Tuesday, 9 August 2016

Lemon juice and nimbu Pani health benefits in Urdu tibbi Totkay

Lemon juice and nimbu Pani health benefits in Urdu tibbi Totkay,lemon pani ke fayed in urdu,lemon juice for weight loss in urdu,


اگر آپ وزن کم کرنے میں سنجیدہ ہیں تو آج ہم آپ کو لیموں سے بنا ایک ایسا آسان نسخہ بتائیں جے جس پر عمل کرکے آپ صرف 2 ہفتے میں 10 کلو سے زائد وزن کم کرلیں گے۔ اس نسخے کے استعمال سے آپ کے جسم سے زہریلا مواد نکل جائے گااور آپ تروتازہ ہوجائیں گے ۔آپ کو ذیل میں دی ہوئی تراکیب پر سختی سے عمل کرنا ہے اور ہر صبح خالی پیٹ اسے استعمال کرنا ہے۔ 


پہلا دن ایک لیموں کو ایک کپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔ 
دوسرا دن دولیموﺅں کو دوکپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔
تیسرا دن تین لیموﺅں کو تین کپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔
چوتھا دن چار لیموﺅں کو چارکپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔
پانچواں دن پانچ لیموﺅں کو پانچ کپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔ 
چھٹا دن چھ لیموﺅں کو چھ کپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔ 
ساتویں دن تین لیموں لے کر10کپ پانی میں ایک چمچ شہد ملا لیں اور سارا دن یہ مشرو ب پئیں۔
آٹھویں دن چھ لیموﺅں کو چھ کپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔
نویں دن پانچ لیموﺅں کو پانچ کپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔ 
دسویں دن چار لیموﺅں کو چارکپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔ 
گیارہویں دن تین لیموﺅں کو تین کپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔ 
بارہویں دن دولیموﺅں کو دوکپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔ 
تیرویں دن ایک لیموں کو ایک کپ تازہ پانی میں ملا کر پئیں۔ 
چودویں دن تین لیموں لے کر10کپ پانی میں ایک چمچ شہد ملا لیں اور سارا دن یہ مشرو ب پئیں۔ 
نوٹ:کوشش کریں کہ یہ مشروب ایک ہی ساتھ پی لیا جائے لیکن اگر آپ کو مشکل ہوتو سارا دن میں کھانے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل استعما ل کریں۔ایسے افراد جنہیں معدے یا آنت کی تکالیف ہیں وہ اسکے استعمال سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کرلیں۔

Thursday, 4 August 2016

Papita Fruit Benefits in Urdu Papaya khane ke Faide in Urdu

Papita Fruit Benefits in Urdu Papaya khane ke Faide in Urdu,Papaya fruit Nutrition Facts and Health Benefits,Papaya fruit Contains Vitamin A,Carotenes,Vitamin C and Anti -Oxidant and Flavonoids;TheVitamin B,Folate And Panttothenic Acid ,the Minerals,Potassium and Copper,Magnesium,and Fiber

پپیتا فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کو انگریزی میں پپایا(Papaya) کہتے ہیں۔س پھل کی پیدائش چین اور فلپائن میں ہوئی اس کے علاوہ پاکستان،ہندوستان اور کئی گرم ممالک میں پیدا کیا جا سکتا ہے۔آپ اس پھل کو اپنے گھر کے کچن گارڈنز میں بھی آسانی سے اگا سکتے ہیں۔ سو گرام پپیتا میں صرف 39 کیلوریز ہیں۔یہ کچا اور پکا دونوں حالتوں میں استعمال میں لایا جاتا ہے۔


پپیتا ایک مزیدار، رس دار اور بہت ہی خوبصورت زرد رنگ کا پھل ہے۔یہ پھل گرم مزاج ہے اور ذائقے کے لحاظ سے تلخ ہے۔ پپیتا کھانے کے علاوہ ہم اس کو سلاد اور جوس نکال کر بھی پی سکتے ہیں۔اس کے علاوہ کچا پپیتا گوشت گھلانے میں بھی مدد گار ہے۔

اس میں بہت سے اجزاﺀ پائے جاتے ہیں۔ اس پھل میں وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن کے ،سوڈیم، کیلشیم، آئرن، میگنیشیم، زنک، فاسفورس اور پوٹاشیم پایا جاتا ہے۔ 

پپیتا ہر موسم میں دستیاب ہوتا ہے لیکن گرمیوں کے موسم میں یہ مارکیٹ سے بآسانی مل جاتا ہے۔یہ ایک سستا پھل ہے جو ہر ایک کی دسترس میں ہے۔ یہ پھل ایک ٹانک کا کام کرتا ہے اور اس میں کئی بیماریوں کو دور کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ 

یہ جلدی امراض میں کھانا مفید ہے۔ بعض بیوٹی کمپنیاں اسکو اپنی پروڈکٹ میں استعمال کرتی ہیں۔ پپیتا کو آپ ناشتے میں بھی لے سکتے ہیں یقین کریں یہ ناشتہ آپ کے لئے صحت مند ناشتہ ہو گا۔نہار منہ اس کا استعمال آپ کے جسم سے فالتو چربی ختم کر دے گا۔ 

اگر گرم پانی میں اس کے پتے ڈال کر استعمال کیا جائے تو یہ ایسے لوگوں کے لئے بہترین ٹانک ہے جن کو بھوک کی کمی ہو کیونکہ یہ عمل ان کی بھوک بڑھانے میں مدد گار ہوگا۔ اور اسی پانی کو ایسی خواتین جن کو حیض درد کے ساتھ آتے ہوں ان کو بھی آرام مل جاتا ہے۔پانی میں نمک یا املی کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے مزید طبی فوائد جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
پپیتا کے طبی فوائد:
 یہ نظام انہظام کو درست رکھتا ہے۔پپیتا کھانے سے بدہضمی اور سینے کی جلن سے نجات مل جاتی ہے۔
 یہ نظام قلب کو فرحت بخشتا ہے۔
  یہ کولیسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے۔
 یہ چہرے کے دانوں کو ختم اور جلد کو چمکدار بناتا ہے ۔
 پپیتا پیٹ کی بیماریوں اور السر سے محفوظ رکھتا ہے۔
 پپیتا آنتوں اور چھاتی کے کینسر کے علاج میں مدد گار ہے۔
 پپیتا خون کے بہاؤ کو نارمل رکھتا ہے جس سے بلڈ پریشر کنٹرول رہتا ہے۔
 پپیتا دل کے مریضوں کے لئے مفید ہے۔
 پپیتا چربی گھلانے اور وزن میں کمی کرنے میں بھی ہماری مدد کرتا ہے۔
 پپیتا پیٹ کے کیڑوں کو ہلاک کر دیتا ہے خاص طور پر رنگ وارمز کو!
 پپیتا بخار اور ڈینگی بخار کا بہترین علاج ہے۔
 پپیتا جسم میں خون کے لوتھڑے بننے کے عمل کو روکتا ہے۔اس کے علاوہ جسم میں غیر ضروری خون کو جمنے سے روکتا ہے۔
 پپیتا جسم کے اندرونی اور بیرونی زخموں کے لئے شفایابی کا کام کرتا ہے۔
٭پپیتا کے بیج جگر (Cirrhosis) میں فائدہ مند ہے۔پانچ سے چھ بیج گرینڈ کر کے لیموں کے جوس میں ملا کر تیس دن تک لئے جا سکتے ہیں۔
 پپیتا گردوں کے فیل ہونے اور گردوں کی دوسری بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
 پپیتا کے بیج کینسر کے خلیات اور ٹیومر کو بڑھنے سے روکتے ہیں۔
 پپیتا پھیپھڑوں کے کینسر اور پروسٹیٹ کینسر سے بچاتا ہے۔
  پپیتا کھیل کے دوران لگنے والی چوٹ اور الرجی سے محفوظ کرتا ہے اور درد کم کر نے میں مدد کرتا ہے۔
 پپیتا آنکھوں کی بینائی کو تیز کرتا ہے۔
 پپیتا وزن کو کنٹڑول میں رکھتا ہے اور بڑھے ہوئے وزن کو کم کرتا ہے۔
 پپیتا گھٹیا اور جوڑوں کے دردوں میں فائدہ مند ہے۔
 پپیتا جلد کو نرم کرتا ہے اور جھائیوں اور داغ دھبوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
  پپیتا وقت سے پہلے بڑھاپے کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔
 پپیتا کھانے اور چہرے پر لگانے سے جلد کا رنگ نکھر جاتا ہے اور جلد چمکدار ہو جاتی ہے۔
 پپیتا جلے ہوئے حصوں پر لگانے سے زخم جلد بھر جاتے ہیں۔
 پپیتا غیر ضروری بالوں کو ختم کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔آدھی چمچ ہلدی اور ایک چمچ پپیتا کے گودے کو ملا کر متاثرہ جگہ پر لگائیں اور پندرہ منٹ بعد منہ دھو لیں ۔یہ عمل ہفتہ میں صرف ایک بار کریں۔

Ajwain seeds weigth loss tips in urdu tibbi ilaaj

Ajwain seeds weigth loss tips in urdu tibbi ilaaj,Loss weight by ajwain seeds,How to Use ajwain Seeds for weight loss in urdu,ajwain ka pani se weigth loss,



Tuesday, 2 August 2016

Khali Pet Lahsun ( garlic ) khane ke faide in Urdu

 Khali Pet Lahsun ( garlic ) khane ke faide in Urdu,khali pet lahsun khane ke fayde ,Lehsun khane ke Beshumaar fayde Hain,

Onion juice Trick for Thick Hair Growth in Urdu


Onion juice Trick for Thick Hair Growth in Urdu,Onion Juice for Hair Growth Before and after, Onion juice for Hair regrowth before and after, How to Use Onion forHair growth in Urdu,How to Make Onion juice forHair growth, How to make Onion juice for hair growth and Strong Hair, 





Sunday, 31 July 2016

Health Benefit of Mango Useful in Urdu Tips


Health Benefits Of Mongo in Urdu

Health Benefits of Mango Shaik and  Mango Juice
Health Benefits Of Mongo in Urdu

Sunday, 17 July 2016

علم نبض شناسی

علم نبض شناسی
علم نبض طب قدیم میں ابتداء ہی سے تشخیص کاروح رواں رہا ہے اور اب بھی علم نبض تشخیص کے جدید وقدیم طبی آلات ووسائل وذرائع پر فوقیت رکھتاہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نبض صرف حرکت قلب کا اظہار کرتی ہے مگر ایسا کہنا درست نہیں ،فن نبض پردسترس رکھنے والے نبض دیکھ کر مرض پہچان لیتے ہیں مریض کی علامات وحالات کوتفصیل سے بیان کردیتے ہیں ۔
سائنس کایہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ قو ت سے حرکت اورحرکت سے حرارت پیداہوتی ہے یہی نظام زندگی میں راوں دواں ہے نبض کے ذریعے بھی ہم مریض کے جسم میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس وقت اس کے جسم میں قوت کی زیادتی ہے یاحرکت کی زیادتی ہے یاحرارت کی زیادتی ہے یا ان میں کس کس کی کمی ہے اسی کے تحت نبض کی باقی جنسیں بھی پرکھی جاسکتی ہیں ۔ جن کا اس مقالہ میں تفصیلاً ذکر ہو گا نبض کی حقیت کو جانچنے کے لیے اسقدر جان لینا ضرروی ہے کہ نبض روح کے ظروف وقلب وشرائین کی حرکت کانام ہے کہ نسیم کو جذب کرکے روح کو ٹھنڈک پہنچائی جائے اورفضلا ت د خانیہ کوخارج کیاجائے اس کا ہر نبضہ ( ٹھو کر یاقرع) دو حرکتوں اور دو سیکونوں سے مرکب ہوتا ہے کیونکہ ہرایک بنضہ انسباط اورانقباص سے مرکب ہوتا ہے یہ دونوں حرکتیں ایک دوسرے سے متضاد ہیں اور ہر دو حرکتوں کے درمیان سکون کاہوناضروری ہے۔
نبض دیکھنے کاطریقہ
طبیب اپنی چاروں انگلیاں مریض کی کلائی کے اس طرف رکھے، جس طرف کلائی کا انگوٹھا ہے، اور شہادت کی انگلی پہنچے کی ہڈی کے ساتھ نیچے کی طرف اور پھر شریان کا مشاہد ہ کریں ۔
اجناس نبض
نبض کی دس اجناس ہیں
۔مقدار
۔قرع نبض
۔زمانہ حرکت
۔قوام آلہ
۔زمانہ سکون
۔مقدارِرطوبت
۔شریان کی
۔وزنِ حرکت
۔استوا واختلا ف نبض
۔نظم نبض
مقدار
i۔طویل
یہ وہ نبض ہے جس کی لمبائی معتدل و تندرست شخص کی نبض سے نسبتاً لمبائی میں زیادہ ہویعنی اگریہ چارانگلیوں تک یا ان سے میں بھی طویل ہوتو اسے ہم طویل نبض کہیں گے اوریادرکھیں طویل نبض حرارت کی زیادتی کوظاہر کرتی ہے اگر اس کی لمبائی دو انگلیوں تک ہی رہے تو یہ معتدل ہوگی ۔ اوریہ دوانگلیوں سے کم ہوتو یہ قیصر ہوگی اورقیصر نبض حرارت کی کمی کوظاہر کرتی ہے ۔طویل غدی نبض ہے اور قصیر اعصابی ۔
iiعریض
چوڑی نبض جوکہ انگلی کے نصف پور سے زیادہ ہورطوبت کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے جوکہ نصف پور ہو معتدل ہوگی اورجس کی چوڑائی نصف پور سے کم ہوگی رطوبت کی کمی کا اظہار کرے گی ۔تنگ نبض کو ضیق کہا جاتا ہے ۔عریض نبض اعصابی ہو گی اور ضیق نبض غدی ہو گی ۔
iiiشرف (بلند)
جونبض بلندی میں زیادہ محسوس ہوایسی نبض حرکت کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے جودرمیان میںہوگی معتدل اورجو نبض نیچی ہوگی اسے منحفض کہتے ہیں ۔ یہ حرکت کی کمی پر دلالت کرتی ہے۔
چاروں انگلیوں کو نبض پر آہستہ سے رکھیں یعنی دبائو نہ ڈالیں ۔ اگر نبض انگلیوں کوبلا دبائو چھونے لگے توایسی نبض مشرف ہوگی اوراگر نبض محسوس نہ ہوتو پھر انگلیوں کو دباتے جائیں اورجائزہ لیتے جائیں اگرنبض درمیان میں محسوس ہوتو یہ معتدل ہوگی اوراگرانگلیاں کلائی پردبانے سے نبض کا احساس کلائی کی ہڈی کے پاس اخیر میں جاکر ہوتو یہ نبض منخفض ہے جوکہ حرکت کی کمی کا اظہارکرتی ہے مشرف نبض عضلاتی اورمنخفض اعصابی ہوگی۔
قرغ نبض — ٹھوکر نبض
اس میں نبض کی ٹھوکر کوجانچا جاتا ہے چاروں انگلیاں نبض پر رکھ کر غور کریں آہستہ آہستہ انگلیوں کودبائیں اگرنبض انگلیوں کوسختی سے اوپرکی طرف دھکیل رہی ہے توایسی نبض قوی کہلاتی ہے یعنی ذرا زور سے ٹھوکر لگانے والی نبض ہی قوی ہے یہ نبض قوت حیوانی کے قوی ہونے کوظاہر کرتی ہے اوراگر یہ دبائو درمیانہ سا ہو تومعتدل ہوگی ۔اورجونبض دبانے سے آسانی کے ساتھ دب جائے تویہ نبض ضعیف کہلاتی ہے یعنی قوت حیوانی میں صغف کا اظہار ہے قوی عضلاتی ہوگی اورضعیف اگرعریض بھی ہوتو اعصابی ہوگی اورضیق ہوتو غدی ہوگی۔
زمانہ حرکت
اس کی بھی تین ہی اقسام ہیں سریع ۔ متعدل ۔ بطی ۔
سریع نبض وہ ہوتی ہے جس کی حرکت تھوڑی مدت میں ختم ہوجاتی ہے یہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ قلب کو سوئے سردنسیم یعنی اوکسیجن بہت حاجت ہے جسم میں دخان (کاربانک ایسڈ گیس ) کی زیادتی ہے۔
اگر بطی ہے صاف ظاہر ہے کہ قلب کو ہوائے سرد کی حاجت نہیں۔ سریع یعنی تیزتر نبض عضلاتی ہوتی ہے اوربطی(سست) نبض اگرعریض ہوگی تواعصابی ہوگی اورضیق ہوگی توغدی ہوگی بطی سے مراد نبض کی سستی ہے۔
قوام آلہ — شریان کی سختی ونرمی
اسے بھی تین اقسام میں بیان کیاگیاہے صلب ، معتدل اورلین ،
صلب وہ نبض ہے جسکو انگلیوں سے دبانے میں سختی کااظہار ہویہ بدن کی خشکی کودلالت کرتی ہے ایسی نبض ہمیشہ عضلاتی ہوتی ہے۔
لین نبض صلب کے مخالف ہوتی ہے یعنی نرم ہوتی ہے ایسی نبض رطوبت کی زیادتی پردلالت کرتی ہے یعنی ایسی نبض اعصابی ہوگی ۔
اورمعتدل اعتدل رطوبت کا اظہار ہے۔
زمانہ سکون
اس کو بھی تین اقسام میں بیان کیاجاتا ہے متواتر ، تفاوت، معتدل ۔
متواترنبض وہ ہے جس میں وہ زمانہ تھوڑا ہوجو دو ٹھوکروں کے درمیان محسوس ہوتاہے ۔ یہ نبض قوت حیوانی کے ضعف کی دلیل ہے قوت حیوانی میں ضعف یاتوحرارت کی زیادتی کی وجہ سے ہوگا یاپھر رطوبت کی زیادتی سے ہوگا۔عموماً ایسی نبض اگر ضیق ہو تَو غدی ہوگی یاپھر اگرعریض ہو تَواعصابی بھی ہوسکتی ہے ۔
نبض دیکھتے وقت اس بات کوخاص طور پر مدنظر رکھیں کہ کتنی دیر کے بعدٹھوکر آکرانگلیوں کو لگتی ہے اورپھر دوسری ٹھوکر کے بعد درمیانی وقفہ کومدنظررکھیں ۔ پس یہی زمانہ سکون ایسازمانہ ہے کہ جس میں شر یان کی حرکت بہت کم محسوس ہوبلکہ بعض اوقات اسکی حرکت محسوس ہی نہیں ہوتی اورایسا معلوم ہوتا ہے کہ نبض انگلیوں کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے۔
مقدارِ رطوبت
نبض پرانگلیاں رکھ کر جانچنے کی کوشش کریں اس کی صورت یہ ہوگی جیساکہ پانی سے بھری ہوئی ٹیوب کے اند رپانی کی مقدار کااندازہ لگایاجائے کہ ٹیوب کے اند ر پانی اس کے جوف کے اندازے سے زیادہ ہے یاکم بالکل اسی طرح نبض ضرورت سے زیادہ پھولی ہوگی اوردبانے سے اس کا اندازہ پوری طرح ہوسکے گا اگر ممتلی ہوتو اس میں ضرورت سے زیادہ خون اورروح ہوگی جوکہ صحت کے لئے مضرہے اسی طرح اگرنبض خالی ہوگی توخون اورروح کی کمی کی علامت ہے کمزوری کی دلیل ہے اس لئے ممتلی یعنی خون و روح سے بھری ہوئی نبض عضلاتی ہوگی خالی ممتلی کے متضاد ہوگی جوکہ اعصابی ہوگی ۔
شریان کی کیفیت
نبض کی اس قسم سے جسم کی حرارت وبرودت (گرمی وسردی )کوپرکھا جاتاہے اس کوجانچنا بہت آسان ہے اگرنبض چھونے سے حرارت زیادہ محسوس ہوتویہ نبض حارہوگی، گرمی پر دلالت کریگی اورگرم نبض عموماً طویل اور ضیق بھی ہوتی ہے ۔ اگرنبض پرہاتھ رکھنے سے مریض کاجسم سرد محسوس ہوتویہ نبض باردہوگی جوکہ اعصابی عضلاتی کی دلیل ہے۔
وزن حرکت
یہ نبض حرکت کے وزن کے اعتبارسے ہے جس سے ہم معلوم کرتے ہیں کہ نبض کازمانہ حرکت اورزمانہ سکون مساوی ہے۔
اگریہ زمانہ سکون مساوی ہے تو نبض انقباص وانسباط(پھیلنا اورسکٹرنا)کے لحاظ سے حالت معتدل میں ہوگی اسے جیدالوزن کہاجاتا ہے
ایسی نبض جسکا انقباض وانسباط مساوی نہ ہوبلکہ دونوں میں کمی بیشی پائی جائے یہ نبض صحت کی خرابی کی دلیل ہے۔ اگر دل میںیہ سکیڑ دل کی شریانوں کی بندش کی وجہ سے ہوتو ایسی نبض عضلاتی ہوگی ۔اگریہ ضعف قلب کی وجہ سے ہے توایسی نبض غدی ہوگی اوراگریہ تسکین قلب کی وجہ سے ہے توایسی نبض اعصابی ہوگی۔ ان باتوں کومدنظر رکھنا طبیب کی مہارت ہے۔ ایسی نبض کوخارج الوزن کانام دیا گیا ہے۔
اگر نبض عمرکے مطابق اپنی حرکت وسکون کے وقت کوصحیح ظاہر نہ کرے یعنی بچے ، جوان ،بوڑھے کی نبض کے اوزان ان کی اپنی عمر کے مطابق نہ ہوں تویہ ردی الوزن کہلائے گی۔ اس میں نبض کی انقباضی اورانبساطی صورت کوجانچا جاتاہے۔ نبض جب پھیلے تواس کوحرکت انسباطی کہتے ہیں اورجب اپنے اند ر سکڑے تواسے حرکت انقباص کہتے ہیں ۔ان دونوں کے زمانوں کافرق ہی اسکا وزن کہلاتاہے۔
ایسی نبض پرکھتے وقت عمر کوخاص طور پرمدنظر رکھیں ایسی نبض کوحتمی نبض قرار دینے کے لئے نبض کی دیگراقسام کے مدنظر حکم لگائیں۔
استوا واختلاف نبض
اسکی صرف دوہی اقسام ہیں مستوی اورمختلف ۔
مستوی نبض وہ ہے جس کی تمام اجزاء تمام باتوں میں باقی نبض کے مشابہ ہوں یہ نبض بدن کی اچھی حالت ہونے کی علامت ہے ۔
نبض مختلف وہ نبض ہے جومستوی کے مخالف ہواوراس کے برعکس پردلالت کرے ۔
جانچنے کے لئے نبض پرہاتھ رکھیں جس قدر نبض کی اجناس اوپر بیان کی گئی ہیں کیا یہ ان کے اعتبار سے معتدل ہے اگران میں ربط قائم ہے اورمعتدل حیثیت رکھتی ہیں تووہ مستوی ہے ورنہ مختلف۔
مرکب نبض کی اقسام
تعریف
مرکب نبض اس نبض کو کہتے ہیں جس میں چند مفرد نبضیں مل کرایک حالت پیداکردیں۔ اس سلسلہ میں اطباء نے نبض کی چند مرکب صورتیں بیان کی ہیں ، جن سے جسم انسان کی بعض حالتوں پر خاص طورپر روشنی پڑتی ہے اورخاص امراض میں نبض کی جومرکب کیفیت پیدا ہوتی ہے، ان کااظہارہوتا ہے۔ ان کافائدہ یہ ہے کہ ایک معالج آسانی کے ساتھ متقدمین اطباء اکرام کے تجربات ومشاہدات سے مستفید ہوسکتاہے ۔
وہ چندمرکب نبضیں درج ذیل ہیں
1۔ نبض عظیم
وہ نبض جوطول وعرض وشرف میں زیادہ ہوایسی نبض قوت کی زیادتی کااظہار کرتی ہے اسے ہم عضلاتی یاوموی کہیں گے جونبض تینوں اعتبارسے صغیر ہوگی وہ قوت کی کمی کااظہا ر ہے اوروہ اعصابی نبض ہوگی۔
2۔ نبض غلیظ
غلیظ وہ نبض ہے جوصرف چوڑائی اوربلندی میں زیادہ ہوایسی نبض عضلاتی اعصابی ہوگی۔
3۔نبض غزالی
وہ نبض ہے جوانگلی کے پوروں کوایک ٹھوکر لگانے کے بعد دوسری ٹھوکر ایسی جلدی لگائے کہ اس کا لوٹنا اورسکون کرنا محسوس نہ ہو یہ نبض اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ترویج نسیم کی جسم میں زیادہ ضرورت ہے۔ غزالی کے معنی بچہ ہرن ہیں۔ یہاں اس کی مشابہت چال کی تیزی کی وجہ سے دی گئی ہے ایسی نبض عضلاتی ہوگی۔
4۔موجی نبض
ایسی نبض جس میں شریانوں کے اجزاء باوجودہونے کے مختلف ہوتے ہیں کہیں سے عظیم کہیں سے صغیر کہیں سے بلند اورکہیں سے پست کہیں سے چوڑی اورکہیں سے تنگ گویا اس میں موجیں (لہریں) پیدا ہورہی ہیں جوایک دوسرے کے پیچھے آرہی ہیں ایسی نبض رطوبت کی زیادتی پردلالت کرتی ہے قانون مفر د اعضا ء میں ایسی نبض اعصابی غدی ہوگی۔
5نبض دودی
)کیڑے کی رفتار کی مانند ) یہ نبض بلندی میں نبض موجی کے مانند ہوتی ہے لیکن عریض اورممتلی نہیں ہوتی یہ نبض موجی کے مشابہ ہوتی ہے لیکن اس کی موجیں ضعیف ہوتی ہیں گویااس کے خلاف صغیر ہوتی ہے ایسی نبض قوت کے ساقط ہونے پردلالت کرتی ہے لیکن سقو ط قوت پورے طورپرنہیں ہوتا اس نبض کودودی اس لئے کہتے ہیں کہ یہ حرکت میں اس کیڑے کے مشابہ ہوتی ہے جس کے بہت سے پائوں ہوتے ہیں ایسی نبض غدی اعصابی ہوگی بوجہ تحلیل نبض میں ضعف پیداہوتاہے۔
6نبض ممتلی
یہ وہ نبض ہے جونہایت ہی صغیر اورمتواتر ہوتی ہے ایسی نبض اکثر قوت کے کامل طور پرساخط کے ہوجانے اورقربت الموت کے وقت ہوتی ہے یہ نبض دودی کے مشابہ ہوتی ہے لیکن اس سے زیادہ صغیر اورمتواتر ہوتی ہے یہ اعصابی غدی کی انتہائی صورت ہوگی۔
7۔نبض منشاری
(آرے کے دندانوں کی مانند)
یہ وہ نبض ہے جوبہت مشرف ،صلب،متواتراورسریع ہوتی ہے اسکی ٹھوکر اوربلندی میںاختلاف ہوتاہے یعنی بعض اجزا سختی سے ٹھوکر لگاتے ہیں بعض نرمی سے اوربعض زیادہ بلندہوتے ہیں اوربعض پست گویا ایسامحسوس ہوتاہے کہ اس نبض کے بعض اجزاء نیچے اترتے وقت بعض انگلیوں کوٹھوکر ماردیتے ہیں ۔یعنی ایک پورے کوجس بلندی سے ٹھوکر لگاتے ہیں اس سے کم دوسرے پورے کو یہ نبض اس امر کوظاہر کرتی ہے کہ کسی عضومیں ورم پیدا ہوگیا ہے خاص طور پر پھیپھڑوں اورعضلات میںصاف ظاہر ہے کہ یہ عضلاتی اعصابی تحریک کی بگڑی ہوئی نبض ہے ۔
نبض ذنب الفار،نبض ذولفترہ ،نبض واقع فی الوسط،نبض مسلی ،مرتعش اورملتوی وغیرہ بھی بیان کی جاتی ہیں، جن سے کسی مزاج کی واضح پہچان مشکل ہے، اس لئے ان کوچھوڑدیاگیاہے۔طبِ قدیم کے تحت نبض کا بیان صرف اس لئے لکھ دیا ہے کہ طبِ قدیم کے اطبا ء بھی اس سے استفا دہ کر سکیں ۔ ساتھ ساتھ تجدیدِ طب کے مطا بق ان کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے کہ تجدیدِ طب کے بھی اس سے مستفیض ہو سکیں ۔
نبض کے با رے تجدیدِ طب کی رہنما ئی مکمل اور کا فی ہے ۔ مجددطب حکیم انقلاب نے علم النبض پر بھی انتہائی محنت کے ساتھ تجدید کی اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں نبض کوانتہائی آسان کرتے ہوئے اسے بھی اعضائے ریئسہ دل ودماغ وجگر کے ساتھ مخصوص کردیا جوکہ فنِ طب میں ایک بہت بڑا کمال و انقلاب ہے۔ اس اعتبار سے قانون مفرداعضا میں مفردنبض کی اقسام صرف تین ہیں، جنہیں اعصابی نبض ،عضلاتی نبض،اورغدی نبض سے موسوم کیاگیا ہے۔ پھرہر ایک مرکب نبض کی اقسام کوانہیںاعضاء رئیسہ کے باہمی تعلق کے مدنظر چھ(۶)اقسام میں تقسیم کردیاہے،جوکہ بالترتیب درج ذیل مقرر ہیں
1۔اعصابی عضلاتی 2۔عضلاتی اعصابی
3۔عضلاتی غدی 4۔غدی عضلاتی
5۔غدی اعصابی 6۔اعصابی غدی
اب پہلے مفردنبض کی شناخت ووضاحت کوبیان کیاجاتاہے۔
اعصابی نبض
ایسی نبض جوقیصر ہومنخفض ہو،عریض ہو،لین ہو، بطی ہو اعصابی کہلاتی ہے ۔ انگلیوں کوزورسے دبانے سے کلائی کے پاس محسوس ہوگی۔ یہ جسم میںبلغم اور رطوبت کی زیادتی کی علامت ہوگی۔
عضلاتی نبض
جب ہاتھ مریض کی کلائی پر آہستہ سے رکھا جائے، نبض اوپرہی بلندی پرمحسوس ہو، ساتھ ہی ساتھ صلب ہو اورسریع ہو اورقوی ہوتوایسی نبض عضلاتی نبض کہلاتی ہے۔ ایسی نبض جسم میں خشکی ،ریاح ،سوداوربواسیری زہرکااظہار کرتی ہے ۔
غدی نبض
مریض کی نبض پرہاتھ رکھیں اورآہستہ آہستہ انگلیوں کردباتے جائیں۔ اگرنبض درمیاں میں واقع ہوتویہ غدی نبض ہوگی۔ ایسی نبض طویل ہوگی ،ضیق ہوگی۔یہ جسم میںحرارت اورصفراء کی زیادتی کا اظہار ہے۔ حرار ت سے جسم میں لاغری وکمزوری کی علامات ہوں گی ۔یادرکھیں ،جب طویل نبض مشر ف بھی اورقوی بھی ہوتوعضلاتی ہوگی۔
خصوصی نوٹ
نبض بالکل اوپربلندی پرعضلاتی ،بالکل کلائی کے پاس پست اعصابی اور درمیان میں غدی ہوگی۔
مرکب نبض
قانون مفرد اعصا میںمرکب نبض کو چھ تحاریک کے ساتھ مخصوص کردیاگیاہے جو کہ درج ذیل ہیں
اعصابی عضلاتی
جو نبض پہلی انگلی کے نیچے حرکت کرے اورباقی انگلیوں کے نیچے حرکت نہ کرے ، اعصابی عضلاتی ہوگی۔یہ نبض گہرائی میںہوگی ۔بعض اوقات فقرالدم کی وجہ سے دل بے چین ہو تو تیزی سے حرکت کرتی محسوس ہوگی مگردبانے سے فوراََدب جائے گی جیسا کہ نبض میں حرکت ہے ہی نہیں۔ عام حالات میں اعصابی عضلاتی نبض سست ہوتی ہے ۔
اس کی تشخیصی علامات یہ ہیں ـ ـ
منہ کاذائقہ پھیکا ،جسم پھولا ہوا ہونا شہوت کم ،دل کاڈوبنا ،رطوبت کا کثرت سے اخراج ،پیشاب زیادہ آنا اور اس کارنگ سفید ہونا ،ناخنوں کی سفیدی اہم علامات ہیں۔
ضلاتی اعصابی
اگر نبض پہلی اوردوسری انگلی کے نیچے حرکت کرے اور باقی انگلیوں کے نیچے حرکت نہ کرے تو یہ نبض عضلاتی اعصابی ہوگی ۔مقامی طورپر مشرف ہوگی قدرے موٹائی میں ہوگی۔ ریاح سے پرہونے کی وجہ سے ذرا تیز بھی ہوگی ۔ رطوبت کااثر اگرباقی ہوتو سست وعریض بھی ہوسکتی ہے۔
تشخیصی علامات
چہرہ سیاہی مائل اور اس پرداغ دھبے ،چہرہ پچکا ہوا،اگر کولسٹرول بڑھ گیا تو جسم پھولا ہوا کاربن کی زیادتی ،ترش ڈکار ،جسم میں ریاح اور خشکی و سردی پائی جائے گی۔
عضلاتی غدی
اگر نبض پہلی دوسری اورتیسری انگلی تک حرکت کرے اور چوتھی انگلی کے نیچے حرکت نہ کرے تویہ نبص عضلاتی غدی ہوگی۔مشرف ہوگی یعنی مقامی طوپر بالکل اوپر ہوگی۔ حرکت میں تیز اورتنی ہوئی ہوگی۔ یاررکھیں نبض، اگرچہ چار انگلیوں تک بھی حرکت کرے، اگروہ ساتھ ساتھ صلب بھی ہواورمشرف وسریع بھی ہوتو عضلاتی غدی شدید ہوں۔
تشخیصی علامات
عضلات وقلب میں سکیٹر ،فشار الدم ،ریاح کا غلبہ ،اختلاج قلب ،جسم کی رنگت سرخی مائل جسم وجلد پر خشکی اورنیند کی کمی ہوگی۔
غدی عضلاتی
اگرنبض چارانگلیوں تک حرکت کرے لیکن وہ مقامی طورپرمشرف اورمنحفض کے درمیان واقع ہو ضیق بھی ہوتوایسی نبض غدی عضلاتی ہوتی ہے۔
تشخیصی علامات
جسم زرد ،پیلا ،ڈھیلا ۔ہاتھ پائوں چہرے پرورم۔یرقان،پیشاب میں جلن ، جگروغدداورغشائے مخاطی میں پہلے سوزش وورم اور بالا خر سکیٹرشروع ہوجانا۔
غدی اعصابی
اگرمقامی طورپرغدی نبض کا رجوع منخفض کی طرف ہوجائے تویہ غدی اعصابی ہوگی یہ نبض رطوبت کی وجہ سے غدی عضلاتی سے قدرے موٹی ہوگی اور سست ہوگی۔
تشخیصی علامات
جگرکی مشینی تحریک ہے۔ آنتوں میں مڑور،پیچش ،پیشا ب میں جلن،عسرالطمت ، نلوں میں درد،بلڈپریشراورخفقان وغیرہ کی علامات ہوںگی۔
اعصابی غدی
اگرنبض منخفض ہوجائے،عریض ہوجائے، قصیر ہوجائے تو ایسی نبض اعصابی غدی ہوگی انتہائی دبانے سے ملے گی ۔
تشخیصی علامات
جسم پھولا ہوا،چربی کی کثرت ،بار بارپیشاب کاآنا۔
بعض اطباء نے ہرنبض کے ساتھ علامات کی بڑی طویل فہرست لکھ کردی ہے جسکی کہ ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے قانون مفرد اعضاء میں تو ہر تحریک کی جداگانہ علامات کو سرسے لیکر پائوں تک وضاحت وتفصیل کے ساتھ بیان کردیا گیاہے مثلاََجس طبیب کو اعصابی عضلاتی علامات معلوم ہیں تووہ بخوبی جانتاہے کہ اعصابی عضلاتی نبض کی کیا کیا علامات ہیں اسی طرح دیگر تمام تحاریک کی نبض سے علامات کی تطبیق خود بخود پیدا ہوگئی ہے ۔ان کا یہاں پہ بیان کر نا ایک تو طوالت کا باعث ہوگا ۔اوردوسر ا نفس مضمون سے دوری کاباعث ہوگا ۔
مرداور عورت کی نبض میں فرق
عورت کی نبض کبھی عضلاتی نہیں ہوتی کیونکہ عضلاتی نبض سے خصیتہ الرحم میں اور دیگر غدو میںسکون ہوکر جسم اوربچے کو مکمل غذا نہیں ملتی اگرعورت کی نبض عضلاتی ہوجائے تو اس کو یاحمل ہوگا یااس میں مرد انہ اوصاف پید اہوجائیں گے جیسے آج کل کی تہذیب میں لڑکیاں گیند بلا وغیرہ کھیلتی ہیں یا اس قسم کے دیگر کھیل کھیلتی ہیں یاجن میں شرم وحیاء کم ہوجاتاہے ۔ اس طرح جن عورتوں کے رحم میں رسولی ہوتی ہے ان کی نبض بھی عضلاتی ہوجاتی ہے اورورم کی نبض کا عضلاتی ہونا ضروری ہے۔ )ماہنامہ رجسٹریشن فرنٹ مارچ۱۹۷۰؁ء صفحہ نمبر۹تا۱۰(
اہمیت نبض
جولوگ نبض شناسی سے آگاہ ہیںاور پوری دسترس رکھتے ہیں ان کے لیے نبض دیکھ کر امراض کابیا ن کردینا بلکہ ان کی تفصیلات کاظاہر کردینا کوئی مشکل بات نہیں ۔ ایک نبض شناس معالج نہ صرف اس فن پرپوری دسترس حاصل کرلیتا ہے بلکہ وہ بڑی عزت ووقار کا مالک بن جاتاہے یہ کہنا سراسرغلط ہے کہ نبض سے صرف قلب کی حرکا ت ہی کا پتہ چلتاہے بلکہ اس میںخون کے دبائو خون کی رطوبت اورخون کی حرارت کا بھی علم ہوتا ہے ہرحال میںدل کی حرکات بدل جاتی ہیں جس کے ساتھ نبض کی حرکات اس کے جسم اور اس کے مقام میں بھی تبدیلیاں واقع ہوجاتی ہیں جس سے انسانی جسم کے حالات پر حکم لگایا جاسکتاہے۔
راز کی بات
دل ایک عضلاتی عضو ہے مگر اس پردوعددپردے چڑھے ہوئے ہیں دل کے اوپرکا پردہ غشائے مخاطی اور غدی ہے اوراس کے اوپربلغمی اوراعصابی پردہ ہوتاہے۔جوشریانیں دل اوراس کے دونوں پردوںکو غذا پہنچاتی ہیں ۔ان میں تحریک یاسوزش سے تیزی آجاتی ہے جس کا اثر حرکات قلب اور فعال شرائین پر پڑتاہے جس سے ان میںخون کے دبائو خون کی رطوبت اور خون کی حرارت میںکمی بیشی ظاہر ہوجاتی ہے۔
یہ راز اچھی طرح ذہین نشین کرلیںکہ
شریان میںخون کا دبائو قلب کی تحریک سے پید اہوتا ہے جو اس کی ذاتی اور عضلاتی تحریک ہے۔
خون کی رطوبت میں زیادتی دل کے بلغمی اعصابی پردے میںتحریک سے ہوتی ہے ۔
خون کی حرارت قلب کے غشائی غدی پردے میںتحریک سے پید اہوتی ہے اس طرح دل کے ساتھ اعصاب ودماغ اورجگر وغددکے افعال کاعلم ہوجاتا ہے ۔
یہ وہ راز ہے جس کو دنیائے طب میں حکیم انقلاب نے پہلی بارظاہر کیا۔ اس سے نبض کے علم میں بے انتہا آسانیاںپیدا ہوگئی ہیں۔
تشخیص کے چند اہم نکات
(۱)حرکات جسم کی زیادتی سے تکلیف
جسم کے بعض امراض وعلامات میںذرا بھی اِدھر اُدھر حرکت کی جائے توان میںتکلیف پیداہوجاتی ہے یاشد ت ہوجاتی ہے ایسی صورت میںعضلات وقلب میںسوزش ہوتی ہے حرکت سے جسم میںخشکی پیدا ہوتی ہے۔
(۲)آرام کی صورت میں تکلیف
جب آرام کیاجائے توتکلیف جسم بڑھ جاتی ہے اورطبیعت حرکت کرنے سے آرام پاتی ہے ایسی صورت میں اعصاب ودماغ میں سوزش وتیزی ہوتی ہے۔آرام سے جسم میںرطوبت کی زیادتی ہوجاتی ہے
(تحقیات الامراض والعلامات صفحہ نمبر۱۱۱تا۱۱۲)
(۳)خون آنا
اگرمعدے سے لے کراوپرکی طرف سرتک کسی مخرج سے خارج ہوتویہ عضلاتی اعصابی تحریک ہوگی اوراگرجگر سے لے کرپائوں تک کسی مخرج یامجریٰ سے خارج ہوتویہ عضلاتی غدی تحریک ہوگی ۔
ضرور ی نوٹ
تشخیص الامراض میںعضلاتی اعصابی اورعضلاتی غدی یاغدی عضلاتی اورغدی اعصابی وغیرہ تحریکات میں فرق اگروقتی طور پرمعلوم نہ ہوسکے توکسی قسم کافکر کئے بغیر اصول علاج کے تحت عضو مسکن میںتحریک پیداکردینا کافی وشافی ویقینی علاج ہے۔
تشخیص کی مروجہ خامیاں
طب یونانی وطب اسلامی میںتشخیص کاپیمانہ نبض وقارورہ ہے ملک بھر کے لاکھوںمطب کا چکر لگالیں گنتی کے چند مطب ملیں گے جن کو چلانے والے اطباء نبض وقارورہ سے تشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اورنہ ہی یہ علم اب طبیہ کالجوںمیں پوری توجہ سے پڑھا یاجاتا ہے شاید ہی ملک کا کوئی طبی ادارہ نبض وقارورہ سے اعضاء کے غیر طبعی افعال اور اخلاط کی کمی بیشی کی پہچان پردسترس کی تعلیم دیتا ہو ۔اب تک تو طب یونانی کا ایسا کوئی ادارہ دیکھا نہیں ،دیکھنے کی خواہش ضرور ہے۔اعتراف ِحقیقت بھی حسن اخلاق کی اصل ہے قانون مفر د اعضاء کے اداروں سے تعلیم وتربیت یافتہ اطباء نبض وقارورہ سے تشخیص پر کافی حدتک دسترس رکھتے ہیں۔
اس طرح مذاکرہ ،دال تعرف ماتقدم جوکہ مریض و معالج میں اعتماد کی روح رواں ہیں مگر اس دور کے معالجین ان حقائق سے دور کا واسطہ بھی نہیں رکھتے۔ مریض نے جس علامت کا نام لیا اسی کو مرض قرار دے کر بنے بنائے مجربات کا بنڈل اس کے ہاتھ میں تھما دیاجاتا ہے۔
اگرکوئی ادارہ تشخیص کا دعویٰ بھی کرتاہے اس کی تشخیص کا جوانداز ہے، ا س پربھی ذرا غور کریں۔ تمام طریقہ بائے علاج میں پیٹ میں نفخ ہو یا قے ،بھوک کی شدت ہو یا بھوک بند ،تبخیرہویا ہچکی بس یہی کہا جائے گا کہ پیٹ میں خرابی ہے ان علامات میں اعضائے غذایہ کی بہت کم تشخیص کی جائے گی۔ اگر کسی اہل فن نے پیٹ کی خرابی میں معدہ ،امعاء ،جگر،طحال اور لبلبہ کی تشخیص کربھی لی تو اس کو بہت بڑا کمال خیال کیاجائے گا۔لیکن اس امر کی طرف کسی کادھیان نہیں جائے گا کہ معدہ امعاء وغیرہ خودمرکب اعضاء ہیں اور ان میں بھی اپنی جگہ پرعضلات ، اعصاب اور غددواقع ہیں مگر یہاں پربھی صرف معدہ کومریض کہا جاتا ہے جو ایک مرکب عضوہے ۔یہاں پر بھی معدہ کے مفرد اعضاء کی طرف دھیان نہیں دیا جاتا حالانکہ معدہ کے ہر مفرد عضو کی علاما ت بالکل مختلف اور جدا جدا ہیں مگر تشخیص ہے کہ کلی عضو کی کی جارہی ہے اورعلاج بھی کلی طور پر معد ہ کا کیا جارہا ہے نتیجہ اکثر صفر نکلتا ہے ناکام ہوکر نئی مرض ایجاد کردی جاتی ہے ایک نئی مرض معلوم کرنے کا کارنامہ شما ر کرلیا جاتاہے۔
فاعلم، جب معدہ کے اعصاب میں سوزش ہوتی ہے تو اس کی صورتیں اورعلامات معدہ کے عضلات کی سوزشوں سے بالکل جد اہوتی ہیں اسی طرح جب معدہ کے غدو میں سوزش ہوتی ہے تو اس کی علامات ان دونوں مفرد اعضاء کی سوزشوں سے بالکل الگ الگ ہوتی ہیں پھر سب کو صرف معدہ کی سوزش شمار کرنا تشخیص اور علاج میں کسی قدر الجھنیں پیداکردیتا ہے یہی وجہ ہے کہ یورپ ،امریکہ کو بھی علاج میں ناکامیاں ہوتی ہیں اوروہ پریشان اور بے چین ہیں اوراس وقت تک ہمیشہ ناکام رہیں گے جب تک کہ علاج اور امراض میں کسی مرکب عضو کی بجائے مفرد عضو کو سامنے نہیں رکھیں گے ۔امراض میں مفرد اعضاء کو مدنظر رکھنا مجد دطب حکیم انقلاب المعالج دوست محمد صابر ملتانی کی جدید تحقیق اور عالمگیر کارنامہ ہے مجدد طب کا یہ نظریہ مفرد اعضا ء (Simple organ theory) فطر ت اور قانون قدرت سے مطابقت رکھتا ہے۔
اس سے نہ صرف تشخیص میں آسانیاں پید اہوگئی ہیں بلکہ ہر مرض کا علاج یقینی صورت میں سامنے آگیاہے۔ اس کاسب سے بڑ ا فائدہ یہ ہے کہ مرکب عضومیں جس قدر امراض پیداہوتے ہیں ان کی جدا جد اصورتیں سامنے آجاتی ہیں۔ ہرصورت میں ایک دوسرے سے ان کی علامات جدا ہیں ،جن سے فوراََ یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اس عضو کا کون سا حصہ بیمارہے پھر صرف اسی حصہ کا آسانی سے علاج ہوسکتا ہے۔
اب ٹی بی ہی کو لیجئے کہ یہ کوئی بیماری نہیں ہے یہ تو اصل بیماری کی ایک علامت ہے ۔انسان میں آخرکونسا پرزہ خراب ہے جب معالج کو پتہ تک ہی نہیں کہ کون سا پرزہ خراب ہے توہ کیسے ٹھیک کرے گا انسانی جسم بھی تو ایک مشین ہے اس میں بھی تو پرزے ہیں جب یہ مشین خراب ہوتی ہے تودراصل کوئی پرزہ ہی توخراب ہوجاتاہے اسی طرح شوگر ،بلڈپریشر وغیرہ کوئی امراض نہیں بلکہ کسی نہ کسی پرزے کی خرابی کی علامات ہیں ۔ اس لئے صحیح اور کامیاب معالج وہی ہوگا جوصرف علامات کی بنیا دپر علاج کرنے کی بجائے اجزائے خون ،دوران خون اور افعال الاعضاء کے بگاڑ کو سمجھ کر تشخیص وعلاج کرے گا ۔ اس کی ایک دوائی ہی سرسے لے کر پائوں تک کی تکلیف دہ علامات کو ختم کردے گی۔ انشاء اللہ

Wednesday, 6 May 2015

خربوز

خربوزہ برصغیر پاک و ہند، افغانستان اور ایران میں پایا جاتا ہے۔ مختلف علاقوں میں پیدا ہونے کی وجہ سے اس کی اقسام مختلف ہیں لیکن اس کی افادیت کم و بیش ہر قسم میں ایک جیسی ہیں۔ تربوز کی طرح یہ بھی پانی کا وافر جزو رکھنے والا پھل ہے۔ جس کا چھلکا، گودا اور بیج غذائی اور طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ خربوزہ ریتیلے علاقے اور خصوصاً دریا کے کناروں پہ خوب پھلتا پھولتا ہے۔ خربوزے کا ذائقہ، رنگ، شکل و صورت، وزن، گودا، چھلکا، بیج اور پانی کا جزو مختلف اور اس علاقے پر منحضر ہوتا ہے جہاں خربوزہ پیدا ہوتا ہے۔ خربوزے کی سب سے اچھی، مقبول اور خوش ذائقہ قسم میں چھلکا نرم، باہر سے زرد اور اندر سے سفید یا زعفران کے رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کے بیج بھی نرم ہوتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں لمبوترے خربوزے پائے جاتے ہیں۔ ان میں پانی اور گودا خوب اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔
عمدہ خربوزہ ذائقہ میں میٹھا، تاثیر میں سرد، بلغم، صفرا اور ہوا کو قابو میں رکھنے والا، پیشاب آوَر، مصفی بدن، قبض کھولنے والا، خون بنانے والا اور جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھنے والا پھل ہے۔ اس کا استعمال ریاح کو دور کرتا ہے۔ اجابت باقاعدہ بناتا ہے اور پیٹ کے کیڑے خارج کرتا ہے۔ خربوزے کا چھلکا سائے میں خشک کرکے اسے ابال کر جوشاندہ پئیں تو پتھریاں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ پیشاب کی تکلیف دور ہوجاتی ہے اور آنتیں صاف ہوجاتی ہیں۔ اس کا بیج خشک کر کے مغز حاصل کرتے ہیں جو متعدد پکوانوں اور مقویات میں استعمال ہوتا ہے۔ خربوزے کا مغز دل و دماغ کے لیے تقویت کا باعث اور یاد داشت تیز کرنے کا سبب بنتا ہے۔ خربوزہ ہمیشہ کھانا کھانے کے ایک گھنٹہ بعد استعمال کرنا چاہیے۔
Melon
Melon
اس کی معتدل مقدار ہی سود مند ہوتی ہے۔ اضافی مقدار کا استعمال صفرا کی زیادتی کا سبب بنتی ہے۔ بھوک ختم یا بے قاعدہ کردیتی ہے۔ زیادہ مقدار میں خربوزہ کھانے سے پیٹ میں گیس، صفرا اور بخار کی شکایت لاحق ہوجاتی ہے۔ خربوزہ کھانے کے بعد دودھ نہیں پینا چاہیے۔ دودھ کی بجائے چینی کا شربت استعمال کرنا اس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ جس طرح آم کھانے کے بعد دودھ کی لسی پینا مفید ہوتا ہے، اسی طرح خربوزے کے بعد شربت پینا نافع ہوتا ہے۔ اعتدال کے ساتھ خربوزے کا استعمال جگر اور اس کی کارکردگی پر اچھا اثر ڈالتا ہے لیکن زیادہ مقدار جگر کو ہی نقصان پہنچاتی ہے۔ مناسب مقدار میں خربوزہ کھانے والے افراد جگر کی خرابی اور یرقان سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کی قوت ہاضمہ بڑھتی ہے، بھوک چمک اٹھتی ہے اور کمزوری کا تدارک ہوتا ہے۔
خوب پکے ہوئے خربوزے کی طرح اس کا جوس بھی موثر اور مفید ہوتا ہے۔ اس کا گودا اتنا رس بھرا ہوتا ہے کہ زیادہ چبانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ خربوزہ ہر عمر کے فرد کے لیے مفید اور مناسب ہے لیکن شرط یہی ہے کہ معتدل مقدار میں کھایا جائے اور کبھی خالی پیٹ نہ استعمال کیا جائے۔
Melons

Thursday, 9 April 2015


Wednesday, 18 March 2015

بلڈ پریشر کے مسائل آجکل بہت زیادہ ھیں. خون کا دباؤ زیادہ ھونا صرف ایک علامت ھے

بلڈ پریشر کے مسائل آجکل بہت زیادہ ھیں. خون کا دباؤ زیادہ ھونا صرف ایک علامت ھے کہ آپ کے جسم کے اندر کہیں گڑ بڑ ھے. آئیے اس کو پورے پس منظر کے ساتھ بیان کرتے ھیں.
جب دماغ کی نسیں پھٹنے لگیں اور چکر محسوس ھوں تو چیک کرنے پر پتہ چلتا ھے بلڈ پریشر بڑھا ھوا ھے. اس کی نارمل رینج یہ ھے.
اوپر والا 120 اور نیچے والا 80
اگر چند پوائنٹس کا اضافہ ھو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن بہت زیادہ ھوتو مسائل کا باعث بنتا ھے. مسلسل ھائی رھے تو فالج ھوسکتا ھے، گردے فیل ھو سکتے ھیں. برین ھیمبرج اور دل کا اٹیک بھی ھو سکتا ھے.
زیادہ تر بلڈ پریشر بڑھنے کے پیچھے کولیسٹرول کا ھاتھ ھوتا ھے.
* کولیسٹرول *
جسم کو کولیسٹرول دو ذرائع سے حاصل ھوتا ھے. اول تو جگر میں یہ روزانہ ھزار ملی گرام بنتا ھے اور جسم کے اندر انسانی ضروریات کیلئے یہ مناسب مقدار تصور کی جاتی ھے. اس کے علاوہ دوسرا ذریعہ خوراک ھے اور اسی سے زیادہ مقدار رگوں اور دل کے عوارض کا باعث بنتی ھے
کھانے کے بعد اسکی نصف مقدار معدے اور آنتوں سے گذر کر خون میں جذب ھو جاتی ھے اور نصف مقدار پاخانہ کے ساتھ خارج ھو جاتی ھے.
کولیسٹرول ایک مومیائی مادہ ھے جو لپڈ LIPIDS کے زمرے میں آتا ھے. کولیسٹرول ھمارے جسم کا ضروری عنصر ھے جو دماغ کی نسوں، جگر، خون اور صفرا میں پایا جاتا ھے. یہ انسانی جسم کے خلیوں کی دیواروں کو بنانے اور چند ھارمونز بشمول جنسی ھارمونز کو تیار کرنے کیلئے بنیادی ضرورت ھے لیکن اسکی زیادہ مقدار تباہ کن ھوتی ھے.
* کولیسٹرول کی اقسام *
1. مجموعی کولیسٹرول
TOTAL CHOLESTROL
2. ایل ڈی ایل
LOW DENSITY LIPID
3. ایچ ڈی ایل
HIGH DENSITY LIPID
4. ٹرائی گلیسرائیڈز
TRIGLYCERIDES
.
اچھی صحت اور ھارٹ اٹیک سے بچاؤ کیلئے کولیسٹرول کی مقدار حسب ذیل ھونی چاھئے.
ٹوٹل کولیسٹرول لیول
150 mg/dl
ایل ڈی ایل
100mg/dl
ایچ ڈی ایل
35mg/dl
ٹرائی گلیسرائیڈز
150mg/dl

تھائی رائیڈ ھارمون


تھائی رائیڈ ھارمون
.
تھائی رائیڈ گلینڈ میں خرابی سے کولیسٹرول اور بلڈ پریشر بڑھنے سمیت ذیابیطس اور کینسر تک کے مسائل پیدا ھو جاتے ھیں اس لئے آج کا مضمون بہت اھم ھے.
تھائی رائیڈ گلینڈ انسانی گلے کے اندر پایا جانے والا چھوٹا سا غدود ھے لیکن پورے جسم کی صحت کے لئے بہت اھم ھے. یہ گلینڈ ایک ھارمون پیدا کرتا ھے جسے تھائیرائڈ ھارمون کہا جاتا ھے.
ھر سترہ 17 منٹ کے بعد جسم انسانی کا سارا خون تھائیرایڈ گلینڈ سے گذر کر تھائی راکسن ھارمون حاصل کرتا ھے. تھائی راکسن کا ایک اھم کام یہ ھے کہ خون میں شامل مضر اجزاء کو ختم کرے. اگر تھائیرایڈ گلینڈ کام نہ کرے تو گردوں کا فعل متاثر ھوکر بلڈپریشر بڑھ جاتا ھے.
جدید ریسرچ کے مطابق کولیسٹرول جمنے کی وجہ بھی کسی حد تک تھائی راکسن کی کمی ھوتی ھے.
اگر گلینڈ کام نہ کر رھاھو تو اسکو ہائپوتھائرائیڈزم
HYPOTHYROIDISM
کہا جاتا ھے. اور اس سے میٹابولزم کا عمل سست ھو کر موٹاپا، ھائی بلڈپریشر ، اور ھائی کولیسٹرول کی وجہ بنتا ھے.
اسکے ذمہ انسانی درجہ حرارت کو مناسب رکھنا بھی شامل ھے. سردی کا احساس بہت زیادہ ھونا شروع ھو جائے تو یہ تھائیرائیڈ کے سست پڑنے کی نشانی ھے.
* علامات *
وزن میں اضافہ ھونا
شریانی تناؤ میں اضافہ
سانس کی بیماریوں کا جلد جلد ھونا
تھکن بہت جلدی ھونا
سینے کا گوشت لٹک جانا
پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ
نچلی کمر میں مستقل درد
.
لیبارٹری ٹیسٹ میں ٹی تھری ٹی فور اور ٹی ایس ایچ
Thyroid Stimulating Harmone
کو جانچنے کے بلڈ لیا جاتا ھے اور تھائیرائیڈ گلینڈ کی کارکردگی کا پتہ چل جاتا ھے. آپ خود بھی آئیڈیا لگا سکتے ھیں جسکا طریقہ درج ذیل ھے. اس کو بیسل میٹابولزم تکنیک کہا جاتا ھے-
دو دن تک رات کو سوتے وقت تھرمامیٹر کو جھٹک کر یعنی پارہ نیچے لا کر پاس رکھ لیں اور صبح بیدار ھوتے ھی بغل میں دس منٹ رکھکر درجہ حرارت نوٹ کر لیں. اگڑ دو دن مسلسل درجہ حرارت نارمل سے کم ھو تو اس بات کا امکان ھے کہ تھائیرائیڈ ھارمون کی کمی ھے.
خواتین کو مخصوص دنوں میں یہ طریقہ استعمال نہیں کرنا چاھئے کیونکہ ریڈنگ غلط آئے گی.
* بچاؤ کی تدابیر *
مناسب ورزش
کیلشیم والی غذا
بادام کھانا معمول بنالیں
ذھنی تناؤ سے بچیں.

سرپھوکہ


* سرپھوکہ *
یہ بوٹی بہت سے امراض کے سر کاٹ دینے والی ھے اس لئے طب میں سرپھوکہ کے نام سے مشہور ھے. پاکستان میں ھرجگہ مل سکتی ھے اور پنسار سٹور سے بھی ملتی ھے.
اس کا مزاج گرم تر ھے
مقدارخوراک پانچ گرام تک
¤ خواص ¤
مصفا خون ، معدہ کو طاقت دیتی ھے، جگر اور تلی کو مفید ھے، پیشاب آور ھے، پتھری توڑتی ھے، زھریلے امراض کو ختم کرتی ھے، جسم کے اندر تمام زھریلے مادوں کو نکالتی ھے، جدید ریسرچ میں کینسر تک کام کرنے والی بوٹی ھے.
¤ نسخہ نمبر 1 ¤
جن مریضوں کے معدہ، جگر یا تلی میں ورم اور زخم ھوں یا کوئی پھوڑا ھو اور خون الٹی یا پاخانہ میں آتا ھو ان کیلئے یہ نسخہ انتہائی مفید اور مجرب ھے. لاکھوں خرچ کرکے فائدہ نہ ھو تو یہ نسخہ کام کر جاتا ھے. تمام گلا سڑا مادہ اور سدے خارج ھو جاتے ھیں.
سرپھوکہ = سو گرام
آکاس بیل = سو گرام
آملہ = سو گرام
مرچ سیاہ = سو گرام
زخم حیات = سو گرام
تمام کو پیس کر سفوف بناکر رکھیں. ایک چھوٹی چمچ صبح خالی پیٹ اور ایک چمچ عصر کے وقت جب پیٹ خالی ھو تو ایک کپ پانی میں گھوٹ کر چھان کر پلا دیں. چند دن میں اثر دکھاتا ھے.

.
¤ دوسرا نسخہ ¤
سرطان یعنی کینسر کے لئے لاکھوں کروڑوں روپے درکار ھوتے ھیں اور بار بار "کیمو تھراپی" کروانی پڑتی ھے. یہ نسخہ بالکل درست اور ھر بار رزلٹ دینے والا ھے. تمام اطبا حضرات اور باقی دوستوں سے گذارش ھے کہ جسے کینسر کے پنجے میں دیکھیں تو صرف ایک دفعہ بناکر ضرور دیں. اللہ کے فضل سے نتائج آپ کو حیران کر دیں گے انشاء اللہ تعالی
> سرپھوکہ = سو گرام
زخم حیات = سو گرام
ڈھاک کی چھال = سوگرام
پودینہ = سو گرام
برھم ڈنڈی = سو گرام
منڈی بوٹی = سو گرام
جل نیم = سو گرام
مرچ سیاہ = سو گرام
کتھ سفید = سو گرام
نیل کنٹھی = سو گرام
سب کو الگ الگ پیس کر سفوف بنا کر پھر آپس میں مکس کر کے جار میں رکھیں.
پانچ گرام سفوف یعنی ایک چمچ چھوٹی روزانہ چائے یا دودھ سے. اگر حالت زیادہ خراب ھو تو صبح شام
انشاء اللہ صرف دس سے پندرہ دن کے اندر اندر رزلٹ دے گی.

Saturday, 14 March 2015

لیموں پانی کے فوائد

لیموں پانی کے فوائد کے متعلق تو آپ نے بہت سنا ہوگا لیکن اگر آپ پانی کو نیم گرم کرلیں، اس میں آدھا لیموں نچوڑ لیں اور تھوڑا سا شہد بھی ڈال لیں اور اس مشروب کو صبح نہار منہ پئیں تو اس کے فوائد کا شمار ممکن نہیں۔
چند اہم فوائد جو آپ کو اس مشروب سے حاصل ہوں گے درج ذیل ہیں۔
1 ۔لیموں اور شہد میں پائے جانے والے الیکٹرولائٹ، پوٹاشیم، کیلشیم اور میگنیزیم جسم کو تروتازہ کرتے ہیں اور پانی کی کمی فوراً پوری ہوجائے گی۔
2 ۔جوڑوں اور پٹھوں کا درد غائب ہوجائے گا۔
3 ۔نظام انہظام بہتر ہوجائے گا۔
4 ۔جسم میں خامروں کی بہتات ہوجاتی ہے۔
5 ۔جگر کی صفائی ہوجائے گی۔
6 ۔گلے کے انفیکشن اور سوزش سے نجات مل جاتی ہے۔
7 ۔آنتیں صاف ہوجاتی ہیں۔
8 ۔جسم میں بیماری سے بچانے والے اینٹی آکسیڈنٹ پیدا ہوتے ہیں۔
9 ۔عصبی نظام مضبوط ہوتا ہے اور ڈپریشن اور ذہنی دباﺅ سے نجات ملتی ہے۔
10 ۔خون کی شریانوں کی صفائی ہوتی ہے۔
11 ۔بلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے۔
12 ۔یہ مشروب جسم میں PH کا لیول بڑھاتا ہے جس سے بیماریوں کی روک تھام ہوتی ہے۔
13 ۔وٹامن سی کی مدد سے جلد صاف اور صحتمند ہوجاتی ہے۔
14 ۔یورک ایسڈ تحلیل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے جوڑوں کے درد سے نجات ملتی ہے۔
15 ۔یہ حاملہ ماﺅں کیلئے بہت ہی مفید ہے، یہ ماں کو وائرس اور فلو سے بچاتا ہے اور بچے کی ہڈیاں اور عصبی نظام خصوصاً دماغ کو مضبوط بناتا ہے۔
16 ۔سینے کی جلن ختم ہوجاتی ہے۔
17 ۔گردے اور پینکریاز کی پتھری تحلیل ہوجاتی ہے۔
18 ۔لیموں کا پیکٹن فائبر وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
19 ۔دانت کے درد اور مسوڑھوں کے مسائل کا خاتمہ ہوتا ہے۔
20 ۔لیموں کی الکلی خصوصیات کینسر کے خطرات کو کم کردیتی ہیں۔

Wednesday, 11 March 2015

کثرت حیض جو کسی دوا کےاستعمال سے بند نہ ھو نسخہ

کثرت حیض جو کسی دوا کےاستعمال سے بند نہ ھو اس دوا کے استعمال بھت جلدبند ھوجاتی ھے
اور ایام کی بے قاعدگی بھی اس دوا سے دور ھوجاتی
نسخہ
پٹھانی لودھ 50گرام
سنگجراحت مسلم 100گرام
مائیں خورد 25گرام
گوند چنیا 50گرام
شکر سفید 100گرام
ساری دواؤں کو کوٹ چھان کر رکھ لیں
3،3گرام صبح شام دودھ سے استعمال کجئے
گرم اور کھٹی چیزوں سے پرھیز کریں

دور جدید میں وزن کم کرنے کے لئے کئی طرح کی باتیں کی گئی ہیں

دور جدید میں وزن کم کرنے کے لئے کئی طرح کی باتیں کی گئی ہیں، کبھی کہا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ جوس کا استعمال کریں ،دودھ اور دہی سے جان چھڑائیں لیکن اب ایک بار پھر کہا جارہا ہے کہ ہمارے بزرگ جو کیا کرتے تھے وہ زیادہ اچھا تھا۔ آئیے ماضی کی کچھ ایسی باتیں جانتے ہیں جن پر عمل کرکے آپ اپنا وزن کم کرسکتے ہیں۔
دودھ پیں اورمکھن کھائیں
عام طور پر 1960ءکی دہائی تک لوگ مکھن اور ملائی والے دودھ کا بھرپور استعمال کیا کرتے تھے لیکن 1970ءکے بعد ماہرین صحت نے لوگوں کو بتانا شروع کیا کہ یہ تمام اشیاءانسانی صحت کے لئے اچھی نہیں ہیں لہذا کم کریم والے دودھ، مارجرین اورسن فلاور آئل کا استعمال کیا جائے لیکن اب کہا جارہا ہے کہ یہ اشیاءانسانی صحت کے لئے مفید نہیں ہیں۔ اب آپ پرانے دور میں کھائی جانے والی اشیاءکھائیں کیونکہ تجربات میں یہ چیز سامنے آئی ہے کہ ملائی والا دودھ بہت مفید ہے کیونکہ اس میں 4فیصد چکنائی، وٹامن اے، ڈی، ای اور کے ہوتی ہیں۔
ہفتے میں دوبار سرخ گوشت کا استعمال
ماضی میں لوگ ہفتے میں دو بار گائے یا بکرے کاگوشت ضرور کھایا کرتے تھے۔ جدید دور میں ماہرین صحت یہ کہتے آئے ہیں کہ سرخ گوشت (گائے اور بکرے) کا استعمال کم کرنا چاہیے اور وائیٹ گوشت(مرغی) کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے جس کی وجہ وہ یہ بتاتے تھے کہ سرخ گوشت میں خطرناک ذرات ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے مفید نہیں۔ تاہم اب British Nutrition Foundation کا کہنا ہے کہ سرخ گوشت میں ایسے ذرات نہیں ملے ہیں جن کے انسان پر منفی اثرات مرتب ہوں لہذا اب آپ ہفتے میں دوبار سرخ گوشت کھانا شروع کردیں۔
زیادہ سے زیادہ مچھلی کھائیں
مغرب بالخصوص برطانیہ میں لوگوں نے مچھلی کا استعمال اس ڈر سے کم کردیا ہے کہ یہ صحت کے لئے اچھی نہیں اور یہ وزن بڑھاتی ہے لیکن International Journal of Obesity کا کہنا ہے کہ جو لوگ مچھلی کھاتے ہیں ان کا وزن کنٹرول میں رہتا ہے جبکہ مچھلی نہ کھانے والوں کا وزن بڑھتا رہتا ہے۔ اس لئے آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہفتے میں ایک بار مچھلی ضرور کھانی ہے۔
اپنا کھانا خود بنائیں
ماضی میں خواتین گھروں میں خود کھانا بنایا کرتی تھیں لیکن پھر رواج آگیا کہ گھر کا کھانا کسی خانسامہ یا ملازمہ نے بنانا ہے۔ جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ اپنا کھانا خود بناتے ہیں ان کا وزن بھی کم رہتا ہے جبکہ کھانا نہ بنانے والے افراد کا وزن بڑھتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ خود کھانا بنائیں گے تو یہ نا صرف آپ کی جیب پر بھاری نہیں ہو گا بلکہ آپ کو علم ہوگا کہ کھانے میں کیا چیز استعمال کررہے ہیں۔
ناشتے میں انڈہ کھائیں
ماضی میں لوگ ناشتے میں انڈہ ضرور کھایاکرتے تھے لیکن پھر یہ خیال مضبوطی پکڑتا گیا کہ انڈے میں کولیسٹرول بڑھانے والے اجزاءشامل ہوتے ہیں لہذا ناشتے میں انڈے کی بجائے اناج جیسے کارن فلیکس ، بریڈوغیرہ کا استعمال کرنا چاہیے لیکن اب جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انڈے ایک مکمل غذا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈے میں پروٹین، وٹمان اے، ڈی، ای اور زنک کی وافر مقدار ہوتی ہے اور اس کو کھانے سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے۔
پانی یا چائے پینا
ماضی میں لوگ صبح کے وقت پانی یا چائے پیا کرتے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ لوگ جوس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اسے ایک صحت بخش مشروب سمجھنے لگے۔ لیکن اب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جوس اور دیگر اس طرح کے مشروبات میں چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ،یہ وزن بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور یہ جیب پر بھی بھاری ہوتے ہیں۔ اب آپ کو چاہیے کہ چائے اور پانی کا استعمال کریں جو کہ جیب پر بھاری بھی نہیں ۔چائے میں انٹی آکسیڈنٹ اجزاءجسم پر خوشگوار اثرات رکھتے ہیں جبکہ پانی کے اجزاءتو ویسے ہی انسان کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔
’ڈائیٹ‘ اور کم چکنائی والے کھانے
اگر آپ کسی مشروب پر ڈائیٹ یا کم چکنائی والا کھانا لکھا دیکھیں تو اس سے اجتناب کریں کیونکہ تحقیق میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایسی غذائیں صحت اور وزن کے لئے بالکل بھی اچھی نہیں ہوتیں۔
اکٹھے کھانا کھائیں
ماضی میں سب لوگ اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ عادت تبدیل ہو گئی اور اب گھر میں لوگ مختلف اوقات میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں۔ کوشش کریں کہ سب گھر والوں کے ساتھ مل کر کھائیں کیونکہ جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹی وی کے آگے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے لوگ زیادہ کھا لیتے ہیں۔ اگر آپ باقی گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھائیں گے تو ان سے باتیں بھی کریں گے ،اس طرح کھانا بھی کم کھایا جائے گا اور وزن بھی کم ہوگا۔
سنیکس
ہمارے بڑے ہمیں سختی سے بازار کی اشیاءاور سنیکس سے منع کرتے تھے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس طرح بھوک کم ہوتی ہے جبکہ سنیکس میں موجود کیلوریز ہماری صحت کے لئے مضر ہیں لہذا ضروری ہے کہ آپ بازاری سنیکس سے توبہ کر لیں۔

آج پودینہ کی افادیت اور اس کے فوائد


آج پودینہ کی افادیت اور اس کے فوائد کے بارے میں بات کی جارھی ھے -پودینہ قدرت کا وہ انمول تحفہ ھے جس سےسینے ، کی جکڑ حلق کی بیماری پھیپھڑے کے انفیکشن کا علاج کیا جاتا ھے عام طور پر پودینہ کو گھروں میں چٹنی کے طور پر اسعتمال کرتے ھیں لیکن یہ مزیدار چٹنی جہاں زائقہ اور خوشبو رکھتی ھے وہاں اس کے فائدے بھی بے شمار ھیں – پودیہ کی خوشبو غدودوں کو متحرک کرتی ھے جس سے بھوک لگتی ھے ، کھانا اچھی طرح سے ہضم ھوتا ھے –
پودینہ کے استمال سے سر درد متلی کا خاتمہ ھوتا ھے پودینہ عمل تنفس سے متعلق بیماریوں میں بھی فائدہ مند ھے جیسے سینے کی جکڑن حلق میں انفیکشن ، یا پیپھڑے میں انفیکشن جیسی بیماریاں بھی پودینہ استعمال کرنے سے ختم ھو جاتی ھیں – جدید تحقیق کے مطابق پودینہ انسانی جلد کے لئے بہت فائدہ مند ھے پودینہ کی پتیوں کا پانی جلد کے لئے بہترین کلینر ھے ، اس کے علاوہ تمام جلدی امراض میں بہت مفید ھے جیسے خارش کیل مہاسے گرمی دانے وغیرہ ، اس کے علاوہ اگر جلد پر کوئی زہریلا کیڑا کاٹنے کی وجہ سے انفیکشن ھو گیا ھو تو اس میں بھی فائدہ مند ھے کیوں کہ قدرتی طور پر پودینہ میں خطر نا ک بیکٹیریا کو ختم کرنے کی قوت ھوتی ھے – پودینے کا استعمال دن بھر کی تھکن کو ختم کرتا ھے بد ھضمی اور گیس کی بیماری میں بھی فائدہ مند ھے پودینہ میں یہ خاصیت بھی ھے کہ خون میں مضر مادوں کو پسینہ کے زریعے خارج کرتا ھے اس لئے یرقان جیسے موزی مرض میں اس کا استمال بہت فائدہ دیتا ھے
پودینہ میں وٹامن ای کا بہت بڑا خزانہ ھوتا ھے جس کی وجہ سے خون کی شریانوں کو فعال کرتا ھے پودینہ کی بڑی خوبی الرجی سے بچاؤ کی ھے ایک شدید قسم کی الرجی جس سے جسم پر خارش ھوتی ھے اور سرخ نشان پڑ جاتے ھیں اس میں پودینہ بہت فائدہ مند ھے پودینہ کے پتوں کی چائے بنا کر قہوہ کی طرح پی جائے ، اگر الرجی زیادہ ھو تو گلاب کے عرق میں پودینہ کے پتے ڈال کر ابالے جوئیں اور صبح شام پیا جائےتو بہت جلد فائدہ ھوگا – اس کئ علاوہ پودینہ کو بلغمی کھانسی نزلہ زکام میں بھی قہوہ کی طرح پیا جائے تو جلد آرام ھوگا اس کے علاوہ معدہ کے امراض کے لئے یہ علاج اکثیر ھے
پودینہ کو اچھی طرح دھو لیا جائے پھر چھاؤں میں سکھا لیں جب سوکھ جائیں تو ہاتھ سے مسل کر پاوڈر کی طرح بن جائے گا ایک شیشی میں ڈال کر رکھ لیں جب کھانا کھائیں اس پر چھڑک لیں تو گیس بد ھضمی جلن اور مدہ کے زخم میں فائدہ ھوگا – پودینہ کے اتنا فائدہ ھیں کہ اس کو سفر پر بھی ساتھ رکھا جائے راستہ میں سفر کے دوران قے متلی ہا پیت کی بیماری ھو تو اس کا استعمال بہت فائدہ دے گا

جس طرح کے کھانے ہم آج کل کھاتے ہیں

جس طرح کے کھانے ہم آج کل کھاتے ہیں ان کی وجہ سے ہمارے جسم میں کئی طرح کے خطرناک مادے اکٹھے ہو جاتے ہیں جو مختلف قسم کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ آج ہم آپ کو چند ایسی غذائیں بتائیں گے کہ جن کے استعمال سے آپ کا جسم ان خطرناک مادوں سے پاک ہوسکے گا۔
ہلدی
زمانہ قدیم سے ہی ہلدی کو انتہائی مفید پایا گیا ہے اور اب جدید تحقیق بھی اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ ہلدی کا استعمال انتہائی سودمند ہے کیونکہ اس میں انٹی آکسیڈنٹ اجزاءپائے جاتے ہیں جس سے جسم میں زہریلے مواد کو نکالنے میں مدد ملتی ہے۔اس کے استعمال سے جگر کے زہریلے مادے ختم ہونا شروع ہوجاتے ہیں لہذا اس بات کو یقینی بنائیں کہ دن میں کم از کم ایک چائے کا چمچ ہلدی ضرور استعمال کریںگے۔
سیب
ایک سیب روزانہ رکھے توانا۔یہ محاورہ صرف زبانی بات نہیں بلکہ ماہرین صحت اس بات کو مانتے ہیں کہ آئرن سے بھرپور یہ غذامعدے میں جمے ہوئے غیرضروری کھانے کو نکال کے ہمارے پیٹ صاف کردیتی ہے۔
لہسن
لہسن کے استعمال سے ناصرف ہماری جلد اور بال خوبصورت ہوتے ہیں بلکہ اس میں موجود سلفر معدے کے بچے ہوئے زہریلے کھانے کو بھی ختم کرتا ہے۔اگر دن میں آپ لہسن کے تین ٹکڑے کھا لیں تو یہ آپ کو صحت مند رکھے گا۔
لیموں
لیموں میں موجود سٹرک ایسڈ کھانے کو ہضم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کبھی بھی اگر آپ کوئی کھانا کھانے لگیں تو اس میں لیموں ضرور ڈال لیں اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر پانی میں ایک لیموں نچوڑ کر پی لیں، اس سے آپ کا معدہ ٹھیک رہے گا اور یہ کھانے کو ہضم کرنے کے علاوہ جسم میں زہریلے مادے بھی کم کر دے گا۔
دھنیہ
بعض اوقات ہم ایسے کھانے کھا لیتے ہیں جو معدے پر انتہائی بھاری ہوتے ہیں اور ہمیں کھانے کو ہضم کرنے میں بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اگر کھانے میں دھنیے کااستعمال کریں تو یہ معدہ کو ہلکا پھلکا رکھے گااور کھانے کو ہضم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔اب اس بات کو یقینی بنائیں کہ اپنے کھانوں میں دھنیہ کھائیں،آپ اسے ہانڈی میں بھی ڈال سکتے ہیں اور سلاد کے ساتھ بھی کھا سکتے ہیں۔
بروکلی
اگر آپ معدے کی تیزابیت کا شکار ہیں تو بروکلی کو اپنی سلاد کا حصہ بنا لیں۔گوبھی کی طرح یہ
سبزی معدے کے زہریلے مواد کو ختم کرتی ہے۔
لال مولی
سلاد میں اگر آپ لال مولی استعمال نہیں کر رہے تو فوراًسے پہلے لال مولی کو اپنے کھانے کا حصہ بنائیں۔آپ لال مولی کو گاجر کے جوس کے ساتھ بھی ملا کر استعمال کر سکتے ہیں۔
کھیرے
کھیرے میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ معدے کی گرمی کو کم کرتا ہے اور ہضم ہونے کے عمل کوتیز کر دیتا ہے۔ کھیرے کو سلاد میں لال مولی کے ساتھ استعمال کرکے آپ اپنے معدے کو کئی طرح کے زہریلے مواد سے پاک کر سکتے ہیں۔

آسٹریلیا کے سائنسدانوں کے وزن اور جسم کی چربی کھو تازہ ترین سائنسی تحقیق

آسٹریلیا کے سائنسدانوں کے وزن اور جسم کی چربی کھو تازہ ترین سائنسی تحقیق 80 فیصد کی طرف سے خارج ڈیوائس سانس لینے میں سب سے اہم پھیپھڑوں ہیں کہ پتہ چلا ہے، لہذا وزن کم کرنے کے لئے اصلی راز سانس لینے کی ورزش میں اضافہ کرنا ہے.
ساؤتھ ویلز یونیورسٹی، ماہرین انسانی خون کے ٹیسٹ میں پایا چربی ایک کاربن glayysrayyd کہا جاتا ہے کہ دریافت کر لیا ہے، اور ہائیڈروجن اور آکسیجن کے سالموں پر مشتمل ہے. سانس کے ساتھ آکسیکرن کاربن، ہائیڈروجن، آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کے انووں آزادانہ طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے کہ ایک عمل ہے، اگر ہم جسم کے ذریعے زیادہ آکسیجن ورزش جب. کاربن ڈائی آکسائیڈ پیشاب کے ذریعے سانس لی، پسینے وغیرہ اضافی پانی ہٹا رہے ہیں اور چربی گیس کے ذریعے جسم میں نکال دیا گیا ہے. مطالعہ چربی کی آکسیکرن سانس کے ذریعے 10 کلو 8.4 کلو ہٹا رہے ہیں اور اس کے سانس لینے کو بڑھاتا ہے جس ٹہلنا اور دیگر مشقیں وزن میں کمی کے لئے ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ پایا.

Tuesday, 24 February 2015

تمباکو نوشی کے نقصانات


تمباکو نوشی کے نقصانات
1- تمباکو کے زہریلے اجزاء میں سب سے زیادہ خطرناک "نکوٹین" ہے۔
2- چائے کی طرح اسکا نشہ بھی غیرمحسوس ہوتا ہے، جو آہستہ آہستہ جسم پر مہلک اثر کرتاہے۔
3- تقریبا ایک تولہ نکوٹین اگر اکٹھی استعمال کی جائے تو انسان کو ہلاک کرنے کے لئے کافی ہے۔
4- سگار کے تمباکو میں 8فیصد نکوٹین ہوتی ہے جسے اگر انسانی جسم میں داخل کیا جائے تو 2 انسانوں کو ہلاک کرنے کے لئے کافی ہے۔
5- ایک سگار کے دھوئیں میں اٹھارہ سگریٹوں سے زیادہ نکوٹین ہوتی ہے۔ سگریٹ اس لئے زیادہ مہلک شمار ہوتا ہے کہ اس میں کاغذ کا مضرصحت دھواں شامل ہوتا ہے۔
6- تمباکو نوشی سے خون جلدی گاڑھا ہوجاتا ہے۔
7- تمباکو نوشی سے خون کے سرخ ذرات کم ہوجاتے ہیں۔ دماغ کمزور ہوجاتا ہے اور سر میں بھاری پن پیدا ہوجاتا ہے۔ سردرد کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔
8- منہ اور گلے میں خراش اور سوزش اور خشکی پیدا ہوجاتی ہے۔
9- ہونٹ، زبان, گلے اور پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
10- بینائی کمزور، آنکھوں میں غبار، لال نقطے پیدا ہوجاتے ہیں۔
11- دانتوں کی سفیدی خراب ہوجاتی ہے اور پیلے ہوجاتے ہیں۔
12- اس سے معدے کمزور ہوجاتا ہے، بھوک کم ہوجاتی ہے۔
13- رعشہ، بے خوابی، چڑچڑاپن اور بدمزاجی تمباکو نوشی کے ثمرات ہیں۔
14- اسکا دھواں مہلک ہوتا ہے، ہوا کی نالیوں میں خراش پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے زہریلے اثرات سے پھیپھڑے خراب ہوکر تپ دق اور سل پیدا ہوجاتی ہے۔
15- تمباکونوشی سے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے، سانس جلدی پھولنے لگتا ہے اور حواس خمسہ ناکارہ ہوجاتے ہیں۔
16- اس سے پھیپھڑوں میں ایسے بخارات جمع ہوجاتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے بلغم پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
17- تمباکونوشی سے نہ صرف استعمال کرنے والے کی صحت متاثرہوتی ہے بلکہ پاس بیٹھنے والا بھی اتنا ہی متاثر ہوتا ہے۔
18- تمباکو نوش کے تولیدی جراثیم کمزورہوجاتے ہیں اور نتیجے میں اولاد بھی کمزور پیدا ہوتی ہے۔
19- اگر عورت کو تمباکونوشی کی عادت ہو تو تب بھی اس کی تولیدی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے اور انڈے کمزور پڑجاتے ہیں۔
20- عورتوں میں اس سے رحم کی خرابی پیدا ہوجاتی ہے اور سگریٹ نوش حاملہ خواتین کے بچے نسبتا کمزور اور قد میں چھوٹے رہ جاتے ہیں۔
21- تمباکو نوشی سے جسم کا اعصابی نظام درہم برہم ہوجاتاہے۔
8-