زیتون آمیزہ مجرب ہے ۔ ہفتہ میں دو بار ویکس اور روغن زیتون کا مساج کریں ۔
*…….ہےئر بلیچنگ سے یعنی سر کے بالوں کو مختلف رنگوں کے کیمیاوی شیمپو یا ہےئر کریم لگانے سے کئی لوگوں کو سر میں خارش ہو جاتی ہے جس کی وجہ سر کی جلد کی الرجی ہے ۔ کیمیاوی مادے کئی جلدوں کو راس نہیں آتے ان کے لگانے سے سر میں خارش یا سوزش ہو جاتی ہے ایسے میں سر دھونے سے پہلے اور بعد میں روغن زیتون لگانا چاہئے ۔
*…….اگر چہرے پر بے حد خشکی ہو تو زیتون کے تیل میں دودھ کی بالائی ملا کر مساج کریں ۔ خشک موسم میں روغن زیتون اور بالائی کے آمیزے کو اگر نائٹ کریم کے طور پر استعمال کریں تو بہتر ہے ۔
*……..فیس ماسک لگانے سے نہ صرف چہرے کی جلد کی کثافتیں دور ہوتی ہیں بلکہ اس سے عضلات میں استحکام پیدا ہوتا ہے ۔ زیتون کا تیل ، شہد ،انڈے کی سفیدی، کھیرے کا رس لیموں کا رس بہترین فیس ماسک ہیں ۔
*……..بالوں میں اگر ازحد گانٹھیں پڑ جاتی ہوں ۔ جو کنگھا کرنے میں دقت پیدا کرتی ہوں تو زیتون کا تیل اور کسٹر آئیل کا آمیزہ استعمال کریں ۔
ہمارے یہاں بہت سی خواتین ایسی ملیں گی جو کہ اپنے بالوں کی وجہ سے بہت پریشان رہتی ہیں کسی کے بال زیادہ جھرتے ہیں یا پھر کسی کے سر میں خشکی ہو جاتی ہے ۔ اکثریت کو یہ شکایت ہے کہ ان کے بال جھڑتے ہیں ۔ ہر بال کی عمر تقریباْ دو سال سے چھ سال ہے اس عرصے کے دوران وہ بال خود بخود جھڑ جاتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا بال فوراْ آ جاتا ہے مگر جھڑنے والا بال زیادہ لمبا ہوتا ہے اور اگنے والے بال کو لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے تو خواتین پریشان ہو جاتی ہیں کہ کہیں ان کے بال ختم تو نہیں ہوجائیں گے ۔ اس کے لئے ایسا کریں کہ بالوں کو کسی بھی جگہ سے دو حصوں میں تقسیم کریں جس طرح مانگ نکالتے ہیں پھر آئینے سے اس مانگ والے حصہ کو غور سے دیکھیں تو آپ کو چھوٹے چھوٹے بال نظر آئیں گے اس کا مطلب ہے کہ بال نکل رہے ہیں ۔ اگر درمیان میں چھوٹے بال نہ آرہے ہوں تو پھر کسی معالج سے رجوع کریں ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے آپ کی صحت خراب ہو کیونکہ جتنی اچھی صحت ہو گی بال اتنے ہی مضبوط گھنے چمکدار ہوں گے بالوں کے گھنے اور چمکدار ہونے کا تعلق ہماری صحت سے ہے ۔ وٹامن بی بالوں کے لئے ضروری ہے ۔ زیتون کا تیل روغن بادام اور کیسٹر آئل کی مالش بھی بالوں کی نشو نما کے لئے اپنے اندر بھر پور غذائیت رکھتی ہے ۔ خاص کر زیتون کا تیل بالوں میں چمک پیدا کرتا ہے اور ن کو مضبوط کرتا ہے ۔
وٹامن بی اور زیتون کے تیل سے بال لمبے مضبوط اور صحت مند ہوتے ہیں ۔ ان میں چمک پیدا ہوتی ہے ۔ مالش کرنے کے علاوہ زیتون کا تیل کھانوں میں بھی استعمال کریں ۔ وٹامن سے بھر پور غذائیں استعمال کریں ۔ سبزیاں، پھل اور سلاد زیادہ کھائیں اس سے نہ صرف بال بلکہ آپ کی جلد اور صحت بھی بہتر رہے گی ۔ اکثر خواتین سر میں بالکل تیل نہیں لگاتیں اور شکایت کرتی ہیں کہ ان کے بال بے رونق ہیں ۔
بڑھ نہیں رہے ہیں ۔ اس بات کو یاد رکھیں کہ سر میں تیل لگانا بے حد ضروری ہے ۔
روغن بادام، سرسوں، ناریل، بنولہاور زیتون کا تیل ہفتے میں تین چار مرتبہ نہیں تو کم زکم ایک مرتبہ استعمال کریں ۔ جبکہ زیتون سے بالوں کا اچھی طرح مساج کریں ۔ رات کو سر میں تیل لگائیں اور صبح اٹھ کر کسی بھی اچھے شیمپو، ریٹھے، بیسن وغیرہ سے دھوئیں صابن استعمال نہ کریں ۔ اس سے بال چمکدار نرم و ملائم ہو جاتے ہیں ۔
اگر سر میں خشکی ہو اور بال بھی جھڑ رہے ہوں تو اس کے لئے یہ طریقہ استعمال کریں کہ سر میں زیتون کا تیل اچھی طرح جڑون میں لگائیں اس کے بعد انگلیوں سے مساج کریں اس سے سر کا دوران خون تیز ہو جاتا ہے مساج کم از کم دس منٹ تک کریں ۔
آج کی بہت سی خواتین بالوں کو جدید طریقے سے ترشواکر سیٹ کر لیتی ہیں بال لمبے ہوں یا چھوٹے ہوں ان کی دیکھ بھال کرنا بہت ضروری ہے ۔ بال ہر ماہ اوسطاْآدھا انچ بڑھتے ہیں ۔ لیکن جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے بالوں کے بڑھنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے ۔ بال موسم گرما میں زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں ۔
ایسی اشیاء کا بھی استعمال کریں جن میں معقول حیاتیں، بی، اے، سیاور خاص طور پر بی کمپلیکس حیاتین ہوں ۔ اس کے علاوہ مختلف نمکیات، آیرن آیوڈین وغیرہ بھی بالوں کے لئے ضروری ہے ۔ آیوڈین کی کمی سے بالوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے ۔ جس طرح جلد کی مختلف اقسام ہوتی ہیں ۔ بالوں کی حفاظت کے لئے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ آپ کے بال کس قسم کے ہیں ۔ بال تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ نارمل یا چکنے بال کسی قسم کے بھی ہوں بالوں کو صاف رکھنا سب سے اہم بات ہے ۔
کمزور اور ٹوٹنے والے بالوں کے لئے کنڈیشنگ کا اچھا نسخہ
زیتون کا تیل اور شہد کا کنڈیشنر:
ایک کپ شہد ، ایک کپ زیتون کا تیل برابر برابر ملا لیں اس آمیزے کو ایک یا دو دن تک پڑا رہنے دیں اس کے بعد اسے استعمال کریں ۔ اس آمیزے کو اچھی طرح بالوں کی جڑوں اور سر کی جلد پر لگائیں پھر آہستہ آہستہ بالوں میں کنگھی پھیریں ۔ پھر سر کو چاروں طرف سے پلاسٹک سے لپیٹ لیں ۔ پانچ منٹ بعد شیمپو کر کے سادہ پانی سے دھو لیں ۔
انڈے اور زیتون کا آمیزہ :
دو انڈے اچھی طرح پھینٹ لیں اور اس میں ایک کھانے کا چمچہ زیتون کا تیل ملا لیں اس کے ساتھ کھانے کا ایک چمچہ سرکہ اور گلیسرین بھی ملا لیں اور آمیزے کو اچھی طرح سے پھینٹ لیں اور پھر سر میں لگاکر پندرہ منٹ بعد دھوئیں ۔ بالوں کو اکثر بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی نوکیں نکل آتی ہیں اور کبھی بہت زیادہ گرنے لگتے ہیں یا سفید ہونے لگتے ہیں اور چمک بھی ماند پڑ جاتی ہے ۔ عمر کے ساتھ ساتھ بالوں کا رنگ روپ بدلتا ہے موسم اور دھوپ بھی بالوں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ فضائی آلودگی بھی بالوں کو متاثر کرتی ہے ۔
اگر بالوں کی صحیح طور پر صفائی نہ کی جائے تو بالوں کو نقصان پہنچتا ہے ۔ ہمیشہ تازہ و صاف پانی سے سر دھوئیں اور زیتون کا تیل استعمال کریں ۔ بالوں میں خشکی کی بھی وجوہات ہیں ۔ مثلاْ بالوں کو تازہ ہوا نہ ملے تو خشکی پیدا ہو جاتی ہے بالوں کو اگر منسب طریقے سے صاف نہ کیا جائے تو خشکی پیدا ہو جاتی ہے ۔ سرد علاقوں میں رہنے والوں میں خشکی پائی جاتی ہے ۔ اگر بالوں میں خشکی ہو جائے تو اپنی خوراک کا جائزہ لیں ۔ بہت زیادہ شکر اور نشاستے والی چیزیں بھی خشکی پیدا کرتی ہیں ۔ ان صورتوں میں زیتون کا تیل لگانا اور کھانا بہت مفید ہے ۔ بالوں کو گرنے سے روکنے کے لئے زیتون کا تیل اور آیو ڈین وغیرہ کا استعمال کریں ۔ آپ کو ہم ایک مجرب نسخہ جو صرف چار روز استعمال کرنا ہے بتاتے ہیں :
پہلے اور تیسرے دن آیوڈین کو روئی کے پھائے سے بالوں کی جڑوں میں لگائیں اور متبادل دنوں کے دوران میں زیتون کا تیل لگائیں چوتھے دن بالوں میں زیتون کا تیل لگانے کے بعد اچھی طرح مساج کریں ۔ یاد رہے کہ ایسا کرنے سے کچھ بال گرتے ہیں تو گرنے دیں ان بالوں کی جڑیں مردہ ہوگئیں ہیں تو اس لئے انہیں گرنا ہی ہے بالوں کو مساج کرنے کے بعد گرم تولئے سے لپیٹ کر بھاپ دیں ۔ کچھ دیر بعد شیمپو کر لیں 

آلو بخارہ کے فوائد

آلو بخارہ کے فوائد
(1) آلو بخارا طبیعت کو نرم کرتا ہے۔ (2) پیاس کو تسکین دیتا ہے۔ (3) خون کے جوش کو کم کرتا ہے۔ اسلئے بلڈپریشر کے مریضوں کو مفید ہے۔ (4) آلو بخارا مسکن صفراءاور ملین ہوتا ہے۔ (5) متلی میں آلو بخارے کا استعمال بے حد مفید ہوتا ہے۔ (6) گرمی کے سر درد میں آلو بخارے کا استعمال مفید ہوتا ہے۔ (7)زخموں کو جلدی ٹھیک کرتا ہے۔ (8) اگر آلو بخارے کے پتے رگڑ کر ناف کے نیچے لیپ کیا جائے تو آنتوں کے کیڑے خارج ہو جاتے ہیں۔ (9) نزلے کو روکنے کےلئے آلو بخارے کے پتوں کا جو شاندہ بنا کر غرارے کرنا مفید ہوتا ہے۔ (10) آلو بخارے کا مربہ فرحت بخش اور قبض کشا ہوتا ہے۔ (11 ) خشک آلو بخارا رات کو بھگو صبح نہار منہ صرف پانی چھان کر پینا احتلام کےلئے مفید ہوتا ہے۔ اگر اس میں ایک چمچہ چائے والا سونف کے سفوف کا اضافہ کرلیا جائے تو دگنا فائدہ دیتا ہے۔ (12) رات کو سوتے وقت اگر آلو بخارے کے دس دانے کھائے جائیں تو صبح کو اجابت صحیح ہوتی ہے (13) خارش کو دور کرنے کےلئے آلو بخارے کا مسلسل استعمال بے حد مفید ہوتا ہے (14) کھانسی میں اس کا استعما ل نقصان دہ نہیں ہوتا۔ (15) منہ اور حلق کی خشکی کو دور کرتا ہے۔(16) آلو بخارے میں وٹامن اے ، بی ، پی اور سی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔(17) دماغی کام کرنے والوں کےلئے یہ بہترین غذا ہے۔(18) پاﺅں کی جلن کو دور کرتا ہے۔
(19) چڑ چڑے مزاج والوں کےلئے یہ بہترین پھل ہے جس سے یہ مرض دور ہو جاتی ہے۔ (20) نیند کی کمی کی مرض میں آلو بخارے کا استعمال بہترین ہوتا ہے۔ (21) یرقان جیسے موذی مرض میں ایک پاﺅ آلو بخارا، زیرہ سفید اور گوکھرو (پھکڑا)ہم وزن کا سفوف بنا کر دو ماشے سفوف ہمراہ مذکورہ بالا آلو بخارا دن میں تین دفعہ استعمال کرنا بے حد مفید ہوتا ہے۔ (22) جلدی بیماریوں میںآلو بخارا کے استعمال کے ساتھ ساتھ ایک دفعہ شربت عناب روزانہ پینا مفید ہوتا ہے۔ (23 ) پتے کی پتھری بننے سے روکنے کےلئے آلو بخارے کا استعمال بے حد مفید ہوتا ہے۔ اس سے بعض دفعہ بنی ہوئی پتھریاں پگھل کر پتے سے نکل جاتی ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آلو بخارے کا روزانہ استعمال اس کے موسم میں معمول بنا لیا جائے۔ اگر موسم نہ بھی ہوتو خشک کو بھگو کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔(24) آلو بخارے کی چٹنی بھی بے حد مفید ہوتی ہے جو کہ ہاضم غذا اور لذیذ ہوتی ہے، اس چٹنی کے بنانے کی ترکیب کچھ یوں ہے۔ آلو بخارا خشک نصف کلو، چینی ایک کلو، رس لیموں ایک پاﺅ، کشمش ایک پاﺅ، چھوہارے ایک پاﺅ، پودینہ نصف کلو، بڑی الائچی پانچ دانے، گری بادام، چھوٹی الائچی ، کالی مرچ، ادرک ، ،لال مرچ اور نمک ہر ایک پانچ تولے۔رات کو آلو بخارا دھو کر بھگو دیں صبح اچھی طرح سے مسل کر پیس لیں۔ ادرک اور پودینہ بھی رگڑ کر چٹنی بنا لیں اور آلو بخارے کو چٹنی کے ہمراہ ابال لیں۔ کشمش اور چھوہارے بھی کترے ہوئے اس میں ڈال دیں، تین چار ابالے دے کر نیچے اتار کر تمام اشیا ءاس میں ملا دیں، بس چٹنی تیار ہے۔ (25) آلو بخارے کا شربت بھی تیار کیا جاتا ہے، جو خشک آلو بخارے ،عرق گلاب اور چینی سے تیار ہوتا ہے۔ قبض ، گرمی ، خارش اور جوش خون کے لئے مفید ہوتا ہے، اسکے علاوہ یرقان، غلبہ پیاس اور درد سر میں بھی فائدہ دیتا ہے۔ (26)آلو بخارے کا رس ایک تولہ گرم کر کے پینا گلے کے ورم اور قے کے لئے مفید ہوتا ہے۔ (27)صفراءکو خارج کرنے کےلئے پندرہ دانے آلو بخارا کے لیں اور رات کو بھگو کر صبح مل چھان کر چینی ملا کر چند روز تک پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔ (28) اگر گردوں میں تکلیف ہو اور پیشاب رک رک کر آتا ہو تو آلو بخارے کا استعمال اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔ (29) خون کے کینسر میں آلو بخارے کا استعمال بے حد مفید ہوتا ہے اور ابتدائی کینسر اس سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کےلئے ترش آلو بخارا استعمال کرنا چائیے۔ (30) ذیابیطس (شوگر) کے مریض بھی ترش آلو بخارا استعمال کر کے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں(31) آلوبخارا بینائی کو طاقت دیتا ہے اور گردہ ومثانہ کی پتھری کو توڑتا ہے۔ (32) بھوک کی کمی، دماغی خشکی، اپھارہ اوردرد معدہ میں آلو بخارے کے سات دانے ہمراہ املی تین تولہ، رات کو پانی یا عرق سونف میں بھگو دیں صبح اچھی طرح مسل کر چھان کر نمک ملا کر تین دن استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔ (33)پتے میں کنکریاں ہونے کی صورت میں آلو بخارے کے مسلسل استعمال کے ساتھ ساتھ دن میں دو یا تین مرتبہ عرق کاسنی اور عرق کلو دس تولے روزانہ پینا بے حد مفید ہوتا ہے۔ چند روز کے استعمال (تین ہفتے) میں مکمل صحت ہو جاتی ہے، آلو بخارے خشک بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔
آلو بخارے کا استعمال سرد مزاج والے اور اعصابی دردوں والے حضرات بالکل نہ کریں، اسی طرح جنہیں پیچش کی شکایت ہو وہ بھی استعمال نہ کریں۔