Thursday, 9 April 2015
Wednesday, 18 March 2015
بلڈ پریشر کے مسائل آجکل بہت زیادہ ھیں. خون کا دباؤ زیادہ ھونا صرف ایک علامت ھے
بلڈ پریشر کے مسائل آجکل بہت زیادہ ھیں. خون کا دباؤ زیادہ ھونا صرف ایک علامت ھے کہ آپ کے جسم کے اندر کہیں گڑ بڑ ھے. آئیے اس کو پورے پس منظر کے ساتھ بیان کرتے ھیں.
جب دماغ کی نسیں پھٹنے لگیں اور چکر محسوس ھوں تو چیک کرنے پر پتہ چلتا ھے بلڈ پریشر بڑھا ھوا ھے. اس کی نارمل رینج یہ ھے.
اوپر والا 120 اور نیچے والا 80
اگر چند پوائنٹس کا اضافہ ھو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن بہت زیادہ ھوتو مسائل کا باعث بنتا ھے. مسلسل ھائی رھے تو فالج ھوسکتا ھے، گردے فیل ھو سکتے ھیں. برین ھیمبرج اور دل کا اٹیک بھی ھو سکتا ھے.
زیادہ تر بلڈ پریشر بڑھنے کے پیچھے کولیسٹرول کا ھاتھ ھوتا ھے.
* کولیسٹرول *
جسم کو کولیسٹرول دو ذرائع سے حاصل ھوتا ھے. اول تو جگر میں یہ روزانہ ھزار ملی گرام بنتا ھے اور جسم کے اندر انسانی ضروریات کیلئے یہ مناسب مقدار تصور کی جاتی ھے. اس کے علاوہ دوسرا ذریعہ خوراک ھے اور اسی سے زیادہ مقدار رگوں اور دل کے عوارض کا باعث بنتی ھے
کھانے کے بعد اسکی نصف مقدار معدے اور آنتوں سے گذر کر خون میں جذب ھو جاتی ھے اور نصف مقدار پاخانہ کے ساتھ خارج ھو جاتی ھے.
کولیسٹرول ایک مومیائی مادہ ھے جو لپڈ LIPIDS کے زمرے میں آتا ھے. کولیسٹرول ھمارے جسم کا ضروری عنصر ھے جو دماغ کی نسوں، جگر، خون اور صفرا میں پایا جاتا ھے. یہ انسانی جسم کے خلیوں کی دیواروں کو بنانے اور چند ھارمونز بشمول جنسی ھارمونز کو تیار کرنے کیلئے بنیادی ضرورت ھے لیکن اسکی زیادہ مقدار تباہ کن ھوتی ھے.
* کولیسٹرول کی اقسام *
1. مجموعی کولیسٹرول
TOTAL CHOLESTROL
2. ایل ڈی ایل
LOW DENSITY LIPID
3. ایچ ڈی ایل
HIGH DENSITY LIPID
4. ٹرائی گلیسرائیڈز
TRIGLYCERIDES
.
اچھی صحت اور ھارٹ اٹیک سے بچاؤ کیلئے کولیسٹرول کی مقدار حسب ذیل ھونی چاھئے.
ٹوٹل کولیسٹرول لیول
150 mg/dl
ایل ڈی ایل
100mg/dl
ایچ ڈی ایل
35mg/dl
ٹرائی گلیسرائیڈز
150mg/dl
جب دماغ کی نسیں پھٹنے لگیں اور چکر محسوس ھوں تو چیک کرنے پر پتہ چلتا ھے بلڈ پریشر بڑھا ھوا ھے. اس کی نارمل رینج یہ ھے.
اوپر والا 120 اور نیچے والا 80
اگر چند پوائنٹس کا اضافہ ھو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن بہت زیادہ ھوتو مسائل کا باعث بنتا ھے. مسلسل ھائی رھے تو فالج ھوسکتا ھے، گردے فیل ھو سکتے ھیں. برین ھیمبرج اور دل کا اٹیک بھی ھو سکتا ھے.
زیادہ تر بلڈ پریشر بڑھنے کے پیچھے کولیسٹرول کا ھاتھ ھوتا ھے.
* کولیسٹرول *
جسم کو کولیسٹرول دو ذرائع سے حاصل ھوتا ھے. اول تو جگر میں یہ روزانہ ھزار ملی گرام بنتا ھے اور جسم کے اندر انسانی ضروریات کیلئے یہ مناسب مقدار تصور کی جاتی ھے. اس کے علاوہ دوسرا ذریعہ خوراک ھے اور اسی سے زیادہ مقدار رگوں اور دل کے عوارض کا باعث بنتی ھے
کھانے کے بعد اسکی نصف مقدار معدے اور آنتوں سے گذر کر خون میں جذب ھو جاتی ھے اور نصف مقدار پاخانہ کے ساتھ خارج ھو جاتی ھے.
کولیسٹرول ایک مومیائی مادہ ھے جو لپڈ LIPIDS کے زمرے میں آتا ھے. کولیسٹرول ھمارے جسم کا ضروری عنصر ھے جو دماغ کی نسوں، جگر، خون اور صفرا میں پایا جاتا ھے. یہ انسانی جسم کے خلیوں کی دیواروں کو بنانے اور چند ھارمونز بشمول جنسی ھارمونز کو تیار کرنے کیلئے بنیادی ضرورت ھے لیکن اسکی زیادہ مقدار تباہ کن ھوتی ھے.
* کولیسٹرول کی اقسام *
1. مجموعی کولیسٹرول
TOTAL CHOLESTROL
2. ایل ڈی ایل
LOW DENSITY LIPID
3. ایچ ڈی ایل
HIGH DENSITY LIPID
4. ٹرائی گلیسرائیڈز
TRIGLYCERIDES
.
اچھی صحت اور ھارٹ اٹیک سے بچاؤ کیلئے کولیسٹرول کی مقدار حسب ذیل ھونی چاھئے.
ٹوٹل کولیسٹرول لیول
150 mg/dl
ایل ڈی ایل
100mg/dl
ایچ ڈی ایل
35mg/dl
ٹرائی گلیسرائیڈز
150mg/dl
تھائی رائیڈ ھارمون
تھائی رائیڈ ھارمون
.
تھائی رائیڈ گلینڈ میں خرابی سے کولیسٹرول اور بلڈ پریشر بڑھنے سمیت ذیابیطس اور کینسر تک کے مسائل پیدا ھو جاتے ھیں اس لئے آج کا مضمون بہت اھم ھے.
تھائی رائیڈ گلینڈ انسانی گلے کے اندر پایا جانے والا چھوٹا سا غدود ھے لیکن پورے جسم کی صحت کے لئے بہت اھم ھے. یہ گلینڈ ایک ھارمون پیدا کرتا ھے جسے تھائیرائڈ ھارمون کہا جاتا ھے.
ھر سترہ 17 منٹ کے بعد جسم انسانی کا سارا خون تھائیرایڈ گلینڈ سے گذر کر تھائی راکسن ھارمون حاصل کرتا ھے. تھائی راکسن کا ایک اھم کام یہ ھے کہ خون میں شامل مضر اجزاء کو ختم کرے. اگر تھائیرایڈ گلینڈ کام نہ کرے تو گردوں کا فعل متاثر ھوکر بلڈپریشر بڑھ جاتا ھے.
جدید ریسرچ کے مطابق کولیسٹرول جمنے کی وجہ بھی کسی حد تک تھائی راکسن کی کمی ھوتی ھے.
اگر گلینڈ کام نہ کر رھاھو تو اسکو ہائپوتھائرائیڈزم
HYPOTHYROIDISM
کہا جاتا ھے. اور اس سے میٹابولزم کا عمل سست ھو کر موٹاپا، ھائی بلڈپریشر ، اور ھائی کولیسٹرول کی وجہ بنتا ھے.
اسکے ذمہ انسانی درجہ حرارت کو مناسب رکھنا بھی شامل ھے. سردی کا احساس بہت زیادہ ھونا شروع ھو جائے تو یہ تھائیرائیڈ کے سست پڑنے کی نشانی ھے.
* علامات *
وزن میں اضافہ ھونا
شریانی تناؤ میں اضافہ
سانس کی بیماریوں کا جلد جلد ھونا
تھکن بہت جلدی ھونا
سینے کا گوشت لٹک جانا
پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ
نچلی کمر میں مستقل درد
.
لیبارٹری ٹیسٹ میں ٹی تھری ٹی فور اور ٹی ایس ایچ
Thyroid Stimulating Harmone
کو جانچنے کے بلڈ لیا جاتا ھے اور تھائیرائیڈ گلینڈ کی کارکردگی کا پتہ چل جاتا ھے. آپ خود بھی آئیڈیا لگا سکتے ھیں جسکا طریقہ درج ذیل ھے. اس کو بیسل میٹابولزم تکنیک کہا جاتا ھے-
دو دن تک رات کو سوتے وقت تھرمامیٹر کو جھٹک کر یعنی پارہ نیچے لا کر پاس رکھ لیں اور صبح بیدار ھوتے ھی بغل میں دس منٹ رکھکر درجہ حرارت نوٹ کر لیں. اگڑ دو دن مسلسل درجہ حرارت نارمل سے کم ھو تو اس بات کا امکان ھے کہ تھائیرائیڈ ھارمون کی کمی ھے.
خواتین کو مخصوص دنوں میں یہ طریقہ استعمال نہیں کرنا چاھئے کیونکہ ریڈنگ غلط آئے گی.
* بچاؤ کی تدابیر *
مناسب ورزش
کیلشیم والی غذا
بادام کھانا معمول بنالیں
ذھنی تناؤ سے بچیں.
سرپھوکہ
* سرپھوکہ *
یہ بوٹی بہت سے امراض کے سر کاٹ دینے والی ھے اس لئے طب میں سرپھوکہ کے نام سے مشہور ھے. پاکستان میں ھرجگہ مل سکتی ھے اور پنسار سٹور سے بھی ملتی ھے.
اس کا مزاج گرم تر ھے
مقدارخوراک پانچ گرام تک
¤ خواص ¤
مصفا خون ، معدہ کو طاقت دیتی ھے، جگر اور تلی کو مفید ھے، پیشاب آور ھے، پتھری توڑتی ھے، زھریلے امراض کو ختم کرتی ھے، جسم کے اندر تمام زھریلے مادوں کو نکالتی ھے، جدید ریسرچ میں کینسر تک کام کرنے والی بوٹی ھے.
¤ نسخہ نمبر 1 ¤
جن مریضوں کے معدہ، جگر یا تلی میں ورم اور زخم ھوں یا کوئی پھوڑا ھو اور خون الٹی یا پاخانہ میں آتا ھو ان کیلئے یہ نسخہ انتہائی مفید اور مجرب ھے. لاکھوں خرچ کرکے فائدہ نہ ھو تو یہ نسخہ کام کر جاتا ھے. تمام گلا سڑا مادہ اور سدے خارج ھو جاتے ھیں.
سرپھوکہ = سو گرام
آکاس بیل = سو گرام
آملہ = سو گرام
مرچ سیاہ = سو گرام
زخم حیات = سو گرام
تمام کو پیس کر سفوف بناکر رکھیں. ایک چھوٹی چمچ صبح خالی پیٹ اور ایک چمچ عصر کے وقت جب پیٹ خالی ھو تو ایک کپ پانی میں گھوٹ کر چھان کر پلا دیں. چند دن میں اثر دکھاتا ھے.
.
¤ دوسرا نسخہ ¤
سرطان یعنی کینسر کے لئے لاکھوں کروڑوں روپے درکار ھوتے ھیں اور بار بار "کیمو تھراپی" کروانی پڑتی ھے. یہ نسخہ بالکل درست اور ھر بار رزلٹ دینے والا ھے. تمام اطبا حضرات اور باقی دوستوں سے گذارش ھے کہ جسے کینسر کے پنجے میں دیکھیں تو صرف ایک دفعہ بناکر ضرور دیں. اللہ کے فضل سے نتائج آپ کو حیران کر دیں گے انشاء اللہ تعالی
> سرپھوکہ = سو گرام
زخم حیات = سو گرام
ڈھاک کی چھال = سوگرام
پودینہ = سو گرام
برھم ڈنڈی = سو گرام
منڈی بوٹی = سو گرام
جل نیم = سو گرام
مرچ سیاہ = سو گرام
کتھ سفید = سو گرام
نیل کنٹھی = سو گرام
سب کو الگ الگ پیس کر سفوف بنا کر پھر آپس میں مکس کر کے جار میں رکھیں.
پانچ گرام سفوف یعنی ایک چمچ چھوٹی روزانہ چائے یا دودھ سے. اگر حالت زیادہ خراب ھو تو صبح شام
انشاء اللہ صرف دس سے پندرہ دن کے اندر اندر رزلٹ دے گی.
یہ بوٹی بہت سے امراض کے سر کاٹ دینے والی ھے اس لئے طب میں سرپھوکہ کے نام سے مشہور ھے. پاکستان میں ھرجگہ مل سکتی ھے اور پنسار سٹور سے بھی ملتی ھے.
اس کا مزاج گرم تر ھے
مقدارخوراک پانچ گرام تک
¤ خواص ¤
مصفا خون ، معدہ کو طاقت دیتی ھے، جگر اور تلی کو مفید ھے، پیشاب آور ھے، پتھری توڑتی ھے، زھریلے امراض کو ختم کرتی ھے، جسم کے اندر تمام زھریلے مادوں کو نکالتی ھے، جدید ریسرچ میں کینسر تک کام کرنے والی بوٹی ھے.
¤ نسخہ نمبر 1 ¤
جن مریضوں کے معدہ، جگر یا تلی میں ورم اور زخم ھوں یا کوئی پھوڑا ھو اور خون الٹی یا پاخانہ میں آتا ھو ان کیلئے یہ نسخہ انتہائی مفید اور مجرب ھے. لاکھوں خرچ کرکے فائدہ نہ ھو تو یہ نسخہ کام کر جاتا ھے. تمام گلا سڑا مادہ اور سدے خارج ھو جاتے ھیں.
سرپھوکہ = سو گرام
آکاس بیل = سو گرام
آملہ = سو گرام
مرچ سیاہ = سو گرام
زخم حیات = سو گرام
تمام کو پیس کر سفوف بناکر رکھیں. ایک چھوٹی چمچ صبح خالی پیٹ اور ایک چمچ عصر کے وقت جب پیٹ خالی ھو تو ایک کپ پانی میں گھوٹ کر چھان کر پلا دیں. چند دن میں اثر دکھاتا ھے.
.
¤ دوسرا نسخہ ¤
سرطان یعنی کینسر کے لئے لاکھوں کروڑوں روپے درکار ھوتے ھیں اور بار بار "کیمو تھراپی" کروانی پڑتی ھے. یہ نسخہ بالکل درست اور ھر بار رزلٹ دینے والا ھے. تمام اطبا حضرات اور باقی دوستوں سے گذارش ھے کہ جسے کینسر کے پنجے میں دیکھیں تو صرف ایک دفعہ بناکر ضرور دیں. اللہ کے فضل سے نتائج آپ کو حیران کر دیں گے انشاء اللہ تعالی
> سرپھوکہ = سو گرام
زخم حیات = سو گرام
ڈھاک کی چھال = سوگرام
پودینہ = سو گرام
برھم ڈنڈی = سو گرام
منڈی بوٹی = سو گرام
جل نیم = سو گرام
مرچ سیاہ = سو گرام
کتھ سفید = سو گرام
نیل کنٹھی = سو گرام
سب کو الگ الگ پیس کر سفوف بنا کر پھر آپس میں مکس کر کے جار میں رکھیں.
پانچ گرام سفوف یعنی ایک چمچ چھوٹی روزانہ چائے یا دودھ سے. اگر حالت زیادہ خراب ھو تو صبح شام
انشاء اللہ صرف دس سے پندرہ دن کے اندر اندر رزلٹ دے گی.
Saturday, 14 March 2015
لیموں پانی کے فوائد
لیموں پانی کے فوائد کے متعلق تو آپ نے بہت سنا ہوگا لیکن اگر آپ پانی کو نیم گرم کرلیں، اس میں آدھا لیموں نچوڑ لیں اور تھوڑا سا شہد بھی ڈال لیں اور اس مشروب کو صبح نہار منہ پئیں تو اس کے فوائد کا شمار ممکن نہیں۔
چند اہم فوائد جو آپ کو اس مشروب سے حاصل ہوں گے درج ذیل ہیں۔
1 ۔لیموں اور شہد میں پائے جانے والے الیکٹرولائٹ، پوٹاشیم، کیلشیم اور میگنیزیم جسم کو تروتازہ کرتے ہیں اور پانی کی کمی فوراً پوری ہوجائے گی۔
2 ۔جوڑوں اور پٹھوں کا درد غائب ہوجائے گا۔
3 ۔نظام انہظام بہتر ہوجائے گا۔
4 ۔جسم میں خامروں کی بہتات ہوجاتی ہے۔
5 ۔جگر کی صفائی ہوجائے گی۔
6 ۔گلے کے انفیکشن اور سوزش سے نجات مل جاتی ہے۔
7 ۔آنتیں صاف ہوجاتی ہیں۔
8 ۔جسم میں بیماری سے بچانے والے اینٹی آکسیڈنٹ پیدا ہوتے ہیں۔
9 ۔عصبی نظام مضبوط ہوتا ہے اور ڈپریشن اور ذہنی دباﺅ سے نجات ملتی ہے۔
10 ۔خون کی شریانوں کی صفائی ہوتی ہے۔
11 ۔بلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے۔
12 ۔یہ مشروب جسم میں PH کا لیول بڑھاتا ہے جس سے بیماریوں کی روک تھام ہوتی ہے۔
13 ۔وٹامن سی کی مدد سے جلد صاف اور صحتمند ہوجاتی ہے۔
14 ۔یورک ایسڈ تحلیل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے جوڑوں کے درد سے نجات ملتی ہے۔
15 ۔یہ حاملہ ماﺅں کیلئے بہت ہی مفید ہے، یہ ماں کو وائرس اور فلو سے بچاتا ہے اور بچے کی ہڈیاں اور عصبی نظام خصوصاً دماغ کو مضبوط بناتا ہے۔
16 ۔سینے کی جلن ختم ہوجاتی ہے۔
17 ۔گردے اور پینکریاز کی پتھری تحلیل ہوجاتی ہے۔
18 ۔لیموں کا پیکٹن فائبر وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
19 ۔دانت کے درد اور مسوڑھوں کے مسائل کا خاتمہ ہوتا ہے۔
20 ۔لیموں کی الکلی خصوصیات کینسر کے خطرات کو کم کردیتی ہیں۔
چند اہم فوائد جو آپ کو اس مشروب سے حاصل ہوں گے درج ذیل ہیں۔
1 ۔لیموں اور شہد میں پائے جانے والے الیکٹرولائٹ، پوٹاشیم، کیلشیم اور میگنیزیم جسم کو تروتازہ کرتے ہیں اور پانی کی کمی فوراً پوری ہوجائے گی۔
2 ۔جوڑوں اور پٹھوں کا درد غائب ہوجائے گا۔
3 ۔نظام انہظام بہتر ہوجائے گا۔
4 ۔جسم میں خامروں کی بہتات ہوجاتی ہے۔
5 ۔جگر کی صفائی ہوجائے گی۔
6 ۔گلے کے انفیکشن اور سوزش سے نجات مل جاتی ہے۔
7 ۔آنتیں صاف ہوجاتی ہیں۔
8 ۔جسم میں بیماری سے بچانے والے اینٹی آکسیڈنٹ پیدا ہوتے ہیں۔
9 ۔عصبی نظام مضبوط ہوتا ہے اور ڈپریشن اور ذہنی دباﺅ سے نجات ملتی ہے۔
10 ۔خون کی شریانوں کی صفائی ہوتی ہے۔
11 ۔بلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے۔
12 ۔یہ مشروب جسم میں PH کا لیول بڑھاتا ہے جس سے بیماریوں کی روک تھام ہوتی ہے۔
13 ۔وٹامن سی کی مدد سے جلد صاف اور صحتمند ہوجاتی ہے۔
14 ۔یورک ایسڈ تحلیل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے جوڑوں کے درد سے نجات ملتی ہے۔
15 ۔یہ حاملہ ماﺅں کیلئے بہت ہی مفید ہے، یہ ماں کو وائرس اور فلو سے بچاتا ہے اور بچے کی ہڈیاں اور عصبی نظام خصوصاً دماغ کو مضبوط بناتا ہے۔
16 ۔سینے کی جلن ختم ہوجاتی ہے۔
17 ۔گردے اور پینکریاز کی پتھری تحلیل ہوجاتی ہے۔
18 ۔لیموں کا پیکٹن فائبر وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
19 ۔دانت کے درد اور مسوڑھوں کے مسائل کا خاتمہ ہوتا ہے۔
20 ۔لیموں کی الکلی خصوصیات کینسر کے خطرات کو کم کردیتی ہیں۔
Wednesday, 11 March 2015
کثرت حیض جو کسی دوا کےاستعمال سے بند نہ ھو نسخہ
کثرت حیض جو کسی دوا کےاستعمال سے بند نہ ھو اس دوا کے استعمال بھت جلدبند ھوجاتی ھے
اور ایام کی بے قاعدگی بھی اس دوا سے دور ھوجاتی
نسخہ
پٹھانی لودھ 50گرام
سنگجراحت مسلم 100گرام
مائیں خورد 25گرام
گوند چنیا 50گرام
شکر سفید 100گرام
ساری دواؤں کو کوٹ چھان کر رکھ لیں
3،3گرام صبح شام دودھ سے استعمال کجئے
گرم اور کھٹی چیزوں سے پرھیز کریں
اور ایام کی بے قاعدگی بھی اس دوا سے دور ھوجاتی
نسخہ
پٹھانی لودھ 50گرام
سنگجراحت مسلم 100گرام
مائیں خورد 25گرام
گوند چنیا 50گرام
شکر سفید 100گرام
ساری دواؤں کو کوٹ چھان کر رکھ لیں
3،3گرام صبح شام دودھ سے استعمال کجئے
گرم اور کھٹی چیزوں سے پرھیز کریں
دور جدید میں وزن کم کرنے کے لئے کئی طرح کی باتیں کی گئی ہیں
دور جدید میں وزن کم کرنے کے لئے کئی طرح کی باتیں کی گئی ہیں، کبھی کہا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ جوس کا استعمال کریں ،دودھ اور دہی سے جان چھڑائیں لیکن اب ایک بار پھر کہا جارہا ہے کہ ہمارے بزرگ جو کیا کرتے تھے وہ زیادہ اچھا تھا۔ آئیے ماضی کی کچھ ایسی باتیں جانتے ہیں جن پر عمل کرکے آپ اپنا وزن کم کرسکتے ہیں۔
دودھ پیں اورمکھن کھائیں
عام طور پر 1960ءکی دہائی تک لوگ مکھن اور ملائی والے دودھ کا بھرپور استعمال کیا کرتے تھے لیکن 1970ءکے بعد ماہرین صحت نے لوگوں کو بتانا شروع کیا کہ یہ تمام اشیاءانسانی صحت کے لئے اچھی نہیں ہیں لہذا کم کریم والے دودھ، مارجرین اورسن فلاور آئل کا استعمال کیا جائے لیکن اب کہا جارہا ہے کہ یہ اشیاءانسانی صحت کے لئے مفید نہیں ہیں۔ اب آپ پرانے دور میں کھائی جانے والی اشیاءکھائیں کیونکہ تجربات میں یہ چیز سامنے آئی ہے کہ ملائی والا دودھ بہت مفید ہے کیونکہ اس میں 4فیصد چکنائی، وٹامن اے، ڈی، ای اور کے ہوتی ہیں۔
ہفتے میں دوبار سرخ گوشت کا استعمال
ماضی میں لوگ ہفتے میں دو بار گائے یا بکرے کاگوشت ضرور کھایا کرتے تھے۔ جدید دور میں ماہرین صحت یہ کہتے آئے ہیں کہ سرخ گوشت (گائے اور بکرے) کا استعمال کم کرنا چاہیے اور وائیٹ گوشت(مرغی) کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے جس کی وجہ وہ یہ بتاتے تھے کہ سرخ گوشت میں خطرناک ذرات ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے مفید نہیں۔ تاہم اب British Nutrition Foundation کا کہنا ہے کہ سرخ گوشت میں ایسے ذرات نہیں ملے ہیں جن کے انسان پر منفی اثرات مرتب ہوں لہذا اب آپ ہفتے میں دوبار سرخ گوشت کھانا شروع کردیں۔
زیادہ سے زیادہ مچھلی کھائیں
مغرب بالخصوص برطانیہ میں لوگوں نے مچھلی کا استعمال اس ڈر سے کم کردیا ہے کہ یہ صحت کے لئے اچھی نہیں اور یہ وزن بڑھاتی ہے لیکن International Journal of Obesity کا کہنا ہے کہ جو لوگ مچھلی کھاتے ہیں ان کا وزن کنٹرول میں رہتا ہے جبکہ مچھلی نہ کھانے والوں کا وزن بڑھتا رہتا ہے۔ اس لئے آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہفتے میں ایک بار مچھلی ضرور کھانی ہے۔
اپنا کھانا خود بنائیں
ماضی میں خواتین گھروں میں خود کھانا بنایا کرتی تھیں لیکن پھر رواج آگیا کہ گھر کا کھانا کسی خانسامہ یا ملازمہ نے بنانا ہے۔ جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ اپنا کھانا خود بناتے ہیں ان کا وزن بھی کم رہتا ہے جبکہ کھانا نہ بنانے والے افراد کا وزن بڑھتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ خود کھانا بنائیں گے تو یہ نا صرف آپ کی جیب پر بھاری نہیں ہو گا بلکہ آپ کو علم ہوگا کہ کھانے میں کیا چیز استعمال کررہے ہیں۔
ناشتے میں انڈہ کھائیں
ماضی میں لوگ ناشتے میں انڈہ ضرور کھایاکرتے تھے لیکن پھر یہ خیال مضبوطی پکڑتا گیا کہ انڈے میں کولیسٹرول بڑھانے والے اجزاءشامل ہوتے ہیں لہذا ناشتے میں انڈے کی بجائے اناج جیسے کارن فلیکس ، بریڈوغیرہ کا استعمال کرنا چاہیے لیکن اب جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انڈے ایک مکمل غذا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈے میں پروٹین، وٹمان اے، ڈی، ای اور زنک کی وافر مقدار ہوتی ہے اور اس کو کھانے سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے۔
پانی یا چائے پینا
ماضی میں لوگ صبح کے وقت پانی یا چائے پیا کرتے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ لوگ جوس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اسے ایک صحت بخش مشروب سمجھنے لگے۔ لیکن اب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جوس اور دیگر اس طرح کے مشروبات میں چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ،یہ وزن بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور یہ جیب پر بھی بھاری ہوتے ہیں۔ اب آپ کو چاہیے کہ چائے اور پانی کا استعمال کریں جو کہ جیب پر بھاری بھی نہیں ۔چائے میں انٹی آکسیڈنٹ اجزاءجسم پر خوشگوار اثرات رکھتے ہیں جبکہ پانی کے اجزاءتو ویسے ہی انسان کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔
’ڈائیٹ‘ اور کم چکنائی والے کھانے
اگر آپ کسی مشروب پر ڈائیٹ یا کم چکنائی والا کھانا لکھا دیکھیں تو اس سے اجتناب کریں کیونکہ تحقیق میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایسی غذائیں صحت اور وزن کے لئے بالکل بھی اچھی نہیں ہوتیں۔
اکٹھے کھانا کھائیں
ماضی میں سب لوگ اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ عادت تبدیل ہو گئی اور اب گھر میں لوگ مختلف اوقات میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں۔ کوشش کریں کہ سب گھر والوں کے ساتھ مل کر کھائیں کیونکہ جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹی وی کے آگے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے لوگ زیادہ کھا لیتے ہیں۔ اگر آپ باقی گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھائیں گے تو ان سے باتیں بھی کریں گے ،اس طرح کھانا بھی کم کھایا جائے گا اور وزن بھی کم ہوگا۔
سنیکس
ہمارے بڑے ہمیں سختی سے بازار کی اشیاءاور سنیکس سے منع کرتے تھے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس طرح بھوک کم ہوتی ہے جبکہ سنیکس میں موجود کیلوریز ہماری صحت کے لئے مضر ہیں لہذا ضروری ہے کہ آپ بازاری سنیکس سے توبہ کر لیں۔
دودھ پیں اورمکھن کھائیں
عام طور پر 1960ءکی دہائی تک لوگ مکھن اور ملائی والے دودھ کا بھرپور استعمال کیا کرتے تھے لیکن 1970ءکے بعد ماہرین صحت نے لوگوں کو بتانا شروع کیا کہ یہ تمام اشیاءانسانی صحت کے لئے اچھی نہیں ہیں لہذا کم کریم والے دودھ، مارجرین اورسن فلاور آئل کا استعمال کیا جائے لیکن اب کہا جارہا ہے کہ یہ اشیاءانسانی صحت کے لئے مفید نہیں ہیں۔ اب آپ پرانے دور میں کھائی جانے والی اشیاءکھائیں کیونکہ تجربات میں یہ چیز سامنے آئی ہے کہ ملائی والا دودھ بہت مفید ہے کیونکہ اس میں 4فیصد چکنائی، وٹامن اے، ڈی، ای اور کے ہوتی ہیں۔
ہفتے میں دوبار سرخ گوشت کا استعمال
ماضی میں لوگ ہفتے میں دو بار گائے یا بکرے کاگوشت ضرور کھایا کرتے تھے۔ جدید دور میں ماہرین صحت یہ کہتے آئے ہیں کہ سرخ گوشت (گائے اور بکرے) کا استعمال کم کرنا چاہیے اور وائیٹ گوشت(مرغی) کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے جس کی وجہ وہ یہ بتاتے تھے کہ سرخ گوشت میں خطرناک ذرات ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے مفید نہیں۔ تاہم اب British Nutrition Foundation کا کہنا ہے کہ سرخ گوشت میں ایسے ذرات نہیں ملے ہیں جن کے انسان پر منفی اثرات مرتب ہوں لہذا اب آپ ہفتے میں دوبار سرخ گوشت کھانا شروع کردیں۔
زیادہ سے زیادہ مچھلی کھائیں
مغرب بالخصوص برطانیہ میں لوگوں نے مچھلی کا استعمال اس ڈر سے کم کردیا ہے کہ یہ صحت کے لئے اچھی نہیں اور یہ وزن بڑھاتی ہے لیکن International Journal of Obesity کا کہنا ہے کہ جو لوگ مچھلی کھاتے ہیں ان کا وزن کنٹرول میں رہتا ہے جبکہ مچھلی نہ کھانے والوں کا وزن بڑھتا رہتا ہے۔ اس لئے آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہفتے میں ایک بار مچھلی ضرور کھانی ہے۔
اپنا کھانا خود بنائیں
ماضی میں خواتین گھروں میں خود کھانا بنایا کرتی تھیں لیکن پھر رواج آگیا کہ گھر کا کھانا کسی خانسامہ یا ملازمہ نے بنانا ہے۔ جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ اپنا کھانا خود بناتے ہیں ان کا وزن بھی کم رہتا ہے جبکہ کھانا نہ بنانے والے افراد کا وزن بڑھتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ خود کھانا بنائیں گے تو یہ نا صرف آپ کی جیب پر بھاری نہیں ہو گا بلکہ آپ کو علم ہوگا کہ کھانے میں کیا چیز استعمال کررہے ہیں۔
ناشتے میں انڈہ کھائیں
ماضی میں لوگ ناشتے میں انڈہ ضرور کھایاکرتے تھے لیکن پھر یہ خیال مضبوطی پکڑتا گیا کہ انڈے میں کولیسٹرول بڑھانے والے اجزاءشامل ہوتے ہیں لہذا ناشتے میں انڈے کی بجائے اناج جیسے کارن فلیکس ، بریڈوغیرہ کا استعمال کرنا چاہیے لیکن اب جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انڈے ایک مکمل غذا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈے میں پروٹین، وٹمان اے، ڈی، ای اور زنک کی وافر مقدار ہوتی ہے اور اس کو کھانے سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے۔
پانی یا چائے پینا
ماضی میں لوگ صبح کے وقت پانی یا چائے پیا کرتے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ لوگ جوس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اسے ایک صحت بخش مشروب سمجھنے لگے۔ لیکن اب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جوس اور دیگر اس طرح کے مشروبات میں چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ،یہ وزن بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور یہ جیب پر بھی بھاری ہوتے ہیں۔ اب آپ کو چاہیے کہ چائے اور پانی کا استعمال کریں جو کہ جیب پر بھاری بھی نہیں ۔چائے میں انٹی آکسیڈنٹ اجزاءجسم پر خوشگوار اثرات رکھتے ہیں جبکہ پانی کے اجزاءتو ویسے ہی انسان کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔
’ڈائیٹ‘ اور کم چکنائی والے کھانے
اگر آپ کسی مشروب پر ڈائیٹ یا کم چکنائی والا کھانا لکھا دیکھیں تو اس سے اجتناب کریں کیونکہ تحقیق میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایسی غذائیں صحت اور وزن کے لئے بالکل بھی اچھی نہیں ہوتیں۔
اکٹھے کھانا کھائیں
ماضی میں سب لوگ اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ عادت تبدیل ہو گئی اور اب گھر میں لوگ مختلف اوقات میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں۔ کوشش کریں کہ سب گھر والوں کے ساتھ مل کر کھائیں کیونکہ جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹی وی کے آگے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے لوگ زیادہ کھا لیتے ہیں۔ اگر آپ باقی گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھائیں گے تو ان سے باتیں بھی کریں گے ،اس طرح کھانا بھی کم کھایا جائے گا اور وزن بھی کم ہوگا۔
سنیکس
ہمارے بڑے ہمیں سختی سے بازار کی اشیاءاور سنیکس سے منع کرتے تھے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس طرح بھوک کم ہوتی ہے جبکہ سنیکس میں موجود کیلوریز ہماری صحت کے لئے مضر ہیں لہذا ضروری ہے کہ آپ بازاری سنیکس سے توبہ کر لیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
