Monday, 25 November 2013

ڈرائی فرو ٹس


ڈرائی فرو ٹس جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانے اور موسم سرما کے مضر اثرات سے بچائو میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: معالجن کہتے ہیں کہ سردی کا موسم جسم میں تازہ خون بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور سردیوں میں کھائے جانےوالے خشک میوے اپنے اندر وہ تمام ضروری غذائیت رکھتے ہیں جو جسم میں توانائی اور تازہ خون بنانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

یہ میوے معدنیات اور حیاتین سے بھرپور ہوتے ہیں اور اسی غذائی اہمیت کے پیشِ نظر معالجین انہیں ’’قدرتی کیپسول‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اطباء بھی خشک میوہ جات کی غذائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اکثر کو مغزیات کا درجہ دیتے ہیں۔ معالجین کے مطابق سردیوں میں جو کچھ کھاؤ، وہ جسم کو لگتا ہے کیوں کہ اس موسم میں نظامِ ہضم کی کارکردگی تیز ہوجاتی ہے اور گرمیوں کے مقابلے میں زیادہ کام کرنے کو دل چاہتا ہے لیکن دن چھوٹے ہوجائیں اور راتیں لمبی تو پھر ان لمبی راتوں کو گزارنے کے لیے خشک میوے نہایت اچھے رفیق ثابت ہوتے ہیں۔ خشک میوہ جات قدرت کی جانب سے سردیوں کا انمول تحفہ ہیں جو خوش ذائقہ ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار طبی فوائد کے حامل بھی ہیں۔ خشک میوہ جات مختلف بیماریوں کے خلاف مضبوط ڈھال کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈرائی فرو ٹس جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانے اور موسم سرما کے مضر اثرات سے بچائو میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اعتدال کے ساتھ ان کا استعمال انسانی جسم کو مضبوط اور توانا بناتا ہے۔ حکماء کہتے ہیں جب سردیاں جسم میں تازہ خون بنانے کا موقع فراہم کرتی ہیں تو ایسے میں خشک میوے وہ تمام ضروری غذائیت فراہم کرتے ہیں جو جسم میں توانائی اور تازہ خون بنانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ اسی غذائی اہمیت کے پیشِ نظر معالجین انہیں ’’قدرتی کیپسول‘‘ بھی کہتے ہیں اور اکثر کو مغزیات کا درجہ دیتے ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ خشک میوے اپنے اندر کیا کیا غذائی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس موسم میں ہم ان سے صحت کے کون کون سے فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔

اخروٹ:سردیوں میں اخروٹ کی گری یعنی اس کا مغز نہایت غذائی بخش میوہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق ایک سو گرام اخروٹ کی گری میں فولاد 2.1 ملی گرام اور حرارے 656 ہوتے ہیں۔ اس کی بھنی ہوئی گری سردیوں کی کھانسی کو دور کرنے کے لئے نہایت مفید ہے۔ اخروٹ کو کشمش کے ساتھ استعمال کیا جائے تو منہ میں چھالے اور حلق میں خراش ہوسکتی ہے۔ یہ دماغی قوت کے لیے بہت ہی فائدہ مند تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے دماغ طاقت ور ہوجاتا ہے۔ اخروٹ کو اعتدال سے زیادہ کھانے سے منہ میںچھالے اور حلق میں خراش پیدا ہوجاتی ہے۔ ایک حالیہ امریکی تحقیق کے مطا بق اخر وٹ کا استعمال ذہنی نشونما کے لیے نہایت مفید ہے، اوراس کے تیل کا استعما ل ذہنی دبائو اور تھکان کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ امریکا کی ریاست پنسلوانیا میں کی جا نیوالی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اخروٹ میں موجود اجزاء خون کی گردش کو معمول پر لاکر ذہن پر موجود دبائو کوکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ حضرات جو زیادہ کام کرتے ہیں ان کے ذہنی سکون کے لئے اخرو ٹ اور اس کے تیل کا استعما ل نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اخرو ٹ کا استعما ل بلڈپریشر پر قابو پانے اور امراض ِقلب کی روک تھام کے لیے بھی نہایت مفید ہے۔

اخروٹ بالوں کو سیاہ کرنے کے لیے بھی معروف ہے اس سے جو خضاب بنایا جاتا ہے وہ بازار میں دست یاب بال رنگنے کے پاؤڈر اور محلولوں سے بہ درجہ ہا بہتر ہے کیوں کہ اُن میں مختلف کیمیکل شامل کیے جاتے ہیں جب کہ اخروٹ کا خضاب یک سر محفوظ ہے جو با لو ں کو صرف سیاہ ہی نہیں، ان میں چمک بھی پیدا کرتا ہے، اس کی تیاری کا طریقہ ہے کہ اخروٹ کا سبز چھلکا ایک کلو لے کر اسے آٹھ کلو دودھ میں جوشائیں بعد میں اتار کر اس دودھ کا دہی جمائیں، اب اس دہی کو بلو کر گھی حاصل کرلیں اور مناسب مقدار میں بالو ں پر لگا ئیں۔

بادام:بادام صدیوں سے قوتِ حافظہ، دماغ اور بینائی کے لئے نہایت مفید قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس میں وٹامن اے، وٹامن بی کے علاوہ روغن اور نشاستہ بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ اعصاب کو طاقت ور بناتا ہے اور قبض کو ختم کرتا ہے۔ دماغی کام کرنے والوں کے لئے اس کا استعمال ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق ایک سو گرام بادام کی گری میں کیلشیم کی مقدار 254 ملی گرام، فولاد 2.4 ملی گرام، فاسفورس475ملی گرام اور حرارے 597 ہوتے ہیں۔ بادام قوت حافظہ‘ دماغ اور بینائی کیلئے بے حد مفید ہے اس میں حیاتین الف اور ب کے علاوہ روغن اور نشاستہ موجود ہوتا ہے۔ اعصاب کو طاقت فراہم کرتا ہے اور قبض کو ختم کرتا ہے۔بادام خشک پھلوں میں بے پناہ مقبولیت کا حامل ہے۔ بادام کے بارے میں عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چکنائی سے بھرپور ہونے کے سبب انسانی صحت خصوصاً عارضہ قلب کا شکار افراد کیلئے نقصان دہ ہے تاہم اس حوالے سے متعدد تحقیقات کے مطابق بادام خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے اور یوں اس کا استعمال دل کی تکالیف میں فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے نیز اس کی بدولت عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک تحقیق کے مطابق 3 اونس بادام کا روزانہ استعمال انسانی جسم میں کولیسٹرول لیول کو 14فیصد تک کم کرتا ہے۔ بادام میں 90 فی صد چکنائی’’ نان سیچوریٹڈ فیٹس‘{‘{ پر مشتمل ہوتی ہے نیز اس میں پروٹین وافر مقدار میں پایا جاتا ہے دیگر معدنیات میں فائبر کیلشیم، میگنیٹیم، پوٹاشیم، وٹامن ای اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس بھی وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

تل:تل بھی موسمِ سرما کی خاص سوغات میں سے ایک ہے۔ جن بڑوں یا بچوں کو کثرت پیشاب کا مرض ہو اور سردیوں میں بوڑھے افراد اس کی زیادتی سے تنگ ہوں یا پھر جو بچے سوتے میں بستر گیلا کر دیتے ہوں، ان کو تل کے لڈو کھلانے چاہئیں۔ اس سے کثرتِ پیشاب کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم میں گرمی پیدا کرتے ہیں۔ جن بوڑھوں کو بہت زیادہ سردی لگتی ہو ان کے لئے تو بہت ہی مفید ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش میوہ ہے۔ اس میں معدنی نمک اور پروٹین کے علاوہ ’’لیسی تھین‘{‘{ بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ فاسفورس آمیز چکنائی دماغ اور اعصاب کے لئے بہت ہی مفید ہے۔ واضح رہے کہ لیسی تھین تل کے علاوہ انڈے کی زردی، گوشت اور ماش کی دال میں بھی پایا جاتا ہے۔ موسم سرما میں بوڑھوں اور بچوں کے مثانے کمزور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر بستر پر پیشاب کردیتے ہیں۔ اس شکایت سے نجات کیلئے تل کے لڈو بہترین غذا اور دوا ہیں۔

چلغوزہ :چلغوزے گردے، مثانے اور جگر کو طاقت دیتے ہیں۔ سردیوں میں اس کے کھانے سے جسم میں گرمی بھر جاتی ہے۔ چلغوزے کھانا کھانے کے بعد کھائیں۔ اگر کھانے سے پہلے انہیں کھایا جائے تو بھوک ختم ہوجاتی ہے۔چلغوزے گردہ‘مثانہ اور جگر کو طاقت دیتے ہیں اس کے کھانے سے جسم میں گرمی اور فوری توانائی محسوس ہوتی ہے۔ چلغوزہ کھانے سے ’’میموری سیلز‘{‘{ میں اضافہ یعنی یادداشت میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔اگر کوئٹہ سے قلعہ عبداللہ کے راستے ژوپ(فورٹ سنڈے من)کی طرف جائیں تو تقریباً پانچ گھنٹے کی مسافت کے بعد ژوب کا علاقہ آتا ہے۔یہ علاقہ 2500سے 3500میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37سینٹی گریڈ جب کہ سردیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 15سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ مزید بلندی پر یہ درجہ حرارت مزید کم ہو جاتا ہے،یہ ہی وہ علاقہ ہے جہاں چلغوزے کے دنیا کے سب سے بڑے باغات واقع ہیں۔ یہ باغات تقریباً 1200مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔اس علاقے میں پیدا ہونے والا چلغوزہ دنیا بھر میں نہایت معیاری اور پسند کیا جاتا ہے۔ اس کی مناسب پیکنگ وغیرہ کر کے اس کو بیرون ملک ایکسپورٹ کر دیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں پیدا ہونے والے اس چلغوزے کی زیادہ تر مارکیٹ دبئی‘انگلینڈ‘ فرانس‘مسقط اور دیگر ممالک ہیںجہاں کے خریدار اس علاقے کے پاکستانی چلغوزے کو منہ مانگی قیمت پر خریدنے کو تیار رہتے ہیں۔

کشمش:کشمش دراصل خشک کئے ہوئے انگور ہوتے ہیں۔ چھوٹے انگوروں سے کشمش اور بڑے انگوروں سے منقیٰ بنتا ہے۔ کشمش اور منقیٰ قبض کا بہترین توڑ ہیں۔ یہ نزلہ کھانسی میں مفید اور توانائی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق ایک سو گرام کشمش میں پوٹاشیئم 275 ملی گرام جب کہ فولاد 1.3 ملی گرام ہوتا ہے۔کشمش دراصل خشک کیے ہوئے انگور ہیں۔ چھوٹے انگوروں کو خشک کرکے کشمش تیار کی جاتی ہے جب کہ بڑے انگوروں کو خشک کرکے منقی تیار کیا جاتا ہے۔ کشمش اور منقی قبض کا بہترین علاج ہے۔ نیزہڈیوں کے بھربھرے پن کی مرض میں مفید ہے۔ بہت قوت بخش میوہ ہے۔

مونگ پھلی: مونگ پھلی تو سردیوں میں سب کا من بھاتا سستا میوہ ہے۔ اس میوے کی ایک خاصیت اس میں بہت زیادہ تیل کا ہونا ہے لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ مونگ پھلی میں موجود تیل یا چکناہٹ جسم کے کولسٹرول کو نہیں بڑھاتی ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق ایک سو گرام مونگ پھلی میں 37.8 فی صد نشاستہ اور 31.9 فی صد پروٹین موجود ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن بی 1 کے علاوہ کیلشیم اور فاسفورس بھی پایا جاتا ہے۔ غذائیت میں مونگ پھلی اخروٹ کی ہم پلہ ہے۔مونگ پھلی ہردل عزیز میوہ ہے۔ سردیوں میں مونگ پھلی کھانے کا اپنا ہی مزا ہے تاہم اس کا باقاعدہ استعمال دبلے افراد اور باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے انتہائی غذائیت بخش ثابت ہوتا ہے۔ مونگ پھلی میں قدرتی طور پر ایسے اینٹی آکسی ڈنٹ پائے جاتے ہیں جو غذائیت کے اعتبار سے سیب‘ گاجر اور چقندر سے بھی زیادہ ہوتے ہیں جو کم وزن افراد سمیت باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے بھی نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بل کہ اس کے طبی فوائد کئی امراض سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔ مونگ پھلی میں پایا جانے والا وٹامن ای کینسر کے خلاف لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس میں موجود قدرتی فولاد خون کے نئے خلیات بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔کینیڈا میں کی جانے والے ایک تحقیق کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں کے لئے مونگ پھلی کا استعمال نہایت مفید ہے۔ ماہرین کے مطابق دوسرے درجے کی ذیابطیس میں گرفتار افراد کے لئے روزانہ ایک چمچہ مونگ پھلی کا تیل بہت مثبت نتا ئج مرتب کرسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کا استعمال انسولین استعمال کرنے والے افراد کے خون میں انسولین کی سطح برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مونگ پھلی میں تیل کافی مقدار میں ہوتا ہے لیکن آپ خواہ کتنی بھی مونگ پھلی کھا جائیں اس کے تیل سے آپ کا وزن نہیں بڑھے گا۔

پستہ:پستے کا شمار بھی مغزیات میں کیا جاتا ہے۔ یہ جسم میں حرارت بھی پیدا کرتا ہے جب کہ قوتِ حافظہ، دل، معدے اور دماغ کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے متواتر استعمال سے جسم ٹھوس اور بھاری ہو جاتا ہے۔ مغز پستہ سردیوں کی کھانسی میں بھی مفید ہے اور پھیپھڑوں سے بلغم خارج کر کے انہیں صاف رکھتا ہے۔ پستے میں کیلشیم، پوٹاشیئم اور حیاتین بھی اچھی خاصی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ایک سو گرام پستے کی گری میں 594 حرارے ہوتے ہیں۔ پستہ کا استعمال مختلف سویٹس کے ہم را ہ صدیوں سے مستعمل ہے۔حلوہ‘زردہ اور کھیر کا لازمی جز ہے۔ نمکین بھنا ہوا پستہ انتہائی لذت دار ہوتا ہے اور دیگر مغزیات کی طرح بھی استعمال کیا جا تا ہے۔ جدید طبی تحقیق کے مطابق دن میں معمولی مقدار میں پستہ کھانے کی عادت انسان کو دل کی بیماری سے دور رکھ سکتی ہے۔ پستہ خون میں شامل ہو کر خون کے اندر کولیسٹرول کی مقدار کو کم کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ خون میں شامل مضر عنصر لیوٹین کو بھی ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔اس تحقیق کے دوران ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پھل اور پتے دار ہری سبزیاں کھانے سے شریانوں میں جمے کولیسٹرول کو پگھلایا جاسکتاہے۔ طبی ماہرین کا خیال ہے کہ پستہ عام خوراک کی طرح کھانا آسان بھی ہے اور ذائقے دار غذا بھی اگر ایک آدمی مکھن‘ تیل اور پنیر سے بھرپور غذائوں کے بعد ہلکی غذائوں کی طرف آنا چاہتا ہے تو اسے پستہ کھانے سے آغاز کرنا چاہیے۔ پستہ کا روزانہ استعمال کینسر کے امراض سے بچائو میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ منا سب مقدار میں پستہ کھانے سے پھیپھڑوں اور دیگر کینسرز کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ کینسر پر کام کر نے والی ایک امریکی ایسوسی ایشن کے تحت کی جانے والی ریسرچ کے مطا بق پستہ میں وٹامن ای کی ایک خاص قسم موجود ہو تی ہے جو کینسر کے خلاف انتہائی مفید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پستہ میں موجود اس خاص جزو سے نہ صرف پھیپھڑوں بل کہ دیگر کئی اقسام کے کینسر سے لڑنے کے لیے مضبوط مدا فعتی نظام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کاجو: کاجو انتہائی خوش ذائقہ میوہ ہے ۔اس میں زنک کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے استعمال سے اولاد پیداکرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔کینیڈا میں کی گئی ایک حالیہ طبی تحقیق کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کاجو کا استعمال ذیابطیس کے علاج میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاجو کے بیج میں ایسے قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں جو خون میں موجود انسولین کو عضلات کے خلیوں میں جذب کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کاجو میں ایسے ’’ایکٹو کمپاونڈز‘‘ پائے جاتے ہیں جو ذیابطیس کو بڑھنے سے روکنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں لہذا ذیابطیس کے مریضوں کے لئے کاجو کا باقاعدہ استعمال انتہائی مفید ہے۔

وزن کم کرنے کے 20 ٹوٹکے


وزن کم کرنے کے 20 ٹوٹکے--

ماہرین نے وزن کو کم کرنے اور اسے کنٹرول کرنے کے لئے بے حد آسان اور سادہ طریقے تجویز کئے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں۔

1۔ جب بھی کھانا کھائیں ، سلاد وغیرہ کا خصوصی اہتمام کریں تاکہ روٹی اور چاول وغیرہ کی جگہ آپ ان سے پیٹ بھرسکیں۔

2۔ ایسی خوراک کھائیں ، جس میں کم کلوریز ہوں۔

3۔ صرف اس وقت کھائیں جب آپ کو اس کی ضرورت ہو۔

4۔ غذا کو جسم کا ایندھن خیال کریں۔

5۔ ہمیشہ بیٹھ کر کھائیں چلتےپھرتے نہ کھائیں۔

6۔ کھانے کے دوران مطالعہ نہ کریں اور نہ ٹی وی دیکھیں۔

7۔ باہر جائیں تو آئسکریم یا مٹھائی نہ کھائیں۔

8۔ یہ یاد رکھیں آپ نے کیا اور کب کھایا تھا۔

9۔ بغیر ملائی کا دودھ استعمال کریں۔

10۔ چائے کافی کے وقفے کو کھانے کا وقفہ بنائیں۔

11۔ بسکٹ ، کیک ، مٹھائیاں چھوڑ دیں ، یہ چیزیں وزن میں اضافی کر دیتی ہیں۔

12۔ گھر میں پھل اور ایسی چیزوں کا اسٹاک رکھیں جن میں چکنائی نمک اور شکر کم ہو۔

13۔ ہمیشہ بغیر چربی کا گوشت کھائیں۔

14۔ ہمیشہ چھوٹی پلیٹ میں کھانا کھائیں۔

15۔ دن میں 2 سے زیادہ بار نہ کھائیں۔

16۔ ایک وقت کا کھانا صرف ایک بار کھائیں۔

17۔ مشروب میں پانی کی مقدار بڑھائیں۔

18۔ کھانے سے پہلے پانی ضرور پئیں۔

19۔ ہلکی پھلکی ورزش ضرور کریں۔

20۔ مونگ پھلی ، بادام اورخشک میوے کم استعمال کریں

صحت و سلامتی عطا کرنے والی جدید ترین تحقیق کی سوغات

ورزش کے بغیر وزن گھٹائیے

کی مصروف زندگی میں سیکڑوں لوگوں کو ورزش کرنے کا وقت نہیں ملتا، چنانچہ وہ رفتہ رفتہ فربہ ہو جاتے ہیں اور ان کے جسم پر چربی کی تہیں چڑھ جاتی ہیں۔ ذیل میں ایسے چودہ طریقے درج ہیں جو چربی گھلاتے اور گھلانے والا نظام استحالہ بہتربناتے ہیں تاکہ آپ کا وزن کم ہو سکے۔

فاقہ نہ کیجئے

فاقہ خصوصًا مردانہ صحت پر منفی اثر ڈالتا ہے، کیونکہ یہ نظام استحالہ کو سست کر دیتا ہے۔ تب وہ بڑی سستی سے چربی گھلانے لگتا ہے تاکہ اُسے ضائع نہ ہونے دے۔لہٰذا مردوں کو چاہیے کہ وہ وزن کم کرنے کی خاطر فاقہ مت کریں بلکہ غذائیت سے پُرغذا کھائیں، ایسی غذا جو انھیں مطلوبہ حرارے فراہم کر دے اور چربی بھی نہ چڑھائے۔

نیند پوری لیجئے

فن لینڈ میں محققین نے تحقیق کے بعد معلوم کیا ہے کہ جو مرد کم نیند لیں، وہ پوری نیند لینے والوں کی نسبت موٹے ہوتے ہیں۔

لحمیات (پروٹین) زیادہ کھائیے

ہمارے جسم کو لحمیات کی ضرورت ہے تاکہ اعضاکو دبلا پتلا رکھ سکیں۔ ماضی میں ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ لحمیات کم سے کم لینی چاہیں کہ یہ جسم کو فربہ کرتی ہیں۔ چنانچہ تب یہ قانون بنایا گیا کہ انسان اپنے فی پونڈ وزن کے لحاظ سے روزانہ ۳۶ئ۰گرام لحمیات کھائے لیکن جدید تحقیق کی رو سے لحمیات کی مندرجہ بالا روزانہ مقدار بہت کم ہے۔ لہٰذا اب ماہرین نے یہ تجویز کیا ہے کہ ہر انسان اپنے فی پونڈ وزن کے اعتبار سے ۸۰ئ۰ تا ایک گرام لحمیات روزانہ استعمال کرے۔ گویا وہ ہر روز چربی سے پاک ۳اونس گوشت یا دو بڑے چمچ مغزیات کھائے۔ یوں اُسے لحمیات کی روزانہ مطلوبہ مقدار مل جائے گی۔ ۸گرام کم چکنائی والا دہی کھانے سے بھی یہ مقدار حاصل ہو جاتی ہے۔

دیسی غذائیں استعمال کیجئے

آج کل تقریباً ہر غذا کھادوں اور کیڑے مار ادویہ کے استعمال سے اگائی جارہی ہے۔ اب بذریعہ تحقیق کیڑے مار ادویہ کا ایک مضر پہلو سامنے آیا ہے کہ یہ ادویہ چربی کے خلیوں میں جمع ہو جاتی ہیں۔ پھر چربی کے خلیے گھلنے میں دیر لگاتے ہیں یعنی تب وزن کم کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض ماہرین کا تو دعویٰ ہے کہ کیڑے مار ادویہ کے باعث ہمارا وزن بڑھ جاتا ہے۔

اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اب زیادہ سے زیادہ نامیاتی یا دیسی غذائیں استعمال کریں۔ یعنی وہ سبزیاں، اناج اور پھل استعمال کیجیے جو کیڑے مار ادویہ اور کیمیائی کھادوں کے بغیر اگائے جائیں۔ خاص طور پر آلو، سیب، آڑو، ناشپاتی، ساگ، گوبھی، چیری اور اسٹرابری دیسی ہی خریدئیے کیونکہ ان کے چھلکوں اور پتوں میں مضر صحت کیمیائی مادوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔

کھڑے ھوئیے

شاید آپ کوعلم نہ ہو، ہمارے کھڑے ہونے یا بیٹھنے سے بھی وزن کی کمی بیشی میں فرق پڑتا ہے۔ دراصل ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ اگر ہم جاگتے ہوئے تین چار گھنٹے تک بیٹھے رہیں اور کوئی سرگرمی نہ دکھائیں تو وہ خامرہ (انزائم) کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جو ہمارے بدن میں چربی کی مقدار اور کولیسٹرول کا استحالہ کنٹرول کرتا ہے۔ لہٰذا اس خامرے کو متحرک رکھنے اور مسلسل چربی جلانے کے لیے وقفے وقفے سے کھڑے ہوں اور تھوڑی بہت چہل قدمی کریں۔

سرد پانی پیجئے

جرمن ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ اگر ہم روزانہ سرد پانی کی چھ پیالیاں پئیں، تو ہمارا استحالہ نظام مزید ۵۰؍ حرارے جلاتا ہے۔ گویا اس لحاظ سے ہم سال میں ۵؍پونڈ وزن کم کر یں گے۔ ویسے یہ معمولی مقدار لگتی ہے لیکن ایک فربہ مرد کے وزن سے ۵پونڈ کم ہو جائیں تو یہ بڑی بات ہے۔ ہمارا جسم سرد پانی کو گرم کرنے کے لیے جو توانائی خرچ کرتا ہے اس کی بنا پر ۵۰حرارے جلتے ہیں۔

سبز مرچ یا لال مرچ کھائیے

مرچوں میں موجود ایک مادہ، عصارہ فلفل (Capsaicin) ہمارے منہ میں جلن پیدا کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین نے انکشاف کیا ہے، یہی جلن ہمارے نظام استحالہ کو تیز تر کر دیتی ہے، یوں پھر وہ مزید حرارے تیزی سے جلاتا ہے۔

دراصل جتنی سبز یا لال مرچ کھائیں تو ہمارے جسم میں حرارت جنم لیتی ہے، نیز ہمارا نظام ہمدرد (Sympathetic System) متحرک ہو جاتا ہے۔ (اعصاب سے منسلک یہی نظام ہمدرد ہمیں خوف یا خطرے کا مقابلہ کرنے کو تیار کرتا ہے)۔ انہی تبدیلیوں کے باعث ہمارا نظام استحالہ عارضی طور پر تیز ہوجاتا ہے۔ لہٰذا وزن کم کرنے والے مردوزن روزانہ اعتدال سے مرچیں کھا سکتے ہیں۔

کافی یا چائے پیجئے

کافی میں شامل مادہ، کیفین ہمارے مرکزی نظام اعصاب کو متحرک کرتا ہے۔ لہٰذا یہ بھی نظام استحالہ تیز کر ڈالتا ہے۔ یہ تیزی ۵ سے ۸ فیصد تک ہوتی ہے۔ گویا وہ ایک دن میں ۹۸ سے ۱۷۴ حرارے زیادہ جلاتا ہے۔ حرارے جلانے کے ضمن میں چائے، کافی سے بھی زیادہ موثر ہے۔ وہ نظام استحالہ کو ۱۲فیصد تک زیادہ متحرک کر دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے میں شامل ضد تکسیدی مادے، کیٹی چنز (Catechins) استحالی نظام کو سرگرم کرتے ہیں۔

ریشے سے مٹاپے کا مقابلہ کیجیے

ریشے (Fibre) میں ایسی خصوصیات موجود ہیں کہ وہ ہمارے جسم میں چربی کا گھلائو ۳۰فیصد تک تیز کر سکتا ہے۔ اسی لیے دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ زیادہ تیز ریشے والی غذائیں کھائیں، وہ موٹے نہیں ہوتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ سبزیوںوپھلوں کی شکل میں ۲۵گرام ریشہ کھائیے۔

فولاد والی غذائیں استعمال کیجیے

ہمارے بدن میں فولاد کی مناسب مقدار ہونی چاہیے کیونکہ اسی کی مدد سے آکسیجن ہمارے اعصاب تک پہنچ کر چربی گھلاتی ہے۔ اگر بدن میں فولاد کم ہو تو نہ صرف ہم میں کم توانائی جنم لیتی ہے، بلکہ ہمارا استحالہ بھی سست پڑجاتا ہے۔ چنانچہ ایسی غذائیں اعتدال سے کھائیے جن میں فولاد ہوتا ہے۔ مثلًا چربی کے بغیر گوشت، مچھلی، پھلیاں، ساگ وغیرہ۔ تاہم فولاد زیادہ نہ لیجیے کیونکہ یہ مردوں میں امراضِ قلب پیدا کرتا ہے۔

حیاتین ڈی زیادہ لیجیے

ہمارے اعصاب میں نظام استحالہ جاری رکھنے کے سلسلے میں حیاتین (وٹامن) ڈی کا خاص کردار ہے لیکن بہت سے لوگ غذا کے ذریعے یہ قیمتی حیاتین حاصل نہیں کرتے۔ ہر بالغ انسان کو روزانہ کم از کم ۴۰۰آئی یو (انٹرنیشنل یونٹ) حیاتین ڈی ضرور لینا چاہیے۔ یہ سالمن مچھلی کے علاوہ ٹونا، اناج اور انڈے میں پایا جاتا ہے۔

دودھ استعمال کیجیے

جدید تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جسم میں کیلشیم کی کمی بھی نظام استحالہ سست بنا دیتی ہے، چنانچہ روزانہ ایک گلاس دودھ پیجئے۔ ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ چکنائی سے پاک دودھ اور دہی دوسری غذائوں کی چربی بھی جسم میں جذب نہیں ہونے دیتے۔

تربوز کھائیے، وزن گھٹائیے

تربوز میں ایک امائنو ترشہ، آرجنین پایا جاتا ہے۔ یہ امائنو ایسڈ ترشہ چربی گھلانے میں نہایت کارگر ثابت ہوا ہے۔ ایک تجربے میں ماہرین نے تین ماہ ایک موٹے تازے چوہے کو آرجنین والی غذا کھلائی۔ وہ چوہا صرف تین ماہ میں ۶۴فیصد تک چربی گھلانے میں کامیاب رہا۔ دراصل آرجنین غذا میں شامل ہو تو چربی اور گلوکوز کی تکسید بڑھ جاتی ہے۔نیز عضلات پتلے ہوجاتے ہیں۔ اس کے باعث وہ چربی کی نسبت زیادہ حرارے جلاتے ہیں۔ چنانچہ تربوز کا موسم ہو تو فربہ حضرات یہ پھل اعتدال سے کھائیں۔

اپنا جسم تر رکھیئے

ہمارے جسم کے تمام کیمیائی تعاملات بشمول استحالہ پانی کی مدد سے انجام پاتے ہیں۔ اس لیے بدن میں کبھی پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ مزید براں پیاس کی حالت میں ہم حرارے بھی کم جلاتے ہیں۔

ہنسیں اور دل صحت مند رکھیں

آپ نے یہ کہاوت تو سنی ہوگی ’’ہنسی بہترین دوا ہے۔‘‘ اب سائنس نے بھی ثابت کر دیا کہ ہنسنا کم از کم ہمارے دل کے لیے بہت مفید ہے اور یہ معمولی بات نہیں کیونکہ آج کل کی تیز رفتار اور مصروف زندگی سب سے زیادہ ہمارے قلب ہی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اوپر سے مضرِصحت غذا بھی دل کمزور کردیتی ہے۔ اب ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ہنسی دل کو صحت مند بناتی ہے۔

یہ تحقیق امریکی شہر، بالٹی مور میں واقع یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسن کے محققوں نے کی ہے۔ انھوں نے دس رضاکار لیے اور انھیں پہلے دن ایک مزاحیہ فلم ’’There’s something about Mary‘‘ دکھائی۔ اس دوران خصوصی آلات سے ان کے نظامِ قلب کا معاینہ ہوتا رہا۔ دوسرے دن رضاکاروں نے جنگ و جدل کے مناظر پر مبنی فلم ’’Saving Private Ryan‘‘ دیکھی۔ اس فلم کے دوران بھی نوٹ کیا گیا کہ ان کے قلبی نظام میں کس قسم کی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔

تحقیق سے انکشاف ہوا کہ مزاحیہ فلم دیکھتے ہوئے جب رضاکار کھل کر ہنسے تو دل سے منسلک خون کی تمام نالیاں پھیل گئیں۔ یوں نالیوں میں خون کی مقدار بھی بڑھ گئی جس سے دل کو فائدہ پہنچا لیکن جب رضاکاروں نے دبائو اور افسردگی پیدا کرنے والی فلم دیکھی، تو خون کی نالیاں سکڑ گئیں، چنانچہ دل تک پہنچنے والا خون کم ہوگیا۔ اگر یہ حالت طویل عرصہ رہے توقلب مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔

اس تحقیقی جائزے کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل ملر تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنسنے سے انسانی قلب کو وہی فائدہ پہنچتا ہے جو مشقتی ورزش سے پہنچتا ہے۔ چنانچہ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہر انسان کو دن میں کم از کم دو تین بار کھل کر ضرور ہنسنا چاہیے۔ہنسنے پرکچھ خرچ نہیں ہوتا اوریہ عمل بہت مثبت بھی ہے لیکن ہنسی بناوٹی نہیں ہونی چاہیے۔

ہڈیاں مضبوط کرنے کے لیے ٹماٹر کھائیے

ٹورنٹو یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ششماہی تحقیق کے بعد دریافت کیا ہے کہ ٹماٹر کے رس میں موجود لائیکوپین (Lycopene) مادہ ہڈیاں مضبوط کرتا اور خصوصاً بوڑھی خواتین کو ہڈیوں کے عام مرض، اوسٹیو پوروسیز سے بچاتا ہے۔ اس مرض میں بوڑھی خواتین کی ہڈیاں مضبوطی کھو کر اتنی بھربھری ہو جاتی ہیں کہ معمولی سا جھٹکا بھی انھیں توڑ ڈالتا ہے۔

ماہرین دریافت کر چکے کہ ہڈیوں کی بوسیدگی کا مرض ایک زہریلے عنصر، ری ایکٹیو آکسیجن سپیسیز(Reactive Oxygen Species) کے باعث تیزی سے بڑھتا ہے۔ یہ زہریلا عنصر ہمارے جسم میں نظام استحالہ (میٹا بولزم) کی مصنوعہ ہے۔

درج بالا تحقیق کے ذریعے ماہرین دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا ضد تکسید (Anti Oxidant) مادہ، لائیکوپین ری ایکٹیو آکسیجن سپیسیز کو ہمارے بدن میں کم کرتا ہے؟ واضح رہے ، ضد تکسید ی مادے عموماً پھلوں میں ملتے ہیں۔ یہ مادے ہمارے خلیوں کو نظام استحالہ کی زہریلی مصنوعات سے محفوظ رکھتے ہیں۔

مزید براں ماہرین یہ بھی معلوم کرنا چاہتے تھے کہ آیا لائکو پین، این۔ٹیلوپیپٹائیڈ کی سطح بھی کم کرتا ہے؟ این۔ٹیلوپپٹائیڈ ایسا مادہ ہے جس کی سطح دیکھ کر ڈاکٹر معلوم کرتے ہیں کہ ہڈیوں کی بوسیدگی شروع ہو چکی ہے یا نہیں۔

تحقیق کے آغاز میں ۶۰خواتین کو کہا گیا کہ وہ چھ ماہ تک ۱۵ سے ۳۵گرام لائکو پین بذریعہ ٹماٹر کے رس، پھل اور گولی لیں۔ چھ ماہ تک ان کے طبی معاینے کے ذریعے دیکھا گیا کہ انسان ٹماٹر کا رس پیئے، پھل کھائے یا گولی، لائکو پین کی معین مقدار ہی جسم میں جذب ہوتی ہے۔ دوسری خاص بات یہ سامنے آئی کہ چھ ماہ میں لائکوپین نے خواتین کے بدن میں این۔ٹیلوپیپٹائیڈ کی سطح خاصی گرادی۔ کئی خواتین اتنی ہی کمی کیلشیم اور وٹامن ڈی کے غذائی سپلیمنٹ کھا کر حاصل کرتی ہیں۔ یوں اس تحقیق سے ثابت ہوگیا کہ جو خواتین ہڈیاں بھربھری ہونے کے مرض میں مبتلا ہیں، وہ ٹماٹر ضرور استعمال کریں۔ تاہم ٹماٹر اعتدال سے کھائیے کیونکہ ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔ دن میں دو یا چار ٹماٹر کھانا کافی ہے۔آج


موٹاپا کبھی بھی ایک دن میں طاری نہیں ہوتا اسی طرح یہ کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ ایک آدھ دن میں ختم ہو جائے گا۔

وزن کم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنی غذائی عادتوں پر ایک نظر ضرور ڈالیں،یعنی دن بھر میں ہم کتنا آٹا،چاول،چینی،لحمیات یا چکنائی کھاتے ہیں۔اگر یہ حساب بہت زیادہ نکل آئے تو ایک دم سخت ڈائٹنگ پر مت اتریںاس کے نتیجے میں کمزوری ہو گی،جس سے چہرہ شگفتگی اور تازگی کھو دے گا
ڈائٹ پلان ہماری صحت کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں،یعنی ہمارے جسم کو جس قدر غذائیت کی ضرورت ہوگی اتنی کیلوریز کو مدّنظر رکھ کر چارٹ ترتیب دئیے جاتے ہیں۔چلیں
وزن کم کرنے کے لئے تیار ہو جائیں،تلی ہوئی،کیفین شدہ،مکھن ،گھی سے بنی ،انڈی کی زردی اور بیکری میں بنی چیزیںکھانی چھوڑ دیںاور ذرا سے صبر وتحمل سے کام لیتے ہوئے دنوں یا ہفتوں میں تھک کر چارٹ پر عمل کرنا آپ نے چھوڑنا نہیں۔
بلکہ مطلوبہ نتائج تک پریکٹس جاری رکھیں۔ کھانے کا شیڈول: ناشتا :(1)ڈبل روٹی …207کیلوریز 2)انڈہ… 200کیلوریز (3)دودھ…200کیلوریز (4)خوبانی…200کیلوریز
وزن کم کرنے کے لئے ناشتے میں ایک پیس برائون بریڈخوبانی کا جیم لگا کر کھائیںاور بنا چینی کے ایک کپ پئیںاور دن میں کم از کم تین کپ گرین ٹی کا ستعمال تیزی سے وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

دوپہر کا کھانا:دوپہر کے کھانے میں سلاد اور سبزیوں کا استعمال کریںکیونکہ سبزیاں وٹامنز فراہم کر کے خون میں کولیسٹرول کو کم کرتی ہیں۔اس کے ساتھ ناریل کا پانی پئیں ،اس میں کم کیلوریز ہوتی ہیں ،جبکہ اس میں موجود سوڈیم کی زیادہ مقدار بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتی ہے۔ شام کی چائے:
شام کی چائے کے ساتھ ایک یا دو نمکین بسکٹ کھائیںاگر چائے پسند نہیں تو جو بھی کھائیں خیال رکھیں وہ میٹھا نہ ہو۔ رات کا کھانا:رات کے کھانے میںآدھی روٹی کسی بھی سالن کے ساتھ کھا لیں۔سلاد کا زیادہ استعمال کریں۔اور روٹی کے بعد پانی بالکل مت پئیں۔ اس شیڈول پر عمل کر کے آپ کافی حد تک وزن کو کنٹرول کر سکتی ہیں۔ ٭٭٭

Sunday, 24 November 2013

چقندر ایک ایسی فصل ہے


چقندر ایک ایسی فصل ہے جس کا استعمال متعدد اشیاءکی تیاری میں کیا جاتا ہے۔ چقندر کی چار اقسام ہوتی ہیں، ایک قسم چینی نکالنے کے لئے جبکہ باقی سبزی کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ چقندر کی کاشت سولہویں صدی میں یورپ سے شروع ہوئی۔ اس اہم سبزی نے دنیا میں جلد ہی ایک اہم مقام حاصل کر لیا اور یہ سب کچھ ایک نہایت قلیل عرصہ میں سائنسی علوم کی بدولت ہوا ۔ 1747ء میں ایک جرمن ماہر کیمیا دان اینڈریز سگمنٹر مارگراف نے معلوم کیا کہ چقندر کی قسم میں گنے کی جیسی چینی پائی جاتی ہے۔ اس نے اپنی تحقیق کے بعد چینی کی مقدار کو حاصل کرنے کا طریقہ اور اسکی کاشت کی مختلف اقسام کے بارے میں بتایا لیکن تب اس تحقیق کا کوئی خاص فائدہ نہ اٹھایا گیا۔اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں ریکارڈو چقندر سے چینی نکالنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے اس چینی کو بیٹ شوگر کا نام دیا جو بعد میں شوگر بیٹ کے نام سے مشہور ہوا۔ ریکارڈو کے کامیاب تجربے کے بعد جرمنی کے شہنشاہ جرمنی فریڈرک ولیم سوم کی مدد سے جرمنی کے شہر کنرن میں چقندر کی چینی کا پہلا کارخانہ قائم کیا گیا۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میںءسے 13-1912ء لے کر 1928ء تک چقندر کی کاشت پر ڈاکٹر ڈبلیو آر براون سابقہ صوبہ سرحد کے ایگریکلچر آفیسر کی زیر نگرانی تجربات کئے اور ثابت کیا کہ وادی پشاور چقندر کی کاشت کے لئے موزوں ہے۔ دسمبر 1931ء میں ڈاکٹر براون آسٹریلیا چلے گئے اور پھر چقندر پر پاکستانی ماہر ایس ایم آئی شاہ تین سال تک تجربات کرتے رہے لیکن اس کے کوئی خاص نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ 1952ء میں زرعی ماہرین نے چقندر پر مزید توجہ دی اور اندازہ کیا کہ چقندرسے حاصل شدہ چینی گنے کی چینی کی نسبت زیادہ فائدے مند ہے۔ چقندر میں گنے کی نسبت30 فیصد زیادہ چینی پائی جاتی ہے علاوہ ازیں چقندر 6 سے 8 آبپاشی کے ساتھ 7 ماہ میں پک جاتی ہے جبکہ گنا 16 پانی کے ساتھ ایک سال لیتا ہے گنے کی کٹائی تقریباً نومبر میں شروع ہو کر اپریل تک جاتی ہے جبکہ چقندر مئی میں تیار ہو جاتی ہے اورجولائی کے وسط تک کارخانے کو مہیا کی جاتی ہے یہ تجربات مردان میں کئے گئے اور ان ہی تجربات کی روشنی میں زمینداروں نے چقندر اگانا شروع کی۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں چقندر کی کاشت مردان، پشاور اور چارسدہ میں 30 ہزار ایکڑ سے تجاوز کرچکی ہے ملوں میں چقندر کی چینی کا پرتہ 8 سے 10 فیصد ہے۔

59-1958ء میں چارسدہ شوگر مل نے چینی بنانے کا پہلا کارخانہ لگایا اور اب ملک میں دو شوگر ملیں چقندر سے چینی بنا رہی ہیں۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہکا کہنا ہے کہ چقندر سے چینی کا حصول ملز مالکان اور کسان دونوں کے لئے فائدہ مند ہے اور اس کی بدولت چینی کی پیداوار بھی زیادہ حاصل کی جا سکتی ہے کیونکہ چقندر کی فصل گنے کی نسبت جلد تیار ہو جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک چوتھائی چینی صرف چقندر سے بنائی جاتی ہے۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے زرعی ماہرین نے کاشتکاروں سے کہا ہے کہ وہ چقندر کی فی ایکڑ بہترین پیداوار حاصل کرنے کیلئے چقندر کی کاشت کا عمل 20 ستمبر سے شروع کر کے 31 اکتوبر تک مکمل کر لیں وگرنہ آمدن میں 50 فیصد چینی کے نسبتاً 30 فیصد کمی آتی ہے۔ پاکستان میں کاشت کاروں کو دو اقسام کیوی ٹرما اورکیوی میرا کاشت کیلئے دی جاتی ہیں یہ ٹریلائیڈہائرڈ ہیں ان اقسام کی پیداواری صلاحیت 75 ٹن فی ہیکڑ اور چینی کا برتہ 17 فیصد تک ہے۔ ماہرین کے مطابق چقندر کی فی ہیکٹرزمین میں100 کلو گرام فاسفورس اور 90 سے 120 گرام نائٹروجن کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان میں چقندر کی کاشت موسم خزاں جبکہ برداشت مئی اور جون میں کی جاتی ہے۔ فصل کی اچھی اور مناسب بڑھوتری کیلئے ضروری ہے کہ دن کا درجہ حرارت 25 سے 30 درجہ اور رات کا درجہ حرارت 17 سے 20 سینٹی گریڈ ہو۔ چقندر کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کیلئے زمین زرخیز ہونی چاہئے وادی پشاور کی بیشتر زمین اچھی اقسام کی پیداوار ان کیلئے موزوں ہے شوریت اور سیم زدہ زمین چقندر کی کاشت کیلئے موزوں نہیں ہے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ درمیانی زرخیز زمین پر اس کی پیداوار اچھی ہوئی ہے۔ پہلے صرف پشاور، چارسدہ، صوابی اور مردان میں چقندر کی کاشت کی جاتی تھی مگر اب ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی اس کی کامیاب کاشت ہو رہی ہے۔

چقندر بھارت، پاکستان، شمالی افریقہ اور یورپ میں کثرت سے سبزی کے طور پر کاشت کیا جاتا ہے۔ اسے اگر اس کے اطارف میں لگایا جائے تو آنکھوں کی سوزش اور جلن میں مفید ہے۔ چقندر کے پانی کو روغن زیتون میں ملا کر جلے ہوئے مقام پر لگانا مفید ہے۔ سفید چقندر کا پانی جگر کی بیماریوں میں اچھے اثرات رکھتا ہے۔ چقندر کے قتلوں کو پانی میں ابال کر اس پانی کی ایک پیالی صبح ناشتہ سے ایک گھنٹہ پہلے پینے سے پرانی قبض جاتی رہتی ہے اور بواسیر کی شدت میں کمی آ جاتی ہے۔ جلد کے زخموں، بفہ اور خشک خارش میں چقندر کے قتلوں کو پانی اور سرکہ میں ابال کر لگانا مفید ہے۔ اس مرکب کو دور چار مرتبہ لگانے سے سر کی خشکی غائب ہو جاتی ہے۔ چقندر کے اجزاءدست آور ہیں جبکہ اس کا پانی دستوں کو بند کرتا ہے۔

ناشپاتی


ناشپاتی

سرد تر اور قبض کشا پھل ہے۔ یہ دل دماغ جگر اور معدے کو طاقت دیتی ہے۔ چھلکے سمیت کھانے سے ہضم ہو جاتی ہے۔ کشمیری ناشپاتی اور بگو گوشے کے بھی یہی اوصاف ہیں

شکر قندی


شکر قندی

گرم تر، قابض اور پھپھڑوں کو طاقت دیتی ہے۔ اس میں نشاستہ بہت ہوتا ہے۔ لہذا محنت مزدوری والوں کو بہت فائدہ دیتی ہے۔ شکر قندی کے بعد سونف چبا لینا چاہیے بہت مفید ہوتا ہے

گھریلو علاج دُبلا پن ۔



دبلا پن دور کرنے کے لیئے روزآنہ 25 گرام منقّہ کھانا چاہیئے یا روزآنہ 3 یا 4 کیلے کھائیں۔کچّی گاجریں کھانا یا گاجر کا جوس بھی جسم فربہ کرتا ہے۔انجیر دودھ کے ساتھ کھانے سے اور کجھور کھانے سے بھی جسم فربہ ہوتا ہے۔

شوگر کی بیماری کے بارے میں معلومات ہی بہترین علاج ہے


انگریزی زبان میں ڈیا بٹیز ملیٹس ، فارسی میں مرضِ قند، اُردو میں ذیابیطس اور کشمیری میں شوگر بیما ۔ ذیابیطس ایک دیرینہ (مزمن ) مٹابولک مرض ہے جس میں جسم اپنی توانائی کے لئے گلوکوز استعمال کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے۔

ذیابیطس کی دو اقسام ہیں :

ٹائپ ون: اس قسم کی بیماری میں جسم کے اندر لبلبے کے خلیوں سے انسولین کی پیداوار یا تو ہوتی ہی نہیں یا اس کی مقدار بہت قلیل ہوتی ہے۔ ایسے مریضوں کو انسولین کے انجکشن دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کی بیماری پر قابو پایا جا سکے۔

ٹائپ ٹو:اس قسم کی ذیابیطس میں جسم میں انسولین پیدا تو ہوتا ہے مگر جسم اسے استعمال کرنے میں ناکام ہوتا ہے ۔ اس قسم کی بیماری میں مبتلا ہونے والے افراد اکثر موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔ اس نوع کی بیماری کو پرہیز ، ورزش اور ادویات (ضد ذیابیطس) سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ بعض مریضوں میں کسی قسم کی انفکشن یا سرجری کے بعد انسولین کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے تاکہ ان کے خون میں شکر کی سطح قابو میں رہ سکے ۔

يہ وہ مرض ہے جو جنوبی ایشیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے یا بقول ایک دوست کے ، ڈاکٹر یہ بیماری ہمارے سماج میں اسی رفتار سے پھیل رہی ہے جس طرح یہاں کوئی افواہ پھیلتی ہے ۔ انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن (آئی ڈی ایف ) کے مطابق آج دنیا بھر میں 95 ملین افراد کو ذیابیطس کا خطرہ لاحق ہے جبکہ موجودہ رجحانات کو مدنظر رکھ کر اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2025ء تک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 330 ملین تک پہنچ جائے گی ۔

ذیابیطس کے مریض کا ایک سانحہ یہ بھی ہے کہ ان کی پچاس فیصد تعداد اپنے مرض میں مبتلا ہونے سے باخبر ہے ۔

بعض ترقی پذیرممالک میں تو ذیابیطس کے شکار اسّی فیصد مریض اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ انہیں ذیابیطس کے مرض نے آ گھیرا ہے ، شاید اسی وجہ سے کئی ترقی پذیر ممالک میں ذیابیطس سے متاثرہ افراد کی اموات کا چوتھا بڑا سبب بن چکا ہے ۔
عالمی تنظیم صحت (WHO)کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا میں 3.5ملین لوگ ذیابیطس کے سبب موت کے منہ میں جا رہے ہیں ۔ اگر اس تعداد کو سال بھر کے وقت پر تقسیم کیا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ہر منٹ میں چھ لوگ صرف ذیابیطس کے سبب موت کے شکار بن رہے ہیں ۔

محققین کا خیال ہے کہ آئندہ بیس برسوں میں اس بیماری کی شرح میں 59 فیصد اضافہ ہو گا ۔ اس کی وجہ صرف آبادی میں اضافہ نہیں بلکہ لوگوں کے طرزِ زندگی میں انقلابی تبدیلی ، دیہات کو خیرباد کہہ کر شہروں میں سکونت اختیار کرنا ، آرام پسند طرزِ زندگی اپنانا بھی شامل ہے ۔ کشمیریوں میں نامساعد حالات کی وجہ سے عام لوگوں کا نفسیاتی اور ذہنی دباﺅ میں مبتلا ہونا ، کھانے پینے کی عادات میں نمایاں تبدیلیوں کا وقوع پذیر ہونا اور سیدھی سادھی زندگی سے منہ موڑ کر ’الٹرا ماڈرن‘، ”مصنوعی زندگی“ کو گلے لگانا بھی اس بیماری کے اسباب میں شامل ہے ۔ لوگ ”اچانک “ یا پھر ” دھیرے دھیرے “ بہرحال بدل رہے ہیں ۔ اب یہاں اکثر لوگ ”قدرت “ کو فراموش کرچکے ہیں ۔ قدرتی غذائیں کھانے کے بجائے فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کی طرف مائل ہوچکے ہیں ۔
صاف ستھرے پانی کی بجائے کوک کی بوتلوں سے پیاس بجھاتے ہیں-

اب لوگ اپنے تغذیہ کی طرف کم اور ”دکھاوے“ کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔ مادیت پرستی کی پیدا شدہ مصروفیت کے سبب اب لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ مناسب وقت پر مناسب غذا حلق سے اُتاریں۔ عام لوگ (خاص کر بچے) تازہ میوہ جات اور سبزیوں کی بجائے بازاری غذاﺅں کو ترجیح دیتے ہیں ۔
سکولی بچوں کے پاس باقاعدہ ورزش کے لئے وقت ہی نہیں ۔ وہ زمانہ گیا جب بچے اپنے محلے میں گلی ڈنڈا، آنکھ مچولی اور دیگر کھیلوں سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے ۔

اب نئی نسل صرف ” ہوم ورک ، ٹی وی یا کمپیوٹر کی دنیا“میں گم ہوتی ہے جس سے ان کے جسم کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور وہ”موٹاپے“ (Obesity) کے شکار ہوجاتے ہیں اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ موٹاپے کے سبب نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر ملکوں میں بھی ذیابیطس کے مریض کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ۔ بڑوں کے علاوہ بچوں میں بھی وزن میں اضافہ کی بیماری عام طور پر پھیل رہی ہے ۔ ڈاکٹروں کو تشویش ہے کہ موٹاپے اور وزن میں اضافہ کے سبب یہاں لوگوں کو نہ صرف ذیابیطس کا عارضہ لاحق ہو سکتا ہے بلکہ اوسط عمر بھی کم ہوسکتی ہے ۔ جب کسی انسان کے جسمانی وزن میں ایک کلو وزن کا ضرورت سے زیادہ اضافہ ہوتاہے تو اس کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات پانچ فیصد بڑھ جاتے ہیں ۔ وزن میں بے قاعدگی کے مسئلہ سے دوچار 70فیصد نوجوان مستقبل میں موٹاپے کی خطرناک بیماری کا شکار بن سکتے ہیں ۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے بعض مریضوں کو ”جسمانی وزن پر قابو“ کے ذریعے سے روکا جا سکتا ہے ۔
جسمانی ورزش کے ذریعہ ذیابیطس کے مرض کو ساٹھ فیصد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے یعنی نوجوان نسل کو اپنا آرام پسند طرزِ زندگی بدل کر ایک فعال زندگی گزارنی ہوگی تاکہ وہ موٹاپا جیسی مہلک بیماری میں مبتلا نہ ہوں ۔

اکثر لوگوں کا باطل عقیدہ یہ ہے کہ یہ بیماری صرف کھانڈ یا کھانڈ سے بنی اشیاءخوردنی کا زیادہ استعمال کرنے والوں کو ہوتی ہے اور اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد اکثر مریض ڈر ، خوف اور وہم میں مبتلا ہوکر اپنے آپ کو اُن غذائی اجزا سے یکسر محروم کرتے ہیں جو اُن کی صحت مندی کے لئے لازم ہوتے ہیں ۔ وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ بیماری انہیں دل ، دماغ اور گردوں اور پیروں کی پیچیدگیوں میں مبتلا کرسکتی ہے